Daily Taqat

مُلکی و ملیِ تباہی کے اسباب (حصہ دوم)

(گزشتہ سے پیوستہ) آہ کشمیر جو ہمارے لیے شاہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے اور پھر کشمیر تاریخی، تمدنی و اسلامی لحاظ سے ہی اہم نہیں بلکہ عالمی جغرافیائی محلِ وقوع کے اعتبار سے بھی یہ بہت بڑی اہمیت کا حامل ہے۔کشمیر پاکستان، افغانستان، روس ، چین اور بھارت کے سنگم میں ہے لیکن آہ انگریز مردور نے حقیر کوڑیوں کے عوض”قومے فروختند” کا مظاہرہ کرتے ہوئے اہالیان کشمیر اور مسلمانان کشمیر کی آزادی کو فروخت کر دیا،جس کے بعد آج تک ہم نے اپنے آپ کو مستحکم نہ کیا اور یہ فرض بھول گئے کہ آیا اس کے حصول اور اس کی آزادی کے لیے غورو فکر کرکے میدانِ جہاد میں نکلنا ہے۔ ہمارے حکمرانوںکی لوریاں ہمیں میٹھی نیند سلا رہی ہیں۔شہاب الدین غوری نے جب تک لاہور کی شکست کا پانی پت کے میدانِ میں بدلہ نہیں لیا تھا نہ اس نے اپنا لباس بدلا نہ چار پائی پر سویا اور نہ اپنے حرم سرا میںگیا۔سقوطِ ڈھاکہ کے بعد ہماری ملیِ اور حمیتِ دینی کا تقاضا تو یہ تھا کہ جب تک ہم سقوطِ ڈھاکہ کی کا لک اپنے چہروںسے دھونہ لیتے آرام سے نہ بیٹھتے، لیکن ہم خرگوش کی نیند سو گئے۔عیش کوشی میں مگن رہے،بانی ء پاکستان محمد علی جناح رحمت اللہ علیہ نے تو بار بار اس بات کا اعادہ فرمایا تھا کہ” میرے جسم میں جب تک ایک سانس باقی ہے میں ملک کے چپے چپے کے لیے کٹ مروں گا۔میں اس وقت تک اکیلا جنگ جاری رکھوں گاجب تک میرے دشمن مجھے بحیرہ عرب میں اُٹھا کر نہ پھینک دیں۔لیکن آج ہمارے کردار پر قائدِ اعظم کی روح پہلو بدل رہی ہے۔مملکت پاکستان کو مستحکم عالمِ اسلام کو متحد اور طاقت ور دیکھنا ہے توبھارت اور اسرائیل کے لیے نرم گوشہ رکھنا ارتکابِ گناہ کے مترادف ہو گا ۔وہی قومیں سر خرو ہوتی ہیں، وہی قومیںحیاتِ جاوداں پاتی ہیںجو ہمہ وقت وطن کی آن کے لیے قربانی دینا جانتی ہیں۔ زندہ رہنے کے لیے مرنا ضروری ہے جسے مرنا نہیں آتا اُسے جینا نہیںآتا۔ وہی قو میں عروج پاتی ہیںجو شمشیر وسناں کو اوّلیت دیتی ہیں اور طاوس ورباب سے ہمیشہ کے لیے دست کش ہو جاتی ہیں۔اسی میں قوموںکی حیات ملی کا راز مضمر ہے۔ کیا خوب کہا علامہ اقبال نے:۔
میں تجھ کو بتاتا ہوں تقدیر اُمم کیا ہے
شمشیر و سناں اوّل ، طاوًس و رباب آخر
پاکستان جو عشروں کی بے پناہ و زبردست کوششوں اور لا تعداد قربانیوں کے بعد حاصل کیا اور تحریکِ پاکستان کے ا کا بر ین نے تقریر اً و تحریراً کہا کہ یہ ایک نظریاتی مملکت ہو گی جس میں عدل و انصاف، دیانت و امانت، صاف گوئی و راست بازی اور شعبہ ء ہائے حیات میں اسلام کی چھاپ نمایاں ہو گی۔ اسلامی محبت و اخوت کا دوردورہ ہو گا۔ اخلاق و عادات، سیرت و اعمال ، گفتارو کردار، تہذیب و تمدن، بودباش اوراندازِ زیست اسلامی سانچے میں ڈھلا ہو گا۔ لین دین ، شادی غمی غرضیکہ پاکستانی کلچر، اسلام کا صحیح آئینہ دار ہو گا۔ شرم و حیا کے پھر یرے ملک کے چاردانگ میں لہراتے ہوں گے، عفت و عصمت کا تحفظ ہو گا، چادراور چار دیواری کا تقدس کسی صورت میں پامال نہ ہو گا لیکن ”بسا آرزوکہ خاک شُد”اس اسلامی نظریاتی ملک کے بعد چاہئیے تویہ تھا کہ اسے اسلام کا گہوارہ بنا دیا جاتا مگر کاش ہمارے مذہبی و سما جی اکابرین، دانشور مفکرین اللہ رب العزّت کے اس حکم کو کامیابی و کامرانی اور فلاح وبہبود کے ضمن میں سامنے رکھتے کہ ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور تفرقہ میں نہ پڑو اللہ کے اس احسان کو یاد رکھو جو اس نے تم پر کیا ہے تم ایک دوسرے کے دشمن تھے اس نے تمہارے دل جو ڑ دیئے اور اس کے فضل و کرم سے تم بھائی بھائی بن گئے تم آگ سے بھرے ہوئے ایک گڑھے کے کنارے کھڑے تھے اللہ نے تم کو اس سے بچا لیا۔اس طرح اللہ اپنی نشانیاں تمہارے سامنے روشن کرتا ہے۔شاید کہ ان علامتوں سے تمہیںاپنی فلاح کا سیدھا راستہ نظر آ جائے (القرآن103.3)۔ عوام ہو یا خاص رعایا، حکمران ہو یا سیاستدان، فوجی ہو یا سول عدلیہ ہو یا انتظامیہ اپنے سامنے حضرت عمر کے سنہری ریاستی اصولوں کا ہی نمونہ رکھتے۔پابندی احکام اسلام میں جن کا یہ مقام تھا کہ خلافِ شرع عمل پر اپنے لختِ جگر کو بھی نہ بخشا یہ اِس ملک اور اس میں رہنے والوں کی بدنصیبی ہے کہ اسے الا ماشاء اللہ جو بھی حاکم ملے وہ خود تو استعمار کی دہلیز پر سجدہ ریز ہوتے رہے مگرقوم کو بھی اس استھان میں جھکانے اور ماتھا ٹیکنے کی دعوت دیتے رہے۔ علامہ اقبال نے اس بات کا جا بجا درس دیا کہ ملتِ اسلامیہ کی قومیت زمینی جکڑ بندیوں اور جغرافیائی حد بندیوں کی کبھی قائل و فائل نہیں رہی۔عالمِ اسلام کے شہری اپنی سوچ، فکر، رجحانات، نظریات، خیالات، عقائد، تصورات اور تعصّبات کو استعمال کے مروجہ اصول و ضوابط تصور قومیت سے بالا تر رکھیں۔کیونکہ جغرافیائی اور حسب و نسب، ذات پات کی بنیادوں کے خمیر سے تیار کردہ قومیت کا تصور انسان کی اجتماعی فوزو فلاح اور حقیقی مسرت و نصرت کے لیے زھر ھلا ھل کی حیثیت رکھتی ہے۔علامہ اقبال نے انہی خطرات کے پیشِ نظر اپنے مکتوب بنام سید سلمان ندوی میں لکھا تھا کہ مسلمانوںکا مغرب زدہ طبقہ نہایت پست فطرت ہے۔
اب فلم کے نغموں سے ابھرتی ہیں شعائیں
ہوتے تھے کسی وقت نمازوں میں سویرے
یعنی مملکت خدا داد پاکستان کے قیام کا حسین خواب جو مسلمانانِ برصیغر پاک و ہند نے سوائے ناکامی جب اس کی عملی تعبیر دیکھی تو ان کی آرزووًں کا قتل ہو گیا۔ ملک پاکستان میں ہم اپنے اپنے فرائض سے یوں روپوش ہوئے کہ نہ چادر محفوظ ہے نہ چار دیواری نہ عفت و عصمت کو اسلامی مقام ہے نہ شرم و حیاء کی وہ روایات پائی جاتی ہیں جو اسلام کا طرّہ امتیاز تھیں۔ جو نظریہ پاکستان تھیںجس طرف بھی نگاہ اُٹھی ہے عریانی اپنے عروج پر ہے، فحاشی اپنے شباب پر ہے۔ بے حیائی کا دور دورہ ہے۔معاشرے میں شرم و حیا مفقود ہے۔ نوجوانوں کا لباس ، وضع قطع، شکل و صورت ، بودوباش اپنے اسلاف سے یکسر مختلف ہو چکی ہے، اوریوں ہمارا قومی تشخص بھی بُری طرح پامال ہو گیا۔ عورت جو گھر کی ملکہ تھی وہ زینت محفل بننا فخر محسوس کرتی ہے اورعورت ایک اشتہار بن کر رہ گئی ہے یوں عورتوں نے بھی فاطمہ جناح کا کردار بھول کر اپنے فرائض سے پہلو تہی کی انتہا کر دی ہے۔
کسی قوم سے انتقام لینا ہو تو ان کی اخلاقی عادات بگاڑی جاتی ہیں۔ ان کے سامنے ایسا معاشرہ پیش کیا جاتا ہے جو اُن کی دینی حمیت اسلامی غیرت اور خاندانی شرافت کو چھین لے۔بین الاقوامی یہودی سا ہو کار جو بین الاقوامی پریس کے مالک ہیں۔ وہ دنیا بھر کے مذاہب اور ادیانوں سے عموماً اور مسلمانانِ عالم سے خصوصاً انتقام لینے کے لیے عربی، فارسی، انگریزی اور فرانسیسی و دیگر مروّجہ زبانوں میں خطرناک بظاہردلچسپ جنسی لٹریچر پیش کر رہے ہیں اوریوں خوئے انسانی کو پامال کیا جا رہا ہے لیکن ہم ہیں کہ ٹس سے مس نہیں ہوتے اور یہ نام نہاد قومی اخبار اگر واقعتا ملی اور قومی ہیں تو پھر انہیں اس یہودیانہ رویوں سے باز آجانا چاہیئے۔ صحافت کو عریانی، فحاشی اور غارت گرایمان تصاویر سے پاک صاف کر دینا چاہیئے ورنہ قوم یہ سمجھنے میں حق بجا نب ہو گی کہ پاکستان کا قومی پریس بھی یہودیوں کا آلہ کاربن چکا ہے۔ اس روش سے باز آجانا چاہیئے اور یہ اس کا ملی و مذہبی فریضہ ہے کہ نوجوانوں کی کردارکشی سے دست کشن ہو جاہیں۔ اپنا انداز شائستہ کریںقوم کے اخلاق کو بگاڑ کر منفعت حصول زریہ کسی مسلمان اور ملی غیرت رکھنے والے کا کام نہیں۔
اے چشمِ اشک بار ذرا دیکھ تو سہی
یہ گھر جو بہہ رہا ہے کہیں تیرا گھر نہ ہو
میرے ملک کا مسئلہ غربت و جہالت نہیں ، معاشی پستی بالکل نہیں، سائنسی ترقی بالکل بھی نہیں، صحت ، تعلیم اور روزگار کا تو نام ہی نہ لیں۔ میرے ملک کی عوام کے مفادات کو براہِ راست مصنوعی کرنسی سے نتھی کرنے میں ماشاء اللہ 30 سال لگے ہیں اور قوم اس معاملے میں اتنی خودکفیل ہے کہ وہ ہر ریاستی پالیسی میں اپنا مفاد پہلے نمبر پر تلاش کرتی ہے اگر دیانتدار حکمران قوم سے کہتا ہے کہ میری قوم ایمانداری اور دیانتداری اپنائے تو قوم کہتی ہے کہ مہنگائی تو کم نہیں ہوئی، لیڈر کہتا ہے کہ میری قوم راست باز بنے ، جھوٹ نہ بولے تو قوم کا جواب ہوتا ہے کہ پٹرول تو کم نہیں ہوا، لیڈر کہتا ہے کہ میری قوم صفائی پسند ہو جائے تو قوم کہتی ہے کہ بجلی اور گیس کی قیمتیں تو کم نہیں ہوئیں۔ قوم کے اپنے ذاتی مفادات کو اولین ترجیح دینے کے نظریئے کو پروان چڑھاتے ہوئے تین عشرے لگے ہیں اور اب میری قوم کا سب سے بڑا مسئلہ جو قدآور ہو چکا ہے وہ یہ ہے کہ جب تک قومی اجتماعی سوچ بدل کر یہ نہیں ہو جاتی کہ ملکی و قومی مفادات پہلے نمبر پر اور ذاتی مفادات دوسرے نمبر پر نہیں آ جاتے اُس وقت تک اس ملک اور قوم کو تباہی و بربادی کے دہانے سے بچایا نہیں جا سکتا۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »