اہم خبرِیں

صدقہ فطر

تحریر : پیرسید محمد حبیب عرفانی

فطر کا لفظ افطار سے ہے یعنی روزہ افطار کرنے کے معنی میں ہے اور صدقہ فطر کو زکوٰة الفطر اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ رمضان کے روزے پورے ہونے کے بعد دیاجاتا ہے اور زکوٰة الفطر اور صدقةالفطر یہ دونوں نام نصوص سے ثابت ہیں او ر فطر کی طرف اس کی اضافت اِضافة الشییء الی سببہ کی قبیل سے ہے یعنی اس کے وجوب کا سبب رمضان کا فطر ہے اور رمضان کے روزے ختم ہونے کے بعد جو عید آتی ہے اس کو عید الفطر کہا جاتا ہے اور صدقہ فطر اکثر کے نزدیک فرض ہے اور حنفیہ کے نزدیک واجب ہے کیونکہ ان کے یہاں فرض و واجب کے معنی میں تھوڑا فرق ہے لیکن یہ فرق صرف اعتقادی ہے عملاً کوئی فرق نہیں ہے ۔
اسلام نے معاشرہ کے ضرورتمندو تنگدست افراد کو خوشیوں میں شریک کرنے کی تاکید کی اور ہر مرد و عورت ، بڑے چھوٹے پر صدقہ واجب کر دیا تاکہ غریب و نادار افراد کو بھی عید کی خوشیوں سے حصہ مل سکے ۔
صدقہ فطر کی فضیلت :
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غنی اور فقیر کی جانب سے صدقہ فطر ادا کرنے کا حکم فرمایا پھر ارشاد فرمایا :
ترجمہ : اب رہا تم میں کا مال دار و غنی شخص ! تو اللہ تعالیٰ اس کو پاک کر دیتا ہے اور تم میں کا تنگدست ! جتنا وہ صدقہ کرے اللہ تعالیٰ اسے اس سے زیادہ عطا فرماتا ہے ۔
( مسند امام احمد ، باقی مسند الانصار ، حدیث نمبر :22553)
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عیدالفطر کے موقع پر ہر چھوٹے بڑے ، مرد و عورت کی جانب سے صدقہ فطر دینے کا حکم فرمایا اور نماز عید سے پہلے صدقہ کرنے کی تاکید فرمائی ، جیسا کہ سنن دارقطنی میں حدیث پاک ہے :
” حضرت حسن بصری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا : حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ماہ رمضان کے آخر میں لوگوں سے خطاب کیا اور فرمایا : اے اہل بصرہ ! تم اپنے روزوں کی زکوٰة ادا کرو ، راوی کہتے ہیں لوگ ایک دوسرے کو دیکھنے لگے تو آپ نے فرمایا : یہاں اہل مدینہ میں سے کون ہیں ؟ اٹھو اور اپنے بھائیوں کو سکھائو کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آزاد و غلام ، مرد و عورت پر رمضان کا صدقہ آدھا صاع گیہوں یا ایک صاع جو یا ایک صاع کھجور مقر ر فرمایا ۔ حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہ نے فرمایا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : جب اللہ تعالیٰ تمہیں وسعت و فراخی اور استطاعت عطا فرمائے تو گیہوں وغیرہ ایک صاع دے دے ۔”

صدقہ فطر واجب ہے ۔اس کے واجب ہونے کے لئے تین چیزیں شرط ہیں ۔
1۔ آزاد ہونا
2۔ مسلمان ہونا
3۔ کسی ایسے نصاب کا مالک ہونا جو اصلی حاجت سے زائد اور قرض سے محفوظ ہو ۔
صدقہ فطر اس شخص پر واجب ہے جس کے پاس اتنا مال ہو جو نصاب تک پہنچتا ہو ، اصلی حاجت سے زائد اور قرض سے فارغ ہو ، صدقہ فطر اور زکوٰة کا نصاب ایک ہی ہے البتہ صدقہ فطر واجب ہونے کے لئے مال کا نامی (بڑھنے والا ) ہونا اور اس پر ایک سال گزرنا شرط نہیں ہے ۔
( فتاوی عالمگیری جلد اول ،صفحہ 191)
عیدالفطر کی صبح صادق طلوع ہوتے ہی صدقہ فطر واجب ہوجاتا ہے صدقہ فطر کی ادائیگی کا وقت تمام عمر ہے ، زندگی بھر میں کبھی بھی ادا کیا جا سکتا ہے لیکن مستحب یہ ہے کہ عید گاہ جانے سے قبل ادا کر دے اور نماز کے بعد بھی دیا جا سکتا ہے،جب تک ادا نہ کرے برابر واجب الا داء رہے گا خواہ کتنی ہی مدت گزر جائے ذمہ سے ساقط نہ ہو گا ۔
فتاوی عالمگیری جلد اول ،صفحہ 192 میں ہے :
” وقت الوجوب بعد طلوع الفجر الثانی من یوم الفطر ”
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم فرمایا کہ صدقہ فطر لوگوں کے عید گاہ جانے سے پہلے ادا کیاجائے اور حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ صدقہ فطر عید سے ایک دن یا دو دن پہلے ادا کرتے ۔
( سنن دارقطنی ، کتاب زکوٰة الفطر ، حدیث نمبر :66)
مروجہ گراموں میں اس کا وزن ایک کلو گرام کے معادل ہوتا ہے صدقہ فطر میں گیہوں دینے کی صورت میں بتقاضہ احتیاط
سوا کلو ادا کیا جائے ۔ گیہوں ، جو ، کھجور وغیرہ میں سے کوئی چیز دینے کے بجائے اس کی قیمت دینا افضل ہے تاکہ عید کے موقع پر
فقراء و مساکین رقم کے ذریعہ اپنی متعلقہ ضرورت کی تکمیل کر سکیں ۔
( فتاویٰ عالمگیری ، جلد اول ،صفحہ 192)
صدقہ فطر کس پر واجب ہے ؟
جو مسلمان اتنا مالدار ہے کہ ضروریات سے زائد اُس کے پاس اُتنی قیمت کا مال و اسباب موجود ہے جتنی قیمت پر زکوٰة واجب ہوتی ہے تو اس پر عید الفطر کے دن صدقہ فطر واجب ہے ، چاہے وہ مال و اسباب تجار ت کے لئے ہو یا نہ ہو ، چاہے اُس پر سال گزرے یا نہیں ۔ غرضیکہ صدقہ فطر کے وجوب کے لئے زکوٰة کے فرض ہونے کی تمام شرائط پائی جانی ضروری نہیں ہیں ۔ بعض علماء کرام کے نزدیک صدقہ فطر کے وجوب کے لئے نصاب زکوٰة کا مالک ہونا بھی شرط نہیں ہے ،یعنی جس کے پاس ایک دن اور ایک رات سے زائد کی خوارک اپنے اور زیرکفالت لوگوں کے لئے ہو تو وہ اپنی طر ف سے اور اپنے اہل و عیال کی طرف سے صدقہ فطر اداکرے ۔
صدقہ فطر کے واجب ہونے کا وقت :
عیدالفطر کے دن صبح صادق ہوتے ہی یہ صدقہ واجب ہو جاتا ہے ۔ لہٰذا جو شخص صبح صادق ہونے سے پہلے ہی انتقال کر گیا تو اُس پر صدقہ فطر واجب نہیں ہے اور جو بچہ صبح صادق سے پہلے پیدا ہوا ہے اُسکی طرف سے ادا کیا جائے گا ۔
صدقہ فطر کی ادائیگی کا وقت :
صدقہ فطر کی ادائیگی کا اصل وقت عید الفطر کے دن نماز عید سے پہلے ہے البتہ رمضان کے آخر میں کسی بھی وقت ادا کیا جا سکتا ہے ۔
تحریر : پیرسید محمد حبیب عرفانی


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.