Latest news

مدارس طلباءکو قومی دھارے میں لانے کا انقلابی قدم

تاریخِ اسلام میں مدارس کی اہمیت اور ان کے درخشاں کردار کو جھٹلا یا نہیں جاسکتا، مدارس نے دنیا کو ایسے قانون دان، فلسفی، اطبا، مورخ اور سائنسدان دئیے ہیں جن کا کام آج کے جدید دور میں بھی مشعل راہ ہے۔ برصغیر پاک و ہند میں تاجِ برطانیہ کی آمد سے قبل حصولِ تعلیم کا واحد ذریعہ مدارس ہی تھے، تاجِ برطانیہ نے زمامِ کار سنبھالنے کے بعد دنیاوی و دینی تعلیم کے مراکز کو الگ الگ کرکے ایک ہی معاشرے میں تعلیمی علیحد کی ایسی بنیاد رکھی جس کی آلائشیں آج تک سمیٹے نہیں سمٹ رہی ہیں۔ قیامِ پاکستان کے وقت ملک بھر میں مدارس کی تعداد کم و بیش اڑھائی سو تھی جو اب 30ہزار سے زائد ہو چکی ہے۔

اس وقت بلامبالغہ لاکھوں نوجوان مدارس سے وابستہ ہیں جن کا معاشرتی کرداربالعموم دینی تعلیم تک ہی محدود ہے۔ اس کے باعث ایک قابلِ ذکر طبقے کو پورے معاشرے کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ گردانا جا رہا ہے۔یہ بات خوش آئند ہے کہ یہ معاملہ مقتدر طبقات کے بھی پیشِ نظر ہے،اسی وجہ سے مدارس کے نصاب کوجدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔گزشتہ چند روز قبل اتحادِ تنظیمات مدارس کے انٹرمیڈیٹ امتحان کے پوزیشن ہولڈر طلبہ سے ملاقات کے دوران آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا بیان حوصلہ افزا ہے کہ مدارس کو قومی دھارے میں لانے کے مثبت نتائج نکلیں گے۔

اس میںشک نہیں اگردینی مدارس کے طلبہ کو جدید تعلیم سے ہم آہنگ کیا جائے تو نہ صرف تمام طبقات قومی ترقی میں شریکِ سفر ہوں گے ،بلکہ ملک بھی تیز تر ترقی کی منازل طے کرے گا۔
یہ حقیقت ہے کہ اگر مسلمان ممالک اپنے دینی مدارس کے طلبہ کو 21ویں صدی کے تقاضوں کے مطابق بنانا چاہتے ہیں تو وہ اپنے مدرسوں میں جدید تعلیم کو بھی فروغ دیں اور غیر مسلموں سے نفرت کی تعلیم دینا بند کردیں۔ اسلام ایک مکمل دین ہے ،لیکن مسلمان نوجوانوں کی تعلیم صرف دین اسلام اور اسلامی اصولوں تک محدود نہیں رہنی چاہیے ،بلکہ اس میں 21ویں صدی کے تقاضوں کو مد نظر رکھ کر بچوں کو جدید تعلیم دینی چاہیے۔

اگر مذہبی تعلیم محدود رکھی گئی تو مسلمان نہ صرف پیچھے رہ جائیں گے، بلکہ وہ کئی معاملات میں غیر مسلموں کے محتاج ہو جائیں گے اور پسماندگی کا شکار رہیں گے۔دینی مدارس میں بنیادی تعلیمات، قرآن کریم و احادیث مبارکہ کی تفسیر و تشریح، دینی مسائل کے ساتھ جدید تعلیم دینا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ فنی تعلیم بھی آج کی دنیا میں اپنا ایک خاص مقام رکھتی ہے۔ لہذا دینی مدرسوں میں جہاں جدید علوم کی تعلیم ضروری ہے وہاں فنی تعلیم بھی ضروری ہے،فنی تعلیم سے بچوں کو بہرہ مند کر کے انہیں اچھا کاریگر بنایا جا سکتاہے جو کہ ان کی آئندہ زندگی میں بہت کام آئیگا۔ اس سے وہ اپنا روز گار حاصل کر سکیںگے۔ مولوی صاحبان اور مساجد کے اماموں کیلئے اگر ریفریشر کورسزکا اہتمام کیا جائے تو اس میں بھی مضائقہ نہیں، بشرطیکہ یہ کام سمجھدار اور روشن خیال علماءکی مدد سے کیا جانا چاہئے، اسلامی تعلیمات عام کرنے اور رواداری کی اہمیت اجاگر کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
بلا شبہ ہمارے علماءِ دین ہی قرآن و حدیث کی روشنی میں مسائل کا استنباط کرتے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ اس میں تبدیلیاں بھی لاتے ہیں۔

