رازِ حیات

میں ہر روز علی الصبح نہر کے کنارے سیر کرتا ہوں۔ درختوں کی لمبی قطار میں ایک درخت جس کے پتے گہرے سبز، خو شنما اور ملکوتی حسن کے پیکر نظر آئے۔ابھی میں اس درخت کو دیکھ رہا تھا کہ سینکڑوں چڑیوں کی چہچہاہٹ نے مجھے چونکا دیا۔ وہ ربط اور لے میں حمد خداوندی کی نغمہ سرائی میں مشغول تھیں۔ ان کی نغمہ سرائی سرمدی اور موسیقیت کا ایک انمول نظارہ تھا۔ وہ لا ہوتی نغمے عبودیت کا ایک شاہکار تھے۔ ان کی نغمہ سرائی میں ایک محویت ، سر شاری اور قرب حق کی نشاندہی تھی۔میں بھی سر شار ہو گیا۔ وہ نغمہ اپنی سر مدی اثیری قوت سے میری روح میں سرائیت کر گیا۔مجھ پر رقعت طاری ہوئی اور میری آنکھیں اس لا فانی منظر کے لطف و کرم سے سرشار ہوئیں۔یہ انمو ل لمحات میرے لئے ایک عطیہ خداوندی سے کم نہ تھے۔لذتِ وصل کی اس آشنائی نے مجھے چڑیوں کی روحانی عظمت کا ادراک دیا۔
میں ان ہی روحانی لمحات میں محو تھا کہ مسجد کے لائوڈ سپیکر سے اللہ اکبر کی صدا آئی تو یک لخت چڑیوں کے روحانی گیت کی لے خاموش ہو گئی۔اذان جاری رہی چڑیاں خاموش رہیں۔ یوں محسوس ہوا کہ چڑیاں اللہ کی کبریائی کے سامنے سجدہ ریز اور سر نگوں ہوں۔جوں ہی اذان ختم ہوئی چڑیوں نے پھر نغمہ سرائی شروع کی۔ چڑیوں کی نغمہ سرائی شان عبودیت کا ایک لاہو تی مظہر تھی۔ جب تھو ڑا سا اُجالا ہوا تو چڑ یاں خاموش ہو گئیں۔اب ان کی چہچہاہٹ میں نہ کوئی ربط تھا نہ لے تھی ۔یوں لگا کہ جیسے وہ کاروبارِ دنیا یعنی دانا دنکا چگنے میں مصروف ہو گئی ہوں۔ درخت بھی بہت خوش تھا۔اس کے سبز پتے باد نسیم میں اٹھکیلیاں کر رہے تھے۔وہ مسکرا رہے تھے۔ کچھ قہقہہ زن بھی تھے۔ وہ اپنے انجام سے بے خبر حال کی دنیا میں مست زندگی کی تمام خوشیو ں کو سمیٹنے میں مصروف تھے۔ شاخیں جھوم رہی تھیں اور چڑیاں ان شاخوں پر پھدک پھدک کر درخت کے حسن کو مزید حسین تر بنا رہی تھیں۔ ایسے میں میں نے درختو ں کے پتوں سے پوچھا کہ اے پتو!تم اس درخت پر کتنے عر صے سے ہو ؟ تو انھوں نے بڑی حیرانگی سے میری طرف دیکھا اور پھر سب نے ایک زوردار قہقہہ لگایا اور مجھے کہا کہ ہم تو صدیوں سے اس درخت پر موجود ہیں ہم تو اس درخت کی پہچان ہیں۔ ہمارے بغیر تو اس درخت کی کوئی وقعت اور اہمیت نہیں ہے۔ اگر ہم نہ ہوتے تو نہ یہ چڑیاں یہاں آکر نغمہ سرائی کرتیں اور نہ ہی آپ یہاں کھڑے ہو کر اس روحانی اثر پزیری سے متاثر ہوتے۔ اے پگلے مسافر تم نے یہ سوال کیوں کیا ؟ میں ششدر و حیران ہوا اور یوں لگا کہ اس درخت کے تمام پتے میرا تمسخر اڑا رہے ہیں۔
میں مہینوں اس درخت کے اُس نظارے سے لطف اندوز ہوتا رہا ۔ پھر ایک دن میں نے دیکھا کہ چڑیں تو نغمہ لاہوتی الاپ رہی تھیں مگر پتوں کی سبز گہری رنگت میں کمی آ چکی تھی۔ وہ زردی مائل ہوتے جا رہے تھے۔ چند دنوں میں پتے خزاں زدہ ہو کر درخت کی ٹہنیوں سے بچھڑ گئے۔ کچھ کو تیز ہوا کے جھونکے نا معلو م منزل کی طرف اڑا کر لے گئے کچھ راہ گیروں کے پائوں تلے آ کر مسلے گئے اور کچھ پیوند خاک ہو گئے۔اب اس درخت پر نہ چڑیاں تھیں اور نہ ہی پتے۔درخت پر ایک افسردگی کا ماحول تھا۔ میرا دل بھی غمزدہ ہوا۔ وہ پتے جن سے میں ہر روز محو گفتگو ہوتا تھا اب وہ نہ جانے کدھر گئے؟ وہ کس منزل کے راہی ہوئے؟ میں نہیں جانتا۔کیا وہ فنا ہو چکے ہیں یا بقا کی دنیامیں موجود ہیں؟ایسے میں میں نے درخت کی شاخوں سے سوال کیا کہ اے شاخو! تم کیو ں اداس ہو؟ میرے اس سوال پر وہ انگشت بدنداں ہوئیں اور بھرائی ہوئی آواز میں بو لیں کہ میری ویرانی، میری اداسی ، میری مانگ کا اجڑ جانا ، میرے حسن کا چھن جانا اور میری پہچان کا گم ہو جانا کیا میری اداس زندگی کا ثبوت نہیں ہے۔ لوگ یہاں سے گزرتے ہیں ۔ پہلے میرے پتے میری پہچان تھے اب میری پہچان گم ہو چکی ہے۔ہر گزرنے والا مجھے مختلف ناموں سے پہچانتا ہے۔ وہ لمحات میرے لئے بہت بھاری اور المناک ہوتے ہیں۔ میں بھی افسردہ اور غمز دہ ہو گیا اور بو جھل دل کے ساتھ وہاں سے گھر چلا آیا۔ کچھ عر صے بعد دوبارہ جب میں اس درخت کے پاس پہنچا تو میں نے دیکھا کہ اس کی کونپولوں میں ہری ہری پتیاں نمودار ہو چکی تھیں۔ شاخیں بہت خوش تھیں کہ اب انھیں دوبارہ پہچان ملنے والی ہے۔ ان کے اندرایک تازگی اور خو شنمائی تھی شاخوںنے مجھ سے پوچھا کہ اے مسافر! خزاں کے موسم میں تم یہاںآنا کیو ں چھوڑ گئے تھے؟ تم میرے غم میں کیوں شریک نہ رہے؟ میرے پاس شرمندگی کے علاوہ کوئی جواب نہ تھا۔دیکھتے ہی دیکھتے وہ نوخیز کونپلیں سر سبز و شاداب پتوں کی صورت میں لہلہاتے ہوئے آپس میں سر گوشیاں کر رہی تھیں۔ چڑیوں نے بھی دوبارہ اس درخت پر آنا شروع کر دیا۔ مجھے یوں لگا جیسے کائنات اس درخت پر مہر بان ہو چکی ہے۔
ایک شام چڑیاں وہ ہی نغمہ لا ہوتی الاپ رہی تھیں ۔ ان کی خاموشی کے دوران میں نے پتوں سے پوچھا کہ تم کتنے عر صے سے یہاں موجود ہو؟ تو انھوں نے بھی زوردار قہقہہ لگایا اور بولے کہ اے پگلے مسافر! ہم تو صدیوں سے یہاں موجود ہیں اور موجود رہیں گے۔ ہمارا حسن دائمی ہے۔ آئندہ ہم سے ایسے سوال نہ پوچھنا۔ جس پر میں ششدر رہ گیا! اور کانپ گیا۔ یہ مقابر، یہ قبرستان اور یہ شمشان گھاٹ کیا یہ زندگی کا راز ہیں؟ کیا ہم اِن سے رازِ حیات کا کھوج لگا سکتے ہیں؟
اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن
ابتدائے آفرینش سے لے کر آج تک نہ جانے ان گنت نسلیں عدم سے وجود میں آئیں اور وجود سے عدم کی طرف رخصت ہو گئیں۔اِن اُداس راہوں پر کوئی ہمیں آواز تو دے ۔نا خوش اور اداس فضا میں مجھے کچھ ڈر سا لگاکہ خزاں آ گئی اب کیا ہو گا؟ شا خ پر بیٹھی بلبل نے مجھے جواب دیا گھبرائو مت خزاں کی آستینوں میں لاکھوں بہاریں دبکی ہوئی ہیں۔ زندگی ایک متاع گم گشتہ ہے جس کی تلاش میں ہم سر گرداں ہیں جب یہ مل جاتی ہے تو ہم خود گم ہو جاتے ہیں۔اور یہ ہی راز حیات ہے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.