Daily Taqat

تبدیلی کے غبارے سے ہوا نکل گئی !

تحریک انصاف کی انقلابی حکومت ابھی معاشی گرداب سے نکلنے کے لئے ہاتھ پاﺅ ں مار ہی رہی تھی کہ ضمنی انتخابات میں اسے شد ید دھچکا لگا ،گیارہ میں سے پانچ قومی اسمبلی کی نشستیں اپوزیشن لے اُڑی ہے۔ یہ عمران خان اور ان کی ٹیم کے لئے وارننگ شاٹ ہے۔ اپنی کوتاہیوں پر نظر ثانی کرتے ہوئے یہاں بریک نہ لگی تو پھر بلندی سے لڑھکنے کا عمل کہیں روکنے میں نہیں آئے گا۔ اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے والا سبق نہ دہرایا جائے ،یہ قوم اور ملک اس کا متحمل نہیں ہوسکتا،تحریک انصاف کو اقتدار میں آئے ابھی چند دن ہوئے پارٹی اندر سے ناراضگیوں کا شکار ہے ،عوام پر جس انداز سے مختلف اشیاءکی قیمتوں کو لاگو کیاگیا، اس میں مجبوریاں اپنی جگہ ،لیکن وقتِ انتخاب پر مہنگائی کے بم نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ عمران خان نے اقتدار میں آتے ہی کچھ کر دکھانے کے لئے سو دن مانگے تھے ،لیکن50 دن کے بعد ہی حکومتی اقدامات اور کارکردگی پر پہلا عوامی نتیجہ آگیا ہے، عوام کی عدالت سے،2018 کے عام انتخابات کے بعد پہلے بڑے ضمنی انتخابات کے نتائج نے عمران خان کو کو اپنی ہی جیتی ہوئی دو نشستوں سے محروم کرکے واضح اشارہ دے دیا ہے کہ عوام ان کے اب تک کے فیصلوں سے مطمئن اور متفق نہیں، ووٹ کے ذریعے اتنا سخت عوامی ردعمل تحریک انصاف کی لیڈرشپ کے لئے بڑا سبق ہے۔ اقتدار کے رسیا ماضی کے پٹے گھوڑے ہی اگر باکردار عوامی چہروں پر قابل ترجیح بنیں گے تو نتائج ہمیشہ ایسے ہی آئیں گے۔
تحریک انصاف نے معاشی و سیاسی محاذپر عوام کو شدید مایوس کیا ہے ،ایک طرف بچت کا نعرہ بلند کرکے بھینسیں بیچتے رہے،جبکہ دوسری طرف وزراءکی تعداد میں بھی روز بروز اضافہ کیا جاتا رہا ،چھوٹی کابینہ کے دعوئے بڑھتی کیبنٹ کے نیچے دب کررہ گئے ہیں ،عوام اتنے بے وقوف نہیں رہے کہ حکمرانوں کی مجبوریوں اور مفادات میں تفریق نہ کرسکیں ،حکمران اپنے کہے ہوئے الفاظ کی لاج رکھنے میں ناکام نظرآنے لگے ہیں،آئی ایم ایف میں جانے کی بجائے خودکشی کرنے کے اعلان کرنیوالے وزیراعظم کی حکومت آئی ایم ایف کے سامنے کشکول لئے بھی پھر رہی ہیں۔ حکومت کے 50 دن میں طرزعمل اور سستی شہرت حاصل کرنیوالے اقدامات کے سوا عوام کی ریلیف کیلئے کوئی ٹھوس اقدام نہ کرنے کے باعث حکومت اور حکمرانوں کی مقبولیت کا گراف بہت تیزی سے نیچے گرا ہے۔ مہنگائی کا عفریت عوام کو ڈس رہا ہے اور آنیوالے دنوں میں مزید مہنگائی کے امکان نے لوگوں کی نیندیں اڑا دی ہیں، ان حالات میں معمولی اکثریت سے اقتدار حاصل کرنے والی پی ٹی آئی کے ساتھ ضمنی انتخابی دنگل میں ن لیگ نے تمام تر پریشرز کے باوجود مقابلہ 4،4سے برابر کردیا ہے، یوں اہم نشستیں کھونے کے بعد پی ٹی آئی حکومت پر گرفت مزید کمزور اور حلیفوں کی بلیک میلنگ میں مزید اضافہ ہوگا۔ وزیراعظم عمران خان سرسبز و شاداب اور صاف پاکستان بنانے کےلئے کوشاں ہیں، لیکن بائی الیکشن ٹریلر بتارہا ہے کہ صفائی مہم میں عوام نے بھرپور حصہ لیا ہے، لیکن ووٹوں کی صفائی کی صورت میںبھرپور ردعمل دیا ہے۔حکومت کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ وہ اقتدار میں رہتے ہوئے قومی اداروں کی زیرنگرانی شفاف ضمنی انتخابات سے آنے والا یہ عوامی فیڈبیک اپنی حکمت عملی کو جانچنے کا ً ایسا سنہری سبق آموز موقع بن گیاہے کہ اس پہلے جھٹکے میں ہی سنبھل جائیںاور اپنا خودہی محاسبہ کریں۔ تحریک انصاف اقتدار کی چکا چوند میں بھول گئی ہے کہ وہ ایک نظریاتی سیاسی جماعت ہے ،اس کا ووٹر آزمائے ہوں کو ٹھکراکر تبدیلی کی نئی سوچ کے ساتھ کھڑا ہے ،لیکن ان پچاس دنوں میں پارٹی کی ناقص کار کردگی نے مایوس کیا ،پہلے پچاس دن میں ہی تبدیلی کے غبارے سے ہو انکل گئی ،عوام جان گئے ہیں کہ تحریک انصاف کے پاس کوئی
قابل عمل معاشی ایجنڈا نہیں ہے ،حکمرانوں کو یاد رکھنا ہوگا کہ وہ خواب فروشی سے اقتدار میں آئے ہیں ،عوام کو دکھائے گئے خوبوں کی تعبیر دکھانا ہوگی ،ورنہ ہار پر ہار ہوگی ۔
اس میں شک نہیں کہ ملک جس مشکل صورت حال سے دوچار ہے یہ پچاس روز میں تحریک انصاف کی حکومت کے پیدا کردہ نہیں، ہر دور اقتدار میں بدقسمتی سے اس ملک و عوام پر آئے روز نت نئے بدترین تجربات کئے جاتے رہے ہیں، عوام کو نہ کبھی سچ بتایا گیااور نہ ہی ان کے مفادات کا کبھی سوچا گیا، اگرمان بھی لیا جائے کہ شب خون مارنے والے زیادہ ترآمرظالم تھے جومحض اقتدار چاہتے تھے تو منتخب جمہوریت نوازوں نے اس ملک کے ساتھ40 برس میں کیا کچھ نہیں کیا، ہر دور کے حکمرانوں نے عوام کو بے وقوف بنا کر ملکی خزانے کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا ہے ۔اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کہ ملک کو آئین دینا، ایٹمی قوت بنانا اورسی پیک جیسے اقدامات ان کے ماتھے کا جھومر ہیں، لیکن اسلامی جمہوریہ پاکستان کے عوام کی مشکلات کا ازالہ، خوراک، صحت، تعلیم، روزگار، چھت اور خوشحال زندگیوں کی فراہمی بھی ان ہی کی ذمہ داری تھی ۔اس ملک کا70 فی صد غریب طبقہ کیا جانے کہ ماضی کے جمہوریت نوازوں کا غریب کے نام پر لیا گیا30 ہزار ارب کا قرضہ اس کی زندگی سنوارے بغیر کہاں گیا؟ کوئی مانے نہ مانے مایوس عوام نے فیصلہ دے کر نئی قیادت کو جھنجوڑا ہے، شاید اسی منہ توڑ جواب سے کوئی اصلاح کا پہلو مل جائے، شاید یہ پہلا جھٹکا نئی مثبت معاشی پالیسیوں کی سمت طے کردے ،آئی ایم ایف سے مزید قرض کے بجائے مقامی متبادل آپشن کے لئے سوچ بچار کا سبب بن جائے،. یہ سب کچھ ہویا نہ ہو ،مگر حالات واضح بتا رہے ہیںکہ ایک اکیلا عمران خان جیسا ہمت و محنت کا دھنی ہر قسم کی بیماری میں مبتلا قوم کو مصیبت سے تن تنہا کیسے نکال سکتا ہے، کوئی ایک جماعت ملک کو درپیش سنگین چیلنجز سے کیسے نمٹ سکتی ہے،اس گرداب سے نکلنے کے لیے پوری قوم کو بلا تفریق متحد ہوکر ایک پاکستان بننا پڑے گا۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »