Latest news

کراچی کی کچرا کہانی

کراچی کی صفائی کے حوالے سے یہاں کا سب سے بڑا مسئلہ کچرا اٹھانا اور پھر اسے محفوظ مقام پر ٹھکانے لگانا ہے ،ا س سلسلے میں بہت سے منصوبے زیر غور رہے مگر آج تک سنجیدگی سے کسی مسئلے پر غور نہیں کیا گیا،وہ کچرا جو آپ پھینکتے ہیں وہ ایک ٹھیکیداری نظام کے تحت چھانٹی کیا جاتاہے جو کچرا آپ پھینکتے ہیں ان میں کچھ کچرا افغانی بچے لے جاتے ہیں ان سینکڑوں افغانی بچوں کو اس کے عوض پیسے دیئے جاتے ہیں،یہ افغانی جوپلاسٹک کی چیزیں اور پلاسٹک بیگز جمع کرتے ہیں وہ پلاسٹک بیگ پینتیس سے چالیس روپے کلو تک بکتاہے،جو اس وقت ایک منافع بخش کاروبار کی شکل اختیار کرچکاہے ،افغانیوں کے جمع شدہ پلاسٹک سے ری سائیکل پلاسٹک بنتاہے جس سے پلاسٹک برتن سمیت بہت سی چیزوں کو بنایا جاتاہے، باقی کچرے کو دو دن کے بعد لوگ اسے لے جاتے ہیں سوال یہ ہے کہ کچرا اٹھنے میںدیرکہاں ہوتی ہے ٹوٹل کچرا روزانہ ساڈھے چودہ ہزار ٹن بنتاہے جس میں جو اٹھتا ہے وہ آٹھ ہزار سے دس ہزارٹن کے قریب ہوتاہے ،باقی جو ساڈھے چار ہزار ٹن بچتاہے وہ چار سے پانچ ہزار ٹن روزانہ ندی نالوں میں پھینکا جاتاہے ،یہ ہی وجہ ہے کہ نالے بھرے رہتے ہیں اس وقت بھی شہر میں پندرہ سے بیس لاکھ ٹن کچراپڑاہے ، کچرا اٹھانے کا کام تین ڈسٹرکٹ میں تقسیم ہے ،، ڈی ایم سیز اور کے ایم سیز کی جانب سے کراچی کی دونوں لینڈ فل سائٹ جام چاکرواور گوند پاس لینڈ پر کچرا باقاعدگی سے اور مکمل نہیں پہنچ پاتااگر کنٹونمنٹ بورڈ اور تمام سیوک ایجنسیاں باقاعدگی سے کچرا لینڈ پر پہنچائیں تو روزانہ پندرہ ہزار ٹن کے قریب کچرا لینڈ فل سائٹ منتقل ہوگا۔گزشتہ دنوں کراچی میں کچرے کے ڈھیر اور مکھیوں کی یلغار کا عالمی میڈیا میں چرچا دیکھ کر دل بہت خون کے آنسو رویا،عالمی میڈیا نے اس بات کو کراچی میں ایک سازش قراردیا اور یہ بھی لکھا کہ کراچی میں صفائی کا سنگین مسئلہ بدانتظامی کا نتیجہ ہے ،کیونکہ شہر میں کچرے کو تلف کرنے کا کراچی میں کوئی مربوط انتظام نہیں ہے،شہر بھر میں روزانہ کی بنیاد پر جمع ہونے والے کچرے کو ٹھکانے لگانے کی ذمہ داری کچھ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈجبکہ باقی ڈی ایم سیز کنٹونمنٹ بورڈکی ذمہ داریوں میں شامل ہے ،ضلع وسطی اور ضلع کورنگی کے علاوہ کراچی کے چار اضلاع سے کچرااٹھانے کی ذمہ داری سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کی ہے ،کچرے کا تیسراحصہ وہ چائینزکمنپیاں جنھیں کراچی کے تین ڈسٹرکٹ دیئے گئے ہیںان چائینزکمپنیوں کو اس کے کچرا اٹھانے کی قیمت جہاں سے آپ کچرا پھینکتے ہیں وہاں سے ساڈھے چار روپے فی کلو دیا جاتاہے ،شہر کے تمام اضلاع سے یومیہ آٹھ سے دس ہزار ٹن کچرا جام چاکرواور ویندرکی لینڈ فل سائٹ پر جو کچرا پھینکنے کی مخصوص جگہ ہے تک پہچایا جاتاہے ،جیسے ہی فل سائٹ پر کچرا پھینکا جاتاہے تو یہاں کہ کئی سو خاندان اس کچرے کی چھانٹی کے لیے آجاتے ہیں جن کا یہ روٹی روزی کا زریعہ بن چکاہے ان لوگوں نے باقاعدہ ا س مقام پر اپنی بستیاں آباد کررکھی ہیں،اب ہم آتے ہیں کچرا اٹھانے کی طر ف کراچی میں موجود تقریباً تیس ہزار ٹن کچرا ٹھانے کے لیے ایک ہزار ڈمپر روز کے لیے چاہیے اور اس عمل کو بھی تین ماہ لگ جائینگے مکمل ہونے تک،کیونکہ اگر ہم بیس لاکھ ٹن کچرے میں سے اگر روزانہ دس ہزار ٹن کچرا بھی اٹھائیں تو اسے مکمل صاف ہونے میں تین ماہ درکار ہونگے ،اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ کراچی میں کلین کراچی مہم سے شہریوں کو بہت فائدہ ہواہے بارشوں کے پہلے اسپیل میں ہم نے دیکھا کہ چھپن ملی میٹر بارش سے سعدی ٹاﺅن ڈوب گیاتھا مگر جب کلین کراچی مہم کے روح رواں علی زیدی نے شہر کے نالوں کی صفائی کا بیڑہ اٹھایا تو اس کے بعد ایک اور (جاری ہے)
بارش کے اسپیل جس میں تقریباایک سو چھیتر ملی میٹر بارش ریکارڈ ہونے کے باوجود شہر کو وہ تکلیف نہ اٹھانا پڑی کو اس مہم کو چلانے سے قبل لوگوں کو اٹھانا پڑی تھی ،جبکہ اس مہم سے قبل سعدی ٹاﺅن کے علاوہ کس طرح سے گجر نالے کے مکینوں کو ڈوبتے ہوئے لوگوں نے دیکھا وہ سب کچھ ریکارڈ پر موجود ہے ،اس مہم میں پاک فوج کے زیلی ادارے ایف ڈبلیو او کی کاوششوں کی جسقدر بھی تعریف کی جائے وہ کم ہوگی پاک فوج کے جوانوں نے جس انداز میں آگے بڑھ کر اپنا کلیدی کردار اداکیا اور شہریوں کی حفاظت کی وہ سب ناقابل فراموش ہے۔اس کروڑوں کی آبادی والا شہر اب تک دنیا داری کی تمام تر بنیادی سہولیات سے محروم نظر آتاہے ،آج کے اس جدید دور میں جہاں دنیا کچرے سے بجلی بنا رہی ہے اور ہمارے ملک میں سیاسی جماعتیں اس پر اپنی سیاست کو چمکا رہے ہیں، بھلا سیاست کے بنا کس طرح سے کراچی میں پانچ سو پچاس چھوٹے بڑے برساتی نالے کچرے کے ڈھیر سے اٹے رہ سکتے ہیں ،جو شہر پورے پاکستان کے لیے معاشی حب کا درجہ رکھتاہوں بھلا وہ کس طرح سے وسائل سے محروم رہ سکتاہے ۔یہ سب کچرا کراچی کی سیاست کرنے والوں سے ہی پوچھا جاسکتاہے جن کی اس بے رحمانہ سیاست نے پوری دنیا میں کراچی کا خوبصورت چہرہ مسخ شدہ کرکے دکھایاہے ۔عالمی تحقیقاتی اداروں کے مطابق کراچی کسی بھی حال میں اب ان شہروں میں سے نہیں رہا کہ جو کسی مہذب انسان کے رہنے کے قابل ہو،ایک عالمی ادارے اکنامک اینٹیلی جنس یونٹ نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں یہ کہاہے کہ ہم نے ایک سو چالیس ممالک کا سروے کیا ہے اس میں کراچی کا نمبر سب سے آخر میں آتاہے مگر جو لوگ کراچی میں رہنے پر مجبور ہیں وہ بھی اس گندگی کے ڈھیر او رسیوریج زدہ آلودہ پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں میں گھرے ہوئے یہ بیچارے غریب لوگ آکر جائیں تو پھر کہاں جائیں ،اس کے علاوہ اس تحر یر میں ایک حقیقت کی جانب بھی بڑھتے ہیں ،ہم نے دیکھا کہ ترقی یافتہ ممالک نے ترقی اس لیے بھی کی کہ انہوںنے کارآمد چیزوں پرہی توجہ نہیں دی بلکہ ان ممالک نے تو ناکارہ چیزوں کو بھی اپنے لیے فائدہ من بنالیاہے ،مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ ان ترقی یافتہ ممالک نے اس کچرے سے بجلی کو پیدا کرکے دکھادیاہے جس پر ہم لوگوں کے جھگڑے ہی ختم نہیں ہوتے ،ماہرین کاکہنا ہے کہ کراچی کے کچرے سے 250میگا واٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے جس پر صرف سنجیدہ رویوں کی ضرورت ہے،آج اسی کچرے سے سنگا پور سمیت یورپین ممالک میں بجلی کو پید اکیا جارہاہے ۔کراچی میں چند کمپنیوں نے اس بات کی آفر کی ہے کہ کراچی کا کچراہمیں دیا جائے ہم اس کچرے کو اٹھائیں گے بھی خود اور اس سے بجلی بھی پیدا کرینگے ۔یقینی طورپر بجلی پید اکرنے کا منصوبہ اسی کچرے کی لینڈ سائٹ جام چاکرو اور گوند پاس پر لگایا جاسکتاہے ،اور شہر کا ساڈھے چودہ ہزا ر ٹن روزانہ کا کچرا عوام کو سستی بجلی فراہم کرنے کا ایک موثر زریعہ بن سکتاہے ،اس عمل کے بے پناہ فوائد ہیں جن میں سے کچرے کو جمع کرنے کی پریشانیوں سے چھٹکارا ملے گا ڈپمنگ پوائنٹس میں کمی آئے گی ،ماحولیاتی آلوگی اور بیما ریوں سے شہریوں کو نجات ملے گی ،لوگوں کو سستی بجلی ملنے کے ساتھ کچرے کی صفائی کے بعد شہر کی خوبصورتی میں بھی اضافہ ہوگا، اور سب سے آخر میں میں تمام اداروں سے یہ گزارش کرونگا کہ وہ شہر قائد کی خوبصورتی کو لوٹانے کے لیے ایک پلیٹ فارم پر آجائیں تاکہ کراچی کی اس کچرا کہانی کو منطقی انجام تک پہنچایا جاسکے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.