Latest news

شرم و حیا سے فحا شی و عریانی تک

آج کل شرم و حیاختم ہوتی جا رہی ہے۔اور بے حیائی، فحاشی وعریانی پھیلتی جا رہی ہے۔

جس کی وجہ سے ہمارے معاشرے کے ماحول اور ہماری آنے والی نسلوں کو بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑے گا۔
فحاشی اور بے حیائی کی سب سے بڑی وجہ پسند اور ناپسند ہے۔

 ہر کوئی اپنی پسند اور نا پسند کا معیار رکھتا ہے۔ اس کے مطابق ہی چلتے ہیں۔ہمارے معاشرے کے اندر شرم و حیا کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اس میں سب سے پہلا واقعہ، حضرت آدم علیہ السلام اور اماں حواءکا ”دیکھا جائے تو یہ دونوں جنتی لباس کے ساتھ رہتے تھے مگر جب ان سے غلطی ہوئی تو ان کے ستر ان پر کھل گیا اور وہ پتوں سے اپنے ستر چھپانے لگے۔

 اسی وقت حیا وہ پہلا عمل تھا جو انسانی جبلت/ اپنی انسانی زندگی میں شامل ہوا“۔
اس کے بعد انسانی معاشرے کو دریافت کیا گیا اور ان تک تہذیب کی روشنی پہنچائی گی۔ان میں سے کچھ معاشرے ایسے تھے جہاں صرف بنیادی جبلتیں یعنی کھانا، سونا اور جنس اہم تھی۔
وہاں بھی مکمل عریانی کہیں موجود نہ تھی۔بلکہ وہاں بھی ستر اور حیا کا ایک معیار ضرور موجود تھا۔ خواہ وہ کتنا ہی کم کیوں نہ ہو۔
یہیں سے انسانی تہذیب کا ارتقا شروع ہوا اور ہم نے سیکھا کہ سچ کیا ہے؟ جھوٹ کیا ہے؟ ایمانداری دھوکہ فریب کسے کہتے ہیں؟ عہد کی پاسداری اور بدعہدی کیا ہوتی ہے؟ ان سب اقتدار سے بھر کر ہمیں بتایا گیا کہ ایک خاندانی نظام کیا ہے؟ اور اس نظام کی بنیادیں بھی مذہب سے استوار کی۔ماں کا تقدس کیا ہے؟بہن اور بھائی کے رشتے کی کیا اہمیت، میاں بیوی کی ذمہ داریاں کیا ہیں؟
ان سب کی ذمہ داریوں کو نبھانے کے لیے ان میں جذبہ محبت اور مادری و بدری جذبات کو جبلت کا حصہ بنا دیا گیا۔ اور انسان کو ان تمام رشتوں کی تعظیم اور احترام سکھانے کے ساتھ ساتھ ہر مذہب نے ایک جذبے کو تہذیب کا حصہ بنایا۔اور وہ تھا شرم، حیا،حجاب اور پاکیزگی۔
اسلام میں شرم و حیا کی کتنی اہمیت ہے حضرت محمد کی ایک حدیث سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا بے کہ ”بے شک حیا اور ایمانداری دونوں ایک ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔جب ان میں سے کوئی ایک بھی نکل جاتا ہے تو دوسرا بھی نکل جاتا ہے“۔
مگر ابھی اسلام اس قدر پھیل چکا ہے کہ ہر انسان کو اچھے اور برے کا علم ہے لیکن اس کے باوجود بھی انسان برائی یعنی فحاشی وعریانی کی طرف جا رہا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جب انسان نے شرم و حیا اور ستر کو توڑا ہے اورفحاشی اور عریانیت کا راستہ اختیار کیا ہے تو تب سے زوال اس کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔
ہندوستان کی تہذیبوں کی بات کریں تو ان کی تہہ تک جائیں تو ہمیں عریانی و فحاشی کی حیران کن لہر نظر آئے گی۔جوان تہذیبوں میں سے سرائےت کرگئی اور پھر وہ کبھی دوبارہ عروج کو نہ آ سکے۔
حیا و شرم کے مقابل فحاشی و عریانی ہوتی ہے۔ حیا اور شرم ایک ایسی معاشرتی صفت ہے جس کے ساتھ حساسیت وابستہ ہوئی ہے۔

دنیا کے کسی بھی معاشرے میں فحا شی و عریانی ایک دم سے نہیں پھیلتی۔
جسے کسی بھی بری چیز کی لت ایک دم نہیں لگ جاتی اسی طرح انسان فحاشی اور عریانی کا شکار بھی ایک دم سے نہیں ہوتا۔

لوگوں کو آہستہ آہستہ فحاشی کی جانب مائل کیا جاتا ہے۔
فحاشی و عریا نی بھی دو طرح کے خوف کی وجہ سے انسان اختیار نہیں کرتا۔ ایک معاشرتی تہذیب اور اخلاقی خوف کے ایسا کرنے سے وہ ذلیل و رسوا ہو جائے گا۔
اور دوسرا مذہب کا بنایا ہوا آخرت کا خوف یہ دونوں خوف انسان کو فحاشی و عریانی سے دور رکھتے ہیں۔مگر ابھی فحاشی اور عریانی کو پھیلانے میں سب سے زیادہ ہاتھ میڈیا کا ہے۔
ٹی وی پر ایسے ایسے ڈرامے دکھائے جاتے ہیں اور ایسی ایسی فلمیں بنائی جاتی ہیں جن میں فحاشی کے عنصر کو سرعام دکھایا جاتا ہے۔
انڈین اور ہالی وڈ کی فلمیں تو آپ فیملی کے ساتھ بیٹھ کر دیکھی نہیں سکتے۔ایسی فلمیں اور ڈرامے دیکھ دیکھ کر ہی ہماری نوجوان نظر اس طرف مائل ہوتی جا رہی ہے۔
جو کہ صرف اور صرف تباہی کا باعث ہے اور کچھ بھی نہیں۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ کوئی بھی اس کو ختم کروانے کی کوشش نہیں کر رہا۔ حکومت کو چاہیے کہ ان کے خلاف سخت سے سخت ایکشن لے۔ اور اگر کوئی ایسا کام کرتا ہے تو اس کو بھی سخت سے سخت سزا دی جائے۔
معاشرے میں حیا وشرم کو فروغ دینے اور فحاشی کو ختم کرنے کے لئے اسلام نے قوانین بتائے ہیں اگر ہم ان پر عمل پیرا کریں گے تو ہم فحاشی وعریانی سے دور ہو سکتے ہیں۔

یعنی عورت بالغ ہونے کے بعد پردے کا استعمال کریں۔ اور اپنے جسم کے تمام اعضاءکو تمام غیر محرم مردوں سے چھپائے رکھے۔یہاں تک کہ اگر کسی غیر محرم مرد سے بات کرنے کا موقع ملے تو نرم لہجے میں بات نہ کرے۔ سخت لہجے میں بات کریں تاکہ اس کے اندر کسی بھی قسم کا کوئی برا خیال پیدا نہ ہو۔
ارشاد ربانی ہے”کہہ دیجئے مومنین سے کہ وہ اپنی نظریں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں“
اگر ہم اسلام کے مطابق چلیں گے تو ہی ہماری بھلائی اور بہتری ہے۔

اس لئے میری گزارش ہے حکومت سے کہ خدا کے لئے اس طرف بھی توجہ کریں۔ اور معاشرے کو اس بری لت سے نکالنے کی کوشش کریں۔ اس سے صرف ایک خاندان یا ایک شہر کا نقصان نہیں اس سے پورے ملک کا نقصان ہے۔پوری انسانیت کو نقصان ہو سکتا ہے۔
ہماری آنے والی نسلوں کے لیے تباہی ہے۔ اس لئے میڈیاکو دنیا اور آخرت کی بقاءکے لئے آئین و قانون کے دائرہ کار میںرہ کر کام کرنے کا پابند بنانا ہو گا اور انسانیت کو اس سے بچانا ہو گا ۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.