اہم خبرِیں

تماشا

بڑی دیر کے بعداور بڑی مشکل سے میں نے پیپلزپارٹی کو دل سے نکالنے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے تک کئی سال لگے کئی واقعات رونما ہوئے۔ پیپلزپارٹی میرے دل سے اتر سی گئی تھی۔ جیسے بعض اوقات کمبل نہیں چھوڑتا اسی طرح پیپلزپارٹی بھی مجھ سے نہیں چھوڑی جارہی تھی۔ بات یہ نہ تھی کہ میں کوئی پیپلزپارٹی کا کوئی نامی گرامی کارکن یا لیڈر تھا اور پیپلزپارٹی قیادت کا میں قیمتی چہرہ تھا اورمیرے پیچھے ہٹنے سے پارٹی پر کپکپی طاری ہو جانے کا اندیشہ تھا۔ بالکل نہیں ایسی کوئی بات نہیں۔ میں پیپلزپارٹی کا ایک رکن تھا جس کی اپنے گلی یا محلے کے عہدے دار سے بھی سناسائی نہ تھی۔ مگر دل میں پوری کی پوری پیپلزپارٹی براجمان تھی اور میری اس دلی کیفیت کا جوڑ 1967ء کی پیپلزپارٹی سے لگا ہوا تھا۔ میری آنکھوں کے سامنے ذوالفقار علی بھٹو سٹیج پر جذبات کی گہرائی سے خطاب کرتا رہتا تھا۔ میں آنکھیں بند بھی کروں تو خطاب جاری رہتا تھا۔ میں اس کمبل سے جان چھڑانے سے کیسے کامیاب ہوا یہ بتانا چاہتا ہوں۔ مگر اس سے پہلے آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ میری یہ حالت کیسے ہوئی۔
آپ میرے ساتھ چلیں تھوڑا سا سفر کریں اور جنرل ضیاء الحق کے زمانے میں واپس چلیں۔ یہ جنرل صاحب کا ابتدائی دور ہے پیپلزپارٹی کے ہزاروں کارکن پکڑے ہوئے ہیں۔ ان کو کوڑے مارے جا رہے ہیں ہر طرف فوج ہے۔ کارکن کوڑے کے سامنے اپنی کمر ایسے کرتے ہیں جیسے کوئی ثواب کا کام ہو۔ کئی کارکنوں نے بھٹو صاحب کی رہائی کے لئے خود سوزی بھی کی۔ پیپلزپارٹی کے کارکنوں کا نام اسی وجہ سے جیالا پڑا۔ جیالوں کی ہمت اور شوق نے تاریخ رقم کر دی۔ پھر بھٹو صاحب کو پھانسی کا حکم سنایا گیا۔ پھر پھانسی دی گئی اسی عرصہ میں جیالوں اور بھٹو خاندان کی ہمیت اورجرأت ایک ایسا پرچم ہے جو تاریخ کے مناظر دیکھنے والوں کو دور سے ہی نظر آ جائے گا۔ کراچی اور بیرونِ کراچی کو کنٹرول کرنے کے لئے MQM کو میدان میں اتارا گیا۔ ایم کیو ایم نے کراچی کی گلی محلوں میں جس شوق سے اپنی محنت کا مظاہرہ کیا وہ ناقابل بیان ہے۔ پیپلزپارٹی کے جیالوں کے ساتھ ساتھ MQM کا ہاتھ کراچی کے صنعتکاروں، سرمایہ داروں اور پھر عام دکانداروں کی گردنوں پر بھی پڑا۔ لوگوں کا غائب کیا جانا اور پھر لاشوں کا سر راہ ملنا روزمرہ کا معمول بن گیا۔ یوں کراچی جو روشنیوں کا شہر تھا خوف اور موت کے اندھیرے میں گم ہو گیا۔ اس موڑ پر جیالوں کی جوانمردی اور بھٹو خاندان کی بے چارگی نے مجھے پیپلزپارٹی کا جھنڈا پکڑا دیا اور یوں میں پیپلزپارٹی کا جھنڈا لئے علاقہ کے گلی کوچوں میں گھوما۔ پھر یہ جھنڈا میں نے اپنے مکان کے اوپر لگا دیا۔ یہ اس وقت کی بات ہے کہ پیپلزپارٹی کا نام لینا بھی تھا۔ بڑے بڑے لیڈروں نے جنرل ضیاء الحق کے خوف سے گھر کی چھت سے پیپلزپارٹی کے جھنڈے اتار لئے تھے۔ کئی بار پولیس کے ڈنڈے کھا کے جو بعد ازاں مجھے پاگل قرار دیدیا کہ چھوڑو یہ تو کوئی پاگل ہے مگر میں پیپلزپارٹی کا جیالا تھا ایک کھرا اور سچا جیالا۔ جہاں پیپلزپارٹی کی بات ہوتی جم کر سنتا مخالفت ہوتی تو جذباتی ہو جاتا۔ جنرل ضیاء کے قصیدے پڑھنے والوں کی تعداد بھی بہت زیادہ تھی جو بھٹو پر لعن طعن کرتے تھے۔ یہ قدرتی امر تھا وہ لوگ جب تک بھٹو صاحب پر تنقید کرتے جنرل کی تائید نہ ہو سکتی تھی۔ مگر مجھے بھٹو صاحب کے خلاف ہر بات کفر کے مترادف لگتی تھی۔ جونیجو صاحب کی حکومت کے اچانک خاتمے نے جنرل ضیاء الحق کے ساتھ نفرت میں کئی گنا اضافہ ہو گیا جوکہ پیپلزپارٹی کے ساتھ والہانہ لگائو کا مزید ایک مضبوط اور معقول ذریعہ بن گیا کہ جنرل ضیاء الحق ایک ظالم اور جابر حکمران ہے جس نے قبل ازیں پاکستان کے حقیقی لیڈر ذولفقار علی بھٹو کو ایک من گھڑت مقدمہ میں ملوث کر کے عدالت منتقل کر دیا ہے۔ جونیجو صاحب کی حکومت کو بلا جواز چلتا کر کے اپنی حکومت کو طول دیا ہے۔ جنرل صاحب کی ہوس اقتدار کے سامنے کوئی بھٹو یا جونیجو نہیں ٹھہر سکتا۔
جب 1986ء میں بینظیر بھٹو جلاوطنی کے بعد لاہور ائیر پورٹ سے باہر آئیں تو لاہور کی گلیوں، بازاروں اورمحلوں نے میرے جذبات کو تھپکی دی کہ پیپلزپارٹی ہی وہ جماعت ہے جو پاکستان کی عوام کی نمائندگی کر سکتی ہے۔ عوام کے سمندر نے پیپلزپارٹی کے تعلق میرے اعتقاد کو مزید پختہ کر دیا کہ بھٹو کی بیٹی بھٹو کے ادھورے خواب پورے کریگی۔ جب 1988ء میں ایک ہوائی حادثہ میں جنرل ضیاء الحق جاں بحق ہوئے تو بغلیں بجانے اور مٹھائیاں بانٹنے والوں میں مَیں بھی شامل تھا۔ اس وقت یہ ایک خواب تھا کہ اب پیپلزپارٹی کامیاب ہو گی۔ پاکستان سے مایوسی، جبر و تشدد اور غربت کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اب غربیوں کے سر سے جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کا سایہ ہٹ جائے گا۔ روٹی، کپڑا اورمکان ہر پاکستانی کو ملے گا یہ محض خواب نہ تھا۔ کسی حد تک مجھے یقین تھا اب زمینداروں، وڈیروں سے نجات حاصل ہو جائے گی۔ اب کام کروا کر مزدوری دینے کی بجائے گالیاں دینے کا دور بھی ختم ہو جائے گا۔ ہمارا حق کھانے والے زندہ نہیں بچیں گے بس اس یقین پر پیپلزپارٹی کوووٹ دیا اور لوگوں کو بھی ووٹ دینے پر مجبور کیا۔ جب بینظیر بھٹو وزیراعظم بن گئی اب کے وقت میرے کان اور آنکھیں بینظیر بھٹو سے طرف رہے کہ کسی بھی وقت حالات بدل سکتے ہیں کسی بھی وقت جاگیرداروں کے ہاتھ پیچھے باندھے جا سکتے ہیں۔ اس طرح وقت گزرتا گیا اور میری امیدوں کے چراغ گل ہوتے گئے۔ دوسرے لاکھوں جیالوں کی طرح میں بھی بغلیں جھانکنے لگا۔ لوگوں کی باتیں بن کر مارے شرمندگی کے گوشہ نشینی اختیار کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ اچانک 18 ماہ بعد بینظیر بھٹو کی حکومت ختم کر دی گئی۔ تو میری ہمدردی پھر پیپلزپارٹی کے ساتھ ہو گئی کہ بینظیر بھٹو کو کام نہیں کرنے دیا گیا۔ میں ایک بار پھرجیالوں میں کھڑا ہوگیا اورنواز شریف کی حکومت پر لعن و طعن کرنے لگا۔ خدا خدا کر نواز شریف کی حکومت ختم ہو گئی تو میں نے بینظیر بھٹو کی کامیابی کے لئے ہاتھ اٹھائے اور اس وقت تک دعا سے ہاتھ پیچھے نہیں کئے جب تک بینظیر بھٹو دوسری بار ملک کی وزیراعظم نہیں بن گئی۔ اب کی بار مجھے ملک اور غریب کے حالات بدلنے کا پختہ یقین تھا مگر وہی ہوا جو نہیں ہونا چاہئے تھا۔ یوں لاکھوں حیالوں کے ساتھ انتظار کرتا رہا مگر یہ سب سراب ثابت ہوا اور بینظیر بھٹو کی حکومت پر ختم ہو گئی۔ ہم غریب سے غریب تر ہوئے جبکہ امیر مزید امیر تر ہوئے۔ اس بار میں بینظیر بھٹو کو غریبوں کے لئے کچھ بھی کرنے فرصت نہ ہوئی۔ میں مایوس ہو گیا اور پیپلزپارٹی کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ جوتے ہاتھ میں پکڑ کر بھاگنا ہی چاہتا تھا کہ غائبی آواز نے میرا راستہ روک دیا۔ ٹھہرو دیکھو نواز شریف کیا کرتا ہے جو کہ نواز پہلے ہی مرد بحران کے طور پر جانے جاتے تھے پھر ہم نے دیکھا کہ نواز شریف کے سامنے کوئی چیف جسٹس کوئی آرمی چیف کوئی صدر پاکستان نہ ٹھہرا سب استعفیٰ دینے پر مجبور ہو گئے۔ میں سمجھا کہ نواز شریف سچا لیڈر ہے جبکہ یہ تمام سربراہان ملکی ترقی کیلئے مخلص نہ تھے۔ چونکہ میرے پاس اب کوئی آپشن بھی نہیں تھا اور میں نواز شریف کو غریبوں کا خیر خواہ لیڈر بھی سمجھتا تھا اور میری خواہش تھی کہ وڈیرہ شاہی کی پرانی روایت کہ موچی کا بیٹا موچی، نائی کا بیٹا نائی، افسر کا بیٹا افسر، جاگیردار کا بیٹا جاگیردار اور ایم پی اے کا بیٹا ایم پی اے کا خاتمہ ہو جائے ۔ مگر کچھ ہی دنوں بعد صدر فاروق لغاری استعفیٰ دے کر ایوانِ صدر سے بے دخل ہو گئے۔ اس کو بھی میں نے دیگر عوام کی طرح معمول کی کارروائی سمجھا۔ موٹروے کو دیکھ کر خوب تالیاں بجائیں کہ اب ملک کی تقدیر بدلنے جا رہی ہے۔ مگر تھوڑے ہی عرصہ بعد یہ بھی امیروں کاراستہ ثابت ہوا اور معلوم ہوا کہ غریب غیر ملکی قرضوں سے اور بھی چھوٹا ہو گیا ہے اور میاں نواز شریف فوج سے لڑائی کر کے جیل گئے۔ پھرمعاہدہ کر کے خود ساختہ جلاوطنی اختیار کر لی۔ اس کے بعد بینظیر بھٹو قتل کر دی گئی ہم پر زرداری مسلط ہو گیا اور پھر نواز میاں نواز شریف۔ دکان کے تھڑے پر بیٹھ کر اپنی کہانی سناتے ہوئے تاجدین عرف تاجا آبدیدہ ہو گیا اور کہا کہ پیپلزپارٹی کیا ہے یہ مسلم لیگ کیا ہے ہر دور میں کیا ہوا۔ اب میں کہاں جائو جب تک سانس ہے تب تک آس ہے اور سامنے پی ٹی آئی ہے۔ مگر افسوس کہ اس میں وہی لوگ نظر آرہے ہیں جو کبھی پہلے کے خبرنامہ میں نظر آتے تھے۔ نیا چہرہ عمران خان کا ہے کیا یہ بھی اک تماشا ہے۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.