Latest news

جمہوری قدروں کی پاسباں حکومت

پا کستان کے معاشی استحکام کی منزل !
حکومتی ماہرین کے نزدیک پچھلے ایک سال میں کئے جانے والے اقتصادی اقدامات کے مثبت نتائج برآمد ہو رہے ہیں اور وہ وقت زیادہ دور نہیں جب قوم معاشی بحران سے نکل آئے گی، لیکن اقتصادی ماہرین اس سے متفق نہیں، ان کی رائے ہے کہ اس وقت ملکی معیشت اور مالیاتی سیکٹر کو سب سے زیادہ خطرہ ادائیگیوں کے توازن سے ہے، 90.7فیصد ماہرین نے اس معاملے کو سب سے بڑا رسک قرار دیا ہے۔ 87.05 فیصد نے روپے کی قدر میں کمی اور 87.06 فیصد نے بڑھتے ہوئے مالیاتی خسارے کو معیشت کیلئے خطرناک قرار دیا ہے۔ سروے کے مطابق 74.1فیصد ماہرین کے نزدیک فوری طور پر معیشت کیلئے چوتھا بڑا رسک مہنگائی اور 67فیصد کے نزدیک اقتصادی ترقی کی شرح میں کمی ہے۔ اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ بجٹ میں لگائے گئے ٹیکسوں اور معیشت کے استحکام کیلئے کئے گئے دوسرے پالیسی اقدامات اور بجلی و گیس کی قیمتوں میں اضافے کے باعث اقتصادی ترقی کی رفتار میں مزید کمی آ سکتی ہے۔ ملک کے مرکزی بینک کی رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ متعدد اقدامات کے باوجود ملک کی معیشت کو درپیش بحران میں قابلِ ذکر کمی نہیں آئی، اس لئے حالات کا تقاضا ہے کہ حکومت کو ساری صورتحال کا کھلے دل سے ازسر نو جائزہ لے کر اس میں بہتری لانے کی تدابیر سوچنا چاہئیں، تاکہ ادائیگیوں کے توازن میں بہتری اور مالیاتی خسارے میں کمی آئے۔ صنعتی ترقی کا عمل آگے بڑھے، سرمایہ کاری میں اضافہ اور مہنگائی اور بے روز گاری کاخاتمہ ہو سکے۔ اس حقیقت سے چشم پوشی نہیں کی جاسکتی کہ عوام میں ملک کے معاشی مستقبل کے بارے میں اس وقت بے چینی پائی جاتی ہے۔
اس میں شک نہیں کہ ملکی اقتصادیات اور معاشی بریک تھروکے لیے تحریک انصاف حکومت سر توڑکوششوں میں مصروف ہے، وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ غربت اورکرپشن کے خلاف جہاد ہمارا عزم ہے ،جبکہ حکومت کی کئی ٹاسک فورس،کمیٹیاں، مشاورتی فورمز اورکونسلزکی تگ ودو معیشت کا ایک یقینی روڈ میپ مرتب کرنے کا صرف منظر نامہ پیش کرنے کی میڈیائی کوششوں تک محدود ہیں۔اس وقت ملکی معیشت کو جن زمینی اور ٹھوس مالیاتی بحران اور مشکل معاملات نے حصار میں لے رکھا ہے، اس سے نکلنے کے لیے بے پناہ معاشی بصیرت، دلیرانہ فیصلوں، شفاف اقدامات اور پیدا شدہ اقتصادی گرداب سے نکلنے کی دانش مندانہ حکمت عملی کی اشد ضرورت ہے، تاہم اپوزیشن کا کہنا ہے کہ ماہرین معاشی گتھیوں کو سلجھانے کی مشق ناتمام میں مصروف دکھائی دیتے ہیں، ادھر حکومتی ذرایع عوام کو یقین دلا رہے ہیں کہ بحران نام کی کوئی چیز موجود نہیں، ادائیگیوں کا مسئلہ حل ہوچکا، عوام حکومت کوکچھ وقت مذید دیں اور پھر دیکھیں کہ حکومت معاشی سمت کی درستگی کے لیے کتنے اہم اور سنجیدہ اقدامات کرنے جا رہی ہے،لیکن یہ بات پورے وثوق کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ حکومتی اقدامات کی وجہ سے ملک میں غربت کم ہونے کی بجائے بڑھ رہی ہے اور سماجی تفریق میں اضافہ ہو رہا ہے۔ حالات کا تقاضا ہے کہ حکومت غیرضروری قرضے لینا بند کرے اور اپنے اخراجات کے پاﺅں وسائل کی چادر کے اندر رکھے، تاکہ ملک کا مالی بحران اگر فی الفور حل نہیں ہوتا تو اس کی شدت میں مزید اضافہ بھی نہیں ہو نا چاہئے۔ ملک کو ٹھوس اقتصادی بنیاد فراہم کرنے کے اقدامات عمل میں لائے جائیں‘ درآمدات و برآمدات میں توازن پیدا کیا جائے، تاکہ عالمی برادری کے ساتھ ہمارا لین دین ہمارے قومی خزانے پر بوجھ کا باعث نہ بنے۔ہردور حکومت میں قرضوں پر انحصار کیا جاتا رہا ہے ،آج بھی کشکول توڑنے کے لاکھ دعوﺅں کے باوجودقرضے لے کر گزارہ کرنے کی پالیسی اختیار کی جارہی ہے ، اس روش کو تبدیل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ جی ڈی پی کی تین سے چار فیصد شرح لمحہ فکریہ ہے ،کیونکہ اسی خطے کے بعض ممالک آٹھ سے دس فیصد کی شرح سے ترقی کر رہے ہیں۔ ہمیں بھی اس سلسلے میں آگے بڑھنا چاہیے، تاہم اس کے لیے ضروری ہے ’ڈنگ ٹپاﺅ‘ کے بجائے خود کفالت کی مستقل پالیسیاں اختیار کی جائیں۔
اگرچہ معاشی خود انحصاری کے دعوے حقیقی صورت حال سامنے آنے کے بعد ہوا ہو چکے ہیں،تاہم تمام تر مشکلات کے باوجود اُمید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے‘ پاکستان کی معیشت میں ابھی اتنا دم خم موجود ہے کہ وہ بحالی کے مرحلے میں داخل ہو جائے‘ لیکن اس کے لیے حکومت کو داخلی سطح پر سرمایہ کار دوست اقدامات کرنا ہوں گے اور عالمی سطح پر بھی ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جس سے عالمی مالیاتی اداروں کا اعتمادبحال ہو سکے۔داخلی سطح پر حکومتی اداروں کی بڑھتی ہوئی مداخلت کے باعث کاروباری طبقہ عدم تحفظ کا شکار ہوا ہے۔ موجودہ حکومت نے اس معاملے کو حل کرنے کے لیے کوئی موثرکام نہیں کیا، اگر حکومت اس معاملے میں کاروبار دوست اقدامات کرتی اور سرکاری اداروں کے اہلکاروں کے ہاتھوں میں موجود آمرانہ اور مبہم قسم کے اختیارات پر قدغن لگانے کی کوشش کرتی تو داخلی سطح پر کاروباری سرگرمیاں بحال ہو سکتی تھیں، لیکن ایسا نہیں کیا گیا،اب بھی حکومت کے پاس وقت ہے کہ وہ اندرون ملک ادارہ جاتی سطح پر ایسے ااقدامات کرے جس سے کاروباری طبقے کا اعتماد بحال ہو،کاروباری طبقے کا اعتماد بحال ہو گا تو معاشی سرگرمیاں خود بخود شروع ہو جائیں گی۔یہ بات طے ہے کہ جب تک حکومت مروجہ اقدامات پر نظر ثانی کرنے کے ساتھ قوانین کو آسان نہیں بنائے گی ،اس وقت تک سر مایہ کاراور کاروباری طبقے کا اعتماد بحال نہیں ہو سکتا،در جہ بدرجہ اقدامات کرنے کی بجائے ایک دم سے جتنی زیادہ سختی کی جائے گی،سرمایہ کاری اتنا ہی سکڑتی چلی جائے گی اور اس کے اثرات معیشت پر انتہائی منفی مرتب ہوں گے۔موجودہ حالات میںضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ترقیاتی عمل اور نظریات کے متعلق اپنے طرزفکر کو مضبوط کریں،جمہوریت اور قانون کی بالادستی کو اہمیت دیں، عوام اور ریاست کے درمیان باہمی اعتماد کی فضا کو قائم کرتے ہوئے عوام کو ہر ممکن رلیف دینے کی کوشش کریں، تاکہ ترقی کیلئے اٹھنے والے حکومتی سفر میں عوام بھی شامل ہو جائے اور یہ قافلہ خوش اسلوبی سے جانب منزل رواں دواں ہو، جوکہ پاکستان کے معاشی ترقی و استحکام کی منزل ہے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.