Latest news

مقصدیت

یہ تمام کائنات ایک محور کے گرد محو ہے۔عالم کی ہر شے کا ایک قبلہ ہے جس کا طواف کرنا اس کی جبلت میں داخل ہے ۔یہ ایک ایسا فطری عمل ہے جو خوردبین ذرات سے لیکر بڑے عجائبات تک پھیلا ہوا ہے۔نظام شمسی کا کعبہ شمس ہے جب کہ ایٹم کے گرد گردشتے مادے اپنا درمیان رکھتے ہیں۔یہ کوئی حادثہ یا انہونی نہیں بلکہ خدا کی اس زبردست تخلیقاتی اسکیم کا متواتر حصہ ہے جو بالواسطہ یا بلا واسطہ اشیاءکی پیدائش سے منسلک ہے ۔یہ تصور محض مادی دنیا تک ہی محدود نہیں بلکہ روحانیت میں بھی اپنے تمام تر محاصروں کے ساتھ کار فرما ہے۔ یہ عالمگیر تصور ہی کائنات میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات کا متحرک ہے۔ہر شے ایک مقصد مانگتی ہے اور بذات خود بھی مقصد افروز ہے ۔ قائدہ یہی ہے کہ بے مقصد چیز فضول اور عبس ہے۔ اب یہ مقصد اس شے کے ماحول پر اور اس سے متعلقہ زمان و مکاں پر منحصر ہے۔ مثال کے طور پر مختلف درجوں اور مختلف حالتوں میں مصروف کار اشیاءکا مقصد مختلف نوعیت کا ہوتا ہے۔اب جب یہ نظریہ کائنات کا مسلمہ اصول ہے تو اس کا انسانی فطرت میں ودعیت ہونا ضابطے کی چیز ہے۔دنیا ضابطے کی متقاضی ہے اور انسان قاعدے کا پابند ہے اس طرح انسان بے شک غافل اور انجان ہو مگر وہ مقصدیت کے اس اصول کا مقید ہو گا۔اگر کوئی انسان سمجھتے بوجھتے ہوئے اس مستند حقیقت کو تسلیم کرے تو ظاہر ہے اس میں مقصدیت کا عنصر زیادتی میں ہو گا۔دوسری صورت میں مقصدیت اس کے خمیر کی بناوٹ کا حصہ تو ہو گی لیکن زیادہ حد تک وہ اس سے لا علم ہو گا۔انسان دونوں حالتیں رکھنے والا جاندار ہے روحانی بھی اور مادی بھی۔ان دونوں اعتباروں سے کسی خاص مرکز کو مد نظر رکھنا انسان کا اپنی ضروریات زندگی کی احسن تکمیل کے لئے نا گزیر ہے ۔ جو انسان اپنے داخلی و خارجی معاملات ، عبادات اور معمولات میں مقصدیت کو مقام ارتکاز کا درجہ دے تو یقیناََ وہ ایک خاص ضابطے کے زیر ہو گا جو اس کے حالات میں توازن برقرار کئے رکھے گا۔ نتیجے میں اس کا اخلاق اور کردار معاشرے کے باقی افراد سے نسبتاََ بہتر ہو گا ۔الہامی علوم اور رفتہ رفتہ ترقی پانے ولے مادی وسائل نے مقصدیت کے سلسلے میں رہنمائی فراہم کی ہے جس نے انسان کے علمی دائرے کو وسیع کر دیا جو صرف مشاہدات تک ہی محدود تھا ۔ ارتکا کے اس عمل میں جب انسان کے اوسان بحال ، فہم کامل اور فراست درست ہو گئی تو خدا نے انقلابی دین اور کتاب اقدس نازل فرمائی اور متعلقہ فرد کو تمام انسانیت کے لئے قطعی رہنما بنا دیا ۔ایک بشر کا اس صورت میں مبعوث ہونا ہادیت کے دائرے کا رویوں اور معاشرت میں پھیلنے کا تاریخی ثبوت ہے دوسرے افراد کے اعلٰی اخلاق اور عمدہ اوصاف سے متاثر ہونا انسان کی عین سرشست ہے ۔لیکن جب وہی فرد نبوت کا دعویدار ہو، عبادات کے گر سکھائے اور آداب و چال گنوائے تو مقصدیت کا تصور رویوں اور معاشروں سے بھی آگے نکل کر عالمگیر شکل اختیار کر لیتا ہے جو بالآخر خدا سے رابطے کا باعث بنتا ہے ۔ اب اس رابطے کی مضبوطی کے لئے ہمارے دین نے باقاعدہ عبادات اور اطوار تشکیل دئیے ہیں ۔ ان روز مرہ عبادات کی حسب معمول مشق مقصدیت کو مستحکم سے مستحکم تر کرنے کی قوی وجہ ہے۔اس مشق کے ثمر میں قاعدوں اور ضابطوں کا جو عملی نقشہ وجود میں آتا ہے وہ انسان کو ایسا مکمل لائحہ عمل فراہم کرتا ہے جو اس کی دنیاوی و اخروی کامرانی کا باعث ہے ۔بنیادی طور پر ہماری جملہ گراوٹ کا سبب بحثیت مجموعی مقصدیت سے عاری ہونا ہے۔ ہماری تعلیم کا مقصد کیا ہے؟ مستقبل کی کیا منصوبہ بندی ہے؟ میں یہ ڈگری کیوں حاصل کر رہا ہوں؟ ان سوالات سے ہماری نوجوان نسل کی اکثریت نا آشنا ہے ۔اگر فلسفے کی نگاہ سے دیکھا جائے تو اسی مقصدیت کی فکر کو اقبال نے ”خودی“ سے تعبیر کیا ہے ۔اپنے مقصد ااور خودی کو دریافت کر کے سراغ زندگی کا پا جانا انسان کی سب سے بڑی کامیابی ہے جو آخر کار قومی ترقی کا مو¿جب ہے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.