اہم خبرِیں
سپریم کورٹ کی حکومت کو شوگر ملز کیخلاف کارروائی کی اجازت زمین کے پاس سے گزرتا ’دُم دار ستارہ‘ پاکستان سے کیسے دیکھا جائ... گوگل بھارت میں دس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا بھوک بڑھنے سے 12 ہزار افراد روزانہ ہلاک ہو سکتے ہیں، رپورٹ امریکی شہر کیلی فورنیا میں کورونا نے تباہی مچا دی پاکستان نیوی کے بحری بیڑے میں نئے اور جدید بحری جنگی جہازپی ای... معاشرے میں بگاڑ کے اسباب ”کشمیریوں کی زندگی کی بھی اہمیت ہے“ مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے پاکستان ترقی کا ہدف حاصل کرنے میں کامیاب، اقوام متحدہ کی رپورٹ... امریکی بحری جنگی جہاز میں دھماکا، 21 افراد زخمی سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پرمیزائلوں سے حملہ دنیا بھر میں آج یومِ شہدائے کشمیر منایا جائے گا پاکستان فرانسیسی شعبہ زراعت اور شعبہ حیوانات کی مہارت سے استفا... میر شکیل الرحمان کی ہمشیرہ کے انتقال پر سی پی این ای کا تعزیت ... شمالی وزیرستان، پاک فوج کا آپریشن، چاردہشت گرد جہنم وصل گھوٹکی ٹرین حادثے کو پندرہ سال بیت گئے پاکستان میں کورونا کے 2 ہزار 521 نئے کیسز،74 اموات انگلستان کی پاکستان میں ڈھائی لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری آیاصوفیہ مسجد کی کہانی

”کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا بارہ آنہ“

خان صاحب نے ایک بار پھر دنیا کو اپنا دامن جھاڑ کر دکھا دیا ہے، ریاض میں ہونے والی سرمایہ کاری کانفرنس میں وزیراعظم پاکستان نے ایسا زبردست ’ پیکج“ پیش کیا ہے کہ عقل حیران رہ جاتی ہے جس کانفرنس میں سرمایہ کاروں کو یہ باور کرانے کی ضرورت تھی کہ پاکستان میں امن ہے، کاروبار کے لئے ماحول سازگارہے اور نئی حکومت نئے جذبے کے ساتھ آگے بڑھنے کو تیار ہے۔ نئی حکومت نے آتے ہی سرمایہ کاری کے سارے دروازے کھول دیئے ہیں۔ اور اب دنیا پاکستان کو سرمایہ کاری کے لئے ایک محفوظ ملک تصور کرے ۔ دنیا کی پانچویں بڑی آبادی والا ملک دنیا کے لئے ایک بڑی مارکیٹ ہے جہاں سرمایہ کار کے لئے سنہرے مواقع موجود ہیں ۔لیکن کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا بارہ آنہ“ جہاں آپ کو سرمایہ کاروں کو راغب کرنے اور ان کے سرمایہ کومحفوظ ر کھنے کے لیے کوئی خاکہ پیش کرنا چاہیے تھا ،وہاں بھی غربت اور افلاس کا رونا رویا گیا، وہاں بھی ہم نے یہ بتانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی کہ ہماری جیب خالی ہے اور ہماری حکومتیں کرپشن اور لوٹ مار کرتی ہیں ۔
جس ملک میں ایسی صورتحال ہو کہ وہاں کون سرمایہ لگائے گا؟اگردنیا بھر کی بڑی بڑی کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کو حکومت یقین دلا دے کہ انکا سرمایہ محفوظ رہے گا انکو فائدے ملیں گے انکے جان و مال کا مکمل تحفظ کیا جائے گا تو وہاں سرمایہ کار ٹوٹ پڑتے ہیںلیکن خان صاحب کا موقف یہ تھا کہ میرے آنے سے ایمان داری آ گئی ہے سب لوگ ٹھیک ہو گئے ہیں اور سیدھے راستے پر چل نکلے ہیں میں نے کرپٹ افراد کو الٹا لٹکا دیا ہے اب آپ آجائیں اور سرمایہ کاری کریں۔
خان صاحب کے سرمایہ کاروں سے خطاب سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں کہ چونکہ خان صاحب کی انگریزی اچھی ہے اور وہ پر اعتماد شخصیت کے مالک ہیں اور انہی دو” مہارتوں“ کے بل بوتے پر وہ سرمایہ کاروں کو تسخیر کر لیں گے اور سرمایہ کار وں کی لائن لگ جائے گی ۔
خان صاحب نے کانفرنس کے شرکاءکو جو سب سے اہم بات بتائی وہ یہ کہ انہیں وراثت میں خسارہ ملا ہے اور وہ ایکسپورٹس میں اضافہ چاہتے ہیں مگر کیسے یہ نہیں بتا سکے بس خواہش ہے کہ زر مبادلہ بڑھ سکے۔ دوسرا وہ بیرون ملک پاکستانیوں سے چاہتے ہیں کہ وہ اپنا پیسہ پاکستان بھیجیں تاکہ ہمارے پاس ڈالر کی کمی پوری ہو سکے مگر جو دولت پاکستان سے اس وقت بہر جا رہی ہے اس کو کیسے روکنا ہے یہ انہیں معلوم نہیں اور نہ ہی ان سے روکا جا رہا ہے ۔ انہوںنے یہ بھی فرمایا کہ منی لانڈرنگ بھی ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے ۔
اب سوال یہ ہے کہ ان سب باتوں سے سرمایہ کاروں کا کیا تعلق ہے ؟یہ سب باتیں تو آپ جلسے جلوسوں میں کرتے ہیں۔ سرمایہ کار کو تو آپ روشنی دکھاتے ہیں ۔اسے بتاتے ہیں کہ کیسے وہ اپنے کاروبار کو ترقی دے سکتے ہیں۔ یہ بتاتے ہیں کہ آ ± پ کی حکومت انویسٹر کے لیے کیا کررہی ہے اور کن شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں ؟ ایسا ہر گز نہیں کہ خان صاحب نے یہ نہ بتایا ہو مگر پوچھنے پر ہی بتایاکہ پاکستان میں معدنیات گیس ،تیل اور تانبے کے ذخائرہیں جہاںسرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں ۔
یعنی آئیے کنواں کھودیئے کچھ مل گیا تو ہمیں بھی دیجیے اور خود بھی لے جائیں۔ دوسرے نمبر پر سیاحت کا ذکر کیا گیا ۔ اب یہ نہیں معلوم کہ سیاحت پر غیر ملکی سرمایہ کاری ہوتی ہے یا نہیں؟چلیں یہ تو لانگ ٹرم منصوبے ہو گئے۔ اگر خان صاحب گواد رپورٹ اور فری زون کا ذکر کرتے ۔ گوادر فری زون میں فیکٹریاں لگا ئی جا سکتی ہیں۔یہاں لیبر دوسرے ممالک کی نسبت سستی ہے۔ یہاں اشیاءکی اسمبلنگ کے کارخانے لگائے جاسکتے ہیں،پاکستان میں اتنی بڑی زمین خالی پڑی ہے ، 22 کروڑ والی آبادی کے ملک میں اسمارٹ فون، آٹو موبائل کہ اور آئی ٹی انڈسٹریز لگ سکتی ہیں ۔ سافٹ وئیر ہاوس کھول جا سکتے ہیں بڑے اور چھوٹے سرمایہ کاروں کے لیے یکساں مواقع ہیں سرمایہ لگانے اور اسکو محفوظ رکھنے کی گارنٹی حکومت دے گی۔ لیکن خان صاحب نے ان شعبوں کا ہی ذکر کیا جن پر سابقہ حکومتیں کام کر تی رہی ہیں۔ لیکن چونکہ یہ لانگ ٹرم منصوبے ہیںا ور غیر یقینی سیاسی حالات اور مستحکم گارنٹی نہ ہونے اور دیگر اسٹیک ہولڈرز یا اداروں کی مداخلت کے باعث یہ منصوبے کھٹائی میں پڑ جاتے ہیں ۔سرمایہ منجمد ہوجاتا ہے اور سرمایہ کار انویسٹمنٹ سے ہاتھ کھینچ لیتا ہے۔ سرمایہ کار کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ آپ بہت بڑے ہیرو ہیں ،اسے تو اپنے منافع سے غرض ہے ۔اورمحفوظ سرمایہ کاری ہے غرض ہے ۔
سابقہ حکومت اور موجودہ حکومت میں ایک واضح فرق تو سوچ کا ہے سابق حکمران جماعت حکومت کو کاروبار کی طرح چلا رہی تھی۔معیشت بنیادی طور پر حکومت کا کاروبار ہی ہوتی ہے نفع اور نقصان کا حساب اسی سے پتہ چلتا ہے اور کاروبار میں رونا دھونا کرنے سے نہ صرف ساکھ تباہ ہوتی ہے۔ بلکہ کاروبار تباہ ہو جاتا ہے، کاروبار بھی آپ صرف اکیلے ہی نہیں کر رہے ہوتے پورا ملک اس سے متاثر ہوتا ہے۔بزنس ہی اصل معیشت ہوتی ہے اس کے برعکس موجودہ حکومت اسے بزنس نہیں سمجھ رہی بلکہ کرکٹ میچ سمجھ رہی ہے جس میں کوئی بھی چیز چھپائی نہیں جاسکتی۔ کاروبار میں آپ منہ بند رکھ سکتے ہیں لیکن کرکٹ میچ میں ایسا نہیں ہوسکتا۔ آپ ایک اسکور ادھر سے ادھر نہیں کر سکتے ایمپائر غلط آو¿ٹ نہیں دے سکتا کیمروںکی آنکھ سے کچھ نہیں چھپتا،حکومت خود کو میدان میں اتری ٹیم سمجھ کر کھیل رہی ہے۔
خان صاحب بھی حکومت کو کرکٹ ٹیم کی طرح چلا رہے ہیں اور جس چیز میں انکا تجربہ ہے اسکو” اپلائی “کر رہے ہیں۔ کھیل انسان کو ڈسپلن سکھاتا ہے اور سب سے بڑھ کر ایمان دار رہنا سکھاتا ہے کھیل میں بے ایمانی نہیں چلتی جو بے ایمانی کرتا ہے وہ کھیل سے باہر ہو جاتا ہے۔
سابق حکومت کاروبار سمجھتی تھی اس لیے حکومت کو اسی انداز میں چلاتی رہی ، موجودہ حکومت اسے کھیل سمجھتی ہے اسی لیے بے ایمانی سے گریز کر رہی ہے اور یہ سمجھتی ہے کہ جس میدان میں وہ اتر ے ہیں ان سے پہلے والی ٹیم نے میدان کو کھیلنے کے قابل نہیں چھوڑا۔ اور اس کا مسلسل ”ڈھنڈورا“ پیٹا جا رہا ہے وہاں بھی جہاں اس کی ضرورت نہیں۔شاید خان صاحب کا خیال ہے کہ دنیا اس سچ کو مان لے گی جو ان کے نزدیک سچ ہے۔ خان صاحب سے انڈیا سے تعلقات کے حوالے سے بھی سوال پوچھا گیا۔
یہ اچھا موقع تھا کہ خان صاحب دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کویہ تو بتا دیتے کہ کشمیر کے مسئلے کا حل نہ ہونا دونوں ملکوں کے اچھے تعلقات کی راہ میں رکاوٹ ہے۔خان صاحب نے یہ تو فرما دیا کہ افغانستان کے راستے اب بھی دہشت گرد پاکستان میں گھس کر کاروائیاں کرتے ہیں مگر یہ نہیں بتا یاکہ ان دہشت گرد وں کو بھارت اسپانسر کرتا ہے ۔
خان صاحب نے انگریزی میں تقریر اچھی کی لیکن پتہ یہ چلا کہ اس بار بھی خان صاحب نے تقریر سے پہلے ہوم ورک نہیں کیا۔انہوں نے اسی طرح خطاب کیا جس طرح وہ پاکستان بزنس کمیونٹی سے کرتے ہیں اگر خان صاحب تیاری کر کے جاتے تو یہ سنہری موقع ہوتا اللہ کرے کہ دنیا کو وزیراعظم کی نیک نیتی پر یقین آ جائے اور اسی بنیاد پر وہ پاکستان میں سرمایہ کاری پر راضی ہو جائیں۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.