اہم خبرِیں
پاکستان فرانسیسی شعبہ زراعت اور شعبہ حیوانات کی مہارت سے استفا... میر شکیل الرحمان کی ہمشیرہ کے انتقال پر سی پی این ای کا تعزیت ... شمالی وزیرستان، پاک فوج کا آپریشن، چاردہشت گرد جہنم وصل گھوٹکی ٹرین حادثے کو پندرہ سال بیت گئے پاکستان میں کورونا کے 2 ہزار 521 نئے کیسز،74 اموات انگلستان کی پاکستان میں ڈھائی لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری آیاصوفیہ مسجد کی کہانی ” آپ ایسا کریں کہ آپ کل آ جائیں“ اسٹیٹ بینک کےقوانین کی خلاف ورزی پر 15 کمرشل بینکوں کو بھاری ... ایرانی سیبوں کی درآمد، قومی خزانے کو نقصان پہنچانے پر 22 درا... شاہد آفریدی کا کورونا میں مبتلا بچن خاندان کے لیے نیک خواہشات ... مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشتگردی پھر سے سر اُٹھانے لگ... تھیم پارک ڈزنی لینڈ کھولنے کا فیصلہ ماڈل ایان علی کی شوبز میں واپسی پاکستانی نوجوان کے دن پھر گئے، سعودیہ میں فیشن ماڈل بن گیا ڈونلڈ ٹرمپ پہلی بار ماسک پہن کر عوام کے سامنے ‌ایکسپو سینٹر لاہور میں کورونا کے زیرعلاج تمام مریض ڈسچارج وزیراعظم کی ہدایت کے باوجود کراچی میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ عرو... شادی کی تقریب میں ہوائی فائرنگ بیٹے کی گولی سے باپ شدید زخمی وزیر اعلیٰ سندھ کورونا ٹیسٹنگ سے غیر مطمئن

قومی ائیر لائن ۔ گھاٹے کی رولر کوسٹر

اگر آپ زندگی میں یکسانیت کا شکار ہیں، اپنی زندگی سے بیزار ہیں، چند گھنٹے کے لیے سپر ایکساٹمنٹ چاہتے ہیں یا دوسروں کو اپنی ‘ کوسٹ’ پر لطف اندوز ہونے کا موقع دینا چاہتے ہیں تو قومی ائیر لائن کو اپنی فضائی میزبانی کا موقع فراہم کریں۔ ایک پرواز کے بعد یقینا زندگی اور موت کے بارے میں آپ کے خیالات بدل جائیں گے۔ جو لوگ زندگی کو فضول اور بے وقعت جانتے ہیں، یہ سفر ان کے خیالات میں ایک سو اسی ڈگری کی تبدیلی لانے میں اکسیر ثابت ہو گا۔ اور اگر آپ ان سب باتوں کا کوئی تعلق چھوٹی عید سے ہونے والے کسی واقعے سے جوڑ رہے ہیں یا جوڑنا چاہتے ہیں تو یہ آپ کی ذاتی رائے یا سوچ ہے۔
دوران قیام امریکہ میں یہ موقع ملا کہ کسی مشہور زمانہ تھیم پارک جا کر ا مریکیوں کے زندگی سے لطف اندوز ہونے کے مشاغل کا ‘ فرسٹ ہینڈ’ مطالعہ کیااور یہ جاننے کی کوشش کی کہ ان سب باتوں میں کوئی حقیقت بھی ہے یا ‘ فیر صرف گلاں ای بنیاں نے’۔سب سے پہلی بات جو سامنے آئی وہ یہ تھی کہ امریکیوں کے علاوہ وہاں غیر امریکیوں کی ایک کثیر تعداد ڈالرز خرچ کر کے زندگی سے لطف کشید کر رہی تھی۔ لیکن سب سے زیادہ جس چیز نے مبہوت کیا وہ یہ تھی کہ لوگوں کی ایک کثیر تعداد ، جس میں امریکی اور غیر امریکی شامل تھے، ڈالرز خرچ کر کے زندگی کو چیخیں مار کر ‘انجوائے’ کر رہے تھے۔یہ لوگ مشہور زمانہ رولر کوسٹر کی رائڈ کے ساتھ ‘ہیٹ اینڈ لو’ جیسے کسی تعلق میں بندھے نظر آتے تھے۔ فلموں میں ایسے مناظر کو جیسے ‘گلیمرائز’ کیا جاتا ہے،اور جس انداز کی رومان پروری دکھائی جاتی ہے، اس نے اس ناچیز کو بھی اتنا ‘ موٹیویٹ’ کیا کہ یہ غریب پاکستانی اپنی جیب سے ‘ امریکن ڈریم’ کے کاغذ نکالنے پر مجبور ہوگیا۔جو رفتار اس رولر کوسٹر کی تھی ، اس سے زیادہ خوف اوپر نیچے جانے سے ، ایک دم ‘ زک زیگ’ ہونے سے اور اس خیال سے کہ صرف (بظاہر) ایک بیلٹ سے بندھے ہوئے ہیں اور یہ خدشات کہ اگر بیلٹ ٹوٹ گئی یا گرپ ڈھیلی پڑ گئی تو۔۔۔۔سامنے آتے اور تیزی سے بدلتے مناظر اور اچانک جھٹکے سے آگے بڑگ جانا یقینا ‘سپر ایکساٹنگ ‘ تھا۔ مجھے احساس تھا کہ اس سفر میں میرا پر سکون انداز اور میرا ‘ کمپوزر’ میرے ساتھیوں کو حیرانی سے زیادہ شک میں ڈال رہا تھا۔مگر میں ان سب باتوں سے لاپرواہ بیٹھا رولر کوسڑ کی وہ رائڈ انجوائے کرتا رہاجو میرے لیے ہمیشہ سے ایک ‘فینٹسی’ تھی۔کچھ بھی نہ ہوا، نہ میرا ‘ ایڈرالین’ اوپر نیچے ہوا ، نہ میں نے کو ئی چیخیں ماریں۔ حتی کہ میں اپنے دوستوں کا دل رکھنے کے لیے بھی کو ئی بناوٹی ‘ جیسچر’ تک نہ دیا۔ رائڈ ختم ہونے کے بعد چند دوستوں نے جب شکوہ کناں انداز میں مجھ سے دریافت کیا کہ کیا واقعی تمہیں ڈر نہیں لگا تو میں نے ایک با وقار مسکراہٹ کے ساتھ انہیں جواب دیا کہ نہیں با الکل بھی نہیں۔ میں اپنی قومی ائیر لائن میں سفر کا عادی ہوں۔
کسی زمانے میں ہماری قومی ائیر لائن کا بڑا نام ہوا کرتا تھا۔ اگر آپ ایک تشکیک آمیز مسکراہٹ کے ساتھ یہ پڑھ کر مسکرا رہے ہیں کہ میں قرون اولی ٰ کے زمانے کی بات کر رہا ہوں تو آپ غلط ہیں۔ کسی زمانے میں واقعی ہماری قومی ائیر لائن کا ڈنکا بجا کرتا تھا۔بڑے بڑے ماہر پائلٹ ہو ا کرتے تھے، اب بھی ہیں، انتظامیہ اپنے کام کی از حد ماہر تھی اور جہاز بھی ہمارے با الکل نئے ہوا کرتے تھے۔دوران پرواز فضائی میزبانوں کی میزبانی کا کوئی ثانی نہ تھا۔اور سفر میں دیے گئے کھانے آج کے کھانوں سے یک لخت مختلف ہوا کرتے تھے۔پرواز ‘سموتھ’ ہو ا کرتی تھی اور کرایے بھی بہت مناسب ہوا کرتے تھے۔پھر یہ ہو اکہ نئی قائم ہونے والی بڑی بڑی ائیر لائنز ہمارے لوگوں کو بھاری مشاہرے پر اپنے ساتھ لے گئیں اور جہاز اور سفری میزبانوں کو ہمارے پاس ہی چھوڑ دیا گیا، وہی پر خلوص لوگ آج بھی اسی جذبے سے ہمارے ساتھ ہیں اورہمارے سفر کو ہمیشہ اپنی خوبصورت موجودگی اور عجیب سی کڑوی زبان کے ساتھ میٹھا بنانے کی اپنی طرف سے تو کافی کوشش کرتے ہیں، بعض لوگ شائد بناوٹ کو اتنا پسند نہیں کرتے۔
غالبا تیس کے قریب جہاز ہماری ائیر لائین چلاتی ہے جس کے لیےملازمین کی ایک تعداد کثیر موجود ہے۔اچھے لوگوں کو چھوڑ کر زیادہ تر ملازمین کی تعداد سیاست سے شغل لگانے میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہے۔لہذا کام کرنے والے اصل کارکنوں کے پاس سر کھجانے کی بھی فرصت مشکل سے ہی ہوتی ہے۔دنیا میں فی جہاز ملازمین کی تعداد میں ہم سب سے آگے ہیں، کسی کے لیے بھی اس اعزاز کو ہم سے چھیننا خاصا مشکل ہے۔ سب سے کم جہازوں کے ساتھ ، سب سے زیادہ ملازمین۔ہر گذری ہوئی حکومت نے دل بھر کر اس ائیر لائن میں بھرتیاں کیں جو کہ اس کی کپیسٹی سے کہیں بڑھ کر تھی۔ سیاسی بھرتیوں کا نتیجہ ”پور پرفارمنس” شکل میں آج ہم سب بھگت رہے ہیں۔ الغرض یہ خسارے کی ایک ایسی رولر کوسٹر بنتی جا رہی ہو جس کی رفتار ہر لمحہ بڑھتی چلی جا رہی ہے۔
آخری مرتبہ کچھ عر صہ قبل جب قومی ائیر لائن سے سفر کیا تو ایک خوشگوار حیرت کا احساس ہوا۔ بعض لوگ اتنے روایت پسند ہوتے ہیں کہ ذرہ برابر بھی نہیں بدلتے۔ بورڈنگ اتنے ہی برے انداز سے ہوئی، جہاز صرف چار گھنٹے ہی لیٹ ہوا، معذرت اگر اب بہتری آ گئی ہے تو، کسی نے بھی جہاز کے لیٹ ہونے کی کوئی وجہ نہ بتائی ، نہ ہی کسی نے گائڈ کیا۔ جب جہاز آ گیا تو اتنی ہی بیزاری سے مسافروں کو اس میں ٹھونسا گیا۔ مگر سب سے بہترین چیز تو ابھی وقوع پذیر ہونی تھی۔ جی ہاں، جہاز کی فلائٹ اور اس کی لینڈنگ۔ جہاز کی بظاہر حالت اتنی مخدوش تھی کہ دل دھڑکتا تھا۔ تیز ہوا سے اس کے درودیوار لرزتے تھے، مگر ہیٹز آف ٹو دا پائلٹ کہ نہ صرف وہ جہاز کو عمدہ انداز سے اڑا لے گیا ، بلکہ لینڈنگ بھی بے حد سموتھ تھی۔باقی فرانس سے آنے والی ٹیم واپس چلی گئی ہے، یہاں ایک انکوائری کمیٹی بنے گی اور باقی آگے آپ کو پتا ہی ہے۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.