تحفظ بنیاد اسلام ایکٹ اور ریاست مدینہ

پنجاب اسمبلی سے منظور ہونے والے ”تحفظ بنیاد اسلام”بل پر مختلف حلقوں کی جانب سے اعتراضات اور حمایت کا سلسلہ جاری ہے۔ ان اعتراضات پر بات کرنے سے قبل یہ امر انتہائی ضروری ہے کہ اس بل کا متن اور خلاصہ کیا ہے ؟ اس کو جاننا بے حد ضروری ہییہ بل اور ایکٹ در حقیقت امن اور سلامتی کی طرف پہلا قدم اور بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہو گا۔ پنجاب اسمبلی سے منظور بل کے مطابق پیغمبر اسلام خاتم النبین صلی اللہ علیہ والہ وسلم ، اہل بیت اور صحابہ کے علاوہ انبیاء ، فرشتوں ، تمام الہامی کتب اور دین اسلام کے بارے میں متنازع اور توہین آمیز الفاظ برداشت نہ ہوں گے اور توہین مذہب سے متعلق کسی بھی قسم کی خلاف ورزی پر پانچ سال قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کے علاوہ تعزیرات پاکستان کے مروجہ دفعات کے تحت بھی کارروائی عمل میں لائی جا سکے گی۔ بل میں کہا گیا ہے کہ مختلف کتب میں مذاہب خصوصاً اسلام کے بارے میں نفرت انگیز مواد کی اشاعت روکی جائے گی۔ اس بل کے حامیوں کے بقول اسکی منظوری کے بعد توہین آمیز یا گستاخانہ مواد کا مکمل طور پر تدارک ممکن ہو سکے گا۔ مذکوہ قانون کے تحت خاتم النبین حضوراکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا نام جہاں جہاں لیا جائے اس سے قبل خاتم النبین لکھا جائے اور بعد ازاں عربی رسم الخط کے ساتھ لکھنا لازمی قرار دیا گیا۔ الغرض اسلامی تعریفی القابات کا لکھنا تمام انبیاء ، خلفاء ، صحابہ ، امہات المومنین اور مقدس شخصیات کے ساتھ لازمی قرار دیا گیا۔ قومی معاملات میں مزید آگے بڑھتے ہوئے قانون کہتا ہے کہ تمام ایسی کتابیں اور مواد بھی شائع نہیں کیا جا سکتا جو نقص امن پیدا کرے نئے قانون کے تحت صوبائی محکمہ طلاعات و نشریات اخبارات کے دفاتر ، چھاپہ خانوں اور کتب شائع کرنے والے اداروں پر چھاپے مار سکتا ہے، کتابیں اور مواد قبضے میں لے سکتا ہے ، مالی اثاثوں اور اکاونٹس پر تحقیقات کو عمل میں لا سکتا ہے۔ ا س بل کے حوالے سے اگر حکومت پنجاب کے اغراض و مقاصد کا جائزہ لیا جائے تو اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ تحفظ اسلام ایکٹ صوبائی حکومت کا تاریخی اقدام ہے جس سے مذہبی روادری اور ہم آہنگی کو فروغ ملے گا نفر ت انگیز مواد شائع نہیں ہو سکے گا۔ اسپیکر پنجاب اسمبلی چوھدری پرویز الٰہی نے امید ظاہر کی کہ قانون سازی کے بعد فرقہ وارانہ جارحیت کے واقعات کم ہوں گے اور مذہبی ہم آہنگی اور ادب و احترام کا ماحول فروغ پائے گا۔۔ اس بل کے بارے میں پنجاب کے اکثر علماء نے خوشی کا اظہار کیا۔ چئیرمین پاکستان عزاداری کونسل کے صدر پروفیسر علامہ ذوالفقار حیدر ، شیعہ مذہبی جماعتوں کو اعتراض ہے کہ بل میں اہل بیت یعنی پیغمبر اسلام خاتم النبین صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے خاندان کے افراد کے نام کے ساتھ علیہ السلام کی بجائے رضی اللہ تعالیٰ لکھنے کی منظوری دی گئی جو ان کے عقیدے سے متصادم ہے۔ علامی ذوالفقار حیدر کو کتابوں کی اشاعت سے متعلق تجاویز پر بھی اعتراض ہے۔ پاکستان میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے تحفظ بنیاد اسلام بل پر اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانون تعصب کو ہوا دے گا۔ اختلافات اور خدشات جمہوری معاشروں کا حسن ہوتے ہیں ان کی موجودگی کوئی بری چیز نہیں مگر افسوس کی بات تو یہ ہے کہ اس بل کی منضوری کے بعد مخصوص فرقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی جانب سے تحفظ بنیاد اسلام بل کے خلاف پریس کانفرنس میں کھلے عام میڈیا کے سامنے شعائر اسلام اوردین اسلام کے بنیادی عقائد اور مقدس شخصیات کے خلا ف زبان درازی کا فوری طور پر اعلیٰ سظح پر نوٹس لے کر پریس کانفرنس کے شرکاء کے خلاف توہین اسلام اور مقدس شخصیات کی توہین کا مقدمہ درج کر کے شرکاء کو گرفتار اور اسلام دشمن تنظیم پر پابندی عائد کی جائے۔ یہ پریس کانفرنس غیر اخلاقی اور غیر آئینی تھی اگر کسی مخصوص فرقے (جس کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ) کو اعتراض ہے تو وہ جمہوری طریقے سے پنجاب اسمبلی میں اس بل کے خلاف قرار داد پیش کرے اور اس بل کو ختم کروانے کی آئینی اور جمہوری جدو جہد کریں۔ یہی جمہوری قدر معاشروں کا حسن ہے۔ یہ بل درحقیقت نظریہ پاکستان کی عکاسی کرتا ہے اور موجودہ حکومت کا ریاست مدینہ کی طرف اہم قدم بھی ہے۔ بل کی منظوری پر وہ تمام افراد خراج تحسین کے مستحق ہیں جنہوں نے اس بل کی منظوری اور تیاری میں اہم کردار ادا کیا۔ رب کائنات ہم سب کا اور وطن عزیز کا حامی و ناصر ہو۔ (آمین)


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.