Latest news

عید پرمہنگائی کی کنُد چھری سے عوام کی قربانی

عید سے قبل جس طرح گراں فروشی کی لہریں طوفان کی شکل اختیار کر رہی ہیں،اس سے عوام کی قوت خرید ختم ہوتی جا رہی ہے۔ سبزی اور چکن کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کی پریکٹس ہر سال عید الاضحی سے قبل دہرائی جاتی ہے۔ انتظامیہ کی طرف سے اس رحجان پر قابو پانے کے بلند و بانگ دعوے بھی کئے جاتے ہیں، مگر نتیجہ کچھ نہیں نکلتا،مہنگائی مافیا انتظانیہ کی ملی بھگت سے عوام کو خوب لوٹتے ہیں، اس سال بھی وہی صورتحال درپیش ہے۔عام سبزیوں سے ہٹ کر دھنیا، پیاز، ٹماٹر، پودینہ، ہری مرچ، لیموں وغیرہ کی قیمتیں عوام کی قوت خرید سے باہر ہو گئی ہے۔

دوسری طرف نانبانی ایسوسی ایشن نے عید کے روز سے پراٹھا نان، کلچہ اور روٹی کی قیمت بڑھانے کا اعلان کر دیا ہے جو وزیراعظم کے اس اعلان کے برعکس ہے کہ روٹی کی پرانی قیمت برقرار رہے گی، عید کے موقع پر مہنگائی کا یہ نیا تحفہ عوام کیلئے سوہان روح بن رہا ہے۔ عید میں ا بھی چند روز باقی ہیں، اگر حکومت گراں فروشوں کیخلاف پیش بندی کر کے گرانی کی اس لہر پر قابو پانے کے سخت اقدامات کرے تو عوام کو ریلیف مل سکتا ہے۔ حکومت کو ہر صورت اپنی رٹ منوانا ہو گی، خالی زبانی کلامی دعوﺅں اور اعلانات سے کام نہیں چلے گا، یہ منافع خور مافیا باتوں سے ماننے والا نہیں، انکے خلاف سخت ایکشن لینے کی ضرورت ہے۔
تحریک انصاف حکومت ایک سالہ حکمرانی کا تمغہ اعزاز اپنے سینے پر سجا چکے ہیں ،اگروزیراعظم عمران خان کو دیگر مصروفیات سے ذرا فرصت ملے تو ایک لمحے کے لئے پیچھے مڑ کر ضرور دیکھیں کہ مہنگائی کے ستائے عوام کا بہت برا حال ہے ۔عوام نے مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کی غریب کش پالیسیوں سے تنگ آ کر تحریک انصاف کو ووٹ دیئے تھے، انہیں اس بات کا پختہ یقین تھا کہ عمران خان ان کے معیارِ زندگی کو بلند کریں گے ،کیونکہ غربت کے خاتمے کے لئے ان کے قول و فعل میں تضاد نہیں، لیکن ایک سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود غریب عوام کے خوابوں کو تعبیر نہیں ملی۔ ڈالر دن بدن مہنگا اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں،جس کے باعث غریب دن بدن غربت کی چکی میں پستا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم اور ان کے وزراءدبے لفظوں میں مہنگائی کا رونا روتے ضرور ہیں، لیکن عملی طور پر غربت کے خاتمے کے لئے کوئی ہنگامی اقدامات نہیں اُٹھائے جارہے ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے اشیاءضروریہ کی تمام چیزوں کی قیمتوں کو پر لگ جاتے ہیں،چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے سے دکاندار من پسند اضافہ کرتے ہیں جبکہ ٹرانسپورٹرز کرائے بڑھا دیتے ہیں۔ عمران خان سے عوام نے اس لئے امیدیں وابستہ کی تھیں کہ انہوں نے کرپشن فری سوسائٹی کی تشکیل اور پاکستان کا سرمایہ پاکستان میں ہی بروئے کار لانے کے لئے امید کی کرن دکھائی تھی۔ عمران خان نے ایک سال میں کرپشن فری سوسائٹی کے خدوخال تو واضح کر دیے ہیں ،جبکہ ملکی سرمایہ بھی عوامی فلاح و بہبود پر خرچ ہونا شروع ہو چکا ہے، لیکن مہنگائی کے جن پر قابو نہیں پایا جا سکا،جس کے باعث عوام حکومت سے مایوس نظر آتے ہیں۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ 70برس سے عوام بھوک،مہنگائی،غربت اور بے روزگاری کی دلدل میں دھنستے چلے جا رہے ہیں۔ حکمرانوں کے وعدے اپنی جگہ پر‘ لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ غریب آدمی کے لئے جسم و جان کا رشتہ برقرار رکھنا دن بدن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ موجودہ حکومت کو خزانہ خالی اورقرضوں کا ورثہ ملا ہے تو عوام کو ریلیف کہاں سے دیا جائے گا؟سابق حکومتوں نے صرف اپنی تجوریاں بھری ،لیکن عوام کے لئے کوئی کام نہیں کیا جس کے باعث آج موجودہ حکومت مشکلات سے دوچار ہے۔حکومت ہر روز سابق حکمرانوں کے سیاہ کارناموں سے عوام کو آگاہ کر رہی ہے، یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیے، تاکہ حقائق کھل کر عوام کے سامنے آ سکیں ،اس آگاہی مہم کے ساتھ انتظامی معاملات کی درستگی بھی وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ملک معاشی بد حالی کا شکار ہے ، معاشی خوشحالی کیلئے ٹیکس نظام کو بہتر بنا نا ہوگا ۔ بدقسمتی سے پاکستان میں ٹیکس وصولی کا نظام کمزور ترین ہے، حکومت کی متعدد کوششوں کے باوجود ایف بی آر ایک شفاف اور کرپشن سے پاک ادارے کے طور پر اپنی حیثیت منوانے میں ناکام رہا ہے،ماضی کی حکومت نے تمام اشیاءپر جی ایس ٹی نافذ کیا تھا، اس میں ماچس کی ڈبی سے لے کر پٹرولیم مصنوعات اور بجلی کے بلوں تک ہر چیز شامل تھی۔ جی ایس ٹی نے غریب عوام کے لئے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل بنا دیا تھا، کیونکہ اس ٹیکس سے براہ راست غریب آدمی متاثر ہوا تھا۔ حکومت کومہنگائی پر قابو پانے کے لئے امرا سے ٹیکس وصول کر کے غربا پر خرچ کرنے کے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔اگر عوام کیلئے روٹی کپڑا مکان کا حصول آسان ہو گا تو حکومت کے لئے ستے خیراں ہیں، اگر غریب آدمی اپنے بچوں کا پیٹ نہیں بھر سکے گا تو اس کی نظروں میں حکومت ناکام ہے۔ وزیر اعظم عمران خان ریاست مدینہ کی باتیں کرتے ہیں‘ تو انہیں علم ہونا چاہیے کہ ریاست مدینہ میں امیر اور غریب رات کو پیٹ بھر کر سوتے تھے۔ خلیفہ وقت راتوں کو اٹھ کر گلیوں میں گشت کرتے تھے، لیکن یہاں تو غریبوں کے منہ سے نوالہ چھینا جا رہا ہے۔
بلا شبہ حکومت کو اس وقت بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے ،تحریک انصاف کی باصلاحیت قیادت تمام چیلنجز کے مد مقابل کا میابی کیلئے کوشا ں ہے ،عوام سمیت مقتدر ادارے حکومت کے ساتھ کھڑے ہونے کے سبب حالات بہتری کی جانب گامزن ہیں۔اس صورت حال میں حکومت کو کرپٹ عناصر کے خلاف بلا تفریق کارروائی کرتے ہوئے غریب عوام کی مشکلات کم کرنے کے لئے بہتر پالیسیاں لانے کی ضرورت ہے۔حکومت عید قربان پر انتظامی معاملات کو بہتر بناکر مہنگائی کنٹرول کرکے عوام کے دل جیت سکتی ہے،مہنگائی مافیا نے عید سے قبل ہی گھی‘ کوکنگ آئل سمیت تمام اشیاءضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ کردیا ہے اور انتظامیہ خاموش تماشائی بنی سب کچھ خاموشی سے دیکھ رہی ہے۔ پرائس کنٹرول کمیٹیوں کے غیر فعال ہونے سے عید پر ایک بار پھر عوام کو کند چھری سے ذبح کیا جائے گا۔ وزیر اعظم عمران خان کم از کم عید کے موقع پرغریبوں کی مشکلات کم کرنے کیلئے سخت اقدامات کرنے چاہئے،اگر خدانخواستہ یہ غریب طبقہ گھروں سے باہراحتجاج کرنے نکل آیا تو اسے کنٹرول کرنا حکومت کیلئے مشکل ہو جائے گا۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.