Latest news

بلند شرح سود کے معاشی مضمرات

مشیر خزانہ نے اقتصادی سروے کے اجرا کے موقع پر تقریر کرتے ہوئے فرمایا کہ سرکاری قرض پر سود کی ادائیگی کیلئے 3000 ارب خرچ کئے گئے۔ جناب نے درست فرمایا، لیکن سوال یہ ہے کہ اسی مالی سال کی ابتدا پر نون لیگ کی حکومت نے جو بجٹ بنایا، اس میں قرض کی ادائیگی کیلئے 1620 ارب رکھے گئے تو آخر کیا ہوا کہ حکومت کو3000 ارب خرچ کرنا پڑ گئے؟ اس سوال کا جواب بہت سادہ سے ہے، لیکن بہت سارے ماہرین کی آنکھوں سے اوجھل ہے۔ بنیادی طور پر مسئلہ یہ ہے کہ سرکار جو شرح سود مقرر کرتی ہے، وہی شرح سود اس قرض پر لاگو ہوتی ہے جو سرکار نے خود لے رکھا ہے۔ تو سرکار نے خود ہی شرح سود بڑھائی، اور نتیجتا اپنے اوپر قرض کا بوجھ بڑھا لیا۔
اس وقت پاکستانی حکومت کے ذمہ واجب الادا قرضوں میں سے تقریبا 10000 ارب قلیل مدتی قرض ہے۔ قلیل مدتی قرض کی مدت 3 ماہ سے لیکر ایک سال تک ہوا کرتی ہے، لیکن موجودہ حکومت کے دور میں 6 ماہ اور ایک سال کی مدت کے قرض نہیں لے سکی۔ تقریبا سارے کا سارا قلیل مدتی قرض 3 ماہ کے ٹریڑری بلز کی شکل میں ہے۔

قرض کی مدت پوری ہونے پر حکومت کو یہ ادائیگی کرنا لازم ہوتی ہے، لیکن عموماحکومت کے پاس اس ادائیگی کیلئے وسائل نہیں ہوتے، اس لئے حکومت سے مزید قرضہ لے لیتی ہے، تاکہ جس قرض کی مدت پوری ہو رہی ، اس کی ادائیگی کی جاسکے۔ اس نئے قرض کیلئے شرح سود وہ ہوگی جو اس وقت حکومت کی سرکاری شرح سود (policy rate) ہے۔ یعنی جولائی 2018 میں جو قرض نون لیگ کی حکومت نے چھوڑا، اس وقت سرکاری شرح سود 6 فیصد لگ بھگ تھی، چنانچہ اس پر سود کی ادائیگی 6 فیصد کے حساب سے ہوئی تھی۔ لیکن اس قرض کی ادائیگی کیلئے جو نیا قرض لیا گیا، اس پر نئی شرح سود اب بڑھتے بڑھتے 12.25 فیصدتک پہنچ چکی۔ چنانچہ 10000 ہزار کا قلیل مدتی قرض جس پر سود نون لیگ کے دور حکومت میں 600 ارب بنتا تھا، اب اسی قرض پر پر سود 1225 ارب بنے گا۔

