اہم خبرِیں

قیمت اورقسمت

مستنداداروں کی مصنوعات اورادویات کے بارے میں ہرقسم کی ضروری معلومات سے آگاہ ہونا صارف کا بنیادی حق ماناجاتا ہے اسلئے ان میںاستعمال ہونیوالی مختلف اشیاء کی تفصیلات پیکنگ پردرج ہوتی ہیں ۔ کوئی بھی مقابلہ دیکھنے کیلئے ٹکٹ بک کرتے وقت کون کس کے مدمقابل آئے گا اوران ٹیموں میں کون سے پلیئرز شریک ہوں گے مداحوں کو سب کچھ علم ہوتا ہے کیونکہ اس طرح کے فیصلے یقینا دلچسپی ،سنجیدگی اورپسندیدگی کی بنیادپر کئے جاتے ہیں۔زیادہ تر لوگ فلم دیکھنے کافیصلہ اس کے پروڈیوسر، ڈائریکٹر اور مرکزی کرداروں سمیت دوسری کاسٹ کودیکھتے ہوئے کرتے ہیں،اگرکاسٹ پسندیدہ نہ ہوتوفلم دیکھنے کاپروگرام ملتوی کردیاجاتاہے ۔ میں نے یہ تمہید ایک خاص مقصد کیلئے باندھی ہے، ووٹرز کی پسندیدہ سیاسی جماعت اقتدارمیں آنے کے بعدکیا کرے گی ،کیایہ جانناان کابنیادی حق نہیںہے لہٰذاء الیکشن کمیشن اپنے آئینی اختیارات استعمال کرتے ہوئے پاکستان کی سیاسی پارٹیوں کواس امرکا ہرصورت پابند کرے جس کی روسے وہ انتخابات سے قبل عوام کی سہولت کیلئے صدر مملکت ، وزیراعظم ،گورنرزاور وزرائے اعلیٰ سمیت وفاقی وصوبائی وزراء جبکہ پی ٹی وی اورپی آئی اے سمیت دوسرے اہم ریاستی اداروں کے سربراہان کیلئے اپنے ممکنہ امیدواروں کی فہرست پیش کریں۔وزیرخارجہ اوروزیرداخلہ کون ہوں گے، وزارت تجارت کاقلمدان کون سنبھالے گا جبکہ وزرات مالیات کس کے سپردکی جائے گی اوراس کے ساتھ ساتھ عوام کو ممکنہ وفاقی وصوبائی وزراء کی تعلیمی قابلیت اوراہلیت بارے بھی ضرور بتایا جائے۔میں وثوق سے کہتاہوں اگر2018ء کے عام انتخابات سے قبل عمران خان پنجاب کے وزیراعلیٰ کیلئے سردارعثمان بزدار جبکہ وفاقی وزیراطلاعات کیلئے فوادچوہدری کونامزد کرتے توآج پی ٹی آئی وفاق اور پنجاب میں ہرگز برسراقتدار نہ ہوتی۔آج ہمارا پنجاب ایک زیرتربیت منتظم اعلیٰ کے ہاتھوں تختہ مشق نہ بناہواہوتا۔اس طرح اگر مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے 2013ء کے انتخابات سے قبل اورنج ٹرین اورمیٹروبس سے منصوبوں کاتصور پیش کیا ہوتا تویقینا لاہور کے عوام انہیں مستردکردیتے ۔کس جماعت نے حکومت میں آنے کے بعدکیا تعمیر اوراپنے پیشروحکمران کے کس کس منصوبہ کو روکنایارول بیک کرناہے۔قومی اہمیت کے حامل بڑے تعمیراتی منصوبوںکی فہرست جاری کی جائے۔کس آئینی ترمیم کوچھیڑنااورکس کوچھوڑنا ہے ،یہ بھی ووٹرزکومعلوم ہوناچاہئے۔حکمران جماعت نیب قوانین کومزید کمزورکرے گی یااس موثرومنظم قومی ادارے کو خودمختاری اورآزادی کے ساتھ اپناآئینی کرداراداکرنے دیاجائے گا ۔ حکومت میںآنے کے بعد حکمران جماعت کی معاشی واقتصادی اصلاحات کے ساتھ ساتھ داخلی اورخارجی امورکے بارے میں ترجیحات کیا ہوں گی یہ سب کچھ انتخابات سے قبل ووٹرز کوبتایاجائے۔اقتدارمیں آنے کے بعدحکمران جماعت اپنے انتخابی منشور سے ایک انچ بھی اِدھر سے اُدھر نہ ہو۔الیکشن کمیشن انتخابات منعقدکرنے کے بعداپنازیادہ متحرک کرداراداکر تے ہوئے حکومت کے اقدامات کو مانیٹرکرے توزیادہ مناسب ہوگا۔جہاں حکومت اپنے انتخابی منشور کی لکیرعبور یااپنے آئینی اختیارات سے تجاوزکرے وہاں الیکشن کمیشن مداخلت اور مزاحمت کرتے ہوئے ارباب اقتدار کی سمت درست کرے ۔قومی اورانتخابی سیاست کو ”چمک ” کے اثرات اورثمرات سے پاک کیاجائے۔ہماری ریاست کسی منتخب حکومت کے بیانات اوراقدامات میں تضادات کی متحمل نہیں ہوسکتی کیونکہ اشرافیہ کے غلام نظام کی تبدیلی تک عوام کامعیارزندگی بلند نہیں ہوگا ۔حکمران دہائیوں سے عوام کو” سجی ”دکھاکرانہیں”کھبی ”مارتے آرہے ہیں،پاکستا ن میں نظام کی تبدیلی کے حامی عوام یہ روش مزید برداشت نہیں کریں گے۔ قومی سیاست میں ”گھس بیٹھئے” چوروں سے نجات کیلئے چہروں کی تبدیلی کافی نہیں ،اس کیلئے فرسودہ ریاستی نظام بدلناہوگا۔حکمران صرف وہ کام کریںجس کیلئے انہیں عوام سے مینڈیٹ ملے ۔
پاکستان میں سرگرم بیشترسیاسی پارٹیوں کاحال اس ہاتھی کے مصداق ہے جس کے دانت کھانے اوردکھانے والے مختلف ہوتے ہیں ۔زیادہ ترپارٹیوں کی طرف سے انتخابی سرگرمیوں کے دوران جو منشور پوسٹرز،بینرز اوروال چاکنگ کی صورت میں منظرعام پرآتا ہے وہ انتخابات کے بعدگدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب ہوجاتا ہے ۔پارٹی سربراہان کو اپناہرانتخابی اعلان بھول جاتا ہے لیکن ووٹرز کوان کے لچھے دارخطابات ،بلندبانگ دعوے اورخوشنما وعدے اچھی طرح یاد ہوتے ہیں اوران بیچاروں کومنتخب ہونے والی سیاسی قیادت کے انتخابی وعدے وفاہونے کاشدت سے انتظار رہتا ہے مگرآج تک اہل سیاست کے کسی” سراب” سے کوئی ”سیراب” ہواہے نہ آئندہ ہوگا۔ بہشتی دروازہ توسال بعد صرف عرس کے دنوں میں کھلتا ہے لیکن دوسری پارٹیوں میںپی ٹی آئی میںآنیوالے کسی وقت بھی آسکتے تھے ان کیلئے کرسیاں خالی تھیںجبکہ اس رش کے سبب پی ٹی آئی کے پرانے لوگ پس منظرمیں چلے گئے ۔پاکستان میں1985ء سے اب تک” وزارت عظمیٰ” کے عشق میں جوکچھ ہوتارہاہے اس پرہرگزرشک نہیں کیاجاسکتا۔
ہیوی مینڈیٹ والے وزیراعظم بھی اپنے شخصی اقتدار کے دوام اوراستحکام کیلئے آئینی ترامیم کرتے رہے لیکن عام آدمی کی حالت زاربدلناان کی ترجیحات میں شامل نہیں تھا۔اٹھارویں ترمیم سے بھی صرف مٹھی بھر سیاسی اشرافیہ کے لوگ مستفیدہوئے،صوبائی خودمختاری کی آڑ میں وفاق کمزورکرنے کیلئے نفاق کابیج بویاگیااورنتیجتاً آج پاکستان میںمنافرت اورصوبائیت کاسورج سوانیزے پرہے ۔نفرت زدہ قادیانیت کے تابوت کونابودکرنیوالے اسلام کے علمبرداراور قائدعوام ذوالفقارعلی بھٹو کی آبرومندانہ شہادت کے بعد بدترین آمرمطلق ضیاء الحق سمیت اب تک جوبھی سیاستدان اقتدارمیں آئے ان میں سے کسی نے ملک میں انتظامی اصلاحات کیلئے اپنے انتخابی منشور اورجمہورکواپنی ترجیحات کامحورنہیں بنایا۔پاکستان میں سرمایہ دارانہ جمہوریت کے حامی بیشترلوگ بت پرست ہیں جبکہ ان کانام نہاد نجات دہندہ توہم پرست ہے۔کوئی سچامسلمان اورسلجھاانسان خودپسند،مغرور اور توہم پرست نہیں ہوسکتا۔لیڈر اپنے اوصاف حمیدہ سے دوسروں کومتاثر کر تے ہیں ،دوسروں اوربالخصوص بناوٹی شخصیات سے متاثر ہونے والے کسی” لائی لگ اورکانو ں کے کچے” کوقائدنہیں کہا جاسکتا۔وزیراعظم نہیں ”قائد” بننااہم ہے کیونکہ شوکت عزیز اورمعین احمدقریشی بھی ریاست پاکستان کے وزیراعظم رہے ہیں جبکہ پاکستانیوں کے محبوب قائد کاکوئی ثانی نہیں ۔2018ء کے انتخابات کا نتیجہ کپتان کیلئے دوآپشن لے کرآیاتھا،ایک اتحادیوں کی مددسے کمزور،بے اختیاراورمصلحت پسندوزیراعظم بننادوسرا آئندہ الیکشن تک دبنگ اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے سیاست سیکھنا،عوام کے حق میں آوازاٹھانا اور حکومت پردبائو کے بل پر اس کی سمت درست رکھنامگر عمران خان نے قائدبننے کی بجائے وزیراعظم بنناپسندکیااوریوں ان کی ناتجربہ کاری کے ساتھ ساتھ جذباتی سیاست نے انہیں ابتدائی سودنوں میں ایکسپوزجبکہ عوام کومایوس اورناامیدکردیا ۔ تبدیلی سرکارنے دوبرسوں میں اپنے وفاقی وصوبائی وزراء کے قلمدان تبدیل اورپنجاب کی سطح پرچیف سیکرٹری اورآئی جی پولیس سے ایس ایچ اوتک کے بیجاتبادلے کرنے کے سواکچھ نہیں کیا،انہیں کون سمجھائے تبدیلی کیلئے دھڑادھڑ تبادلے ضروری نہیں۔جس طرح حکمران اپنے مینڈیٹ کی رَٹ لگاتے ہیں اس طرح حکام کو شٹل کاک بنانے کی بجائے انہیں ”ٹِک ” کرکام کرنے دیں ۔میں سمجھتاہوںجس کسی نے پنجاب میں عثمان بزدار کے ساتھ چلنا ہے تواسے” نکا بزدار”بننا پڑے گاکیونکہ کسی برق رفتار ،باصلاحیت،بروقت فیصلے کرنیوالے اورمنتظم چیف سیکرٹری کاوجودکپتان کے معتمد بزدار کوبرداشت نہیں،موصوف کولگتا ہے وہ ”باس”ہیں پھر بھی ہرکوئی انہیں” بائی پاس ” کرتا ہے جبکہ حقیقت میں بزدار فیصلے کرنے میں دیرکردیتے ہیں اوریوں ہراہم کام رک جاتا ہے لہٰذاء اب تک چار چیف سیکرٹری بروقت فیصلے کرنے کی پاداش میں سبکدوش یعنی تبدیل کئے جاچکے ہیںاورابھی نہ جانے مزید کون کون اس آمرانہ تبدیلی کی زدمیں آئے گا۔وزیراعظم عمران خان سے عثمان بزدار تک ارباب اقتدار کواپنے آس پاس کسی ”بردبار”کاوجودبرداشت نہیں۔ کپتان کے تبدیلی ویژن کی روسے جو سرکاری اداروں کے حکام اہل حکومت کی اطاعت نہیں کریں گے انہیں تبدیل کردیا جائے گا ۔پی ٹی آئی کی قیادت پولیس سمیت دوسرے اداروں میں تبادلے بند کرے اورفرسودہ ریاستی نظام کی تبدیلی کیلئے ٹھوس اقدامات یقینی بنائے۔وفاق سمیت کسی صوبائی حکومت کی ترجیحات کاعوام کی بنیادی ضروریات سے کوئی واسطہ نہیں،ارباب اقتدار عوام کی نبض پرہاتھ رکھیں اورپھردرست فیصلے کریں۔پاکستان ایک ایسا شجرسایہ دار جس کی شاخوں پرآکاس بیل بکھری پڑی ہے جوصرف انصاف کے سپرے سے تلف ہوگی ۔کپتان کنٹینر پرکھڑے ہوکرناانصافی ،کرپشن ،سفارش اوروی آئی پی کلچرکاماتم کیاکرتے تھے مگرآج تحریک” انصا ف” کے دوراقتدارمیں عوام ” انصاف” اور”عزت نفس ”سے محروم ہیں۔کپتان نے نیا پاکستان بنانے اوراس میں قانون کی حکمرانی اورانصاف کی فراوانی کاوعدہ بھی وفا نہیںکیا۔عہدحاضر میں صرف وہ انصاف سے بہرہ مندہوگا جس کی” قسمت ”اچھی ہے یاپھرجس کے پاس” قیمت ” اچھی ہے۔بروقت انصاف کی راہ میں حائل سٹے آرڈر کے طریقہ کار کا سنجیدگی سے جائزہ لیا اوراس کاکوئی راہ حل تلاش جائے۔ معاشرے کو”زوال” سے بچانے کیلئے نظام عدل کو”فعال” اورسہل کر ناہوگا۔لوگ انصاف کیلئے عدالت کارخ کرتے ہیں مگروہاں ان کے ہاتھوں میں فیصلہ تھمادیاجاتا ہے،مجھے اپنے باشعور قاری کو انصاف اورفیصلے میں فرق بتانے یاسمجھانے کی ضرورت نہیں۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.