اہم خبرِیں
افغانستان میں تعینات جارجیا کے 28 فوجی کرونا وائرس میں مبتلا ملک میں کورونا وائرس کے 2751 نئے کیسزرپورٹ، 75 مریض جاں بحق بھارت اپنے دفاع پر بے پناہ وسائل خرچ کررہا ہے‘اکرام سہگل سندھ حکومت کی جانب سے پہلی بار باقاعدہ طور پر تھانوں کا بجٹ من... چینی اور کھانے کی دیگر اشیاء کی قیمتوں میں روز بروز اضافہ نیپال نے بھارتی پروپیگنڈا کے رد عمل میں ملک میں تمام بھارتی چی... امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاپان کو 23 ارب ڈالر کے 105 ایف ... ڈریکولا اصل میں کون تھا، حقیت یا آفسانہ؟ مولانا فضل الرحمان کی بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرداری سے ... سشانت سنگھ کے بعد اب ایک اور بھارتی اداکار کی خودکشی میڈیا کو پھانسی دینی چاہیے، نعمان اعجاز کا ڈرامہ انڈسٹری پر غص... معروف کامیڈین اور اداکارہ روبی انعم کو دل کا دورہ، اسپتال منتق... پی سی بی کا سلیم ملک اور سابق لیگ اسپنر دانش کنیریا پر عائد پا... کھلاڑیوں کوخود ہی ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کرنی ہو گی، مشتاق ... ویسٹ انڈیز کے مایہ ناز فاسٹ بولر مائیکل ہولڈنگ نسلی تعصب پر با... اعلیٰ ترک عدالت نے 'آیا صوفیہ' کی میوزیم کی حیثیت ختم کر دی 8 پولیس اہلکاروں کے قتل میں ملوث گینگسٹر انکاؤنٹر میں ہلاک چینی برانڈ 'شین' کی جائے نماز کو سجاوٹی قالین فروخت کرنے پر مع... الیکشن سے پہلے جھاڑو پھر جائے گا، شیخ رشید سینیٹر سرفراز بگٹی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

کچھ تو ہونے والا ہے (2)

گزشتہ روز 15 اکتوبر کو سعودی عرب کی کرنسی ریال اپنی قدر میں کمی کے بعد گزشتہ دو سال کے دوران اپنی نچلی ترین سطح پر آ گئی بلکہ اسی بے یقینی کی کیفیت میں سعودی حکومت کے جاری کردہ بین الاقوامی بانڈز کی قیمتوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ سعودی عرب اور خلیج کے دیگر ممالک کی مالیاتی منڈیوں میں کاروبار کے دوران پیر کے دن سعودی ریال کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلے میں مزید کم ہو کر 3.7524 ریال فی ڈالر تک گر گئی۔ یہ سعودی کرنسی کی امریکی ڈالر کے مقابلے میں اتنی کم شرح تبادلہ ہے، جو ستمبر 2016 کے بعد سے اب تک کبھی دیکھنے میں نہیں آئی تھی۔ دوسری جانب سعودی حکومت نے ایک رپورٹ جاری کی ہے کہ عالمی معیشت میں سعودی عرب کو کتنا کنٹرول حاصل ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کی منڈی 685 ارب ڈالر کی معیشت کے ساتھ گزشتہ برس سب بڑی رہی۔سعودی عرب نے خطّےمیں دیگر ممالک کی معیشت کو سہارا دینے کی کوششوں کی بھی قیادت کی ہے۔ علاقائی معیشت میں سعودی عرب کا کردار سادہ سا نہیں ، جبکہ کرنسی کی قدر کم ہونے کے بارے کہا ہے کہ سال 2016 میں سعودی عرب کی معیشت کی ن±مو میں کمی آئی جس کا اثرات پورے خطّے پر پڑے۔ ایک طرف سعودی عرب اور امریکا کے تعلقات میں گرما گرمی جاری ہے تو دوسری جانب سعودی عرب نے امریکا کے ساتھ 270 ارب ڈالر کے معاہدوں پر دستخط کر رکھے ہیں جو کہ ٹرمپ کے دورہ سعودی عرب کے دوران ہوئے تھے۔ ان میں بڑا حصّہ ہتھیاروں سے متعلق سمجھوتوں کا ہے۔ جن کی مالیت 110 ارب ڈالر کے قریب ہے۔ تعلقات میں مزید دراڑ پڑتی ہے تو یہ معاہدے بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔
دوسری طرف سعودی عرب اور ترکی کے تعلقات جمال خاشقجی کے معاملے پر بہتر ہوتے ہوئے نظر آ رہے ہیں صدر رجب طیب ایردوآن اور شاہ سلمان کی ٹیلی فونک بات چیت ہوئی ہے جس میں خاشقجی کے روپوشی کا معمّہ حل کرنے کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپ سے متعلق سعودی عرب کی تجویز کا ترک صدر نے خیر مقدم کرنے پر کا شکریہ ادا کیا۔ شاہ سلمان نے باور کروایا سعودی مملکت اپنے برادر ملک ترکی کے ساتھ تعلقات کا اتنا ہی زیادہ خواہاں ہے جتنا کہ ترکی ہے اور ان تعلقات کی مضبوطی کو ہر گز کوئی گزند نہیں پہنچائی جا سکتی۔
یہ تمام تر صورت حال آنے والی اس عالمی تبدیلی کی طرف اشارہ کر رہے ہیں جس میں دنیا کی طاقت مختلف بلاکوں میں تقیسم ہو جائے گی۔ کوئی ایک ملک سپر پاور نہیں کہلائے گا ، بلکہ یہ طاقت دو سے تین بلاکوں میں تقیسم ہونے جارہی ہے۔ جس کا ایک اشارہ یہ بھی ہے جیسے سعودی عرب امریکا کے اثرات سے آہستہ آہستہ آزاد ہو جائے گا ایسے ہی بھارت کی صورت حال ہے روس سے میزائل خریداری پر چین نے کوئی ردعمل نہیں دیا لیکن امریکا نے ردعمل دیا۔ اب چین اور بھارت کے تعلقات میں دوسری پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ بھارت اور چین نے افغان سفارت کاروں کو تربیت دینے کے لیے ایک مشترکہ تربیتی پروگرام شروع کر رہے ہیں۔ چین اور بھارت کے درمیان اپنی نوعیت کا یہ پہلا تعاون ہے۔ماضی میں افغانستان کے داخلی معاملات کی بات ہو تو بھارت اور چین مختلف نظریہ خیال کے حامی رہے ہیں۔ اس بات سے یہ واضع اشعارہ ملتا ہے چین بھارت کو اپنے بلاک میں شامل کر کے تجارتی فائدے حاصل کرنے کے ساتھ خطے میں پائیدار امن قائم کرنا چاہتا ہے جس میں تمام ممالک کا فائدہ اور یہ صورت حال عالمی سطح پر تبدیلی کے اشارے دے رہی ہے ۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.