اہم خبرِیں

ٹارزن کی واپسی

ٹارزن کی واپسی

افغانستان قدیم اسلامی تاریخ کا حامل ملک ہے جغرافیائی لحاظ سے افغانستان ماضی میں ”بفر سٹیٹ” کہلاتا تھا۔ ہندوستان پہ انگریزی تسلط قائم تھا انگریزوں اور ”رشین فیڈریشن” کے درمیان طاقت کی کشمکش جاری تھی۔ برطانوی حکومت ہندوستان کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک کو بھی پریشر میں رکھنے کے عزائم رکھتی تھی۔دوسری طرف”رشین فیڈریشن” کو بھی ہندوستان میں برطانوی حکومت کھٹکتی رہتی تھی یوں افغانستان دونوں طاقتوں کے درمیان ”بفر سٹیٹ” تھا یعنی دونوں ملکوں کی حدود کے درمیان افغانستان ایک ٹکر بنا ہوا تھا جو کہ دونوں ممالک افغانستان کو پھلانگ نہیں سکتے تھے مزید یہ کہ خلیج سے اسلامی ممالک کا جو سلسلہ چلتا تھا وہ افغانستان پر آکر رک جاتا تھا ۔افغانستان کے آگے روس ، چین اور ہندوستان آ جاتے تھے ۔حالات نے کروٹ لی تو افغانستان کی ”بفر سٹیٹ” کی جغرافیائی کیفیت تبدیل ہو گئی ہندوستان سے پاکستا ن نکل آیا اور ”رشین فیڈریشن” ٹوٹ گیا جس کے نتیجے میں اسلامی ریاستیں تاجکستان ، کرغستان ، کازغستان وغیرہ قائم ہو گئیںجس سے افغانستان میں نئے حالات اور نئے مسائل نے جنم لیا ۔ہندوستان نے افغانستان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانا شروع کردیا اسکا مقصد افغانستان میں اپنے نیٹ ورک کا مرکز قائم کرنا تھا اور پاکستان کو نشانہ بنانا تھا ۔ہندوستان کو اپنے خلاف ماضی میں افغانی ضربات نہ بھولیں تھی ماضی بعید میں ہندوستان پر سب سے زیادہ ضربات افغانیوں نے لگائیں۔سترہ بار تومحمود غزنوی نے ہندوستان پر چڑھائی کی اور سومنات جیسے مندر توڑ کر ہندو قوم کے بھرم اور سالمیت کو شرمندہ کردیا ۔جمال الدین افغانی اور ظہیر الدین بابر جیسے بہادر جنگجوئوں اور فاتحین نے ہندو قوم کو اپنی طاقت اور حربی مہارت سے پوری طرح آشنا کیا ۔محمود غزنوی جیسے جنگجوئوں کا ذکر سنتے ہی آج بھی ہند و قوم اور ہندو دھرم دونوں دم بخود ہو جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہندوستان پر طویل اسلامی تسلط نے ہندو قوم کو جنونی بنا دیا تھا۔انگریزوں کے چلے جانے کے بعد اور قیام پاکستان اور استحکام پاکستان کے بعد ہندو قوم کا صرف ایک مقصد تھا کہ پاکستان کو کسی طرح سے جغرافیائی ، انتظامی ، دفاعی اور مالی طور پر نڈھال کردیا جائے جو ہندوستان نے پاکستان کے چاروں طرف اپنا نیٹ ورک مضبوط کرنے کی سعی شروع کردی ۔مشرق کی طرف ہندوستان خود جنوب کی طرف ایران اور مغرب کی طرف افغانستان میں اپنا نیٹ ورک پھیلا دیا شمال کی طرف چین ہونے کی وجہ سے ہندوستان کے عزائم کامیاب نہ ہوسکے ۔ماضی میں چالیس سال سے افغانستان میں ہندوستان اپنا کیمپ لگائے بیٹھا ہے ہندوستان نے دو طرح سے کامیابی سمیٹنے کی کوشش کی۔ ایک طرف ہندوستان کی ”انٹیلی جنس ایجنسیز” نے افغانستان کی تباہی کے لیے امریکہ کو معلومات فراہم کیں جس سے امریکہ ہندوستان پر اپنے تسلط کی راہ ہموار کرنے لگااور دوسری طرف افغانستان میں رہ کر پاکستان میں دہشت گردی کا بھرپور ورک کیا جس پر ماضی قریب میں پاکستان کے اندرونی حالات ہل کر رہ گئے اور اس دہشت گردی کو کنٹرول کرنے کے لیے ہماری فوج اور سول انتظامیہ کو کافی جانوں کا نقصان اٹھانا پڑا جو کہ اب کسی حد تک کنٹرول ہو چکا ہے مگر مکمل طور پر روکا نہیں جاسکا ۔ہماری مغربی سرحد کے آس پاس دہشت گردی کے واقعات رونما ہوجاتے ہیں جس نے ہماری عسکری فورس کو نقصان بھی اٹھانا پڑتا ہے اور دہشت گردوں کے کئی نئے ٹھکانے بھی ہاتھ لگتے ہیں جو کہ کامیابی سے ختم کردیے جاتے ہیں۔
“افغانستان کبھی غلام نہیں رہا “یہ بات اس حد تک ٹھیک ہے کہ اس ملک پر کبھی غیر ملکی قبضہ نہیں ہو سکا اسکی تین وجوہات ہیں۔نمبر(١)پورا افغانستان پہاڑی علاقہ ہے ان پہاڑوں میں ان گنت سرنگیں ہیں افغانی قوم کے علاوہ ان سرنگوںکی گہرائی اور لمبائی تک کوئی نہیں پہنچ سکتا۔ہندوستانی اور امریکی سراغ رساں اداروں نے افغانی جنگجوئوں کے مکمل خاتمے کے لیے ان سرنگوں پر بہت کام کیا مگر انہیں کامیابی حاصل نہ ہو سکی افغانی قوم ”وار ایج” میں ان سرنگوں میں چلی جاتی ہے اور دشمن کو اپنا بھاری مالی نقصان کرنے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔روس اور اب امریکہ افغانستان کی اندرونی حالت کا ٹھیک طرح سے اندازہ نہ کرنے کی وجہ سے شکست سے دوچار ہوا اور اپنے زخم چاٹتا ہوا واپس جانے پر مجبور ہوا ۔(٢)افغانی قوم نہائیت غریب اور بلا درجہ کی خوددار ہے حیرت اس بات پر ہے کہ مسلسل جنگی حالات میں افغان قوم کو غربت کے انتہائی درجے تک پہنچا دیا ہے افغانی بچے عورتیں نہ تو مناسب تعلیم حاصل کرسکیں اور نہ ہی مناسب لباس ۔افغانی قوم کے ننگ دھڑنگ بچے اور میلے کچیلے لباس میں ڈھکے ہوئے مردوزن انکی بیچارگی اور مفلسی کا ثبوت ہے مگر خودداری کا یہ عالم ہے کہ افغانی قوم نہ تو جھکتے دیکھی ہے اور نہ ہی بھیک مانگتے ہوئے ۔سات لاکھ سے زیادہ افغانی قوم مہاجرین کے طور پر پاکستان میں موجود ہے افغانی آپ کو جوتے پالش کرتے، کاغذ اٹھاتے ہوئے ، زمین اور سڑکیں کھودتے اور نہائیت دشوار کام کرتے ہوئے نظر آئیں گے۔معمولی مزدوری پر کام کرتے ہوئے نظر آئیں گے مگر بھیک مانگتے ہوئے نظر نہیں آئیں گے آپ کسی ایک افغانی کو بھی بھیک مانگتا ہوا دیکھ کر افغان قوم پر بھیک مانگنے کا الزام نہیں لگا سکتے۔ (٣)افغانی قوم پیدائشی طور پر بڑی جفا کش قوم ہے یہ کہنا کسی حد تک درست ہے کہ افغانی جنگ کے بغیر نہیں رہ سکتے یوں افغانی قوم کے بچے سب سے پہلے جس چیز کا اپنے بڑوں سے درس لیتے ہیں وہ لڑائی جھگڑا ہے یہی بچے اپنے اس لڑائی جھگڑے کو جنگ وجدل میں بدل لیتے ہیں جسکی وجہ سے پوری افغانی قوم جنگ کا سامنا کرنے کے لیے پیدائشی طور پر تربیت یافتہ ہے ۔یاد رہے کہ روس اور افغان وار کے دوران ہندوستان نے روس کا پورا پورا ساتھ دیا اور فوجی طاقت کے ساتھ افغانستان کے متعلق معلومات بھی فراہم کیں۔روس کی ناکامی کے بعد ہندوستان نے امریکہ کے ہاتھ اور پائوں دبانے شروع کردیے جس کا مقصد ہندوستان میں امریکہ کا مستقل قیام تھا تاکہ مغرب کی طرف امریکہ کی موجودگی پاکستان کی سالمیت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکے اس نے پاکستان اور افغانستان دونوںکے لیے شکنجہ تیارکیا جانا مقصد تھا لیکن انڈیا کی بد قسمتی ملاحظہ ہو کہ امریکہ بھی افغانستان سے بھاگنے پر مجبور ہوا ۔افغان امریکہ وار کے دوران ہندوستان نے امریکہ کو معلومات اور اسلحہ کی کمک پہنچانے میں ذرا بھی غفلت نہ کی ۔اسکے بعد امریکہ کی ہدایت پر کرزئی حکومت کی جس طر ح نگرانی کی اسکا اندازہ ان واقعات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس وقت افغانستان میں جتنے بھی امریکن فوج نے سول آبادی پر حملے کیے ان میں افغانی آبادی کا نقصان سو فیصد جبکہ امریکن فوج کا نقصان پانچ فیصد ہوا ۔ہندوستان کو اسوقت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جب قطر میں طالبان اور امریکی حکام کے مذاکرات کا دور شروع ہوا ۔امریکہ نے افغانستان سے ہر حال میں نکلنے کا فیصلہ کرلیا اور مذاکرات کی کامیابی اس علامت پر رکھی کہ امریکہ کو واپسی کا باعزت راستہ مل جائے اور یہ مذکرات بھی کئی دفعہ سبوتازہوئے جن کے پیچھے انڈین عزائم کا بڑا ہاتھ ہے ۔پاکستان کی مغربی سرحد پر امریکن فوجیوں کا گشت کرتے ہوئے نظر نہ آنا ہندوستان کی بہت بڑی ناکامی ہے لیکن امریکہ اپنے بھاری مالی اور جانی نقصان کے بعد افغانستان میں نہیں ٹھہرنا چاہتا ۔
بالآخر طالبان اور امریکہ کے درمیان مذکرات کامیاب ہوچکے ہیں قطر میں امریکہ اور طالبان حکام کے درمیان تمام معاہدات طے ہو چکے ہیں تاہم ہندوستان ان مذاکرات کو ناکام بنانے کے لیے اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہے ۔حالیہ دہشت گردی کے واقعات اور افغانی امن کو منتشر کرنے کے واقعات ہندوستانی شدید مایوسی کا اظہار ہے جس پر طالبان نے گزشتہ دنوں ان جذبات کا برملہ اظہا ر کیا ہے کہ اب ہندوستان کو چالیس سالہ قائم دہشت گردی کے نیٹ ورک کو لپیٹنا ہوگا اور ہندوستان اب تک دہشت گردی کرکے جنوبی ایشیامیںمسلم قوم کا جتنا نقصان کرچکا ہے اب اسکا حساب دینا ہوگا جس پر انڈیا کو افغانستان سے اپنی واپسی کا انتظام کرنا ہوگا اور اپنے دہشت گردی کا پورا نیٹ ورک لپیٹ کر واپس جانا ہوگااور انڈیا کا اس نیٹ ورک پر جتنا سرمایا خرچ ہوا ہے ناکامی کے زخم کے بعد وہ بھی شمار کرنا ہوگا۔اب ٹارزن کی واپسی کے بعد ٹارزن کے اندرونی اور بیرونی حالات کیا ہو سکتے ہیں یہ وقت بتائے گا۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.