Latest news

ڈائیلاگ وقت کی اہم ضرورت

مولانا فضل الرحمن نے اپنے دھرنے کا اعلان کیا کیا میڈیا اور پاکستانی سیاست میں عجیب سی ہلچل مچ گئی۔ تحریک انصاف جو اپنے قائد عمران خان کے کامیاب دورہ امریکہ پر شادیانے بجا رہے تھے یکایک وہ سب عمران خان کی حمایت اور مولانا فضل الرحمن کے دھرنے کے پسِ پردہ مقاصد کو طشت از بام کرنے میں لگ گئے۔

اس دھرنے کا پہلا راﺅنڈ تو مولانا صاحب نے جیت لیا کیونکہ ان کے دھرنے کا چرچا کرنے میں تحریک انصاف کی نا آموز قیادت پیش پیش تھی اور جس مقبولیت کی مولانا صاحب کو ضرورت تھی وہ تحریک انصاف کے لیڈران کے بے تکے بیانات اور گیڈر بھبکیاں نے پوری کر دی۔ اس میں کوئی شک نہیں باقی رہ گیا کہ عمران خان کی گرفت اپنی پارٹی پر مضبوط نہیں ہے اور اس کی نا تجربہ کار قیادت ہمہ وقت پیالی میں طوفان بپا کرنے کی ٹاک میں لگے رہتے ہیں۔ قبل اس سے مولانا صاحب کا دھرنا کامیاب رہتا ہے یا نہیں یا ہوتا بھی ہے یانہیں عمران خان کے لشکر نے میڈیا پر ایک یلغار کر دی۔ کوئی کہتا ہے کہ مولانا صاحب اسلام نہیں بلکہ اسلام آباد کے مشتاق ہیں کوئی کہہ رہا ہے کہ مولانا صاحب کو ہم ایسا بٹھائیں گے کہ وہ اٹھ نہیں سکیں گے کوئی کہتا ہے کہ ہم مولانا صاحب کو KPK سے گزرنے ہی نہیں دےں گے۔ غرضیکہ جتنے منہ اتنی باتیں۔ لہٰذا یکا یک پورے ملک میں چہ مگوئیاں شروع ہونے لگ گئیں ہیں کہ آیا یہ حکومت اپنے پانچ سال پورے کر سکے گی یا نہیں۔ مولانا صاحب نے واشگاف الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ وہ نئے انتخابات چاہتے ہیں اور یہ یہ کرپٹ اور سلیکٹڈ حکومت تنکے کی طرح بہہ جائے گی۔ دیگر دونوں پارٹیاں بھی اس گنگا میں ہاتھ دھونا چاہتی ہے۔ مگر ماضی کے تجربے سے خوفزدہ بھی ہیں کیونکہ مولانا صاحب کے والد صاحب نے بھی 1977ءکے انتخابات کو ڈھونگ قرار دے کر اور دھاندلی زدہ کہہ کر دیگر سیاسی جماعتوں کو اپنے ساتھ چلا کر ایک تحریک چلائی جو بعد ازاں نظامِ مصطفی اور نظامِ شریعت کے نفاذ میں بدل گئی اور جو بعد ازاں بھٹو صاحب کی حکومت کے خاتمے اور ان کی پھانسی پر ختم ہوئی۔ دونوں پارٹیاں یعنی پیپلز پارٹی اور نواز لیگ محتاط بیان بازی کر رہی ہیں اور میڈیا میں چرچا کیا جا رہا ہے کہ مولانا صاحب کو وہ اسلام کا کارڈ استعمال کرنے نہیں دیں گے۔ البتہ اس کی اخلاقی حمایت یا سیاسی حمایت جاری رکھیں گے۔ نواز لیگ کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ شہبار شریف تذبذب کا شکار ہیں اوروہ موجودہ اسٹبلشمنٹ کو ناراض نہیں کرنا چاہتے اور اپنے بڑے بھائی نواز شریف سے مختلف بیانیہ بول رہے ہیں۔ پہلا سوال تو یہ بنتا ہے کہ آیا حکومت کو اس طرح چلتا کرنا ایک آئینی اور قانونی طریقہ ہے؟ جواب بالکل درست ہے کہ اس طرح حکومت بدلنا قطعاً آئینی طریقہ نہیں ہے اگر حکومت کو بدلنا ہے تو تبدیلی پارلیمنٹ سے ہی لانا ہو گی۔ وہ عمران خان کے دھرنے کی مثال دیتے ہیں جبکہ عمران خان الیکشن میں دھاندلی کے خلاف چند حلقے کھلوانا چاہتے تھے اور دیگر وہ حکومت کو تہہ و بالا یا تبدیل کرنے کے لئے دھرنا نہیں دے رہے تھے۔ لہٰذا دونوں پارٹیاں اس دھرنے میں سیاسی مفاد حاصل کرنا چاہتی ہیں تا کہ ان کی سینئر قیادت جو جیلوں میں پابند سلاسل ہے ان کے لئے کوئی راہ نکل آئے۔ لیکن یہ بہت پر خطر راہ ہے کیونکہ اگر اس دھرنے میں خون خرابہ یا کوئی فساد پھوٹ پڑے تو دوبارہ اس ملک میں مارشل لاءلگنے کے امکانات ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ موجودہ آرمی چیف اس دھرنے کی حمایت نہیں کر رہے اور نہ ہی کر یں گے۔ کیونکہ موجودہ حالات اس قسم کی مہم جوئی کے لئے قطعاً ساز گار نہیں ہے۔ ملکی معیشت اور سیاسی عدم استحکام اور مسئلہ کشمیر کی وجہ سے ہندوستان سے تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں جو اس خطے میں کسی بھی وقت بڑے تصادم میں بدل سکتے ہیں۔ دیکھنا یہ بھی ہے کہ موجودہ حکومت مولانا صاحب کو دھرنا دینے کی اجازت اسلام آباد میں دے سکتی ہے یا نہیں یا ان کو روانہ ہونے سے پہلے ہی گرفتار کر لیا جائے گا۔ ادھر مولانا صاحب بڑے جوش میں ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر ان کو یا پارٹی کی سینئر قیادت کو گرفتار کیا گیا تو وہ زیادہ خطرناک ہوں گے اور بقول ان کے دو تین پلان ان کے زیرِ غور ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کا یہ اعلانِ جنگ بظاہر ان کی گزشتہ انتخابات میں شکست کا شاخسانہ ہے۔ کیونکہ بہت عرصے بعد ان کو اقتدار سے محروم کیا گیا ہے۔

مولانا صاحب پرویز مشرف کی حکومت میں بھی MNAبن کر مزے اڑاتے رہے اور پھر زرداری اور پھر نواز شریف کی حکومت میں کشمیر کمیٹی کے چیئرمین بن کر بھی اقتدار کے مزے لیتے رہے۔ اگرچہ نیب نے مولانا صاحب کو کوئی دعوت نامہ نہیں بھیجا لیکن ان کی دیگر جماعتوں کے سربراہوں کی نظر بندی اور قید و بند کی کیفیت نے مولانا صاحب کو اس اعلانِ جنگ پر مجبور کرنا پڑا۔ نواز شریف چونکہ ایک مجرم کی حیثیت سے جیل کاٹ رہے ہیں اور ویڈیو اسکینڈل کے بعد اپنی سزا کو معطل یا ختم کروانا چاہتے ہیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ مولانا صاحب کی اس ملک میں 2یا 3 سے زیادہ اکثریت نہیں ہے کیونکہ ان سے زیادہ ووٹ تحریک انصاف، پیپلزپارٹی اورنواز لیگ نے لے رکھے ہیں۔ لہٰذا ایسی جماعت جس کو اس الیکشن میں ووٹرز نے ووٹ نہ دئیے ہوں وہ کس طرح یہ ساری بساط الٹ سکتی ہے۔ قیامِ پاکستان سے لے کرآ ج تک ہمارے ملک میں کسی مذہبی جماعت کو عوام نے اقتدار نہیں دیا بلکہ وہ مختلف حلقوں سے الیکشن جیت کر مخلوط حکومتیں بناتے رہے اگر تاریخ یہ بتاتی ہے کہ تو پھر مولانا صاحب کے پاس کیا اخلاقی جواز ہے کہ وہ ایک ایسی حکومت کو جو عوام کی حمایت سے برسراقتدار آئی ہو اس کو ایک دھرنے کی صورت میں چلتا کر دیں۔ قطع نظر اس سے کہ مولانا صاحب کیا کریں گے اور حکومت ان سے کس طرح ڈیل کرتی ہے یہ بات بھی درست ہے کہ عمران خان صاحب نے اپوزیشن کو مکمل دیوار سے لگا دیا ہے ایک تو انہوں نے پارلیمنٹ کو اتنا وقت نہیں دیا جتنا کہ انہیں دینا چاہئے تھا دیگر وہ جماعتیں جو اقتدار سے باہر ہیں ان سے مذاکرات یا ڈائیلاگ کرنے کی انہوں نے کوشش نہیں کی۔ حالانکہ وہ خود ایک سیاسی رہنما ہیں اور بائیس سالہ جدوجہد کے نتیجے میں برسراقتدار آئے ہیں۔ نیب یقینا ایک بہت زیادہ فعال ادارہ ہیں او رماضی کے دس سالوں میں میثاقِ جمہوریت کرنے والی جماعتوں کی مشاورت سے اس کے چیئرمین کو منتخب کیا گیا تھا مگر جس طرح آج کل وہ دھڑا دھڑاپوزیشن کے رہنماﺅں کو کرپشن کے کیسز میں گرفتار کر رہے ہیں اس طرح گزشتہ دس سالوں میں نیب حرکت میں نہیں آیا تھا۔

لیکن عمران خان اوران کے وزیروں اور مشیروں نے ببانگ دہل اور ڈنکے کی چوٹ پر ہمیشہ دعویٰ کیا کہ وہ ڈیل نہیں کریں گے اوراپوزیشن کے لوگوں کوجیلوں میں قید رکھیں گے۔ جس سے عوامی بیانیہ بن گیا کہ سزا اور پیسے تو کسی سے نہیں وصول کئے گئے البتہ ملک میں معاشی سرگرمیاں مکمل جمود کا شکار ہو گئیں ہیں۔ اور لوگوں کے اربوں روپے سٹاک مارکیٹ میں ڈوب گئے اور دیگر کوئی کاروباری یا بزنس سرگرمی ملک میں نہیں چل رہی اورمہنگائی نے لوگوں کا جینا مشکل کر دیا ہے۔ جب آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کی بنا پر ملک میں آٹا سے لے کر بجلی ، گیس مہنگی کر دی جائے اور ڈالر 156تک پہنچ جائے تو یقینا عوام غصے سے بپھر جائیں گے۔ان حالات میں عقلمندی کا تقاضا تو یہی تھا کہ عمران خان اپنے مخالفین سے ڈائیلاگ کرنے اور ملک کو جس معاشی بحران سے جکڑا ہوا ہے اس سے نجات دلاتے۔ لیکن انہوں نے اس طرح کی کوئی کوشش نہیں اوراب نوبت یہ آ گئی ہے کہ آرمی چیف نے تاجروں اور بزنس مینوں کا اجلاس بلا لیا ہے اور حکومت کے معاملات کو بہتر کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ اور ہمارا بدترین دشمن ہندوستان پاکستان کو دیوالیہ دیکھنے میں بے چین ہے اور ہماری سرحدوں کو پار کرنے کی تاک میں ہے۔ ان حالات میں مَیں سمجھتا ہوں کہ عمران خان صاحب ایک مدبر سیاستدان کی مانند اپوزیشن سے ڈائیلاگ کریں۔ کیونکہ اگر دھرنے کی صورت میں ملک میں انتشار اور بدامنی بڑھ گئی تو معاشی اور سیاسی بحران اور زیادہ سنگین ہو جائے گا۔ ملک کی دو بڑی پارٹیاں یعنی پیپلزپارٹی اورنواز لیگ کو بھی اس دھرنے سے مکمل علیحدہ کرنا ہو گا۔ کیونکہ اگر آج اس کی اخلاقی اور سیاسی حمایت کریں گے تو پھر یہ دروازہ ہمیشہ کے لئے کھل جائے گا اور کوئی حکومت مستقل بنیادوں پر پانچ سال پورے نہیں کر پائے گی۔ یاد رکھیے کہ نواز لیگ نے اپنے پانچ سال پورے کئے اور آخر منٹ تک وہ اس اقتدار کے مزے لیتے رہے۔

لہٰذا یہ ملک مزید کسی محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ یہاں پانی، آبادی، آب و ہوا غربت افلاس اور صحت عامہ کے مسائل پہلے ہی گمبھیر ہیں اور اگر اپوزیشن جماعتوں نے اقتدار کے لالچ میں مولانا صاحب کے دھرنے میں شرکت کی یا حمایت کی تو پھر یہ ملک تباہی کے دھانے پر پہنچ جائے گا۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.