مفتیان کرام قرآن و حدیث کی روشنی میں جب وقت کے تقاضوں کے مطابق مسائل کا حل نکال سکتے ہیں تو جدید دورکے تقاضوں کے مطابق مدارس کا نصابِ تعلیم تشکیل کیوں نہیں دے سکتے؟ یہ ایک حقیقت ہے کہ اتحادِ تنظیمات مدارس کی قیادت حکومت کے ساتھ مل کر جدید تقاضوں کے مطابق نصاب تشکیل دینا چاہتی ہے ،لیکن جب فریقین بات چیت کے ذریعے کسی نتیجے پر پہنچنے کے قریب ہوتے ہیں، تو کچھ سیکولر ذہنیت کے حامل بیورو کریٹ یہ بیل منڈھے نہیں چڑھنے دیتے، جس کے باعث ساری محنت رائیگاں جاتی ہے۔ مدارس کی قیادت اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ گیارہویں صدی تک مسلمانوں کاعروج تھا۔ زکریا الرازی‘ ابوالحسن طبری،علاﺅالدین بن شاطر‘ ابن الہیثم‘ ابن سینا‘ ابوالقاسم زہراوی اور جابر بن حیان مسلم مفکرین تھے،جنہوں نے مسلمانوں کو نئی نئی ایجادات سے روشناس کرایاہے۔بدقسمتی سے جب ہم نے جدید علوم اور تحقیقات سے منہ موڑا تو ایک انجکشن تک نہیں بنا سکے ہیں۔ 30 ہزار مدرسوں سے دینی تعلیم حاصل کر نے والوں کے پاس ملازمت کے کیا مواقع ہیں، کیا ان بچوں کا حق نہیں کہ وہ ڈاکٹر، انجینئرز یا فوجی آفیسربنیں ، یہ اسی وقت ممکن ہے جب ان کے سلیبس میں درس نظامی کے ساتھ دوسرے ہم عصر مضمون ہوںگے۔
حکومت دینی مدارس میں اسلام کے علاوہ جدید علوم و فنون‘ سائنس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تدریس کا اہتمام کرنے میں سنجیدگی سے کوشاں ہے ، تاکہ ان اداروں سے تعلیم پاکر نکلنے والے افراد ملک کے مفید اور اچھے شہری بن سکیں،اس مسئلہ پرسیاسی و عسکری قیادت ایک پیج پر ہے ،علمائے کرام کو بلا تفریق کار خیر میں حکومت کا ساتھ دینے کی ضرورت ہے۔ دینی مدارس کے تربیت یافتہ باصلاحیت علماءکرام جب ڈی سی‘ اے سی‘ وکیل‘ جج‘ پروفیسر اور ڈاکٹر بنیں گے تو معاشرے میں ایک انقلاب آئے گا،زبانی کلامی باتوں سے معاشرے میں تبدیلی ناممکن ہے ۔ بظاہرپوری امت مسلمہ سودی نظام کے خلاف ہے، لیکن اس کے باوجود اس سے پیچھا نہیں چھڑا پا رہی، کیونکہ متبادل نظام کی ضرورت ہے،جب آپ خلقِ خدا کو متبادل طریقے سے آگاہ کرتے ہیں تو سیکولر بیورو کریٹ سودی نظام کی حمایت میں کھڑے ہو جاتے ہیں، اس لئے علماءکرام جب تک ان محکموں میں نہیں آئیں گے، اس نظام کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ سو۱ ارب سے زائد ہونے کے باوجود مسلمان دنیا میں محکوم و مظلوم ہیں، دوسری طرف یہودی دنیا میں آٹے میں نمک کی مثل ہیں، لیکن عالمی معیشت پر قابض ہیں۔ یہود ونصاریٰ باہم شیر وشکر ہیں، جبکہ مسلمان آپس میں دست و گریباں،غیر مسلموں نے قرآن و حدیث کی روشنی میں تجربات کر کے چاند پر کمندیں ڈالیں، لیکن دوسری طرف ابھی تک بعض جگہوں پر بزرگانِ دین مدرسوں میں انگریزی تعلیم کی تدریس کو ناجائز سمجھتے ہیں۔

حکومت یونیورسٹیوں میں دینی تعلیم دیتی ہے یا نہیں، آپ کو اس سے سروکار نہیں ہونی چاہیے، بلکہ آپ مدارس میں عصری علوم کی تعلیم دے کر ایسے علماءپیدا کریں جو یونیورسٹیوں اور کالجز میں جا کر وہاں کا ماحول تبدیل کر دیں۔ یونیورسٹیوں، کالجز اور تعلیمی اداروں میں منشیات‘ خودکشیاں‘ لسانی جھگڑے اور بے حیائی کے مقابلے میں جب مدارس میں طلباءکو پرسکون ماحول میں تعلیم دی جائے گی تو سیکولر قوتوں کا پروپیگنڈہ خود بخوددم توڑ جائے گا۔

حکومت عصری تعلیم کے لیے جو سہولیات اور انقلابی اقدامات اُٹھارہی ہے، اس سے فائدہ اٹھا کر مدارس اپنے طلباءکو جدید تعلیم سے آراستہ کر کے نہ صرف اپنے لیے، بلکہ پاکستان کیلئے ایک جدیدو ترقی یافتہ نسل کو جنم دے سکتے ہیں۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.