اہم خبرِیں

سب کا بھلا سب کی خیر صبح بخیرشب بخیر

دنیا بھر میں جہاں کرونا وائرس وبا نے انسانی جانوں کے تہہ و بالے کئے ہیں وہاں دنوں میں صفائی اور ایمان کے اجالے کیے ہیں جہاں انسان اموات پر ملول ہیں وہاں وباسے پناہ مانگنے کیلئے عبادات اور مناجات میں مشغو ل ہیں۔ احتیاط بھی ہے، علاج اور نجات بھی وہاں لاکھوں میں اموات بھی ۔ وباسے دنیا بھر میں انسان نے عاجزی سادگی اور تہذیبی تازگی کو اپنایا ۔ جنگ جتنی اموات ان میں کرونا وائرس سے ہو چکی ۔ بجانب اللہ کورونا وائرس دنیا بھر کیلئے تنبیہ (وارننگ) ہے عذاب نہیں۔ سائنسدانوں ، ذہین قوتوں اور قارونوں کو کرونا وائرس نے نیچا دکھایا، سب سر جوڑ کر بیٹھ گئے ،سب کو تسلیم کر نا پڑا ، بس اب توواحد خدا کی ذات ہے جو ہمیں اس کورونا وبا سے نجات دے بے شک وہی ذات نجات دہندہ ہے ۔ کائنات خدائے واحد کی تخلیق ہے ۔ نہ جانے خالق اپنی تخلیق کے کس طبقہ کو تکلیف آنے پر ناراض ہے ہو گیا ہو ۔ سوچنا چاہیے عالم انسانیت کو اور سوچنا بھی ہو گا۔ انسان دنیا کے کس کس خطے میں تکلیف میں ہے ۔ انسان ہی انسان کی تکلیف کا سبب ہو،تکلیف بھی برداشت سے باہر ہو۔ کوئی چارہ گر بھی نہ ہو ۔ سننے کے اہل بھی نہ سنیں ،اختیار والے اختیار استعمال نہ کریں ۔ انسا نیت پر ظلم وہ بھی بے انتہاہو۔ مظلوم کی مدد نہ کرنا بھی ظلم بے شمار میں آتا ہے ۔ آج کشمیر میں جو ہو رہا ہے ۔عالم انسانیت کے کان بہرے کیوں ہیں، دیکھتی آنکھوں سے اندھے کیوں ہیں ۔ آپ بیس تیس دن کالاک ڈائون برداشت نہ کر سکے ،کشمیری مظلوم آخر انسان ہیں دو اٹھاسویں (288) دن سے مودی کی فوجوں کے کرفیو میں ہیں جہاں کوئی رعایت نہیں سخت پابندیوں میں پابند ہیں بلکہ ظالم شکنجے میں جکڑ بند ہیں۔ بیمار علاج کے بغیر مرر رہے ہیں، نوجوان طبقہ کو تشدد کر کے جان سے مارا جارہا ہے ،آنکھوں کی بنیائی ضائع کی جارہی ہے ، عصمتیں لٹ رہی ہیںانسانیت بلک رہی ہے ۔ صبر کا پیمانہ لبر یز ہے خدارا کہاں تک ،دنیا بھر سے انسانیت پر کام کرنے والی تنظیمیں UNO کو رپورٹیںلکھ لکھ کر تھک گئیں ہیں ۔ کوئی مدد کو آئے مگر کہاں عالمی طاقتوں اور عالمی اداروں کے ہاں جوں تک نہ رینگی ظلم بدستور جاری ہے ،مودی عالم انسانیت پر بھاری ہے کشمیریوں کی آزادی عالمی ادارے کی ذمہ داری ہے جو ضابطے پر پوری کرے۔ امن ادارہ اپنا وقار بحال کرے ،کرونا وائرس جیسی وبائیں تو صرف تنبیہ ہیں۔ عذاب نہیں رب کی لاٹھی بے آواز ہے ۔ ڈرو اس وقت سے اللہ کے غضب سے پھر کوئی شنوائی نہیں ۔ دنیا بھر میں لاک ڈائون کی صورت احتیاطاًکرونا وائرس سے پرہیز کیا با اصولو ل لوگ حیات کو پہنچے، استفادہ ہوا زبر دست کمی دیکھنے میں آئی اور جہاں بے اصولی بر تی گئی اموات کو پہنچے ، حدرجہ نقصان ہو ا ، مالی خسارہ تو بے حد ہوچکا دنیا بھر کی معیشت دُبلی ہو گئی ۔ لاک ڈائون میں احتیاطی تدابیر کو اپنایا گیا ، لاک ڈائون میں ڈھیل پر بھی احتیاط بدستور جاری رہنا چاہیے۔ کوتاہی کی قطعی گنجائش نہیں ہو نا چاہیے۔ ماہ رمضان ہر طرف نور ہی نور ہے ۔ ہر بندے پر عبادات اور مناجات کا سرور ہے ۔ انشاء اللہ کرونا وائرس سے شفا ضرور ہے ، باقی جو اللہ کو منظور ہے ۔لاک ڈائون کی ڈھیل کو بلکل چھٹی نہ سمجھا جائے۔ عید کی شاپنگ کیلئے ہر گاہ ہجوم سے حددرجہ اجتناب برتا جائے۔آج بھی لاک ڈائون جیسی احتیاط انتہائی ضروری ہے ۔ ہر شخص کام سے باہر جائے عام حالات کے مطابق بلاوجہ باہر نکلنے سے گریز ہر گریز گریز اور پرہیز ضروری ہے ، جو علاج سے بہتر ہے ۔آپ کو علم ہے یہ مرض لاعلاج بھی نہیں آپکی بداحتیاطی اسے لا علاج بنا سکتی ہے ۔ عقلمندی کا تقاضایہی ہے کہ احتیاطی تدابیر کو بخوبی اپنایاجائے۔طبی ماہرین کی رائے یہی ہے کہ لاک ڈائون ابھی ختم نہ کیا جائے ۔حکومت نے یہ فیصلہ عوامی تکالیف کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا ہے۔ کاروبار بند ہیں ،لو گ گھروں میں پابند ہیں، ضروری کام کیلئے آنے جانے اور کم کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔ کورونا سے احتیاطاً پرہیز ہر شہری پر قرض ہے جو عین فرض ہے ۔ کورنا بڑا موذی مرض ہے ،ہر بندے کے حافظے میں اچھی طر ح درج ہے ،اپنی اور اپنے پیارے بچونکی بے حد قیمتی زندگی بچانے میں کیا حرج ہے جبکہ علاج مہنگا احتیاط کم خرچ ہے ۔ احتیاط کیجئے کرونا کو مکمل مات دیجئے۔ منہ سے سلام فاصلے پر کلام، فاصلوں کی دوری آپ کی مجبوری جو انتہائی ضروری، دور رہ کر بات کیجئے۔ صابن سے بار بار ہاتھ صاف کیجئے، سینا ٹائزر استعمال کیجئے، لیجئے بھول گئے، ماسک بھی استعمال کیجئے، روزے رکھئے ، خوشی خوشی بچوں میں تند رستی کے ساتھ میٹھی عید کیجئے، مبارک دیجئے مبارک لیجئے۔
عمران خان متوجہ ہوں ہر حلقہ میں ایم این اے،ایم پی اے کو خصوصی ہدایت کیجئے ، ورکروں کو تھوڑا پیچھے کیجئے ووٹروں کی بھی خبر لیجئے بلکہ کھل کر موقع دیجئے۔غریب ووٹروں کو کورونا پیکج نہیں تو گھر گھر عید پیکج دیجئے، غریبوں کی دعائیں لیجئے۔ آج کل ورکر اپنے عزیزوں پر مہربان ووٹر دیکھ دیکھ کر حیران، پیکج نہ ملنے پرمزید پریشان،جس کو دینا تھا دے دیا،ووٹروں کو ن ، پی پی کہہ دیا اوپر سے دھکا دے دیا ۔آپس میں صلاح کرو اپنی اصلاح کرو، اصلاح معاشرہ آپ کی پہنچان ہے ، آپ کا نام عمران ہے جو نیا پاکستا ن ہے ۔ ووٹ تو غریب کا، پلہ بھاری جیت کا نہ جانے کس کے نصیب کا، نیک کام بخیر انجام۔ سب کا بھلہ سب کی خیرصبح بخیر شب بخیر۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.