تو یہ جو اضافی سود جو حکومت کی طرف سے شرح سود میں تبدیلی کی وجہ سے بڑھ گیا، یہ تو موجودہ سرکار کا اپنا ہی کیا دھرا ہے نا!یہی معاملہ طویل مدتی قرض کا ہے۔ پاکستان کے ذمے اس وقت تقریبا 3600 ارب کا طویل مدتی قرض ہے۔ طویل مدتی قرض پر شرح سود سرکاری شرح سود سے 3 سے 4 فیصدزیادہ ہوتی ہے۔ چنانچہ جو طویل مدتی قرض آج لیا جائے گا اس پر شرح سود 16 سے 17 فیصدکے لگ بھگ ہو گی۔ اور اگر یہی قرض سابقہ دور حکومت میں لیا جاتا تو اس پر شرح سود 9سے 10 فیصدہونی تھی۔ حکومت ہر مہینے کچھ نیا قرض لے رہی ہوتی ہے اور کچھ پرانے قرض کی ادائیگی کر رہی ہوتی ہے، چنانچہ سابق دور حکومت میں جو طویل مدتی قرض 10 فیصد شرح سود پر لیا گیا، اس کے بدلے جو نیا قرض لیا گیا یا لیا جائے گا وہ تقریبا 17 فیصد شرح سود پر حاصل ہو گا۔ تو پھر سود کی ادائیگیاں تو بڑھیں گی نا!
مشیر خزانہ نے جو یہ بتایا کہ 1620 ارب کی بجائے ان کو 3000 ارب کا سود دینا پڑا اس کی وجہ یہ ہے جو ہم نے اوپر بتلائی۔بلند شرح سود سے نہ صرف حکومت کی موجودہ اخراجات بڑھتے ہیں، بلکہ قرض کی کل رقم میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ چونکہ حکومت کے پاس کبھی بھی اتنے وسائل نہیں کہ وہ سود کی مد میں اتنی بڑی ادائیگی کر سکیں، تو سود کی ادئیگی کیلئے بھی قرض لئے جائیں گے۔ چنانچہ حکومتی قرض اس تناسب سے بڑھتے جائیں گے۔
یعنی کہ سادہ لفظوں میں یوں سمجھیئے، حکومتی خسارہ میں 1400 ارب کا جو اضافہ ہوا اس کی وجہ سرکاری شرح سود کا بڑھنا ہے۔ سرکاری شرح سود کا فیصلہ ایک حکومتی ادارے یعنی سٹیٹ بنک آف پاکستان کا کام ہے۔ چنانچہ اس حکومتی خسارے کا سبب نہ رشوت ہے نہ کرپشن بلکہ سٹیٹ بنک کا فیصلہ ہے۔
سوال یہ ہے کہ جب سٹیٹ بنک حکومت کا ایک جز ہے، تو اسے کیا دلچسپی ہے کہ وہ شرح سود بڑھا کر سرکاری قرضوں کا بوجھ بڑھا کر حکومت کیلئے وبال جان پیدا کریں؟ اس کی بنیادی ایک غیر حقیقت پسندانہ معاشی نظریہ ہے جس کو ڈیمانڈ چینل آف مانیٹری ٹرانسمشن کہتے ہیں۔ اس نظریہ کے مطابق جب شرح سود بڑھائی جائے تو لوگ اسراف کم کردیتے ہیں اور پیسے بنک میں رکھواتے ہیں تاکہ اس پر زیادہ سود کمایا جاسکے۔ چنانچہ ملک میں مجموعی ڈیمانڈ کم ہوجاتی ہے جس سے مہنگائی کم ہوتی ہے۔ چنانچہ آپ سٹیٹ بنک کی ویب سائٹ سے کوئی بھی مانیٹری پالیسی سٹیٹمنٹ اٹھا کر دیکھیں، ہمیشہ مہنگائی یا افراط زر کو شرح سود میں اضافہ کے جواز کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

یعنی سٹیٹ بنک یہ سمجھتا ہیکہ اگر شرح سود بڑھا دی جائے تو مہنگائی قابو میں رہے گی۔ یہی بات وزیر مملکت برائے خزانہ نے اپنی بجٹ تقریر میں بھی بار بار دہرائی کہ ہم مہنگائی کو کنٹرول کرنے کیلئے مانیٹری پالیسی کا سہارا لے رہے ہیں۔
کیا واقعی شرح سود بڑھانے سے مہنگائی کم ہوتی ہے؟ موجودہ حکومت نے شرح سود کو سابقہ حکومت کے دور کی شرح کے دگنا سے بھی بڑھا دیا، کیا اس سے مہنگائی کم ہوئی؟ سبھی جانتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں شرح سود اور مہنگائی دونوں بہت زیادہ تھے، نون لیگ کے دور حکومت میں شرح سود اور مہنگائی دونوں کم رہے، اور آج کی حکومت میں 12.25 فیصد شرح سود کے باوجود مہنگائی سابق دورحکومت کے مقابلہ میں کہیں زیادہ ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ بلند شرح سود سے مہنگائی کم نہیں ہوتی بلکہ بڑھ جاتی ہے۔
دراصل جب شرح سود بڑھائی جائے تو حکومت کے ذمہ واجب الادا قرض پر سود کی رقم بڑھ جاتی ہے۔ اس اضافی رقم کو پورا کرنے کیلئے حکومت کو اضافی ٹیکس لگانے پڑتے ہیں۔ یہ اضافی ٹیکس مہنگائی کو کم کرنے کی بجائے اس میں اضافہ کا سبب بنتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سےآئی ایم ایف اور مغربی معاشی سکولوں کے زیر اثر ہمارے معاشی ماہرین یہ سادہ سی بات سمجھنے سے قاصر ہیں، اور مسلسل شرح سود میں اضافہ کئے جارہے ہیں۔ آئی ایم ایف جیسے ادارے ہمیشہ شرح سود میں اضافہ کی حمایت کرتے ہیں، بلکہ شرح سود میں اضافہ قرض کیلئے ان کی بنیادی شرائط میں سے ہے۔
امریکہ میں شرح سود2007 سے پہلے اوسطا 3 سے 5 فیصد تک ہوا کرتی تھی۔عالمی مالیاتی بحران کے بعد 2008 میں شرح سود نصف فیصد سے بھی کم کردی گئی۔ چنانچہ امریکی حکومت اگر 10000 ارب کا قرض لے گی تو اس کو صرف 50 ارب کا سود ادا کرنا ہوگا۔ اسی طرح تھائی لینڈ میں شرح سود 2 فیصدسے کم ہے،ان کو 10000 ارب کے قرض پر 200 ارب کا سود دینا ہے۔ ہم نے یہ شرح 12 فیصد سے بھی بڑھا لی، چنانچہ ہمیں 1200 ارب سے زیادہ سود ادا کرنا پڑتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ میں مہنگائی کی شرح کی حالیہ اوسط، شرح سود میں ڈرامائی کمی کے باوجود 2000-2005 والی شرح مہنگائی سے بہت کم ہے۔
حالیہ بجٹ میں سود کی ادائیگی کیلئے لگ بھگ 3000 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ بالفرض شرح سود کو 12 کی بجائے 2 فیصدپر لیجایا جائے، تو اسی قرض پر کل سود 500 ارب تک آجائے گا۔ اگر ایسا ہوجائے تو حکومت کو ہونے والی بچت اس کی تمام تر ضروریات کیلئے کفایت کر جائے گی۔ سود پر ادائیگی کیلئے مختص رقم میں سے 500ارب سے سود ادا کر دیجئے، 1000 ارب کے سابقہ قرض واپس کر دیجئے، 400 ارب سے دیامیر بھاشا اور مہمند ڈیم دونوں پر کام شروع کروا دیجئے، 400 ارب کا عوام کو بنیادی اشیائے ضروروت پر ریلیف دے دیجئے، پھر بھی 700 ارب بچ جائیں گے جن کو ترقیاتی اخراجات میں ڈال دیجئے تاکہ ملکی معیشت ترقی کر سکے۔
یہاں پر کچھ احباب یہ کہیں گے کہ کون سا بنک 2 فیصدشرح سود پر حکومت کو قرض دے گا؟ عرض یہ ہے کہ سابق حکومت نے شرح سود 6 فیصدسےکم رکھی تھی، کیا اس سے اس کو قرض لینے میں کوئی دشواری ہوئی؟ دراصل بنکوں نے اس وقت 15000 ارب سے زائد کے قرض حکومت کو دے رکھے ہیں۔ اگر بنک حکومت کو قرض دینا بند کر دیں تو ان کے پاس کیا متبادل ہے، وہ اس رقم کو کہاں لے کر جائیں گے؟ یہ تو اچھا ہی ہوگا اگر بنک حکومت کو قرض دینے کی بجائے مارکیٹ میں اپنے لئے کاروبار تلاش کریں۔ اس سے پراﺅیٹ سیکٹر کیلئے قرض آسان ہوگا اور کاروبار میں اضافہ ہوگا ، جس سے حکومت کا ٹیکس ریونیو بڑھے گا۔ اگر بنک حکومت کو قرض دینے سے انکار کر دیں تو حکومت کے پاس سٹیٹ بنک سے قرض لینے کا آپشن موجود ہے۔ لیکن شاید اس سب کی نوبت ہی نہ آئے کیونکہ ہر بنک کیلئے کچھ نہ کمانے سے کچھ کمانا بہتر ہے۔
بدقسمتی سے آئی ایم ایف ہمیشہ یہ نصیحت لیکر آتا ہے کہ سٹیٹ بنک سے قرض نہ لیں، اس سے مہنگائی بڑھتی ہے۔ وزیر مملکت برائے خزانہ نے اپنی تقریر میں بھی یہی تذکرہ فرمایا۔ سوال یہ ہیکہ اگر سٹیٹ بنک سے قرض لینے کی بجائے کمرشل بنکوں سے بلند شرح سود پر قرض لے لئے جائیں، تو اس سود کی ادائیگی کیلئے ٹیکس بڑھانے ہوں گے، کیا اس سے مہنگائی نہیں پیدا ہو گی؟ اگر مہنگائی ہی ہمارا مقدر ہے تو کیا یہ ضروری ہے کہ ہم اپنے سر پر اتنا بڑا قرضہ بھی چڑھا لیں؟
دراصل ماہرین معاشیات کی اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ سٹیٹ بنک سے روپیہ لیکر یعنی نئے نوٹ چھاپ کر معیشت چلانے سے مہنگائی بڑھتی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہیکہ اگر سٹیٹ بنک سے لی گئی رقم نئی معاشی ایکٹیویٹی پر خرچ ہو تو مہنگائی نہیں بڑھتی۔

