اہم خبرِیں

شہباز شریف کا یوٹرن

ہمارے سیاستدان بھی بعض اوقات بچگانہ حرکتیں کرتے ہیں لگتا ہی نہیں کہ دو دہائیوں سے زائد سیاسی سفر میں انہوںنے کچھ سیکھا ہو بس ایک ہنر آتا ہے کہ بیان داغ دیں۔ بغیر سوچے سمجھے کہ اس سے ان کی پارٹی کو کوئی فائدہ ہوتا ہے یا نہیں۔ جناب شہباز شریف صاحب کا انٹرویو دیکھنے کا موقع ملا اور انہوں نے چینل پر بیٹھ کر جلسہ گاہ کا ماحول بنانے کی کوشش کی اور میز پر مکہ لہراتے ہوئے کہا کہ میں کہیں بھاگ کر نہیں جائوں گا اسی ملک میں جیوں گا اور اسی ملک میں مروں گا اور آخر میں ملک میں مسائل کے حل کے لئے الیکشن کا مطالبہ کر دیا۔ سب سے پہلے تو میں جناب خاقان عباسی صاحب اور ان کے مصاحبین جو اکثر ٹیلی ویژن پر آ کر اپنی جماعت کی ساکھ کو برقرار رکھنے کے لئے سیاسی بیان بازی فرماتے ہیں کہا تھا کہ الیکشن کا فی الحال کوئی فائدہ نہیں ہے یعنی جب تک الیکشن سے متعلق اصلاحات اور دھاندلی روکنے کے لئے کوئی میکنیزم نہیں بن جاتا۔ ہمارے ملک میں الیکشن سود مند نہیں ہیں اور یکا یک جناب شہباز شریف صاحب نے الیکشن کا مطالبہ کر دیا۔ ہمارے ملک کے بھولے عوام 73 سال سے اسی طرح کے شعبدہ باز سیاستدانوں کی کرتوتوں کا نتیجہ بھگتے آ رہے ہیں اور ان کو سمجھ نہیں آتا کہ ملک بھڑکوں سے نہیں بلکہ اعتدال پسندی کی سیاست سے چلتے ہیں۔ شہباز شریف کے وہ الفاظ ہماری سیاسی تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ میں زرداری کو لاڑکانہ کی گلیوں میں نہ گھسیٹا تو میرا نام شہباز نہیں اور پھر اس عوام نے دیکھا کہ الیکشن گزر گیا ان کی حکومت آ گئی نہ تو کسی نے زرداری کا گریبان پکڑا اور گھسیٹنے کی تو بات بہت دور کی تھی۔ لہٰذا سب سے پہلے تو نواز لیگ کو اپنی پارٹی میں ایک متفقہ سوچ پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ آیا ایسے ماحول میں اور موجودہ الیکشن کمیشن کے تحت الیکشن شفاف غیر جانبدار اور غیر متنازعہ ہو سکتے ہیں۔ جس الیکشن کے تحت یہ پارٹیاں دھاندلی کی شکایتیں کرتے ہیں اور دوبارہ الیکشن کا مطالبہ کر رہی ہیں گویا کہ اس نعرے یا بیان میں کوئی نہ تو منطق ہے اورنہ ہی سوچ ہے۔ بلکہ ہوا میں تیر چھوڑا گیا اور اس بیان کو لے کر ان کی جماعت کے لیڈران یہ تاثر دے رہے ہیں کہ شہباز شریف کے بیان سے حکومت سے چیخیں نکل گئیں۔ ادھر حکومتی ارکان تو یہ کہتے دکھائی دے رہے ہیں کہ میاں صاحب اب شائد ملک سے باہر نہ جا سکیں بلکہ وہ لاک اپ میں رہیں گے۔ میاں شہباز شریف اپنی پارٹی میں شریف خاندان کی طرف سے ہمیشہ درپردہ کوئی ڈیل کے متلاشی نظر آتے ہیں۔ وہ فوج کے حق میں بیانات کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں اور جب بھی ہماری فوج کے جوان یا افسر شہید ہوتے ہیںتو وہ خصوصی طور پر ٹویٹ کے ذریعے ان قربانیوں کا اعتراف بھی کرتے ہیں۔ وہ نواز شریف کی سیاست کے برعکس اسٹیبلشمنٹ سے اچھے تعلقات رکھنے کا تاثر دیتے ہیں۔ ایسے بیانات سے وہ اپنی پارٹی کے ارکان میں ایک اعتماد اور خوش فہمی کو اجاگر کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر نواز شریف اپنی بیٹی کی سیاست سے ہٹ کر شہباز شریف کے مشوروں پر عمل کرتے رہتے تو شائد وہ آج یہ دن نہ دیکھ رہے ہوتے۔ شہباز شریف کے بارے میں اکثر کہا جاتا ہے کہ وہ ڈیل کے ماسٹر ہیں یا لین دین اچھا کر لیتے ہیں۔ مگر یہ بات روزِ روشن کے طرح عیاں ہیں کہ وہ اپنے تمام کارڈز دیکھا دینے کے عادی نہیں بس کسی طرح انہیں اقتدار کی منزل مل جائے۔ جو لوگ مشرف کے دور میں ان کی جلاوطنی دیکھ چکے وہ اندازہ لگا رہے تھے کہ میاں برادران کی سیاست مکمل طور پر دفن ہو گئی ہے۔ مگر پھر ان کی وطن واپسی ہوئی اور بینظیر کے صدقے ان کو بھی واپس آنے کا موقع مل گیا۔ لہٰذا حال ہی میں ان کا بیان کہ دو صحافیوں نے ان سے بات چیت میں ملک کا آئندہ وزیراعظم بننے کی پیشکش کی مگر نہ جانے پھر کیا ہوا کہ بات نہ بن سکی۔ اس بیان سے انہوں نے ایک یہ تایر دیا کہ پاکستان میں وزیراعظم ہمیشہ ڈیل کے ذریعے بنتا ہے اوردیگر موجودہ حکومت پر اسٹبلشمنٹ کا عدم اعتماد یعنی ایک تیر سے دو نشانے لگانا مقصود تھا اور ان کی اچانک پاکستان واپسی شاید اسی غلط فہمی کا نتیجہ تھی۔ جس کی وجہ سے وہ غالباً پچھتا رہے ہیں اور مایوسی کے عالم میں ٹیلی ویژن کے ایک پروگرام میں الیکشن کا مطالبہ کر بیٹھے۔ بھئی اگر الیکشن ہی ہونے ہیں تو جو دھاندلی کا رونا آپ اوراپوزیشن جماعتیں مل کر کر رہی ہیں وہ کیا ہے۔ گویا آپ الیکشن اصلاحات کے لئے کوئی مطالبہ نہیں کر رہے نہ کوئی ڈائیلاگ بنا کر الیکشن کو شفاف بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ تو ہمارے سیاستدانوں کی روایت رہی ہے کہ وہ اہم قومی ایشوز جس سے ملک میں استحکام اور ترقی ہو سکے وہ قطعاً ان پر مذاکرات نہیں کرنا چاہتے۔ لہٰذا میں تو یہ کہوں گا کہ عید کے بعد جو پیشگوئی کی جا رہی ہے کہ نیب کے مقدمات میں وہ بری طرح پھنس چکے ہیں اور وہ سیدھے جیل جا رہے ہیں شاید یہ انٹرویو اس کا ردِعمل ہو۔ بعض سیاسی پنڈت اس بات کا اشارہ دے رہے ہیں کہ عمران خان اپنے موقف میں لچک پیدا نہیں کر رہے اور کئی ایک فیصلوں میں وہ شائد امپائر کے خلاف جا رہے ہیں اور یہ کہ حکومت کی معاشی پالیسیاں اور ٹیکس اصلاحات اور بزنس برادری میں کوئی استحکام اور اعتماد نہیں لا سکے۔ لیکن اس کو میں مکمل رد کرتا ہوں کیونکہ پاکستان کے معروضی حالات مشکل معاشی صورتحال اور کرونا وائرس کی وبا فی الحال سیاسی منظر نامے میں کوئی تبدیلی نہیں دیکھ رہے۔ شبلی فراز کا یہ بیان کہ میاں برادران اوران کی فیملی نیب کے سوالوں کے جواب دینے کی بجائے الیکشن کا مطالبہ کر رہے جو بے وقت کی راگنی ہے۔ نواز شریف کی مکمل خاموشی کا پسِ منظر ان کی پاکستان کی عدلیہ سے تاریخی ضمانت ہے جس کی غالباً کوئی مثال نہیں ملتی اور مریم کے ٹویٹ اور بیانات میں کمی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ فیملی اچھے وقت کا انظار کر رہی ہے اور پھر کسی معجزے کی منتظر ہے۔ عوام کو صرف باتوں سے خوش رکھ کر بہلایا جا رہا ہے اوران کے اراکین میڈیا کو موثر طریقے سے استعمال کر رہے ہیں اور تو اور ان کی ترجمان بہت دبنگ ہیں۔ غالباً وہ اس کہاوت کے مصداق بادشاہ سے زیادہ وفادار ہمیشہ میڈیا میں میاں فیملی کے خلاف کوئی بیان آئے تو فوراً تردید کر دیتی ہیں۔ میں مریم اورنگزیب کو فل ماکس دیتا ہوں کہ انہوں نے حق نمک ادا کر دیا۔ جس دلیری اور بہادری سے وہ عمران خان اور ان کی پارٹی کو آڑے ہاتھوں لیتی ہیں تو وہ جھوٹ بھی سچ معلوم ہوتا ہے۔ اس کی میڈیا ٹیم میاں نواز شریف کی فیملی کی تمام کرپشن کے الزامات کو سیاسی قرار دینے میں کافی حد تک کامیاب رہے ہیں۔ جس کی بنیادی وجہ عمران خان کی ٹیم کی ناتجربہ کاری اور نااہلی ہے۔ عمران خان کی پارٹی فی الحال آن گرائونڈ کچھ ایسی پراگرس بھی نہیں دے سکی جس سے عوام مطمئن ہوں کہ وہ واقعی ان دونوں لوٹ مار کرنے والی جماعتوں کا نعم البدل ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ بے دریغ قرضوں کا استعمال اور ملکی معیشت کا جنازہ ہے جو نواز لیگ نے گزشتہ پانچ سالوں میں اس ملک کو دیا۔ کیونکہ عمران خان کے دھرنے نے جو طوالت پکڑی اورجس طرح ان کے خلاف طاہر القادری سرگرم عمل ہوئے اور پانامہ سیاست کا ہتھیار ان کے خلاف استعمال ہوا تو انہوں نے عوام کو بے دریغ رعایتیں دیں۔ میٹرو اور اورنج ٹرین کے بھاری بھرکم منصوبے چلا کر یہ تاثر دیا کہ نواز شریف اور ان کی پارٹی ملک میں ایک بہت بڑا اصلاحاتی اور کامیاب معاشی پروگرام لا رہی تھی جس طرح روپیہ اور ڈالر کو مصنوعی طور پر قائم رکھا گیا اور برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ کرنے میں نواز لیگ ناکام ہو گئی اور درآمدات میں ایک خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں ملا اور ملکی کرنٹ اکائونٹ خسارہ عمران حکومت کیلئے ایک ڈرائونا خواب بن گیا۔ لہٰذا موجودہ صورتحال میں نواز پارٹی صرف اور صرف پورے پانچ سال تک بحران میں مصروف رکھنا چاہتی ہے تا کہ جب بھی الیکشن ہوں تو وہ عمران خان کی کارکردگی کو بہانہ بنا کر دوبارہ برسراقتدار آ جائیں۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.