رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو

تاریخ اور وقت کا حتمی فیصلہ یہی ہے کہ اپنی آزادی کے لئے جدوجہد کرنے والے لوگ آخر کار کامیاب اور سرخرو رہتے ہیں۔ ان کی جدوجہد اصولوں پر مبنی ہوتی ہے اور وہ اسی راستے پر چلتے ہوئے ہر قسم کی قربانی پیش کرتے ہوئے اور آزادی کی منزل کو اپنا سرمایہ جاں خیال کرتے ہوئے تاریخ کے صفحات پر اپنے خون سے اپنی داستان تحریر کرتے رہتے ہیں۔ انسانی تاریخ میں ان کا یہ کارنامہ ایک معتبر حوالہ بن جاتا ہے اور آنے والی نسلیں اس سے اپنے حالات اور احوال کے حوالے سے استفادہ کرتی ہیں۔حالیہ برسوں میں اگران اقوام کاجائزہ لیا جائے جو اپنی آزادی کی خاطر جدوجہد میں مصروف ہیں تو ان میں مقبوضہ ریاست جموں وکشمیر کے مسلمان بلاشبہ سرفہرست اور نمایاں مشاہدہ کئے جاسکتے ہیں۔اس باب میں اگرچہ فلسطین کے مسلمانوں کا ذکر بھی اپنی جگہ نہایت اہم اور تاریخ ساز ہے لیکن مذکورہ کشمیری عوام کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ وہ مسلح جدوجہد کی بجائے سیاسی اور قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے ایک طرف تو قابض بھارتی سکیورٹی فورسز کے بہیمانہ مظالم کو برداشت کررہے ہیں تو دوسری طرف وہ سیاسی اور سفارتی محاذ پر بھی متحرک دیکھے جاسکتے ہیں۔ ان کی یہ جدوجہد اس وقت سے جاری ہے جب برطانوی راج کے خاتمے پر برصغیر پاک و ہند کی تقسیم کا مرحلہ درپیش رہا۔اصولی طور پر یہ طے پایا تھا کہ جن علاقوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے وہ علاقے پاکستان میں شامل ہوں گے۔اسی فارمولے کے تحت 14اگست 1947 کو پاکستان کا قیام عمل میں آیا۔ اسی پس منظر میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ خودمختار ریاستوں کے ضمن میں یہ بات طے ہوئی کہ ان ریاستوں کے عوام کو حق خود ارادیت دیا جائے گاتاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرسکیں۔
تاریخ کا یہ حوالہ اس پس منظر میں بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ 19جولائی 1947 کو سری نگر میں ہونے والے آل جموں وکشمیرمسلم کانفرنس کے اجلاس میں یہ قرارداد منظور کی تھی کہ وہ پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں ۔اب اس کوتاریخ کا المیہ کہا جائے یا وقت کی بے رحمی سے تعبیر کیا جائے کہ مسلمانوں کی یہ آواز اس وقت کے ڈوگرہ حکمرانوں کی سماعت سے یوں محروم ہوئی کہ امن پسند اور صلح جو کشمیری عوام غلامی کی ان زنجیروں میں جکڑے گئے جس کا وہ ایک طویل عرصے سے عذاب اور اذیت برداشت کررہے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد بھی ان کشمیری عوام کو ان کا حق رائے دہی دینے کیلئے سفارتی اور سیاسی سطح پر کوششیں کی گئیں تو ان کوششوں کو نئی دہلی نے ناکام اور غیر موثر بنائے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا۔ اس کا اندازہ یوں کیا جاسکتا ہے کہ بھارتی افواج نے جموں اور سری نگر پر زبردستی قبضہ کیا عوام کو اپنے ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا اور دوسری طرف عالمی برادری کے سامنے خود مظلوم بن کر امن کی دہائی دیتے ہوئے اقوام متحدہ کے اجلاس میں ایسی قراردادیں منظور کرائیں جو عملی طور پر توسیع پسند ہندوحکمرانوں کے مکروہ چہرے کا نقاب بن گئیں۔ اب صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ گذشتہ 73برسوں سے کشمیری عوام اپنی آزادی اور خودمختاری ہی نہیں بلکہ اپنی سلامتی کے لئے بھی مصروف عمل ہیں۔ یوں تو نئی دہلی میں براجمان ہونے والے ہر بھارتی حکمران نے مقبوضہ کشمیر پر ظلم و ستم کو اپنا وطیرہ اور چلن بنائے رکھا لیکن موجودہ وزیراعظم نریندرا مودی نے انتہا پسندی اور خاص طور پر مسلمانوں کے خلاف نفرت کے جذبات کو ابھارنے کے ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے۔ اس سلسلے میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ موصوف نے مقبوضہ کشمیر کی قانونی اور آئینی حیثیت کو تبدیل کرنے میں بھی کوئی اجتناب اور گریز نہیں کیا۔بھارتی وزیراعظم نے کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کو ناکام بنانے کیلئے یہ چال چلی کہ بھارتی آئین کے آرٹیکل370 اور35-A کو منسوخ کردیا۔ اس کا بنیادی مقصد اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ ایسی صورتحال میں کشمیر کو دنیا کے سامنے ناصرف بھارت کا مستقل حصہ بناکر پیش کیا جائے بلکہ غیرکشمیری افراد کو بھارت کے دیگر علاقوں سے لاکر کشمیر میں آباد کردیا جائے۔ ظاہر ہے کہ ایسے میں مسلمانوں کی اکثریت متاثر ہوگی اور بھارتی قابض عناصر کو مزید تقویت ملے گی۔ بھارتی وزیراعظم نے یہ غیرقانونی اقدام گذشتہ برس 5اگست کو نافذکیا تھا چنانچہ اس حوالے سے اب مقبوضہ کشمیر ہی نہیں بلکہ وطن عزیزمیں بھی سیاسی اور سماجی سطح پر اس کی شدید مذمت کی جاتی ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ دنیا بھر میں آباد اور پھیلے ہوئے کشمیری و پاکستانی عوام بھی اس مذمت میں برابر کے شریک ہوتے ہیں۔ وہ عالمی ضمیر کو بیدار کرنے اور انسانی حقوق کی دعویدار تنظیموں اور شخصیات کی توجہ ان مظالم کی طرف دلانے کی پرامن کوشش کرتے ہیں جن سے مقبوضہ کشمیر کے عوام نبرآزما ہیں۔
مقبوضہ کشمیر میں امن و امان کی صورتحال انتہائی دگرگوں ہے۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب بھارتی قابض سکیورٹی فورسز کسی بے گناہ کشمیری کے خون سے اپنے ہاتھ آلود نہ کرتے ہوں۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ظلم و ستم کے اس باب میںخواتین کے ساتھ جسمانی اور جنسی زیادتی کی جاتی ہے بزرگوں کو زد وکوب کرنے سے گریز نہیں کیا جاتا نوجوانوں کو ماروائے عدالت کارروائی میں شہید کردیا جاتا ہے حتی کہ نوعمربچوں کو بھی ایسے ہی ظلم کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ گذشتہ دنوں ساری پرامن دنیا اس وقت حیرت و ملال میں ڈوب گئی جب بھارتی فوجیوں نے ایک بزرگ کو پہلے گولی مار کر شہید کردیا اور اس کے بعد اس کی لاش پر اس کے نوعمر نواسے کو بٹھا کر اس کی ویڈیو اور تصویریں بنائیں۔ یہ امر بھی اپنی جگہ قابل افسوس ہے کہ پرامن دنیا یوں تو انسانی حقوق کی بازیابی کے دعوے کرتی ہے اور جمہوریت کے حق میں نعرے بلند کرتی ہے لیکن جب معاملہ فلسطین اور مقبوضہ کشمیر کا درپیش ہو تو ان کو محاورتا نہیں بلکہ حقیقتا سانپ سونگھ جاتا ہے۔ کشمیری عوام نہایت مستقل مزاجی جرات مندی اور عزم کے ساتھ اپنی سیاسی جدوجہد کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کو خوب معلوم ہے کہ اقوام متحدہ کے ایوانوں میں ان کی آواز نہیں سنی جارہی اور وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ جب بات کشمیر کی ہو تو مغربی دنیا کے معیارتبدیل ہوجاتے ہیں۔ یہ تاثر اس پس منظر میں نہایت فکر انگیز ہے کہ جب ایسٹ تیمور اور ڈارفن کے عوام کا مسئلہ سامنے آئے تو اقوام متحدہ نے فوری طور پر اپنا سیاسی و سفارتی اثر و رسوخ استعمال کرکے وہاں کے عوام کو ان کی مرضی کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کی اجازت دی اور ان کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ کسی سامراج اور ڈکٹیٹر کے اثر رسوخ میں آئے بغیر اپنی مرضی کا فیصلہ کریں۔
مقبوضہ کشمیر کے عوام کو ان کا حق خود ارادیت دینے کا وعدہ ایفا کرنے کی بجائے بھارتی حکومت نے اب یہ پالیسی اختیارکررکھی ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ اپنی بین الاقوامی سرحد اور دوسری طرف کنٹرول لائن پرجارحانہ فائرنگ کرکے پاکستان کو مشتعل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔اس سلسلے میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ گذشتہ دنوں جب آئی ایس پی آر کی طرف سے عالمی میڈیا کے نمائندوں کو مذکورہ سرحدی علاقے کا دورہ کرایا گیا تو ان لوگوں نے خود مشاہدہ کیا کہ بھارت نے اپنی سرحد پر ایسی تین مدارج کی حدود بنارکھی ہیں جن کو عبور کرنا کسی انسان کیلئے ناممکن ہے۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ 2015 سے اب تک بھارت نے 11815مرتبہ سرحدی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاک سرحد کی قریبی آبادیوں کے جان و مال کو نقصان پہنچایا۔مقبوضہ کشمیر میں اس وقت 9لاکھ بھارتی فوجی موجود ہیں اور بھارت کی طرف سے اس جنت نظیر وادی کو جہنم زاد بنائے ہوئے 350دن گزرچکے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا کو اس بات پر حیرت ہوئی کہ مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ تک کی سہولت پرپابندی ہے کوئی صحافی یا سیاح وادی میں داخل نہیں ہوسکتا اور عام شہری اپنے گھر سے باہر نکلنے سے بھی قاصر ہے۔ یہ بات بھی نہایت قابل غور ہے کہ جب حال ہی میں ایران نے بھارت کو چاہ بہار بندرگاہ کے ترقیاتی منصوبے سے خارج کیا اور اس نے مشترکہ سرمایہ کاری کے دیگر منصوبوں میں بھی عدم دلچسپی کا اظہار کیا تو وزیراعظم نریندرا مودی نے اپنی سیاسی ساکھ کو برقرار رکھنے اور داخلی طور پر اپنے زوال کے دن کم کرنے کی کوشش میں مقبوضہ کشمیر میں مظالم کی رفتار اور شدت میں اضافہ کردیا۔
یہ درست ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام اپنی آزادی کی جدوجہد میں بے مثال قربانیاں پیش کررہے ہیں اور انہوں نے اپنی حالیہ جدوجہد کا سرخیل جواں سال شہید برہان وانی کو تسلیم کررکھا ہے لیکن اس کے باوجود ان کے حوصلے بلند ہیںاور وہ کسی طور بھی بھارتی غلامی کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں۔ بہت کم لوگوں کو اس حقیقت کا علم ہوگا کہ مقبوضہ کشمیر میں عوام کو باقی دنیا کے احوال کی خبر صرف اور صرف ریڈیو پاکستان کے ذریعے ہوتی ہے۔ بھارتی غاصب فوج نے رابطے کے دیگر وسائل اور ذرائع ناپید کررکھے ہیں اور وہ اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ کشمیری عوام ان کے سامنے سر تسلیم خم کریں گے۔ وہ تاریخ کے اس فیصلے سے سراسر نابلد اور بے خبر ہیں کہ رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.