Daily Taqat

اسلامی سال کے پہلے مہینے محرم الحرام کے فضائل و واقعات

اسلامی سال یعنی قمری سال یا سنہ ہجری سال کا پہلا مہینہ محرم الحرام کا بابرکت مقدس ماہ ہے اس ماہ مقدس میں سنہ ہجری سال تبدیل ہوتا ہے اس بابرکت مہینے کی آپ سب کو مبارکباد ہو اور اللہ سے سب دعا بھی کریں کہ یہ نیا اسلامی سال پورے عالم اسلام اور بالخصوص وطن عزیز پاکستان کے مسلمانوں کے لئے ترقی کامیابی کا سال ثابت ہو او راللہ اس نئے سال میں سب کو اپنی حفظ وامان میں رکھے اور آنے والی آفات وحادثات سے ہم سب کو محفوظ فرمائے اور یہ نیا اسلامی سال ہمارے لئے خوشیاں لائے ہمارا اہل ایمان ہونے کے ناطے یہ فرض بنتا ہے کہ جہاں تک ہو سکے اپنے امور میں ہم اسلامی تاریخ کو لکھیں اسلامی سال کے مہینوں کو لکھا کریں لفظ محرم حرم سے ماخوذہے جس کے معنی عزت واحترام کے ہیں محرم کو محرم اس لئے بھی کہا جاتا ہے کہ اہل عرب اس مہینے میں اپنی تلواریں میانوں میں ڈال دیتے تھے اور لوٹ مار قتل و غارت سے رک جاتے تھے یہاں تک کہ لوگ اپنے دشمنوں سے بھی خوف ہو جاتے تھے اور پنے باپ یا بھائی کے قاتل سے ملتے تھے تو اس سے کچھ نہ پوچھتے تھے اور نہ کسی سے لڑائی جھگڑا کرتے تھے گویا زمانہ جاہلیت میں بھی لوگ محرم کا احترام کرتے تھے اور اس مہینے میں کسی انسان کے قتل اور جنگ و جدال کو حرام سمجھتے تھے اللہ کے محبوب کریم ﷺ کی آمد کے بعداسلام میں اس ماہ مبارک کی حرمت وعظمت اور زیادہ ہوگئی قرآن مجید میں ارشاد ربانی ہے کہ بے شک اللہ کی کتاب میں اللہ کے نزدیک گنتی کے مطابق اس وقت بارہ مہینے ہیں جب سے اس نے آسمان وزمین بنائے ہیں ان مہینوں میں سے چار حرمت والے ہیں یہ سیدھا دین ہے تو ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم مت کرو (القرآن)اور حرمت و اکرام والے چار ماہ ہیں جن میں محرم ،رجب المرجب ،ذی قعدہ،اور ذی الحجہ شامل ہیں ایک بار کسی نے آقائے کریم ﷺ سے عرض کی کہ یارسول اللہ ﷺفرض نماز کے بعد کون سی نماز افضل ہے اور رمضان کے فرض روزوں کے بعد کس مہینے کے روزے افضل ہیں سرکاردوعالم ﷺنے ارشاد فرمایا کہ فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز نماز،تہجد ہے اور رمضان کے فرض روزوں کے بعد سب سے افضل روزے محرم الحرام کے ہیں مولائے کائنات سیدنا حضرت علی شیرخدا ؓ سے کسی نے پوچھا کہ ہمیں رمضان المبارک کے بعد کس ماہ میں روزے رکھنے چاہیے توآپ نے فرمایا کہ میں نے صرف ایک آدمی کو حضور پاکﷺ سے یہ سوال کرتے ہوئے سنا تھا اس وقت میں آپ کی خدمت اقدس میں حاضر تھا نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر تو رمضان کے بعد روزہ رکھنا چاہے تو محرم کا روزہ رکھ کیونکہ یہ اللہ کا مہینہ ہے اس میں ایک ایسا دن ہے جس میں اللہ نے کچھ لوگوں کی توبہ قبول فرمائی اور کچھ لوگوں کی توبہ قبول فرمائے گا ایک اور جگہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص محرم الحرام میں روزے رکھتا ہے تو اسے ہر روزے کے بدلے میں تیس روزوں کا ثواب ملتا ہے رسول پاک ﷺ کا ارشاد پاک ہے کہ جو شخص محرم الحرام میں پہلے دس دن تک مسلسل روزے رکھے گا گویا اس نے دس ہزار سال تک اس طرح عبادت کی کہ رات میں قیام کیا اور دن میں روزہ رکھا رسول کریم ﷺنے پھر ارشادفرمایا کہ جس نے ذی الحجہ کے آخری دن اور محرم کے پہلے دن روزہ رکھا تو گویا اس نے گزشتہ سال کو روزوں میں ختم کیا یعنی سال بھر روزہ رکھااور آئندہ سال کو بھی روزے سے شروع فرمایا اللہ ان روزوں کو اس کے پچاس برس کے روزوں کاکفارہ بنادے گا روایات میں ہے کہ جو شخص محرم کی پہلی رات کو دو رکعت نماز اس طرح ادا کرے کہ سورة فاتحہ کے بعد سورة یسین ایک بار پڑھے تو اللہ اسے جنت میں دو ہزار محل ایسے عطا فرمائے گا کہ جن میں ہر ایک میں یاقوت کے دوہزار دروازے ہوں گے اور ہر دروازے پہ زبر جد کے تخت پر حور بیٹھی ہو گی اس نماز کے پڑھنے والے کی چھے ہزار بلائیں دور ہو جاتیں ہیں اور چھے ہزار نیکیاں اس کے نامہ اعمال میں لکھی جاتی ہیں جو شخص محرم کی پہلی رات میں آٹھ رکعت چار سلام میں اس طرح ادا کرے کہ ہر رکعت میں سورة فاتحہ سورة اخلاص دس بار پڑھے تو اللہ اسے بخش دے گا جو شخص محرم کی پہلی تاریخ کے دن میں بارہ رکعت اس طرح پڑھے کہ ہر رکعت میں سورة فاتحہ کے بعد سورة اخلاص سات مرتبہ پڑھے تو اسے دس ہزار برس کی عبادت کا ثواب ملے گا اور ہر سورة اخلاص کے بدلے اس کے لئے جنت میں ایک محل بنایا جائے گا اس محل میں بہت سے محل ہوں گے اور ہر دو محل کے درمیان دس برس کی مسافت ہوگی اور اس ماہ مقدس کا دسواں دن جسے عاشورہ کا یوم بھی کہتے ہیں عاشورہ سریانی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی جامع برکات کے ہےں اور یہ یوم عاشورہ ہر سال مسلمانوں کے لئے جامع برکات بن کر آتا ہے اس لئے اہل عرب نے اس دن کو عاشورہ کے نام موسوم کےا علماءکاکہنا ہے کہ اللہ نے اسی دن کو عرش، کرسی ،لوح ،قلم،جنت ، حضرت آدم علیہ السلام اماں حوا ،زمین و آسمان اور اروا ح کو پیدا فرمایااسی دن حضرت ابراہیم ؑ کی ولادت ہوئی اسی دن ان کو آگ میں پھینکا گیا اور اسی دن آگ گلزار بنی اسی دن اللہ نے بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم سے نجات دلائی یہی وہ دن ہے جس میں حضرت نوح ؑکی کشتی جودی پہاڑ پر رکی اسی دن حضرت سلیمان ؑکو اللہ نے ملک عظیم عطا فرمایا اسی دن حضرت یونس ؑ مچھلی کے پیٹ سے باہر آئے اور ان کی توبہ قبول ہوئی اسی دن حضرت یعقوب کی بینائی لوٹائی گئی اسی دن حضرت یوسف ؑ گہرے کنویں سے نکالے گئے اسی دن حضرت ایوب ؑکو بیماری سے شفاءملی اس زمین پر آسمان سے پہلی بارش اسی عاشورہ کے دن ہوئی اور اسی دن نواسہ رسول ﷺجگر گوشہ بتول سیدنا حضرت امام حسین ؓ اور ان کے گھرانے کی کربلا کے تپتے ہوئے صحرا میں شہادت ہوئی خاندان رسول ﷺ نے اپنی مقدس جانوں کا نذرانہ دےکر سجدہ اور دین اسلام کو بچایا محبوب