Daily Taqat

قانون سے ”بالا تر“ ملک ریاض

2013میں وفاقی محتسب شعیب سڈل نے ملک ریاض اور سابق چیف جسٹس کے بیٹے ارسلان افتخار کے معاملے کی تحقیقات کیں۔ ایف بی آر کی جانب سے رئیل اسٹیٹ ٹائیکون ملک ریاض کے ذمے 119ارب روپے ٹیکس کے لیے ان تحقیقات کی ہدایات جاری کی گئی تھیں۔تعجب نہیں کہ اس وقت کے صدر آصف زرداری نے یہ معاملہ نمٹا دیا، جو 2008کے بعد ملک ریاض کی کام یابیوں میں کلیدی کردار ادا کرتے آرہے ہیں اور وردی پوشوں کے ساتھ ساتھ ملک ریاض نے زرداری کے ساتھ بھی مراسم بڑھائے، کچھ اچھے افسران کی مدد سے زرداری کو شراکت دار بھی بنا لیا۔ وقافی وزیر داخلہ رحمن ملک کا ساتھ بھی حاصل رہا اسی لیے اسلام آباد اور راولپنڈی میں ملک ریاض کے زمین پر قبضوں میں پولیس نے کوئی مداخلت نہیں کی۔ ملک ریاض مطلوب اور مفید دائرہ اثر میں تعلقات بنانے کی مہارت رکھتے ہیں، چاہے اس کے لیے ”خدمات“ خریدنی پڑیں یا اہل منصب کو اپنے دام میں لانا پڑے۔
صدر پاکستان کو بہت سے اختیارات حاصل ہیں لیکن اگر وہ کسی وہائٹ کالر جرائم پیشہ کا شریک کار بن جائے تو کیا کسی کے ذمے بھاری حکومتی ٹیکسوں سے اسے چھٹکارا دلوا سکتا ہے؟ اس سوال کے جواب کے لیے آئین سے رجوع کرنا چاہیے۔ وکی پیڈیا کے مطابق ملک ریاض کے اثاثوں کی مالیت اندازاً ایک ارب ڈالر سے زائد ہے اور وہ پاکستان کے ساتویں امیر ترین فرد ہیں۔ اسّی کی دہائی میں ملک ریاض نے چھوٹی موٹی ٹھیکے داری سے کاروبار کا آغاز کیا تھا۔ ملٹری انجینیئرنگ سروس میں ایک معمولی کلرک سے پاکستان کے بڑے کاروباری افراد میں شامل ہونے تک کا دو دہائیوں پر محیط اس سفر کی تفصیلات پر دھند چھائی ہے۔
کراچی سپر ہائی وے پر ملک ریاض کا بحریہ ٹاو¿ن منصوبہ 2014میں اپنے آغاز ہی سے گھپلوں، تنازعات اور شبہات کی زد میں تھا اور یہ کئی مشکوک معاملات طے ہونے کا بعد ہی ممکن ہوسکا۔ زرداری کی براہ راست مداخلت کے بغیر یہ منصوبہ وجود میں نہیں آسکتا تھا۔مئی 2015میں سندھ کی ”اپیکس کمیٹی“ کے اجلاس میں پیش کردہ تفصیلی رپورٹ کے مطابق حکومت سندھ نے مبینہ طور پر سپر ہائی وے کے نزدیک 44ہزار ایکڑ زمین بحریہ ٹاو¿ن کو دی۔ اگرچہ بحرہ ٹاو¿ن کی انتظامیہ نے ان تفصیلات کو محض الزامات قرار دے کر مسترد کردیا لیکن حکومت سندھ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے نمائندوں نے خاموشی اختیار کیے رکھی۔ آپ کو حیرت ہوگی کہ کیوں سندھ حکومت نے قیام امن کے لیے رینجرز کو کراچی میں توسیع اور نیب کو سندھ میں کام کرنے کی اجازت دی؟ حکومت سندھ اپنے تمام ماتحت افسران کو نیب سے کسی قسم کے تعاون سے منع کرچکی تھی اور اسے آئینی عمل تصور کیا گیا! انور مجید اور ڈاکٹر مجید تو اس دیگ کے دو دانے ہیں، ورنہ مجرمانہ ذہنیت کے جو کرشمے یہاں دکھائے گئے ہیں اس کی مثال شاید دنیا یا تاریخ سے تلاش کرنا ممکن نہ ہو۔
جس سہولت اور تیزی سے بحریہ ٹاو¿ن کراچی جیسے وسیع و عریض منصوبے پر کام ہوا، اس سے بہ آسانی یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ زرداری نے سندھ میں اپنے منتخب حکام کو تعینات کرکے زمین کے غیر قانونی حصول اور حکومتی زمین دینے میں پوری مدد کی۔ سپر ہائی وے پر جھونپڑیوں پر مشتمل کئی چھوٹے دیہات کو ختم کردیا گیا اور مکینوں کو ڈرا دھمکا کر بحریہ ٹاو¿ن کے لیے راستہ صاف کیا گیا۔ ضلع ملیر کے گوٹھوں میں بسنے والوں کو خوف زدہ کرنے کی بھی یہی داستان ہے، ان میں کئی لوگوں کو دھمکا کر زمین فروخت کرنے یا چھوڑنے پر مجبور کیا گیا، کئی لوگ پولیس کی جانب سے دہشت گردی کے جھوٹے مقدموں کی دھمکیوں سے خوف زدہ ہوکر اپنی زمینیں چھوڑ گئے۔ ان پولیس حکام کے خلاف کیا کارروائی ہوئی؟
مئی 2018میں ، سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اپنے جامع فیصلے میں بحریہ ٹاو¿ن کراچی کو پلاٹ یا تعمیر شدہ اپارٹمنٹ کی فروخت سے روک دیا اور ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور بحریہ ٹاو¿ن کے مابین زمین کے تبادلے کو منسوخ قرار دے دیا۔
بینچ کے سربراہ جسٹس اعجاز افضل خان نے نیب کو اس معاملے کی تحقیقات کا حکم بھی دیا اور تفتیشی عمل کو منتطقی انجام تک پہنچانے کی ہدایت جاری کی۔ ملک ریاض نے نیب کو اس منصوبے سے دور رکھنے کے لیے بڑی دُہائی دی۔ اس بینچ نے 2015میں ایم ڈی اے کی جانب سے 43دیہات کی 9385ایکڑ زمین بحریہ ٹاو¿ن کراچی کو دینے کے خلاف متعدد درخواستوں کو سنا۔ یہ زمین ایک ہاو¿سنگ اسکیم کے لیے مختص تھی ، تاہم ایم ڈی اے نے بولی کے بغیر ہی یہ زمین بحریہ کو اپنی اسکیم جاری کرنے کے لیے دے دی۔ ایم ڈی اے نے بلوچستان کی سرحد سے منسلک ایک ویران اور بے قیمت اراضی سے اس بیش قیمت زمین کا تبادلہ کیا۔ ایم ڈی اے صرف پرائیوٹ ڈیولپرز کو صرف لیز دینے کی مجاز ہے تاہم ملک ریاض کے معاملے میں اس اراضی کی ملکیت بحریہ ٹاو¿ن کو منتقل کردی گئی، اس غیر قانونی اقدام سے حکومت کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔
سپریم کورٹ کے فیصلے میں مذکورہ اراضی ایم ڈی کو واپس کرنے اور تبادلے کو طور پر دی گئی اراضی بحریہ ٹاو¿ن کو لوٹانے کی ہدایت دی گئی۔ ایم ڈی اے کو بحریہ ٹاو¿ں کی جانب سے اراضی کی ادا کی گئی رقم واپس کرنے کا بھی پابند کیا گیا۔ اس معاملے کے حتمی فیصلے تک بحریہ ٹاو¿ن کو کسی نئے بلاک یا منصوبے کے اجرا سے بھی روک دیا گیا۔ پلاٹ مالکان کو اقساط کی رقم سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق کھولے گئے علیحدہ اکاو¿نٹ میں جمع کروانے کی ہدایت دی گئی۔ اس فیصلے کے نفاذ کے لیے سپریم کورٹ کا ایک الگ بینچ بھی تشکیل دیا گیا جو عدالتی احکامات کے نفاذ ، ایم ڈی اے اور بحریہ ٹاو¿ن کے مابین اراضی کی منتقلی کی منسوخی سے متعلق امور کی نگرانی کرے گا۔
مئی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے فیصلے پر بحریہ ٹاو¿ن کی جانب سے دائر نظر ثانی کی درخواست کی سماعت ستمبر میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے شروع کی۔ اس دوران چیف جسٹس نے ان سیاسی مراسم اور عزائم پر سوال اٹھایا جو اُس قانون کی منظوری کے پس پردہ کارفرما تھے، جس کے نتیجے میں ایم ڈی اے اور بحریہ ٹاو¿ن کراچی کے مابین اراضی کا تبادلہ ممکن ہوا۔ میرے عزیز دوست اعتزاز احسن نے عدالت کے سامنے دلیل پیش کی کہ اس بات کو نظر انداز نہیں کرناچاہیے کہ بحریہ ٹاو¿ن کراچی نے ایک ویرانے کو دبئی جیسا بنا دیا۔ملک ریاض نے دعوی کیا کہ بحریہ ٹاو¿ن میں معیار زندگی پنج ستارہ ہوٹلوں کے مساوی ہے اور ایسی سہولیات برطانیہ میں بھی دست یاب نہیں، اور ایسی طرز رہایش اس سے قبل درمیانے اور نچلے متوسط طبقے کو کبھی نصیب نہیں ہوئی تھی۔ اس استدلال کا مقصد یہ تھا کہ سپریم کورٹ معیاری خدمات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس منصوبے کی تمام بے قاعدگیوں اور کرپشن کو نظر انداز کردے۔ چیف جسٹس نے بجا فرمایا کہ وہ ملک ریاض کو رابن ہڈ نہیں بنانا چاہتے جو امیروں کو لوٹ کو غریبوں کو نوازا کرتا تھا۔ عدالت نے اس بات کی صراحت کردی کہ کسی کو بھی سرکاری اراضی ہڑپنے نہیں دی جائے گی۔ جب سپریم کورٹ نے سابقہ فیصلے کے مطابق ”امپلی منٹیشن بینچ“ بنانے کا ارادہ ظاہر کیا تو 11اکتوبر کو بحریہ ٹاو¿ن نے 4مئی کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست واپس لے لی۔
سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاو¿ن راولپنڈی کو اسلام آباد کے نزدیک تخت پری کے علاقے میں جنگلات کی 1170کنال اراضی پر قبضے کا ذمے دار ٹھہرایا جب کہ محکمہ جنگلات نے بھی بحریہ ٹاو¿ن کے 765کنال رقبے پر تجاوزات کررکھی ہیں۔ عدالت نے باہمی رضا مندی سے ہونے والی ان تجاوزات کو غیر قانونی قرار دیا۔ 9اکتوبر کو سندھ ہائی کورٹ نے ملک ریاض کے پاکستان سے باہر جانے پر پابندی عائد کردی اور ایڈیشنل سیکریٹری محکمہ جنگلات و جنگلی حیات پنجاب کی جانب سے اراضی کے متعلق دھوکا دہی اور جعل سازی کی شکایت پر حفاظتی ضمانت منظور کرلی۔ ملک ریاض کو اگر بھنک بھی پڑ جاتی تو وہ اپنے ذاتی طیارے میں بیرون ملک چلے جاتے۔ یہ سوال ہونا چاہیے کہ انھوں نے بیرون ملک، خصوصاً برطانیہ کیسے اتنی بھاری رقم منتقل کی؟ منی لانڈرنگ کے بغیر وہ یوکے میں اتنی وسیع جائیداد کیسے خرید سکتے تھے اور حکومت برطانیہ اس معاملے پر کیا کرسکتی ہے؟
ڈیفینس ہاو¿سنگ اتھارٹی ویلی اسلام آباد بحریہ ٹاو¿ن کا ایک اور متنازعہ منصوبہ ہے جس کا آغاز 2008میں ہوا تھا۔ بحریہ ٹاو¿ن اور ڈی ایچ اے کا یہ مشترکہ منصوبہ فوج کے شہیدوں کے لیے شروع کیا گیا تھا اور اسے 2011تک مکمل ہونا تھا۔ قانونی کارروائی، تعیمراتی کام کی سست روئی اور کرپشن کے الزمات سمیت کئی مسائل کی وجہ سے یہ منصوبہ تاخیر کا شکار رہا۔ اس منصوبے میں ایک لاکھ 10ہزار سویلینز اور 41ہزار حاضر سروس و ریٹائرڈ افسران اور شہدا کے خاندانوں کے افراد کے ساتھ دھوکا ہوا، اس کے ذمے داروں کے تعین کے لیے کیا باقاعدہ تحقیقات نہیں ہونی چاہیں تھی؟ 2016میں سپریم کورٹ میں دائر ہونے والے ایک مقدمے کے مطابق مبینہ طور پر ڈی ایچ اے نے کسی قانونی اختیار کے بغیر ایک غیر قانونی معاہدے کے تحت شہریوں سے جمع ہونے والے 62ارب روپے بحریہ ٹاو¿ن کے اکاو¿نٹ میں منتقل کیے، بنیادی طور پر یہ خرد برد ہوئی۔
سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے بھائی میجر (ر) کامران کیانی دیگر ریٹائرڈ آرمی افسران کے ساتھ اس گھپلے میں ملوث ہیں، انھیں ڈی ایچ اے ویلی اسکیم کے لیے اراضی حاصل کرنے کا کام سونپا گیا تھا۔ چھ سال گزر جانے کے باوجود جنرل کیانی کا بھائی پلاٹ نہیں دے سکا جس کے بعد ڈی ایچ اے کو معاملہ نیب کے پاس لے جانا پڑا۔ ڈی ایچ اے کے مطابق کامران کیانی خرد برد میں ملوث ہے۔ اکتوبر 2016میں اس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے حوصلے کا مظاہرہ کیا اور اپنے پیشرو کے بھائیوں کا احتساب کیا، انہوں نے ریٹائرڈ فوجی افسران اور سویلین سمیت تمام ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کے لیے نیب کو گرین سگنل دیا تاہم اس وقت کی نیب انتظامیہ پس و پیش کا شکار رہی اور کوئی قابل ذکر کارروائی نہیں کی گئی۔ اگر چہ انسداد بدعنوانی میں نیب کا کردار کلیدی ہونا چاہیے، تاہم ملک ریاض سے منسلک رہنے والے سابق (خصوصاً ٹو سٹار اور ان سے بڑے رینکس کے ) افسران اور اپنی خدمات کے عوض مکانات اور پلاٹس حاصل کرنے والوں کے خلاف تحقیقات فوج کے مفاد میں بھی ہے۔ اس دور کے تمام ایجوڈنٹ جنرل اور ان کے ماتحت افسران کو بھی باضابطہ تفتیشی عمل سے گزارنا چاہیے۔ ان 62ارب روپوں کا کیا ہو جو ڈی ایچ اے اسلام آباد نے ملک ریاض کو منتقل کیے ، کس بات نے انہیں بینکس کو دوبارہ ادائیگی کو ری شیڈیول کرنے سے روکا؟ کیا یہ بھی اتفاق ہے کہ ملک ریاض نے مورگہ میں دریائے سواں سے متصل جنرل کیانی کے دس کنال کے گرد حفاظتی دیوار تعمیر کی جس کے بعد یہ اراضی دس سے پندرہ گنا بڑھ کر 200کنال یا شاید اس سے زائد ہوگئی؟ جنرل آصف نواز کے بھائی اور میرے دوست شجاع پاشا نے جب مجھے کیانی کے گھر کی تصاویر دکھائیں تو میں حیران رہ گیا۔
بحریہ ٹاو¿ن کراچی کے معاملے کی ایک اور بدقسمتی ، جو غیر متوقع بھی نہیں تھی، یہ رہی کہ سوائے ایک بڑے انگریزی روزنامے کے کسی نے اس کی رپورٹنگ نہیں کی۔ بظاہر یہ تعجب خیز ہے لیکن اس سے ملک ریاض کی پہنچ اور اثر و رسوخ کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ وہ ٹیلی ویژن پر سب کے سامنے سرکاری حکام، سیاست دانوں، ریٹائرڈ فوجیوں اور دیگر اداروں کو مطلوبہ منظوریاں اور اپنے منصوبوں کی اراضی کے حصول کے لیے رشوت دینے کا اعتراف کرچکا ہے لیکن کبھی اس کے یا اس کی کمپنی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ وہ میڈیا مالکان اور ٹی اینکروں(جن میں سے دو کی گھر کے تحفے قبول کرنے کی ویڈیو موجود ہے) کو اشتہارات اور مراعات دیتا ہے، آپ کے خیال میں میڈیا سے متعلق کوئی بھی شخص بہ ہوش و حواس اس کے خلاف آواز اٹھا سکتا ہے؟ ملک ریاض کی بازو اس قدر لمبے ہوچکے ہیں کہ وہ کسی بھی ناپسندیدہ آدمی کو راتوں رات عہدے سے برطرف کروا سکتا ہے، اپنے مفادات کے لیے قواعد و ضوابط میں تبدیلی اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ وقت آ پہنچا ہے کہ نیب ملک ریاض اور اس کے ساتھیوں سے تحقیقات کریں ، ان کے کرتوت سامنے لائے اور انھیں کیفر کردار تک پہنچائے۔
امن و امان کی صورت حال قابو میں آنے کے بعد کراچی کا سب سے بڑا مسئلہ پانی ہے۔زرداری اور ملک ریاض کے لالچ نے کراچی کے شہریوں کو بھی نہیں بخشا ، پانی کی قلت میں مبتلا شہر کے پانی کو تین چار انچ قطر کی لائن کے ذریعے ڈملوٹی انٹر سیکشن سے غیر قانونی طور پر بحریہ ٹاو¿ن منتقل کردینا کسی جرم سے کم نہیں۔ بحریہ ٹاو¿ن کراچی کا پانی چوری کرکے اس کے شہریوں کو آبی قلت کے جہنم میں دھکیل رہا ہے جو انتہائی مہنگا پانی خریدنے یا سرکاری نلکوں کے سامنے لمبی قطاروں میں لگنے پر مجبور ہیں۔ عزت مآب چیف جسٹس، کیا روبن ہڈ نے شرفا کو پانی فراہم کرنے کے لیے غریبوں کو محروم کرکے دریا کا رُخ بدل دیا تھا؟ ملک ریاض سے موازنہ روبن ہڈ کی ہتک ہوگی۔ روبن ہڈ کم از کم ضمیر رکھتا تھا۔ بدعنوان حکومت ، حکام اور محکموں کے ملوث ہونے کے باوجود یہ زرداری کی براہ راست ہدایات کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ وزیر اعظم اور گورنر ہاو¿س کی کیا حیثیت عوام کو تو وہ محل دکھانا چاہیے جو ملک ریاض نے بحریہ ٹاو¿ن میں زرداری کو تعمیر کرکے دیا ہے۔ اس دنیا کا کوئی بھی بادشاہ یہ عمارت دیکھ لے تو رشک کرے گا۔ بنیادی طور پر ہم دوغلے ہیں، زرداری کی ہوس زر کو آئینی تحفظ دیتے ہیں، ملک ریاض بھاری معاوضے ادا کرکے وکیلوں، ریٹائرڈ سینیئر سول اور فوجی افسران کے ذریعے کار سرکار کو اپنی مرضی کے مطابق جیسے چاہے متاثر کرتا ہے۔ یہ سب مل کر یہ ممکن بتاتے ہیں کہ زرداری صدر نہ ہونے کے باوجود سندھ کا بے تاج بادشا ہے اور قانون کی تکنیکی پیچیدگیوں کا سہارا لے کر اس کے شکنجے سے محفوظ ہے۔ الکپون کی طرح کیا ٹیکس چوری اور منی لانڈرنگ میں یہ گرفتاری ممکن نہیں تھی۔ سوال وہی ہے کہ قانون سے ”بالا تر“ ملک ریاض کا احتساب بھی کبھی ہوگا؟
(فاضل کالم نگار سیکیورٹی اور دفاعی امور کے تجزیہ کار ہیں)


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »