اہم خبرِیں
پاکستان کا 73واں جشن آزادی، ملک بھر میں چودہ اگست کا شاندار ا... بھارت نے امن کوداؤ پرلگادیا، ڈی جی آئی ایس پی کے الیکٹرک خریدار کی جانچ پڑتال کی جائے، چیف جسٹس آج بھارت میں ایک ہندو اسٹیٹ جنم لے رہی ہے، شاہ محمود قریشی ترکی اورفرانس کی افواج آمنے سامنے، فوجی جھڑپ کا خطرہ خیبرپختونخوا اور پنجاب کو بجٹ خسارے کا سامنا یوٹیوب نے ای میل سروس بند کردی ڈاکٹروں کی طرح سوچنے والا "اے آئی سسٹم" تیار نازیہ حسن کو مداحوں سے بچھڑے 20 برس بیت گئے پاکستان انگلینڈ دوسرا ٹیسٹ، آج ساؤتھمپٹن میں شروع ہو گا خیبرپختونخوا، انسداد پولیومہم شروع کورونا وائرس کے مزید 730 کیسز رپورٹ تین ہزار سال قدیم واٹر سپلائی سسٹم پاکستان میں کہاں موجود ہے؟ سونے کی قیمتوں میں بڑی کمی انگلینڈ کے خلاف دوسرا ٹیسٹ، قومی ٹیم کے اسکواڈ کا اعلان ایران ہتھیاروں کا استعمال بند کرے، امریکا کوئٹہ: دکان پر دستی بم حملہ،بچہ جاں بحق سندھ بھر میں 9 اور 10 محرم کو ڈبل سواری پر پابندی عائد قرضوں کی حد 50 لاکھ سے بڑھا کر ڈھائی کروڑ کردی گئی اونرشپ کے بغیر ہم کامیاب نہیں ہو سکتے، عمران خان

دو سفارشی ،روزہ اورقرآن

دو سفارشی ،روزہ اورقرآن

بسم اللہ الرحمن الرحیم
دو سفارشی ،روزہ اورقرآن
نگہت ہاشمی

روزہ جس کوعربی میں صوم، ہندی میں برت اورانگریزی میں (فاسٹنگ) کہتے ہیں۔روزہ ہرمذہب میں کسی نہ کسی طورپرپایاگیااگرچہ روزے کی شکل وصورت میں کچھ اختلاف توپایاجاتاہے ،لیکن روزہ پہلی قوموںمیں بھی پایاجاتارہا۔مختلف مذاہب کے ماننے والےروزہ رکھتے ہیں ۔
رب العزت نے فرمایا:
﴿يٰاَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ﴾
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم پر روزہ رکھنا لکھ دیا گیا ہے، جیسے ان لوگوں پر لکھا گیا جو تم سے پہلے تھے، تاکہ تم بچ جاؤ۔‘‘(البقرۃ:183)
روزے کامقصدتقوی ہے۔
یہ روزہ کیاہے؟اپنے آپ پرقابوپانے کی تربیت ہی توہے، اوراس تربیت کے لیے ایسی چیزکوچناگیاجوانسان کی ضرورتوںمیں سے سب سے اہم ہے یعنی کھانااورپانی۔رمضان کے مہینے میں تیس دن تک صبح سے شام تک انسان کاکھانااورپانی چھڑوایاجاتاہےتاکہ بندے کے اندریہ صلاحیت پیداہوکہ وہ ایک چیزکی چاہت رکھنےکے باوجوداللہ تعالیٰ کے حکم سے اسے چھوڑسکتاہے۔
جانتے ہیں یہ تربیت کیوں دی جاتی ہے؟
تاکہ بندہ دنیامیں اس طرح رہے کہ جب وہ دنیامیں کسی چیزکولے تواصول کی بنیادپرلے،جب کسی چیزکوچھوڑے تب بھی اصول ہی کی بنیادپرچھوڑے اوراس کی پسند اس کے شعورکے تحت ہو،نہ کہ شعوری فیصلےسے آزاددین جس قسم کے انسان بناناچاہتا ہے۔اس کے لیے یہ لازم ہے کہ بندے کانفس،اس کی عقل کے قبضے میں ہواورروزہ بندے کواسی کے لیے تیارکرتاہے۔
قرآن حکیم میں روزے کاحکم دیتے ہوئے رب العزت نے نزول قرآن کاتذکرہ کیاہے۔اس سے پتہ چلتاہے کہ روزے اورقرآن میں گہراتعلق خاطرہے۔
رب العزت نے فرمایا:
﴿شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ﴾
’’رمضان کامہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیاگیا،جوانسانوں کے لیے ہدایت ہے اور ہدایت کی اورحق و باطل کا فرق کرنے کی واضح دلیلیں ہیں۔‘‘(البقرۃ:185)
قرآن حکیم کانزول رمضان کے مہینے سے ہواپہلی وحی آپ پراس وقت نازل ہوئی جب آپ غارحرامیں تھے۔ 23سال کی مدت میں تدریجی نزول کے بعدقرآن مجیداپنی تکمیل کوپہنچا۔
یہ قرآن انسان پراللہ تعالیٰ کاسب سے بڑاانعام ہے کیونکہ یہ قرآن کامیابی کاراستہ دکھاتاہے۔یہ قرآن بتاتاہے کہ انسان کس طرح اپنی موجودہ زندگی کوبامعنی بنائے تاکہ موت کے بعدہمیشہ کی زندگی میں وہ نعمتوں بھری جنت میں داخل ہوسکے،وہ جنت جوانسان کی منزل ہے۔اورروزہ اس اعتبارسے اس تک پہنچنے کاراستہ ہے رمضان کامہینہ اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کاشکراداکرنے کامہینہ ہے۔ یہ نزول قرآن کاجشن ہے ،اورعجیب جشن ہے جس میں ایسی دعوت ہوتی ہے جس میں کوئی کھاناپینانہیں ہوتایہ جشن تقویٰ اورشکرگزاری کے ماحول میں منایاجاتاہے۔
اس مہینے کے روزوں کواللہ تعالیٰ نے فرض کیا۔
روزہ رکھنے والااپنی زبان سے دراصل اس بات کااعتراف کرتاہے کہ اے اللہ! تونے حلال کھانے اورپینے کوصبح صادق سے لے کرغروب آفتاب تک مجھ سے چھڑوادیاتواے اللہ! میں نے سنا،میں نے آپ کے حکم کوتسلیم کرلیا۔
رمضان کامہینہ قرآن مجیدکوپڑھنے اورسمجھنے کامہینہ ہے اس مہینے میںقرآن مجیدکی تلاوت کی جاتی ہے قیام اللیل میں قرآن مجیدکوادب واحترام کے ساتھ سناجاتاہے۔یہ مہینہ اس مقصدکےلیے آتاہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت کاسب سے زیادہ تذکرہ کیاجائے ۔
نزول قرآن کےمہینے میں تلاوت کرتے ہوئے،دورہ قرآن کرتے ہوئے قیام اللیل میں بندے کویادآتاہے،کیاہی وہ وقت تھاجب آسمان اورزمین کے درمیان ایک نورانی رابطہ قائم ہواجب انسان کواس چیزکاادراک ہوتاہے۔تووہ پکاراٹھتاہے اے میرے رب! تومیرے سینے کوبھی اپنے نورسے منورکردے پھرجب قرآن میں ان خوش نصیب لوگوں کے بارے میں پڑھتاہے جنہوں نے اللہ والی زندگی گزاری توبندہ کہہ اٹھتاہے اے میرے رب! تومجھے بھی اپنے پسندیدہ بندوں میں شامل فرمالے۔
جیساکہ نجاشی اوراس کے ساتھیوں نے کہاتھا:
﴿فَاکْتُبْنَامَعَ الشَّاھِدِیْنَ﴾
’’کہ ہمارانام گواہی دینے والوں میں لکھ لے۔‘‘(المائدہ:83)
پھرقرآن روزہ رکھنے والے کےلیے ایسی کتاب بن جاتاہے جس کتاب میں وہ جیتاہے۔اورمیں اس حوالےسے ایک واقعہ بھی سامنے رکھناچاہتی ہوں۔
احنف بن قیس رضی اللہ عنہ کے بارے میں کہاجاتاہے کہ احنف کی تلواراٹھتی ہے توگویاایک لاکھ تلواریں اٹھ جاتی ہیں۔
احنف رضی اللہ عنہ نے ایک بارقرآن مجیدکی آیت سنی:
﴿ لَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکُمْ کِتٰبًا فِیْہِ ذِکْرُکُمْ ۭ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ﴾
’’بلاشبہ یقینا ہم نے تمہاری طرف ایک ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں تمہاراذکر ہے توکیاتم سمجھتے نہیں؟‘‘(الانبیاء:10)
تواس قرآن میں ہماراتذکرہ ہےہم نے اسی قرآن میں جیناہے اس قرآن سے اپنے لیے رزق حاصل کرناہےاوراس قرآن کی وجہ سے اپنی زندگی کوپاک کرنے کی کوشش کرنی ہے ۔
قرآن انسانوں پراللہ تعالیٰ کابہت بڑاانعام ہےاورقرآن کے مہینے میں اللہ پاک نے روزوں کوفرض کیاتاکہ روزہ رکھنے والے اللہ تعالیٰ کی نعمت کاشکراداکرنے کے قابل ہوسکیں۔روزہ رکھنے والااللہ تعالیٰ کی بڑائی کے احساس کے تحت اپنے اندریہ صلاحیت پیداکرتاہےکہ قرآن کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق دنیامیں تقویٰ والی زندگی اختیارکرسکیں۔
یہ تقویٰ کیاہے؟اللہ تعالیٰ سے ثواب کی امیدرکھ کراس کے احکامات کی اطاعت کرنااوراللہ تعالیٰ کے عذاب کے خوف سے اس کے روکے سے رک جاناہے۔
توآپ دیکھئے جب بندہ روزہ رکھتاہے توروزے کی وجہ سے وہ امیداورخوف کے بین بین رہتاہے بندے کے دل میں نرمی اورشگفتگی آتی ہے۔
یہ روزہ ہی توہے جوبندے کے اندریہ صلاحیت پیداکرتاہے کہ وہ اپنے لطیف احساسات کوجگاسکے ،وہ احساسات جواسے رب کے قریب کرتے ہیں اورروزے کاتجربہ بندے کومادیت سے اٹھاکرروحانیت کی سطح پرلے آتاہے۔
روزہ ایک خاص قسم کی تربیت ہے جس سے بندے کے اندریہ صلاحیت پیداہوتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کاعبادت گزاربنے ،ہاں رمضان میں لوگ تڑپ کرنمازیں پڑھتے ہیں،مسجدوںمیں پہنچتے ہیں، قیام اللیل کرتے ہیں،تلاوت قرآ ن کرتے ہیں۔ ہاں روزہ ہی توہےجوبندے کواس قابل بناتاہے کہ اللہ تعالیٰ کی شکرگزاری میں اس کادل تڑپے اوراللہ کے خوف سے اس کے اندرکپکپی طاری ہو۔
شھرالقرآن،اللہ تعالیٰ کامبارک مہینہ رمضان اسی لیے آتاہے کہ بندہ روزے کے تجربات سے گزرکراللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق کوگہراکرلے۔اپنے رب کویادکرے اورپکاراٹھے کہ اے میرےرب! اس شیطان سے مجھے بچالے اس نے تومجھے گمراہ کردیامیرے لیے جنت کے دروازے کھول دے،جنت کےکسی دروازے کو مجھ پربندنہ کرنا،ہاں جہنم کے دروازوں کومیرے اوپربندکردےاس طرح کہ اس کاکوئی دروازہ میرے لیے کھلانہ رہے۔
توجس شخص کاروزہ اس کی دعابن جائے وہی شخص توہے جس پرحدیث کے الفاظ پورے ہوتے ہیں۔
’’جب رمضان کی پہلی رات آتی ہے توشیاطین کوقیدکردیاجاتاہے اورآگ کے دروازوں کوبندکردیاجاتاہے اس کاکوئی دروازہ کھلانہیں رہتااورجنت کے دروازوں کوکھول دیاجاتاہے۔اس کاکوئی دروازہ بندنہیں رہتااورپکارنے والاپکارتاہے اے خیرکوچاہنے والے آگے آؤاوراے شرکوچاہنے والے رک جاؤاوراللہ تعالیٰ لوگوں کوآگ سے آزادکرتاہے۔اورایساہررات ہوتاہے۔‘‘ (بخاری)
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہﷺنے فرمایا :جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو آسمان کے تمام دروازے کھول دیئے جاتے ہیں ، جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور شیاطین کو زنجیروں سے جکڑ دیا جاتا ہے۔(بخاری:1899)
روزہ کھانے اورخون کی گزرگاہوں کوتنگ کرتاہے یہی توشیطان کے راستے ہیں اسی وجہ سے شیطان کے وسوسوں میں کمی آجاتی ہے۔روزے سے شہوت کمزورپڑجاتی ہے ۔ اسی وجہ سے گناہ کاارادہ کمزورپڑجاتاہے۔روزے میں بندہ اپنے رب کے زیادہ قریب ہوتاہے۔روزہ رکھنے والے کاپیٹ بھوکاہوتاہے۔اس کادل صاف ہوجاتاہے۔
روزے دارکابھوکا،پیاسارہنااسے ایسی کیفیت میں پہنچادیتاہےکہ اس کی آنکھوں میں آنسوبھرآتے ہیں ،روزہ بھوکے لوگوں کی یاددلاتاہے پھرمومن ان پررحم کھاتے ہوئے ان کی مددکرتاہے۔روزہ نفس کی تربیت کرتاہے۔روزہ نگاہ کی پاکیزگی کاسبب بنتاہے۔
روزہ بندے اوررب کے درمیان ایک رازہے ۔
حدیث قدسی میں ہے کہ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایا:
﴿اَلصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ﴾
’’اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ روزہ خالص میرے لیے ہوتا ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دیتا ہوں۔‘‘(بخاری:7492)
توبندے کاہرعمل اس کے اپنےلیے ہوتاہے سوائے روزے کے، یقیناًوہ میرے لیے ہے میں ہی اس کی جزادوں گا۔روزے کے بارے میں کسی کوپتہ نہیں ہوتاہم جب نمازپڑھتے ہیں تواردگردوالےدیکھتے ہیں زکوۃ دیتے ہیںکچھ لوگوں کوپتہ چلتاہے۔حج کرتے ہیں توسب کے درمیان رہتے ہیں۔روزہ بندے اوررب کے درمیان ایک رازہے۔
سلف صالحین نے روزے کوقرب الٰہی کاذریعہ بنایا۔انہوں نے رمضان کونیکیوں کاموسم بہارسمجھا،انہوں نے رمضان کوسخاوت کاموسم سمجھا،رمضان کی آمدپروہ رونے لگ جاتے تھے اوررمضان کی جدائی پرافسوس سے آنسوبہاتے تھے ہمارے اسلاف نے روزوں کی اہمیت کوپہچان لیاتھااس لیے وہ بہت محنت کرتے تھے وہ اپنے آپ کواس دوران عبادت میں مصروف رکھتے تھے اس کی راتوں میںقیام کرتے،رکوع کرتے اوراللہ تعالیٰ کی خشیت سے آنسوبہانے میں مصروف رہتے تھے ،رمضان کے دنوں کوروزہ رکھنے کے بعدذکرالٰہی،تلاوت قرآن اوردعوت وتبلیغ اورتعلیم دین میں اپنے آپ کومصروف رکھتے تھے۔
کیسے ہمار ے اسلاف نے روزوں کے مقاصدحاصل کئے ؟کیسے انہوں نے اپنی روحوں کی تربیت کی ؟کیسے انہوں نے اپنے دلوں کوپاک کیا؟
سلف صالحین رمضان میں قرآن حکیم کولے کرمسجدوںمیں بیٹھ جایاکرتے تھے اپنی زبانوں ،اپنی آنکھوں، اپنے کانوں ،اوراپنے پیٹ کوحرام سے محفوظ رکھتے تھے ۔
یہ روزہ کیسے مسلمانوں کوایک کردیتاہے ؟مسجدجاناکیسے سب کی وحدت کاسبب بنتاہے ؟پھرایک وقت میں روزہ رکھنا،ایک وقت میں افطارکرنا،ایک ساتھ بھوکاپیاسا رہنامحبت اخوت اوروفاکاایک ساتھ مظاہرہ ہوتاہے۔یہ روزے گناہوں کاکفارہ بن جاتے ہیں، برائیوں کومٹانے کاسبب بنتے ہیں۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہﷺفرماتے تھے کہ پانچوں نمازیں اور جمعہ ، جمعہ تک اور رمضان ، رمضان تک کفارہ ہو جاتے ہیں ان گناہوں کا جو ان کے بیچ میں ہوں بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے بچے ۔(مسلم:552)
روزے کارازیہ ہے کہ طبیعت روزے کے لیے آمادہ ہوتی ہے اللہ تعالیٰ کی رضاحاصل کرنے کے لیے جب کوئی کھاناپینااورخواہشات چھوڑدیتاہےتوکیسے اپنے نفس پرغلبہ پاناممکن ہوجاتاہے،دل میں عاجزی اورانکساری پیداہوتی ہے۔ اس روزے کی وجہ سے حرص میں کمی آتی ہے۔اس روزے کی وجہ سے دعائیں کرنے کوجی چاہتاہے۔روزہ نصف صبرکہلاتاہے۔
روزے نفس پرقابوپانے کےلیے بہترین ہتھیارہیں تاکہ نفس کواللہ تعالیٰ کی اطاعت پرآمادہ کیاجاسکے۔روزہ جسمانی صحت کاباعث بھی بنتاہے روزہ رکھنے سے جسم سے فاسق مادے خارج ہوجاتے ہیں،خون صاف ہوتاہے، دل کواچھی طرح کام کرنے کاموقع ملتا ہے، معدے کوآرام ملتاہے،نفس میں پاکیزگی آتی ہے،اخلاق میں بہتری آتی ہے، طبیعت نیکی کی طرف مائل ہوتی ہے توبندے کاتلاوت قرآن میں جی لگتاہے۔
روزہ اورتلاوت قرآن دونوں کے درمیان گہراتعلق ہے۔
قرآن کامہینہ، رمضان کامہینہ ہے۔ اس کے بارے میں رب العزت نے فرمایا:
﴿کِتٰبٌ اَنْزَلْنٰہُ اِلَیْکَ مُبٰرَکٌ لِّیَدَّبَّرُوْٓا اٰیٰتِہٖ وَلِیَتَذَکَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ﴾
’’یہ ایک بابرکت کتاب ہے جس کوہم نے آپ کی طرف نازل کیاہے تاکہ لوگ اُس کی آیات پر غوروفکر کریںاورتاکہ عقل والے اُس سے نصیحت حاصل کریں۔‘‘(ص:29)
روزے اورقرآن کابڑاگہراتعلق ہے کیونکہ روزے میں انسان اپنے نفس کوکنٹرول کرتاہے اورجسم کی خواہشات کوکنٹرول کرتاہےتواس کی عقل، اس کی روح زیادہ بہتر طریقے سے کام کرنے کی پوزیشن میں آجاتی ہے۔قرآن حکیم یہی توجہ چاہتاہے ،ایسے انسان کی توجہ جس کانفس مغلوب ہوجائے ۔
رب العزت نے فرمایا:
﴿اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰی قُلُوْبٍ اَقْفَالُہَا﴾
’’توکیاوہ لوگ قرآن میںغورنہیںکرتے یاکچھ دلوںپران کے تالے ہیں؟‘‘ (محمد:24)
سبحان اللہ!
قرآن مجیدپرغوروفکرکرنے والاتلاوت کرتاہے ،ایک عجیب لذت پاتاہے ۔رمضان میں تلاوت قرآن کی مہک سے طبیعت خوش گوارہوجاتی ہے۔رمضان نزول قرآن کے دنوں کویاددلاتاہے سلف صالحین اس میں تلاوت قرآن کااہتمام کیاکرتے تھے ۔
نبیﷺکافرمان ہے:’’قرآن پڑھوقیامت کے دن اپنے ساتھیوں کاسفارشی بن کرآئے گا۔‘‘(مسلم :1874)
آپﷺنے فرمایا:
﴿ خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ﴾
’’تم میں سے بہترین وہ ہے جوخودقرآن سیکھے اوردوسروں کوسکھائے۔‘‘
(صحیح بخاری:5027)
’’آپﷺنے فرمایا:جوقرآن پڑھتاہے وہ اس کاماہرہے۔وہ نیک اورمعززفرشتوں کے ساتھ ہوگااورجوقرآن پڑھتاہواوراٹکتا ہواسے دہراثواب ملے گا۔‘‘(صحیح بخاری:4937)
سلف صالحین کاطرزعمل رمضان میں کیاہوتاتھا؟
رمضان شروع ہوتاتووہ قرآن مجیدکھول کراس کی تلاوت اوراس پر تدبرمیں مشغول ہوجاتے۔ ہاں وہ قرآن کی زبان کوجانتے تھےاورایسے انسان کی تلاوت جوقرآن کی زبان کونہیں جانتااجرتوملے گالیکن پکڑکاڈربھی ہے کیونکہ وہ نہیں جانتاکہ میرے رب نے مجھے اس میں کیاپیغام دیاہے؟اورجب انسان غوروفکرنہیں کرپاتاتواس کادل اس کی چاشنی کومحسوس نہیں کرسکتاوہ عمل کے لیے تیارنہیں ہوسکتا۔
تلاوت کیجئے لیکن اللہ تعالیٰ سے دعاکیجئے کہ اللہ تعالیٰ اس قرآن کاعلم نصیب فرمائے تاکہ تلاوت کرتے ہوئے عمل کے راستے نظرآئیں تاکہ اس کاپیغام دوسروں تک پہنچانے کے قابل بھی ہوجائیں ۔
رمضان شھرالقرآن ہے ۔رمضان میں سلف صالحین کے گھرتلاوت قرآن سے گونج اٹھتے تھے، وہ گھرروشن ہوجاتے تھے ،وہ قرآن مجیدکی سعادت حاصل کرتے تھے ،صالحین قرآن مجیدکی تلاوت ترتیل سے کیاکرتے تھے۔
جہاں قرآن مجیدکے عجائبات کاتذکرہ آتاوہاں رک جاتے جہاں قرآن مجیدنصیحت کرتاوہاں رونے لگ جاتے جہاں بشارتیں ملتیں وہاں خوش ہوجاتے وہ قرآن کے اوامرونواہی کودل سے قبول کرتے تھے ۔
صالحین کس طرح سے رمضان میں قرآن مجیدکے ہوکررہ جاتے تھے ؟
امام مالکؒ درس وتدریس فتوی نویسی مسائل وغیرہ بتانے سے کنار ہ کشی اختیارکرلیتے تھے۔سیدناعمرابن خطاب رضی اللہ عنہ کایہ طرزعمل تھاکہ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اکٹھے ہوتے توآپ سیدناابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کوفرماتے: آپ ہمیں ہمارارب یاددلائیں قرآن حکیم کی تلاوت سنائیں ۔(تاریخ ابن عساکر:32/47,48)
سیدناابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ خوش الحانی سے قرآن حکیم کی تلاوت کرتے توقرآن کی تاثیرسے صحابہ کرام رضی اللہ عنھمروناشروع کردیتے،اللہ تعالیٰ کے کلام سے انہیں دلچسپی تھی۔
آج صورتحال کیاہے؟
مزاج بدل گئے، دلچسپی نہیں رہی ،عقلیں بیمارہوگئیں، فسادبرپاہوگیا۔قرآن حکیم کااصل مقصدتولوگوں کوصراط مستقیم کی ہدایت دیناہے۔ قرآن حکیم دل کی بیماریوں کے لیے شفاکاپیغام ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کانورہے یہ قرآن معرفت اوربرہان ہے یہ قرآن زندگی ہے۔
یہ قرآن آزادی کاراستہ دکھاتاہے، سعادت کاراستہ دکھاتاہے۔ کیاہمارے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ ہم رمضان میں اوررمضان کے بعدقرآن حکیم کے زیرسایہ زندگی بسرکرسکیںاوراس کے نورسے اپنے دلوں کومنورکرسکیں؟
اللہ تعالیٰ سے دعاہے کہ ہمیں شھرالقرآن میں روزہ رکھنے کے ساتھ قرآن مجیدسے نفع اٹھانے کی توفیق عطافرمائے ۔آمین


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.