خدا کے پیارے اہل بیت اطہار نے ہر ظلم برداشت کئے تیرکھائے،مگر ہر قدم پر صبرواستقلال کی عظیم اور جلیل القدر مثال نظر آئے دراصل امام حسین ؓ اور آپ کا گھرانہ رہتی دنیا تک حق وشجاعت کی زندہ مثال ہیں محرم کی یکم تاریخ کو امیر المومنین امام عادل خلیفہ راشد مراد رسول ﷺ سیدنا حضرت عمر فاروق اعظم ؓ کی شہادت ہے گویا اسلام کے آغاز سے لے کر اختتام تک قربانی اور شہادت ہی ہے ا س لئے بھی اس دن کو عاشورہ کہتے ہیں جب کہ بعض علماءکا کہنا ہے کہ اللہ نے دنوں کے اعتبار سے جو بزرگیاں امت مسلمہ کو عطا فرمائیں ان میں یہ دسویں محرم کا دن بزرگی والا دن ہے لےکن اکثر علماءکا یہ قول ہے چونکہ یہ دن دس محرم کا ہے اسی لئے عاشورہ کہلاتا ہے سےدہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتیں ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں قریش عاشورہ کے دن ےعنی دس محرم کا روزہ رکھتے تھے اور رسول کریم ﷺ بھی اس دن کا روزہ رکھتے تھے جب آپ نے مدینہ منورہ ہجرت فرمائی تو خود بھی اس دن کا روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی حکم عطا فرمایالیکن جب ماہ رمضان کے روزے فرض ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو چاہے عاشورہ کا روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے اس دن کے روزے کی بہت بڑی فضیلت ہے رسول کریم ﷺ نے ارشاف فرمایا کہ اگر مومن زمین بھر سونا خرچ کرے تو بھی عاشورہ کی فضیلت کو نہیں پا سکتا اس دن مومنوں کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دئیے جاتے ہیں تاکہ وہ جس دروازے سے چاہیں جنت میں داخل ہوں رسول پاک ﷺ نے فرمایا کہ جس نے عاشورے کے روز غسل کیا سوائے مرض الموت کے کسی بیماری میں مبتلا نہیں ہوگا عاشورے کے روز آنکھوں میں سرمہ لگانا آنکھوں کی بیماری کے لئے شفاءہے حضور صاحب لولاک ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص عاشورہ کے دن اپنے اہل خانہ پر خرچ میں وسعت فرمائے تو اس کو اللہ پورا سال وسعت سے رزق عطا فرماتا ہے اس دن صدقہ خیرات کرنا بڑا ثواب کا باعث ہے اس سے گناہ جھڑ جاتے ہیں اور درجے بلند ہوتے ہےں اس دن لوگوں کو پانی پلانا شربت،دودھ یا کوئی اور مشروب پلانا بھی باعث ثواب ہے سرکاردوعالم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے عاشورے کے دن کسی کو ایک گھونٹ بھی پانی پلایا تو اس نے گویا ایک لمحے کے لئے بھی اللہ کی نافرمانی نہیں کی سرکاردوعالم ﷺ نے فرمایا جس نے عاشورے کے روز کسی بیمار کی تیمار داری کی گویا اس نے پوری اولاد آدم کی تیمار داری کی اللہ ہمیں ان مقدس ایام کا ادب کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور محرم الحرام اور قربانی اہل بیت کے صدقے سب کی مشکلات آسان فرمائے اور ہمارے ملک پاکستان کو دھشت گردی اور فرقہ واریت سے محفوظ فرمائے آمین


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »