Daily Taqat

تعصب کی عینک اُتار کر دیکھا جائے !

اپوزیشن عمران خان کے خلاف برس ہا برس سے سیکھا ہو ہر منفی ہر بہ استعمال کر رہی ہے ،جمہوریت مخالف قوتوں کے جانشین یقین ہی نہیں کررہے کہ واقعی انہیں شکست ہوئی ہے ،عرصہ دراز کے بعد ووٹ کی طاقت سے پنجاب اُن کے ہاتھ سے نکل گیا ہے ،اس شکست کے زخموں پر مرہم رکھنے کا ایک ہی حل اُن کے پاس ہے کہ کسی بھی طرح عمران خان کو ایک ناتجربہ کار ،نا پختہ وزیر اعظم ثابت کیا جائے ،اس حوالے سے ہر بات پر تنقید اور ہر کام کو ادنی ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ،اس کار خیر میں ہر طبقہ فکر کے لوگ شامل ہیں جن کے مفادات پر زد پہنچی ،واویلا مچانے میں مصروف ہیں ۔ہر ایک کا اپنا غم ،اپنا دکھ ہے ،کسی کو ناجائز رزق کی بندش کا سامنا تو کسی کو احتساب کے سائے میں جیل کی سلاخیں نظر آرہی ہیں ۔اپوزیشن باہمی مفادات کے زیر اثر اپنے بچاﺅ میں جوکچھ کر نا چاہتی ہے اچھی طرح سوچ لے اس کا سامنا ایک ایسے مضبوط حکمران سے ہے جس کی پشت پر طاقتور ترین قوتیں موجود ہیں ،اس سے قبل بھی بہت سے مضبوط ترین حکمران آئے جن کے لئے ہر سمت موافق ہوائیں چلتی رہیں ،لیکن انہوں نے غیر دانش مندانہ اقدام سے از خود موافق ہواﺅں کا رُخ موڑ دیا ۔عمران خان کی حکومت سیاسی مخالفین کو جتنی کمزور نظر آرہی ہے ،وہ اس سے زیا دہ مضبوط ہے ،اگر موجودہ حکومت نے اپنی پا لیسیوں کو عوامی خدمت میں بہتر بنا دیا ، احتساب کا دائرہ بلا امتیاز اپنے ساتھیوں تک وسیع کر دیا اور عدل وانصاف قائم کرنے کی حقیقی کوشش کی تو ان کے اقتدار کے استحکام کے اسباب میں بہت اضافہ ہوسکتا ہے ۔
اس میں شک نہیں کہ کسی بھی حکومت کو جمنے میں کچھ وقت لگتا ہے ،آغاز میں چند غلطیاں بھی ہوتی ہیں ،مگر اس سے یہ کیسے تعین کر لیا جائے کہ پا نچ برس کے لئے آئی حکومت بالکل ناکا م ہو چکی ہے ،تحریک انصاف حکومت کو ناکام بنانے کا کھیل بھر پور طریقے سے کھیلا جارہا ہے ،مولانا فضل الرحمن کی جانب سے حکومت مخالف گرینڈ اپوزیشن اتحاد بنانے کے لئے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ( ن)کو ایک صفحے پر لانے کی سرتوڑ کوششیں کی جارہی ہیں ،لیکن یہ کاوشیں تاحال ناکامی کا شکار ہیں۔وزیر عظم عمران خان کی جانب سے این آراو نہ دینے کی بات نے اپوزیشن میں بے چینی پھلا دی ہے ،پیپلز پارٹی میں بے چینی زیادہ ہے ،کیونکہ اُن کے ایک سے زائد بار مفاہمتی پیغام کو حکومت اور مقتدر قوتیں رد کر چکی ہیں ،بعدازاں مایوسی کے بعد پیپلز پارٹی نے نہ صرف بطور اپوزیشن متحرک ہونے کا فیصلہ کیا ،بلکہ شریف برادران سے تلخیاں ختم کرنے پر بھی آمادہ ہے ،مگر گیم پلٹ چکی ہے ،اس وقت نواز شریف کو نہیں آصف علی زرداری کو مدد درکار ہے ۔اپوزیشن پارٹیاں اپنے مفادات کے حصول میں خود کو بچانے کی جدوجہد میں مصروف ہیں ،لیکن ملک میں بلا امتیاز احتساب کی حامی قوتیں سمجھتی ہیں کہ کرپشن میں ملوث اہم شخصیات کو چھوڑ دینے سے اس بیانیے کو سخت نقصان پہنچے گا جس کی بنیاد پر نئے پاکستان کا تصور پیش کیا گیا تھا ۔اٹھارہویں ترمیم اور دیگر اہم ایشوز کے پیش نظر اپوزیشن پر ہاتھ ہلکا رکھا جارہا تھا ،تاہم بلا امتیاز احتساب کا تاثر قائم رکھنے کے لئے طاقت کے مراکز نے اصولی فیصلہ کرلیا ہے کہ جعلی بینک اکاﺅنٹس کیس اور دیگر کرپشن سے جڑے اہم رہنماﺅں کو کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی ۔اپوزیشن کے کھانے اور دکھانے کے دانت مختلف ہیں ، بیشتر سیاسی جماعتیں احتساب کا گھیرا تنگ ہوتے دیکھ کر مفاہمتی سیاست میں سب کچھ کرنے کو تیار نظر آتی ہیں ،پس پردہ سب کچھ طے ہورہا ہے ، انتخابات میں پیلز پارٹی مفاہمتی سیاست کا حصہ تھی ،اب مسلم لیگ( ن)ملکی مفاد میں حکومت کا ساتھ دینے کو تیار نظر آرہی ہے جس کے عوض انہیں ریلیف ملنے کا امکان موجود ہے ،مسلم لیگ (ن)اٹھارہویں تریم میں تبدیلی کے حق میں ووٹ دینے کے علاوہ مرکز یا صوبے میں کسی عدم اعتماد تحریک کا حصہ نہ بننے کی بھی یقین دھانی کر چکی ہے،میاں نواز شریف ور مریم نوازکی پراسرار خاموشی اسی معاملے کی ایک کڑی ہے ۔
ملک کے سیاسی حالات پر وزیر اعظم عمران خان کی گرفت دن بدن مضبوط ہورہی ہے ،اگر وہ اندرونی اور بیرونی حالات کا درست ادراک کرتے رہے اور خود کو خواہ مخواہ مخالف سمت میں نہ لے گئے تو یہ حکومت ایک طویل مدتی حکومت ہوگی ، عمران خان نے عوام کی نبض پر ہاتھ رکھ دیا ہے اور ایک حقیقت پسندانہ معاملات کا فہم رکھنے والے ماہر سیاسی شخص کی طرح حالات کا صحیح اندازہ کرلیا ہے ،وہ ان تمام راستوں کو ہموارکرتے جارہے ہیں جن پر انہیں سفر کرنا ہے۔ملک کے اندر اپوزیشن کی حالت زار خراب ہے ،مولانا فضل الرحمن اپنے بچاﺅ میں لاکھ متحرک ہونے کے باوجود آصف علی زرداری اور نوازشریف کو حکومت کے خلاف ایک ٹیبل پر نہ بٹھا سکے ، آصف علی زرداری ایک طرف نوزشریف کی مدد لینے سے انکاری ہیں ،جبکہ دوسری طرف گلیوں میں گھسیٹنے کے دعویدار شہباز شریف کی رہنمائی میں پارلیمنٹ آتے ہیں ۔اپوزیشن انتشار کا شکار بے دلی سے اپوزیشن کر رہی ہے ،اس کے برعکس حکومت کو اداروں کی جانب سے مکمل حمایت حاصل ہے، بیرونی مالیاتی ادارے اور دوست ممالک بھی بڑھ چڑھ کر امداددینے کو تیار ہیں ،سپر پاور بھی نئی حکومت کے ساتھ محتاط انداز میں تعلقات بڑھا رہے ہیں ۔ ہم پاکستانیوں کو اپنی حیثیت واہمیت کا اندازہ ہو نہ ہو ،دنیا کے پالیسی ساز جانتے ہیں کہ اس ملک کی کیا اہمیت ہے ،وہ ہمیں ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں ،اس لئے یہ خام خیالی دل سے نکال دینی چاہئے کہ حکومت ناکام ہو چکی ہے ،تعصب کی عینک اُتار کرحقیقت کی نظر سے دیکھا جائے تو حکومت کا میابی سے چل بھی رہی ہے اور اداروں کی مشاورت سے آگے بڑھ بھی رہی ہے۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »