Latest news

خدا کا روپ

ستر سالہ بوڑھی ماں اپنی تیس سالہ جوان بیٹی کے ساتھ میرے سامنے بیٹھی تھی ماں کے چہرے پر بڑھاپے کی جھریوں کا جال بچھا ہوا تھا وہ معصوم چہرے اور دھندلی آنکھوں سے امید، التجا، بے بسی اور لاچارگی سے میری طرف دیکھ رہی تھی۔ میری بچپن سے یہ عادت ہے کہ مجھے بوڑھے لوگوں پر بہت پیار آتا ہے میرا دل کرتا ہے کہ میں بوڑھے معصوم سراپا نور بزرگوں کو بچوں کی طرح خوب پیارکروںخدمت کروں لاڈ اٹھاں، ماں کے چہرے پر نور کے کئی چاند روشن تھے اور آنکھوں میں مریم کی پوترتا واضح نظر آرہی تھی، جنت کی یہ مخلوق ماں مجھ سے جھوٹ بولنے کا کہہ رہی تھی کہ میں اس کے کہنے پر جھوٹ بول دوں اور میں نے سوچھے سمجھے بنا ماں کے کہنے پر جھوٹ بول دیا، اور اِس کے بعد جب بھی یہ ماں اپنی بیٹی کے ساتھ میرے پاس آئی تو میں ہمیشہ جھوٹ بول دیتا۔میں حسب معمول لوگوں سے مل رہا تھا کہ یہ بوڑھی ماں میرے سامنے آکر بیٹھ گئی، ماں نے رقعہ میرے ہاتھ میں دیا اور کہا بیٹا پہلے یہ پڑھ لو ماں کے حکم پر میں نے رقعہ پڑھنا شروع کردیا، میں جیسے جیسے پڑھتا گیا اداسی اور غم کے سمندر میں غرق ہوتا گیا ماں نے مجھے مخاطب کیا تھا

بیٹا میری بیٹی کو پھیپھڑوں کا کینسر ہے جو آخری اور لا علاج حدود میں داخل ہوچکاہے اِس کے دو معصوم بچے ہیں پچھلے ماہ ڈاکٹروں نے اِس کا آپریشن کرنا چاہا لیکن جب ڈاکٹروں نے اِس کا سینہ چاک کیا تو وہ پریشان ہو گئے کیونکہ کینسر پوری طرح پھیل چکا تھا یعنی پھیپھڑے پوری طرح کینسر کی گرفت میں تھے اور ڈاکٹرز آپریشن کرتے تو مکمل پھیپھڑے نکالنے پڑتے اِس طرح مریضہ کی فوری موت واقع ہو جاتی لہذا ڈاکٹروں نے بغیر آپریشن کے سینے کو دوبارہ سی دیا۔مریضہ بے ہوش تھی لواحقین کوبتا دیا گیا کہ آپریشن نا ممکن تھا، اب خاندان اور ماں نے فیصلہ کیا کہ یہ چند دن کی مہمان ہے اِس کو یہی بتائیں گے کہ تمھارا آپریشن کر دیا گیا ہے ڈاکٹروں کو بھی یہی درخواست کی گئی(جاری ہے)


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.