رحمت علی رازی صاحب (مرحوم)

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

پندرہ جون2020 ء شعبہ صحافت کے امام اور ایک بہترین دوست اور انسان کی پہلی برسی کا دن ہے رحمت علی رازی صاحب صحافت کی دنیا کے ایک عظیم رہنما تھے ان کی شخصیت صفات کا مجسمہ تھی۔ انتہائی وضع دار سلیقہ شعار اور خود دار تھے دوستوں کے دوست اور دوستی نبھانے والوں میں شامل تھے خوشی اور غمی میں سب سے پہلے پہنچنے والوں میں شامل ہوتے تھے۔

رازی صاحب نے تو لوگوں سے محبت کی اور دوست بنایا اور دوستوں کو بھی ان سے قلبی لگاوتھا۔وہ دوستی اور تعلق میں استقامت کے قائل تھے۔مجھے یاد ہے 2007،میں جب والدہ محترمہ کا انتقال ہوا تو جولائی کی گرمی میں رازی صاحب دوستوں کے ہمراہ نہ صرف منڈی بہاولدین پہنچے بلکہ سارا دن دل جوئی کرتے رہے

فی زمانہ ایسی وضع داری کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ اب سوشل میڈیا کا دور ہے ہر شخص دوسرے شخص کو کم اور موبائل پر وقت زیادہ دیتا ہے۔ رازی صاحب نے تعلق نبھانے کی مثالیں قائم کیں، بے شمار غریبوں کا انہوں نے بھلا کیا، اپنے تعلقات ضرورت مندوں کی مدد کیلئے استعمال کیے۔ان کے دروازے ہر ایک کیلئے کھلے رہتے تھے بڑی بڑی شخصیات کو ان کے دفتر آتے دیکھا۔تعلق اور محبت بڑھنے پر ایسا تعلق قائم ہو کہ ہم ان کے فیملی ڈاکٹر بن گئے۔ رازی صاحب اور ان کے بھائی صادق طارق اور بیٹی کے آپریشن ہم نے کیئے۔ بطور مریض اور بطور اٹینڈنٹ ہمیشہ شائستگی اور نفاست دیکھی۔ہسپتال کے قیام کے دوران کبھی شکایت نہ کی، ڈاکٹرز کو عزت کا مقام دیا۔ہسپتال کے قیام کی اچھی یادوں کا اظہار اپنے کالمز میں ہمیشہ کرتے،اس طرح ڈاکٹرز کی حوصلہ افزائی ہوتی۔

شاید اکثر دوستوں کو اس بات کا علم نہ ہو کہ رحمت علی رازی صاحب پکے اور سچے عاشقِ رسول تھے۔ آپ  کی محبت ان کے دل میں گھر کرچکی تھی۔ اکثر رات جاگ کر عبادت میں گزارتے تھے۔ صحافت کی مصروفیات بھی ہوتی تھیں مگر نمازوں کا اہتمام اور خاص طور پر آخری سالوں میں تہجد کی ہمیشہ پابندی کی۔ شعبہ صحافت میں اس مقام اور مصروفیات کے ساتھ آخرت کی فکر اور تیاری ایس کمال صفت تھی جو بہت کم لوگوں میں ملتی ہے۔ اللہ پاک ان کو جت الفردوس میں جگہ عطا فرمائیں،آمین۔ان کے لواحقین خاص طور پر میرے محترم دوست ان کے برادر نسبتی حضر حیات گوندل عزیزم اویس رازی،عمررازی ہماری بیٹی اور بھابھی صاحبہ سمیت سب کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین

شاعر نے کہا
خدایا رحمت کنداین عاشقان پاک طینت را

انکے جانے کے بعد انکے لواحقین خاص طور پر عزیزم اویس رازی اور عمررازی پر بھاری ذمہ داری آچکی لیکن ذاتِ باری تعالیٰ کریم ذات ہے صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزہ نو رستہ اس گھر کی نگہبانی کرے


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.