احتساب کے نام پر ہونیوالے ڈرامے کو ثبوتوں کیساتھ بے نقاب کرونگا، سجاد مصطفی باجوہ

وزیر اعظم عمران خان نے شوگر مافیا کی پشت پناہی کے ذریعے 400 ارب سے زائد قومی خزانے کو نقصان پہنچایا ہے

لاہور(انٹرویو عامر اسماعیل)سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے سجاد مصطفی باجوہ نے روزنامہ طاقت کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان پر براہ راست الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے شوگر مافیا کی پشت پناہی کے ذریعے 400 ارب سے زائد قومی خزانے کو نقصان پہنچایا ہے، چینی کی قیمتوں میں اضافہ کی تحقیقات پر بنایا گیا کمیشن محض ڈرامہ تھا، وزیراعظم پاکستان عمران خان کی پارٹی کے رہنماو¿ں سمیت اتحادی جماعتوں کے سربراہان شوگر مافیا کے سرغنہ ہیں، الائنس شوگر مل میں خسرو بختیار اور مونس الہی کے شئیرز ہیں، جہانگیر ترین نے بھی اربوں کا فائدہ کیا، میں جس طریقہ کار کے تحت شوگر مافیا کے خلاف کام کررہا تھا اس کے تحت ملک بھر کی شوگر ملز کا ڈیٹا جمع کرکے قومی خزانے کو نقصان سے بچایا جاسکتا تھا، دوران تحقیقات مجھے کمیشن ممبر ایف بی آر بشیراللہ خان نے بذریعہ میسج تھریڈ بھی کیا، شفاف تحقیقات کے طریقہ پر کمیشن ممبران پر پریشر تھا، چینی ایکسپورٹ کے حوالے سے ڈی جی ایف آئی اے کو ٹرکوں کا ڈیٹا حاصل کرنے کیلئے خط لکھا مگر ایک ماہ تک کوئی جواب نہیں آیا، حیرت انگیز طور پر 70 فیصد چینی صرف افغانستان بھیجی جارہی تھی جبکہ 30 فیصد صرف باقی دنیا میں، میرے وضع کردہ طریقہ پر ڈی جی ایف آئی اے کی طرف سے داد دی جارہی تھی اور کمیشن کی باقی ٹیموں کو طریقہ کار فالو کرنے کا کہا گیا مگر اچانک میری معطلی سمجھ سے بالاتر ہے، میری معطلی سے متعلق مکمل طریقہ کار بھی فالو نہیں کیا گیا انکوائری آفیسر نے سنے بغیر میرے خلاف فیصلہ سنا دیا، انہوں نے سوال کیا کہ کیا ابوبکر خدا بخش کے علاوہ ایف آئی اے میں کوئی قابل آفیسر نہیں جسے ہر بار میری انکوائری کیلئے آفیسر لفا دیا جاتا ہے، ڈی جی کو خط لکھا کی میرا انکوائری افسر تبدیل کیا جائے اس پر مجھے اعتبار نہیں،ابوبکر خدا بخش مشیر وزیراعظم شہزاد اکبر کے کہنے پر میرے خلاف لکھ رہے تھے، انہوں نے معطلی کے الزامات پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دو مل ملازمین سے روابط کے الزام میں مجھے معطل کیا گیا، مل ملازمین سے رابطہ ریکارڈ کی دستیابی کیلئے کیا مزید کسی قسم کا ذاتی فائدہ لیا تو اسے پبلک کیا جائے، دو ملازمین سے رابطے کے الزام میں مجھے معطل کردیا گیا تاہم شوگر مافیا کے سرغنہ وزیراعظم کے کابینہ ممبر اور دائیں بائیں موجود ہیں، شوگر کمیشن کی تحقیقات کیلئے بنائی گئی ٹیم میں شامل دو لوگ خود نیب کے کیسز بھگت رہے ہیں ایسے میں انصاف کی توقع کیسے کی جاسکتی تھی، انہوں نے کہا کہ شوگر مافیا نے انکے خلاف میڈیا ٹرائل کا آغاز کرایا جسکی بعد میں تردید کردی گئی، اسلام آباد ہائی کورٹ نے شوگر مالکان سے چینی 70 روپے فی کلو خریدنے کے احکامات دئے تو حکومت نے مالکان سے ساز باز کرکے عدالت کو دھوکہ دیا، اگر عدالت کے وضع کردہ ریٹ مان لئے جاتے تو بحران پیدا نہ ہوتا، اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیراعظم اور حکومت کو ایکسپوز کیا، چینی 70 روپے فی کلو نہ خریدنے کے براہ راست احکامات وزیراعظم نے دئے جبکہ وزیر اعلی سردار عثمان بزدار نے وزیراعظم کے کہنے پر چینی سبسڈی دیکر شوگر مافیا کو اربوں کا فائدہ پہنچایا، وزیراعظم چینی سبسڈی کیلئے درخواست کرنے والے لوگوں کے نام بتائیں، ستر سال سے سول اداروں کو آزادانہ کام نہیں کرنے دیا گیا شوگر مافیا کی تحقیقات کروا کے مثال قائم کی جاسکتی ہے، پاکستان میں چینی وافر مقدار میں موجود ہے، چینی کے ذخیرہ کی موجودگی میں قیمتوں میں اضافہ کا جواز نہیں بنتا، انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا اگر انہیں سیاسی بنیادوں پر نوکری دی گئی تو جس جماعت سے انکا تعلق جوڑا جاتا ہے وہ پیپلز پارٹی ہے تو خورشید شاہ کے نیب ریفرنس میں ایف آئی اے کی نمائندگی پر اعتراض کیوں نہیں اٹھایا گیا، آئی پی پی کیس میں بھی بطور ممبر شامل رہا اسوقت حکومت کو اعتراض کیوں نہ ہوا، خورشید شاہ میرے خلاف عدالت میں گئے چاہیے تو یہ تھا کہ حکومت میرے خلاف عدالت میں جاتی، اپوزیشن کے خلاف کیسسز کے جواب پر انہوں نے کہا ہمارا کام میرٹ پر کام کرنا ہے ادارہ جس کے خلاف تحقیقات کا حکم دیتا ہے کرتے ہیں، آئی پی پی انکوائری میں فراڈ ثابت ہو چکا تھا جس پر کریمنل انکوائری کی سفارش کی مگر وزیراعظم نے رد کردی اب وزیراعظم اور ندیم بابر اس کا دفاع کررہے ہیں، سچ سامنے لانے پر میری فیملی کو ہراساں کیا جارہا ہے، انٹیلیجنس بیورو کے کچھ افسران میرے خلاف ہیں کیونکہ میں نے فیصل آباد میں آئی بی کے لوگ گرفتار کئے جو کڑوڑں روپے بھتہ وصول کرتے تھے اور انہیں بعد ازاں عدالت نے سزا بھی دی، سجاد باجوہ نے کہا 1996 میں نصیر اللہ بابر کی قیادت میں چینی کی قیمتوں میں اضافے کیلئے پنجاب میں آپریشن مجھے سونپا گیا تو 48گھنٹوں میں چینی کی قیمت 13 روپے پر واپس آگئی جو19روپے پر جاپہنچی تھی، انہوں نے چئیرمین نیب سے اپیل کی وہ شوگر کمیشن کی تحقیقات پر کمیٹی بنائیں تاکہ سچ سامنے اسکے، انہوں نے انکشاف کیا کہ کمیشن میں شامل دیگر اداروں کے لوگ میری تحقیقات سے مطمئن تھے مگر اب کون وزیراعظم کا سامنا کرے، سابق آفیسر نے کہا کہ چئیرمین نیب شوگر کمیشن کی تحقیقات پر کمیٹی تشکیل دیں تو دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے گا، مشیر وزیر اعظم شہزاد اکبر اور وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان شوگر مافیا کو بچانے اور مجھے معطل کروانے میں براہ راست شامل ہیں، سجاد باوجوہ نے ڈرامائی انداز میں اپنی معطلی کے خلاف عدالت جانے فیصلہ کیا ہے انکا کہنا تھا کہ آو¿ٹ آف دی لاءمعطلی کے خلاف اپیل میرا حق ہے، عدالت جاکر ثابت کرونگا کہ حکومت شوگر مافیا کو تحفظ دی رہی تھی، عدالت کے سامنے احتساب کے نام پر ہونے والے ڈرامے کو ثبوتوں کے ساتھ بے نقاب کرونگا۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.