تعلیمی پسماندگی، محمد ریاض علیمی

ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے تعلیم کی دنیا میں تبدیلی انتہائی ضروری ہے۔ نصاب کو ارد گرماحول کے تناظر میں موجودہ تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ضرور ی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں آئے دن نصاب میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔ حالات اور ماحول کے مطابق نئے نئے علوم متعارف کرائے جاتے ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں کئی دہائیاں گزرنے کے بعد بھی اس سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ علمی تحقیق کے نام پر اسلامی نظریات کو پیچھے دھکیل کر مخصوص نظریات کو فروغ دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اپنی تہذیب اور تمدن سے مذاق کیاجارہا ہے۔ جدیدیت کے نام پر غیروں کی تہذیب کو نصاب کا حصہ بنایا جارہاہے۔ ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ جو قوم اپنی شناخت اور افکارو نظریات چھوڑ کر دوسروں کے افکار و نظریات کے سانچے میں ڈھلنا شروع ہوجاتی ہے ، وہ قوم کبھی بھی فاتح اور غالب نہیں بن سکتی ، ہمیشہ مفتوح اور مغلوب رہے گی ۔ہمارے تعلیمی نظام اور نصاب کی وجہ سے طلبہ کا تعلق مغربی ماحول سے استوار ہوتا جارہا ہے۔ ان کے افکار و نظریات میں مغربی رنگ چڑھتا جارہا ہے۔ ہمارے ہاں قوم میںقیادت کے فقدان کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے۔ تعلیمی نظام میں غیر سنجیدگی کی وجہ سے تعلیم کا مقصد نوکری حاصل کرکے غلامی کرنا رہ گیا ہے۔ نظام تعلیم کی پسماندگی کی وجہ سے تعلیم کا اخلاقی و روحانی پہلو ختم ہوگیاہے ۔ شخصیت کی تعمیر اور فکری آبیاری غیر ضروری سمجھ لی گئی ہے ۔ تعلیم کا مقصد صرف اور صرف ڈگری کا حصول رہ گیا ہے۔ ناقص تعلیمی پالیسی کی وجہ سے نہ تو اچھے انسان تیار ہورہے ہیں اور نہ ہی ملک میں ترقی ہورہی ہے۔ پرانا اور فرسودہ تعلیمی نصاب بچوں کو پڑھایا جارہا ہے جس کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکل رہا ۔ اسی وجہ سے اسناد یافتہ لوگوں کی کثرت ہے لیکن تعلیم یافتہ لوگوںکی کمی ہے۔ موجودہ تعلیمی نظام کی بے ترتیبی کی وجہ سے ان کا مقصد قابلیت اور شعور حاصل کرنے کے بجائے محض امتحان میں کامیاب ہونا رہ گیا ہے۔
گلوبلائزیشن کی وجہ سے دنیا بدل رہی ہے ۔ اس کے تقاضے تبدیل ہورہے ہیں۔ ملک و قوم کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ضروری ہے۔ لہٰذا از سرِ نو نصابِ تعلیم مرتب کر کے بہتر تعلیمی منصوبہ بندی کے ذریعے نئی نسل کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کیا جائے ۔جدید تقاضوں کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہے کہ اپنی زبان چھوڑ کر دوسروں کی زبان میں تعلیم حاصل کی جائے۔ دوسری زبان سیکھنا ایک الگ چیز ہے اور اس زبان میں تعلیم حاصل کرناایک الگ شے ہے۔ دوسری زبانیں سیکھنے میں کوئی قباحت نہیں ہے لیکن اپنی زبان چھوڑ کر دوسری زبانوں میں تعلیم حاصل کرنے کی کوشش میں کوئی فائدہ بھی نہیں ہے۔ ہمارے ہاں تعلیمی پسماندگی کی ایک بڑی وجہ قومی زبان میں تعلیم نہ دینا بھی ہے۔ اردو زبان کو چھوڑ کر زبردستی انگریزی زبان میں بچوں کو تعلیم دینے کا کوئی فائدہ نظر نہیں آرہا ۔ اس پالیسی کی وجہ سے الٹا نقصان نظر آرہاہے کہ بچے نہ تو اردو زبان میں مہارت حاصل کرپاتے ہیں اور نہ ہی انگریزی زبان پر مکمل عبور حاصل کرپاتے ہیں۔ قومی زبان میں تعلیم کا حصول تیزی سے ترقی کی ضامن ہے۔ زبان تہذیبی اقدار کی امین اور ان کے ابلاغ کاوسیلہ ہوتی ہے۔ ہمیں یہ بھول جانا چاہیے کہ انگریزی زبان کو چھوڑ کر اگر اردو میں تعلیم حاصل کرنا شروع کردی تو ہم پیچھے چلے جائیں گے، یا دنیا سے کٹ جائیں گے۔ یہ ہماری خام خیالی ہے ۔ اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مہذب اور ترقی یافتہ قوموں نے اپنی کامیابی کے سفر کا آغاز اپنی قومی زبان کو کلی طور پر رائج کرکے کیا ہے۔ ایسی کسی قوم یا ملک کی مثال نہیں مل سکتی جس نے کسی دوسرے کی زبان کی وجہ سے ترقی حاصل کی ہو۔ چین کی مثال ہمارے سامنے ہے جو کہ ایک ترقی یافتہ ملک ہے۔ اس نے بھی تعلیم کے لیے انگریزی کے بجائے اپنی قومی زبان کو لازمی قرار دیا ہے۔ خط وکتابت ، دستاویزات اور حکومتی حکام کی تقریریں سب ا ن کی اپنی قومی زبان میں ہوتا ہے۔
لہٰذا پاکستان میں بھی زبانی بیانیے کے آگے بڑھ کر عملی طور قومی زبان کو رائج کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک ایسا پلان مرتب کرنے کی ضرورت ہے جس سے بچوں میں مہارت پیدا ہو۔ وہ سند یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ تعلیم یافتہ بھی ہوں۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.