کیا محض فرانس کی مصنوعات کا بائیکاٹ کافی ہے؟

تحریر: سہیل عباس
ابو کے پاس کمپنی کی گاڑی ہے۔ وہ ہمیشہ اس کا موبل آئل اپنے شہر آکر تبدیل کرواتے ہیں۔ ان کا فرمانا ہے کہ قیمت تو ہر شہر میں برابر ہی پڑتی ہے لیکن جو چار پیسے بچت کے اپنے قریبی دوکان دار کو دیے جا سکتے ہیں وہ پردیس میں کیوں دیےجائیں۔یوں اپنے علاقے کا کاروبار کو زیادہ فروغ ملتا ہے اور آپ کا پڑوسی ترقی کرتا ہے تو آپ کا علاقہ ترقی کرتا ہے۔
اس کے بعد ہم نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ اپنے شہر میں کاشت کردہ سبزی کم قیمت پر اور تازہ ملتی ہے جبکہ دور دراز سے آنے والی سبزی نہ صرف دوردرازی کی مسافت کے دوران باسی ہوتی ہے بلکہ نقل و حمل کے اخراجات کی وجہ سے مہنگی بھی پڑتی ہیں۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی توہین کے باعث ہم نے فرانس کی مصنوعات کا بائیکاٹ تو کیا۔ لیکن اس امر پر بھی توجہ کی ضرورت ہے کہ کیا کسی بھی ملک کی درآمد شدہ مصنوعات خریدنا ضروری ہی کیوں ہے۔ اکثر اوقات آپ کو نظر آئے گا کہ وہی مصنوعات بیرون ملک کمپنیوں کے لائسنس پر مقامی سطح پر تیار ہو جاتی ہیں لیکن رائلٹی بیرون ملک بھیجی جاتی ہے۔ اگر انہی مصنوعات کو مقامی برانڈ کے طور پر بنایا جائے تو بلا شبہ کثیر زر مبادلہ بچا کر ملکی صنعت اور معیشت کو استحکام دیا جا سکتا ہے۔
ہمیں اپنی معمول کی زندگی میں اس اصول کو اپنانے کی ضرورت ہے کہ ہم مقامی مصنوعات کے استعمال کو فروغ دیں۔ درآمد شدہ مصنوعات کا استعمال ہر ممکن حد تک ترک کریں۔ سادہ زندگی گذاریں تاکہ اخراجات میں کمی کر کے وسائل بڑھا سکیں ورنہ ہم وسائل بڑھانے کے لیے زیادہ دن رات کام کر کے پیسہ کمانے میں لگے رہیں گے۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ اخراجات میں میانہ روی آدھی معیشت ہے۔ اس حدیث کو عملی جامہ پہنا کر ہم اپنی اور اپنے ملک و قوم کی معیشت کو سنوار سکتے ہیں۔ اللہ نے ہر علاقہ میں اس کی آب و ہوا کی مناسبت سے نہ صرف پھل اور سبزیاں بلکہ دیگر اشیائے ضرورت بھی پیدا کی ہیں۔ گرم علاقوں میں دودھ نسبتاًجلدی پھٹ جاتا ہے لہٰذا لسی بنانا مجبوری بھی ہے اور گرمی کا علاج بھی۔ سرد علاقوں میں زیادہ اون والے جانور باآسانی پلتے ہیں اور اس علاقے کے انسان سستا اونی لباس تیار کر سکتے ہیں جبکہ کپاس کے پیداواری علاقوں میں نسبتاً زیادہ گرمی کی وجہ سے سوتی لباس کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ اللہ کی تقسیم ہے اور ہمیں اس کی رضا کو پہلے تسلیم کرنا چاہیے اور اپنی پسندیدگی کو بعد میں اہمیت دینی چاہیے۔
کوشش کیجیے کہ اپنے دوستوں کو تیس روپے کی 250 ملی لیٹرغیر ملکی کولڈ ڈرنک کی بجائے پچیس روپے کا 250 ملی لیٹر خالص دودھ پلایا جائے۔ برانڈڈ چیز کے پیزا کی بجائے اپنے ملک کے کھانے کھائیں۔ ہمارے ملک سے معاہدے کر کے غیر ملکی برانڈ کمپنیاں ملبوسات تیار کروا کر دوسرے ممالک میں فروخت کرتی ہیں اور ہمارے ملک میں دوسرے ممالک سے وہی برانڈ امپورٹ کر کے بیچا جاتا ہے۔ جبکہ ہمارے ہی ملک میں بننے والے اس برانڈ کی فروخت ہماری سرزمین پر غیر قانونی قرار دی جاتی ہے۔امپورٹڈ اشیا ئ کا استعمال فخر نہیں بلکہ تکبر کے لیے کیا جانے لگا ہے۔ کپڑے بدن کوڈھانپنے کی بجائے دولت کی دھونس کے لیے پہنے جاتے ہیں۔ یوں ہم کردار کے حسن کی بجائے دستار کے ح±سن تک محدود رہ گئے ہیں۔ ہن سب لوگ اندر ہی اندر ان باتوں کے خلاف خلش تو پالتے ہیں لیکن اپنی حد تک اس پر عمل یہ سوچ کر نہیں کرتے کہ اکیلے میرے ٹھیک ہو جانے سے کیا فرق پڑتا ہے۔
آخر میں ایک ذاتی تجربہ آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔ میرے مطالعہ میں حدیث کی یہ تعلیم آئی کہ جو چیز مہنگی ہو رہی ہو اس کا استعمال ترک کر دو وہ سستی ہو جائے گی۔ میں نے مختلف پھلوں، سبزیوں اور دیگر اشیاءپر تجربہ کیا۔ بات سوفیصد درست ثابت ہوئی۔ جب احباب سے ذکر کیا تو اکثر کا یہ گمان تھا کہ صرف میرے ترک کرنے سے کیا ہو گا لیکن میں نے عرض کی کہ اگر سب کے مل کر ترک کرنا ضروری ہوتا تو اس کا حکم حدیث میں بھی ہوتا۔ لیکن حدیث صرف میرے اوپر انفرادی ذمہ داری ڈالتی ہے لہٰذا میں خود کو اکیلا ذمہ دار سمجھ کر عمل کرتا رہا ہوں اور اس کا صلہ پاتا رہا ہوں۔ آپ بھی کوشش کیجیے یقیناً کامیابی ہو گی۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.