Daily Taqat

مزارات پر دہشت گردی

اولیا اللہ کے مزار ہمیشہ سے امن و آشتی کے مرکز رہے ہیں۔ یہاں سے ہمیشہ محبت، اخوت، امن و بھائی چارہ کی آواز ہی بلند ہوتی ہے۔ مگر کچھ عرصہ قبل دہشت گردوں نے یہاں بھی اپنی دہشت گردی دکھانی شروع کر دی تھی۔ داتا دربار، عبداللہ شاہ غازی، بابا فرید ، سخی سرورکے مزاروں پر دہشت گردی سے بیسیوں افراد جاں بحق ہوئے۔
برصغیر پاک و ہند میں انہی علماءکرام کی وجہ سے اسلام پھیلا۔ ان برگزیدہ ہستیوں کے مزار صدیوں سے مرجع خلائق ہیں۔ لوگ اپنے اپنے عقیدے کے مطابق ان مزارات پر حاضری دیتے ہیں۔ مسلک سے اختلاف رکھنے کے باوجود لوگ ان ہستیوں کا دل سے احترام کرتے ہیں۔ یہاں کسی کا کسی سے کوئی جھگڑا نہیںہوتا۔ مگر آج ان اولیا اللہ کے مزار بھی دہشت گردی سے محفوظ نہیں ہیں تو صاف ظاہر ہے کہ یہ خارجی عناصر کا کام ہے۔ بھارت میں بابری مسجد کی شہادت میں سی آئی اے ملوث تھی اس نے انتہا پسند ہندو تنظیم وشواہندو پریشد کو کروڑوں روپے کا ٹھیکہ دیا تھا۔ اسی طرح پاکستان میں اولیا اللہ کے مزارات اور مساجد میں خود کش دھماکوں سے بھی سی آئی اے، امریکہ ، بھارت اور اسرائیل کے مفادات وابستہ ہیں کیونکہ اس سے ملت اسلامیہ پاکستان کا شیرازہ بکھیرنے کے مکروہ عزائم کی تکمیل آسان ہوگی۔
سوال یہ ہے کہ مساجد، مزارات پر حملے کرنےو الے کون ہیں۔ ان کے پیچھے ایک باقاعدہ سازش کار فرما ہے جس کا مقصد ملت اسلامیہ میں اتحاد و یگانگت اور ہم آہنگی کو نقصان پہنچانا ہے۔ کبھی شیعہ سنی اختلافات کوہوا دے کر انہیںآپس میں لڑا یاگیا تو کبھی دیو بندی، بریلوی مسالک کو۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہر خود کش حملہ کے بعد اس کی ذمہ داری تحریک طالبان پرکیوں ڈال دی جاتی ہے؟ یوں ذمہ دار اداروں کی ساری توجہ طالبان کی طرف مبذول ہو جاتی ہے اور اصل مجرم صاف نکل جاتے ہیں۔
کچھ عرصہ قبل وکی لیکس نے کھلے عام انکشاف کیا تھا کہ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوںمیں امریکی سی آئی اے ملوث ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارتی ایجنسی’ را‘ اور اسرائیلی’ موساد‘ بھی ہاتھ بٹا رہی ہے۔ دہشت گردی کی کارروائی کے فوراً بعد میڈیا کے ذریعے تحریک طالبان کا نام منظر عام پر لا کر تفتیش و تحقیق کا رخ موڑ دیا جاتا ہے۔ امریکی سی آئی اے ایسے کام مقامی طور پر اپنے کرائے کے پیشہ ور لوگوں اور قاتلوں کے ذریعے بھی کراتی ہے۔ ماضی میں پاکستان میں گرفتار ہونےو الے دو افراد کے قاتل ریمنڈ ڈیوس بھی ایسے ہی لوگوں میں شامل تھا جو سی آئی اے کے ایجنٹ کے طورپر مقامی لوگوں سے دہشت گردی کی وارداتیں کراتے ہیں۔ گو کہ امریکہ کئی پاپڑبیلنے کے بعد اسے چھڑا کر لے گیا مگر یہ واضح نہیں کر سکا کہ اسے کس مقصد کےلئے پاکستان بھیجا گیا تھا اور وہ یہاں کیا کر رہا تھا۔ ابھی بھی نجانے کتنے ڈیوس پاکستان میںموجود ہوں گے جو دہشت گردی کی کارروائیوں میںملوث ہوں گے۔ ان کارروائیوں میں سینکڑوں بے گناہ شہری ، فوجی اور پولیس افسران وجوان شہید ہو چکے ہیں اور اربوں روپے کی املاک تباہ ہو چکی ہیں مگر ہمارے اداروں کو اصل مجرم نہیںمل سکے۔ کیونکہ دہشت گردی کی کارروائی ہوتے ہی تفتیش کا رخ بدل دیا جاتا ہے۔
اسلام پسند عناصر نہ تو دہشت گرد ہوتے ہیں اور نہ ہی ظالم۔ غیر ملکی عناصر ملک میں خوف و ہراس پھیلانے کےلئے طالبانائزیشن کا نام استعمال کر رہے ہیں۔ یہ لوگ اسلام کو دہشت گرد دین کے طو ر متعارف کرانا چاہتے ہیں۔ بے گناہ افراد کی ہلاکت جیسے بزدلانہ فعل سے اسلام کی کوئی خدمت نہیں ہوتی۔ ملک دشمن عناصر عدم استحکام پیدا کر رہے ہیں۔ یہ لوگ اسلام اور ملک کے دشمن ہیں خوف و ہراس پھیلا کر امن تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بے رحم لوگ اپنے مذموم مقاصد کیلئے دین اسلام کا نام لیتے ہیں۔ مگر اس کے سائے میں اپنے لوگوں کو زیر دست بنانا چاہتے ہیں۔ وطن عزیز میں خود کش حملے، دہشت گردی اور خواتین کو اسلام کے نام پر قتل کرنا ملک و قوم کے نام پر بدنما داغ ہے۔ اسلام کسی مسلمان کو دوسرے مسلمان یا انسان کی بلاوجہ جان لینے کی اجازت نہیں دیتا۔ اسلام تو امن و سلامتی کا علمبردار ہے۔اسلام کسی بھی صورت میں کسی مسلم یا غیر مسلم کو دہشت گردی یا خود کش حملوں کے ذریعے جان سے مارنے کی سختی سے ممانعت کرتا ہے۔ جہادی تنظیموں اور مذہبی انتہا پسندوں کے خلاف کارروائی کی آڑ میں ہنود و یہود و نصاریٰ اور ہمارا دشمن بھارت اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے جس کا مقصد جہاد کو دہشت گردی کے کھاتے میں ڈال کر دین اسلام کو بدنام کرنا، مسلمانوں کے جذبہ جہاد کو کاری ضرب لگانا ہے۔ ہماری لیڈر شپ کو بھی ان خارجی سازشوں کا مقابلہ کرنے کےلئے پختہ عزائم کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی ، انتظامی اور مذہبی قیادت مل بیٹھ کر دہشت گردی، بدامنی پر قابو پانے کےلئے تدابیر سوچے اور قوم میں اتفاق و اتحاد کی فضا پیدا کرے۔
علماءکرام کا کہنا ہے کہ درندگی اور وحشت کی اسلام ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ نہ صرف یہ اسلام کے بلکہ انسانیت کے بھی خلاف ہے۔شدت پسند عناصر مسلمانوں کا روپ دھار کرعالمی امن کے درپے ہیں اور اسلام کو بدنام کر رہے ہیں۔ یہ لوگ اسلام کو ایک شدت پسند دین کے طور پر متعارف کروارہے ہیں۔پڑھے لکھے افراد کو احساس ہے کہ خودکش حملے جنت میں نہیں جہنم میں پہنچاتے ہیں ۔ دہشت گردوں کو تربیت دینے والوں سے ملاقات ہوئی تو پوچھوں گا خودکش حملے جنت میں لے جاتے ہیں تو خود کیوں نہیں کرتے ؟“


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »