سفر عشق

دیکھو تو یہ کس شہرِ محبت کا سفر ہے
خوشبوئے وفا مطلع دامانِ نظر ہے
مکہ و مدینہ کا سفر تھا اور محبتیں زاد راہ تھیں میرے رب نے مجھے اپنا مہمان بنانے کے لیے ماہ رمضان کا بابرکت مہینہ چنا تھا کہا ں میں فقیرنی اور کہاں وہ بادشاہ! کہاں میں بے بس و بے اختیار! کہاں وہ با اختیار اور اقتدار اعلی کا مالک پر شاید مجھ مسکین پر اسے رحم آ گیا تھا اور اس نے اپنے انوارِ تجلیات میں سے ایک کرم مجھ منگتی پر کردیا تھا یہ اس کا مجھ پر احسانِ عظیم تھا کیونکہ اس کا گھر دیکھنے کی خواہش اب تڑپ بن چکی تھی اور وہاں گئے بناء کوئی چارہ نہ تھا۔
کبھی زخم دل کا سجا لیا کبھی کوئی اشک بہا لیا
یہی حال تھا میرا روز و شب کے کسی نے در پہ بلا لیا
میں اپنے محبوب سے ملنے کے لئے ماہی بے آب کی مانند مضطرب تھی اور اسی اضطراب اور اشتیاق میں میں محبت میں چُور اس کے خیالوں میں گم اس سر زمین پر پہنچ گئی تھی جہاں وہ بستا ہے
تیری رحمتوں کے جوار میں تیری عاطفت کے حصار میں
میں گناہگار پہنچ گیا کوئی کام آیا دِیا لیا
اس کا گھر دیکھنے کی خواہش تڑپ بن چکی تھی
ایسا لگتا تھا کہ اس کے گھر کی زیارت کی طلب نے ہی مجھے زندہ رکھا ہوا تھا ورنہ جینے کی میرے پاس کوئی معقول وجہ نا تھی۔
اب اپنے قُرب کا مجھ کو شرف عطا کیجیے
یہ دُوریاں تو قیامت ہیں قلب و جاں کیلئے
محبوب کا مہمان بننے کی خبر نے موت کو میرے سامنے لا کھڑا کر دیا تھا محسوس ہونے لگا کہ ایک بار مہمان بن گی تو ایسے میزبان سے بچھڑنا ناممکن ہو جائے گا اس کا گھر دیکھتے ہی میری سانسیں تھم جائیں گی اور میں ہمیشہ کے لئے اس مٹی کا حصہ بن جاؤں گی میرے احساسات اور محسوسات یقین کی حد تک موت کو اپنے قریب اور سامنے دیکھ رہے تھے یہی وجہ تھی کہ میں نے اپنے حصے کا مال و متاع یا جو کچھ میری ملکیت تھا اس کو راضی کرنے کے لئے اس کی راہ میں خرچ کر دیا تھا
ہیں وقف اُن کے لئے اب مآل جو بھی ہو
وفوِر ہِجر، سُرورِ ِوصال، جو بھی ہو
میں اپنے محبوب کا سامنا بالکل نہتے اور تہی دامن کرنا چاہتی تھی میں دل وجان تو پہلے ہی اس پر لٹا چکی تھی اور اب صرف اور صرف”محبت” تھی جو خالصتًا، میرے محبوب واحد لاشریک کے لئے تھی۔
میں سمیرا بنت حوا محبوب کی محبت میں گُم شہرِ محبوب میں پہنچ چکی تھی۔11 جولائی 2014 بروز جمعة المبارک سحری کے وقت میں میں نے اس پاک دھرتی پر اپنا قدم رکھتے ہی سب سے پہلا کام اپنے رب کی رضا کے لئے” محبت کا روزہ” رکھاپھر کچھ دیر بعد ایک نیا سورج جو محبت کی تابناک شعائیں لے کر طلوع ہوا میرے استقبال کیلئے حاضر تھا اور میں عرب کی سرزمین پر سانس لے رہی تھی محبوب سے منسوب ہر شے سے پیار ہوتا ہے اور جب محبوب ہو وہ عالیشان ذات تو مطلوب کے تو وارے نیارے ہو جائیں میں یقین اور بے یقینی کے ملے جلے جذبات لیے محبوب کے گلی کوچوں میں گھوم رہی تھی” کیا واقعی میں یہاں ہوں”؟اپنے محبوب کے گھر سے چند گز کے فاصلے پر!
تیرے شہر کی ہوا سے دل و جاں مہک رہے ہیں
مجھے بختِ نارسا پر کبھی یہ گماں نہیں تھا
میں سرتاپا اس کے عشق میں چُور در محبوب کی جانب بڑھ رہی تھی اس کی طرف اٹھنے والا ہر قدم غیر ارادی طور پر کبھی آہستہ اور کبھی تیز ہوجاتا انسانوں کا ایک سمندر تھا جو لا محدود تھا مجھے یوم حسرت کی یاد آئی کیونکہ سورج ہمارے سروں پر پوری آب و تاب سے اپنی تپش برسا رہا تھا انسانوں کی بھیڑ میں دھکم پیل اپنے عروج پر تھی اور ہر کوئی اپنے لئے جمعہ کی نماز پڑھنے کے لیے جگہ چاہتا تھا لمحہ بھر کے لئے یوم آخرت کا نفسی نفسی کا منظر میرے سامنے گھوم گیا۔
بالآخر محبت و شکر کے ملے جلے جذبات میں میں رب محمد کے در کی تپتی مقدس زمین پر سربسجود تھی اور محبت کا پہلا سجدہ مجھے عرش کی سیر کرا رہا تھا مجھے بمشکل 3 فٹ جگہ ملی تھی مگر پہلے سجدے میں ہی میں زمین و آسمان کی وسعت کو محسوس کر سکتی تھی میرے ضبط کا بندھن ٹوٹ چکا تھا اور وہ پہلا” محبت کا سجدہ” میری روح میں سرایت کر گیا کسی کا پاؤں مجھ سے ٹکرایا اور میں حالت سجدہ سے واپس لوٹی پھر اسی گرم تپتی زمین حرم پر (جہاں ایک عجیب لطف تھا سورج کی حدت محبت کی مقدس آگ کے سامنے ٹھنڈی پڑ گئی تھی) بیٹھ کر جمعہ کا خطبہ سنااور نماز جمعہ ادا کی اور یو ں میری پہلی” نماز عشق” کا آغاز ہوا۔ نماز ختم ہونے کے بعد لوگوں کا ہجوم ختم ہوتے ہوئے عصر کا وقت آپہنچا تھا میں نے حرم کی پہلی منزل پر پہنچ کر عصر کی نماز ادا کی۔
اور اب میرے قدم اس گھر کی جانب بڑھ رہے تھے جسے دیکھنے کیلئے میں نے اپنی تمام حسرتیں سلا دی تھیں چلتے چلتے مجھے اپنے قدم بھاری لگنے لگے میرے دل کی دھڑکن کی تیزی شمار سے باہر تھی اور دھڑکن کی آواز میرے کانوں میں محسوس ہو رہی تھی لگتا تھا کہ دل اُچھل کر باہر آ جائے گا کثرتِ ہجوم کے باعث میرے شوہر نے مجھے اپنے بازو کے مضبوط حصار میں لے رکھا تھا اور اور میں نے اپنی آنکھیں موند لیں پھر میں لمحوں میں دنیا کی حسین ترین عمارت جو بلاشبہ روئے زمین میں ایک نگینہ کی مانند ہے کے سامنے تھی ۔مجھے میری دھڑکن بند ہوتی محسوس ہوئی سانسیں تھم سی گئی جسم ساکت اور نظریں عرش والے کے گھر پر جم چکی تھیں آنسو سیلاب کی مانند بہہ رہے تھے مجھے اپنا وجود ہوا میں اڑتا تیر تا اور تحلیل ہوتا محسوس ہوا میری روح جو برسوں سے دیدارِ محبوب کے لئے تڑپ رہی تھی اس حقیقی خدا کا طواف کرنے لگی میں اپنے گرد و پیش سے لا تعلق نہ جانے کتنی دیر تک اس کیفیت میں رھی مجھے لگا میں ہوں ہی نہیں میرا وجود سن ہو چکا تھا اور میں مکمل طور پر
”الودود ”کے بحرِ بیکراں میں ڈوب چکی تھی مجھے لگا کے یہاں صرف میں اور میرا محبوب ہیں انسانوں کے ہجوم میں تنہا کیسے ہوتے ہیں میں نے یہ پہلی بار محسوس کیا مجھے لگا اس ایک پل میں میں نے کئی صدیاں جی لی تھیں میں کتنی دیر تک اس کیفیت میں رہی کچھ یاد نہیں مگر اتنا ضرور ہے کہ زیادہ دیر نہیں کیوں کہ میں نے اپنے اردگرد طواف کرنے والوں کا ہجوم پایا۔
میں طواف کے لیے بمشکل چل پا رہی تھی میرے قدم اور میرا جسم میرا ساتھ نہیں دے رہے تھے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ میں صدیوں سے سفر پہ ہوں اور اب جب کہ منزل سامنے تھی تو میرا وجود ساتھ دینے سے انکاری ہونے لگا تھا میری نظریں مسلسل کعبہ پر جمی تھیں بس اتنا یاد ہے کہ میرے شوہر نے میرا ہاتھ تھاما ہوا تھا اور میں اس کے ساتھ اس عرش والے کے گھر کا طواف کر رہی تھی
کعبہ پر پہلی نظر پڑتے ہی میں نے خود کو بے لباس محسوس کیا کہ جیسے میرے گناہوں سے پردہ اٹھ گیا ہو اس کے سامنے میں خود کو بہت چھوٹا اور حقیر محسوس کر رہی تھی شاید چیونٹی سے بھی چھوٹا۔میں ندامت و شرمندگی سے چُور دامن میں محبت اور توبہ کے آنسو کے سوا میرے پاس کچھ نہیں تھا ایسا لگ رہا تھا کہ میرا حساب ہونے والا ہے اور میں گڑگڑا کر اپنی بخشش مانگ رہی تھی اس ”الغفور” سے جو ہمیشہ بخش دیتا ہے ” یار ب مجھے بخش دے! معاف کردے! قبول کرلے مجھے میری محبت سمیت جو صرف اور صرف تیرے لئے خالص ہے۔”
شبنم سا ایک قطرہ نا چیز ہوں مگر
شوِق جمال نئیرِ تاباں قبول ہو
طواف کے تمام پھیرے میں یہی دعا کرتی رہی۔
میری سمت رحم کی کر نظر میرا حرفِ توبہ قبول کر
میری شرمساری کی لاج رکھ تجھے تیرے نام کا واسطہ
نہ جانے کون سے پل یکدم میرے شوہر نے کھینچ کر مجھے کعبہ کی دیوار کے ساتھ لگا دیا بس پھر کیا تھا خاموش آنسو ہچکیوں اور سسکیوں میں بدل گئے مجھے لگا تمام کائنات تھم گئی ہے اور میں اپنے محبوب حقیقی کی آغوش میں ہو ں جہاں بلا کا سکون و طمانیت تھا مجھے اپنا آپ بہت ہلکا اور اپنا وجود ہوا میں تیرتا محسوس ہونیلگا کعبہ کے غلاف کی خوشبو میرے سانسوں کو مہکائے جا رہی تھی دیوارِ کعبہ سے لپٹنا ایسا تھا کہ جیسے کوئی اپنے محبوب سے بغلگیر ہو اور ناقابل بیان راحت میں ہو اور وہ چاہے کہ زندگی ختم ہو جائے اور یہ لمحے تھم جائیں۔
تقریبا پانچ منٹ تک میں اسی حالت میں رہی اور پھر ساتھ ہی حطیم میں داخل ہو کر دو نفل ادا کیے اس تصور میں کے میں عرش کے نیچے ہوں اور اب مجھ میں اور میرے محبوب میں کوئی حجاب نہیں۔طواف مکمل ہوتے ہی مغرب کا وقت ہوگیا ربِ محمۖد کے در کے سامنے میں نے زم زم سے روزہ افطار کیا نماز مغرب ادا کی اور سعی کے لیے میں نے خود کو تیار کیا۔یہاں تیار کا لفظ میں نے اس لیے استعمال کیا ہے کہ میں کافی تھک چکی تھی اور جس جسمانی اور جذباتی کیفیت سے میں تمام دن روزہ کی حالت میں گزری تھی اس کے بعد میری ہمت جواب دے رہی تھی۔اور کسی شاعر کا یہ شعر مجھے یاد آرہا تھا کہ
ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں۔۔۔۔
میں قربان جاؤں اپنے رب کے جس نے مجھے یکدم اپنی محبت کی گرماہٹ سے بھر دیا۔دوران سعی بڑی شدت سے مجھے اماں حاجرہ کی تکلیف اور درد کا احساس ہوا ان کی عظمت کو سلام کے ان کی انتھک تگ ودو ربِ اسماعیل علیہ السلام کو اتنی پسند آئی کہ اس نے قیامت تک آنے والے حجاج کے لیے اس عمل کو ادا کرنا امرِ لازم بنا دیا۔
اس سعی کے بعد میں اتنا تھکی کے پہلے کبھی نہ تھکی تھی اس کی راہ میں تھکنا اتنا پُرلطف ہو سکتا ہے میں نے اُس روز جانا ۔ عمرہ مکمل ہونے کی خوشی ایسی تھی کہ جیسے میں نے امتحان پاس کر لیا ہو مجھے لگا کہ میری نجات کا پروانہ جاری کر دیا گیا ہے۔
خدا نے ان کی شفاعت پر مجھ کو بخش دیا!
اور یو ں اُس نے میری محبت کو قبول کرکے اپنے لیے خالص کر لیا!
میری زندگی میری بندگی تیری کائنات کی دُھول ہے
یہ شرف ہے حُسنِ قبول ہے کہ بنا دیا مجھے کیا سے کیا!


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.