اگر ایک معیشت میں 10 یونٹ تیار ہوتے ہیں اور کرنسی 10 کے بجائے 20 ہوجائے، تو ہر یونٹ کی قیمت دگنا ہو جائے گی۔ لیکن اگر 20 ہوجائے اور اس کے ساتھ پیداوار بھی 20 یونٹ ہوجائے تو ہر یونٹ کی قیمت وہی سابق ہی رہے گی۔

امریکہ نے 2007 کے معاشی بحران سے نمٹنے کیلئے قرض آسان کرنے کا پروگرام بنایا اور کھربوں ڈالر کی رقم کاروباری بنکوں کو فراہم کی تاکہ معیشت کو ترقی کی راہ پر واپس ڈالا جا سکے۔

جیسا کہ میں اوپر بتا چکا ہوں، کھربوں ڈالر معیشت میں انجیکٹ کرنے اور شرح سود کو کم ترین شرح پر لانے کے باوجود امریکہ میں مہنگائی کی حالیہ اوسط 2007 سے پہلے والی اوسط سے بہت کم ہے۔
چنانچہ بہت سارے معاشی مسائل سے نمٹنے کا ایک سادہ سا نسخہ ہے، شرح سود کو اس سطح پر لے جائیے جس شرح پر امریکہ، برطانیہ تھائی لینڈ، اور دنای کے بہت سارے ممالک لے گئے ہیں۔ یہ اکیلا اقدام آپ کےبجٹ کو فلاحی بجٹ بنا دے گا۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.