Daily Taqat

امریکہ دہشتگردی کی جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو مانے

آخر کار امریکہ نے بھی پاکستان میں دہشت گردی پر موثر قابو پانے کا اعتراف کرہی لیا۔امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری دوہزار سترہ دہشتگردی سے متعلق رپورٹ میں پاکستان کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ القاعدہ کی کمر توڑنے میں پاکستانی فورسزکا بہت بڑا کرداررہاہے۔ پاکستان میں دہشت گردی 2014کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔ پاک افغان تعلقات میں مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے۔
رپورٹ میںمزید کہا گیاہے کہ جنوبی ایشیامیں القاعدہ کیخلاف افغان اورپاکستانی فورسز برسرپیکار ہیں۔ پاک فوج کے آپریشنز نے قبائلی علاقوں میں القاعدہ کی طاقت کو مزید کم کیا ہے۔پاکستانی حکومت نے افغان حکومت اور طالبان کی سیاسی مفاہمت کی کوششیں بھی کی ہیں۔ پاکستان نے اپنے سرحدی علاقوں میں ہر قسم کے دہشتگردی کے نیٹ ورکس کو ختم کرنے میں قابل ذکر کامیابیاں حاصل کی ہیں۔دنیا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں پاکستان نے دی ہیں او پاکستان نے دہشت گردی پر قابو پانے والے ممالک میں سر فہرست ہے۔
پاک فوج کے آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کی بدولت آج سرحدی علاقے مکمل طور پر دہشت گردوں سے کلیئر کرا لیے گئے اور عسکریت پسندوں کے نیٹ ورک کے تمام کمانڈ اینڈ کنٹرول ڈھانچے کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ پاکستان کے اندر کسی بھی دہشتگرد گروپ کے لئے کوئی پناہ گاہ نہیں ہے۔ پاکستان میں القاعدہ کی قیادت کی موجودگی کے حوالے سے بے بنیاد الزامات بند ہونے چاہیں۔جس کی وجہ سے پاکستان اور امریکہ کی انٹیلی جنس کمیونٹی کے درمیان تعاون جس کے تحت حالیہ برسوں میں القاعدہ کے بڑی تعداد میں لوگوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا گیا، کو متاثر کرسکتا ہے۔
بد نام زمانہ القاعدہ کے رہنما ابو زبیدہ ، رمذی بن الشعیبی، خالد شیخ محمد اور یونس الموریطانی کو پاکستان کے موثر تعاون کے باعث گرفتار کیا گیا تھا۔ سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر جارج ٹینیٹ سمیت سینئر امریکی حکام نے بھی القاعدہ سمیت دیگر دہشت گرد نیٹ ورکس کا کھوج لگانے کے لئے شاندار پاکستانی تعاون کی توثیق کی ہے۔ ملک میں دہشتگردی کے واقعات میں کمی اور امن و امان کی بہتر صورتحال کے ساتھ پاکستان اقتصادی بحالی کے راستے پر چل رہا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ پاک فوج کے جوانوں دہشت گردوں کی کمر توڑ دی ہے۔ دہشت گرد ناکامی کی صورت میں غاروں میں چھپ گئے تھے ان کو وہاں سے نکال کر ان کا خاتمہ کیا۔ ہمارے دشمن ابھی ختم نہیں ہوئے اور آج بھی آسان اہداف کونشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔پوری قوم کو متحد ہو کر ان دہشت گردوں کے بھیانک منصوبوں کو ناکام بنانا ہے۔ آپریشن ضرب عضب سے ملک میں مجموعی امن وامان میں بہتری آئی ہے۔
پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں جو مثبت کردار ادا کیا ہے اور اس میں جو قربانیاں دی ہیں ان کا اگرچہ دنیا بھر میں احساس وادراک کیا جاتا ہے۔ امریکی جرنیل اور حکام کی زبانوں پر بھی کبھی کبھار کلمہ تحسین آجاتا ہے۔ عالمی میڈیا بھی اس کا ذکر اچھے الفاظ میں کرتا ہے۔ اب جس طرح ”واشنگٹن پوسٹ“ میں پاکستان کے کردار کو کھل کر سراہا گیا وہ حقیقت حال کا ایسا کھلا اعتراف ہے جس کی تحسین کی جانی چاہئے۔ اس جنگ میں پاکستان کی کامیابیاں اتنی نمایاں ہیں کہ انہیں نظرانداز کرنا آسان نہیں لیکن جب امریکہ کے بعض حلقے ” ڈو مور “ کا مطالبہ کرتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے کہ افغانستان کی صورت حال سے کلی طور پر باخبر ہونے بلکہ خود اس کے عملی تجربے سے گزرنے کے باوجود انہیں یہ کہنے کی ضرورت کیوں پیش آجاتی ہے؟
9/11کے بعد جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تو جنگ کا ملبہ پاکستان پر گرنا ہی تھا۔ چنانچہ یہاں خودکش حملوں کے ایک ایسے کلچر کا آغاز ہوا جس سے یہ خطہ پہلے آشنا نہیں تھا دیکھتے ہی دیکھتے دہشت گردی کی وارداتوں کا دائرہ اتنا پھیل گیا کہ ہر روز کہیں نہ کہیں دھماکے اور خودکش حملے ہونے لگے۔ قیمتی جانی نقصان کی توخیر کسی طرح تلافی نہیں ہو سکتی۔ پاکستانی معیشت کو جو جھٹکے لگے ان کا کیف و کم اتنا زیادہ تھا کہ پاکستان نے سال ہا سال کی محنت سے جو اثاثے بنائے تھے انہیں چشم زدن میں تباہ کر دیا گیا۔محدود وسائل کے باوجود پاکستان کی حکومت اور فوج نے اللہ تعالیٰ کی مدد اور اپنی قوت بازو پر بھروسہ کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا۔ فوجی جوانوں کی قربانیوں کا صلہ پاکستانی قوم اور پاکستان کو امن کی صورت میں ملا جو ایک وقت میں عنقا ہوتا ہوا محسوس ہوتا تھا۔
امریکہ میں جو حلقے پاکستان کی قربانیوں کا درست احساس نہیں رکھتے یا جنہیں پوری معلومات نہیں ہیں اور اس کی بنا پر وہ پاکستان کی قربانیوں کی تعریف میں بخل سے کام لے رہے ہیں انہیں واشنگٹن پوسٹ کے اس مضمون کے مندرجات سے اندازہ ہوگا کہ پاکستان نے جو کام کیا ہے دنیا کی بڑی بڑی افواج نہیں کر سکیں۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »