Latest news

وزیر اعظم سادگی مہم میں وی آئی پی کلچر کا فروغ

نئے پاکستان کے حکمرانوں نے وی آئی پی کلچر ملک سے ختم کرنے کے بڑے بڑے دعوے کیے تھے، مگر عمل دکھاؤے کچھ دن تو رہے پھر اپنی پرانی ڈگر پر آتے جارہے ہیں جا رہا ہے، وزیر اعظم کی سادگی کی تقلید کی بجائے اکثر وزیر، مشیر اور معاونین خصوصی اپنے سربراہ کی طرح نظر نہیں آرہے،ملک بھر میں وی آئی پی کلچر مسلسل فروغ پا رہا ہے۔ 31 ہزار ارب روپے کے غیر ملکی قرضوں تلے دبی قومی معیشت برسر اقتدار جماعت تحریک انصاف کے اقتصادی پروگرام کی روشنی میں اس بات کی متحمل نہیں ہو سکتی کہ اربوں روپے کے مزید غیر ضروری اخراجات اس پر لاد دیئے جائیں۔ ماضی کی حکومتیں اس رجحان کے خلاف زبانی کلامی آواز اُٹھاتی رہیں ،تحریک انصاف نے بھی سادگی اختیار کرنے کا بیڑا اُٹھایا ،مگر اس نعرے کی عملی شکل واضح نہیں ہے۔ ان حالات میں جب ڈالر 148اور پٹرول 112روپے سے تجاوز کر گیا ہے، غیر ضروری اخراجات کی شرح مسلسل بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی نعیم الحق نے بھی اس حقیقت کی نشاندہی کی ہے کہ اہم شخصیات جن میں وفاقی وزراء کی بھی بڑی تعداد شامل ہے، ابھی تک وی آئی پی کلچر کو فروغ دے رہے ہیں اور پولیس اسکواڈ کو ساتھ لے کر چلنے کا سلسلہ ماضی ہی کی طرح جاری ہے۔ یہ صورت حال وزیراعظم عمران خان اور پی ٹی آئی کے منشور کے خلاف ہے، پولیس اسکواڈ کی صرف انہیں اجازت ہے جن کی زندگیوں کو واقعی خطرات لاحق ہیں۔ اس ضمن میں یہ بات قابل ذکر ہے صرف پنجاب میں مجموعی طور پر 8975کنال رقبے پر قائم سرکاری رہائش گاہوں کی دیکھ بھال کا سالانہ خرچ 10ارب روپے سے زیادہ ہے جن میں 19ہزار سے زیادہ ملازم کام کرتے ہیں، جبکہ ان عمارات کا تخمینہ اس وقت 403ارب سے متجاوز ہے۔ تاہم یہ بات انتہائی قابل قدر اور لائق تقلید ہے کہ پاک آرمی نے وسائل کی قلت کی وجہ سے آئندہ مالی سال کیلئے اپنا بجٹ رضا کارانہ طور پر کم کر دیا ہے۔ مالی مشکلات کی بنا پر نئے بجٹ میں کفایت شعاری پر مبنی اقدامات کے علاوہ وفاقی اور صوبائی سطحوں پر غیر ضروری سرکاری اخراجات بند کرکے ملک و قوم کا کھربوں روپیہ بچایا جانا ضروری ہے۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان کی معیشت کبھی بھی تسلی بخش حالت میں نہیں رہی، حکومتوں نے سرمایہ کاری ،تجارت اور پیداواری شعبوں کا سرسری ذکر اپنی پالیسیوں میں ضرور شامل کیا ،مگر عملی صورت حال قطعی مایوس کن ہے۔ پاکستان کے سیاسی رہنما اس امر سے آگاہ ہیں کہ ملک غیر ضروری اخراجات کا متحمل نہیں ہو سکتا اس کے باوجود سابق ادوار میں سرکاری رقوم صرف منتخب سربراہ یا منتخب عوامی نمائندے کی ضروریات پر خرچ ہی نہیں ہوتی رہیں، بلکہ پورا خاندان اور کنبہ عوامی خزانے سے استفادہ کرتا رہاہے۔ بلاول ہائوس کے اخراجات ،ملازموں کی تنخواہیں اور سندھ پولیس کی پروٹوکول ڈیوٹیوں کی ستائش نہیں کی جا سکتی، مگر پنجاب میں حالت اس سے بھی بری رہی ہے۔ دس برس تک لاہور شہرمیں چار گھروں کو وزیر اعلیٰ ہائوس کا درجہ حاصل رہا، شریف خاندان کی ذاتی جاگیر جاتی عمرہ کی چار دیواری کروڑوں روپے خرچ کر کے سرکاری کھاتے سے کرائی گئی۔ میاں نواز شریف کی اولاد کے بچے اور کزن ،میاںشہباز شریف کی اولاد کے بچے الگ الگ پولیس سکواڈ کے ساتھ گھر سے نکلتے رہے ہیںاور یہ سب اس دور میں ہو رہا تھا جب ہم معیشت کو زندہ رکھنے کے لئے دھڑا دھڑ قرضے لے رہے تھے۔ عمران خان نے انتخابات میں کامیابی کے فوری بعد سادگی مہم کا عملی طور پر آغاز کرتے ہوئے مختلف ممالک کے سفرااوروفود ان سے ملاقات میں سادہ پانی اور چائے کے کپ سے تواضع کی جانے لگی۔ وزیر اعظم ہائوس کے ٹرانسپورٹ سکواڈ میں درجنوں ضرورت سے زیادہ گاڑیوں اور چند بھینسوں کو نیلام کیا گیا، جنہیں سابق وزیر اعظم نے سرکاری خرچ پر پال رکھا تھا۔ وزیر اعظم نے کئی ایکڑز پر پھیلے وزیر اعظم ہائوس میں رہائش کی بجائے منسٹر کالونی میں رہائش اختیار کرنے کو ترجیح دیاگیا۔سیاسی مخالفین کا ان اقدامات پر طنز سیاست کا حصہ ہے، مگر وزیر اعظم عمران خان نے سادگی مہم کو سب سے پہلے اپنی ذات اور ضروریات پر نافذ کر کے ایک اچھی مثال قائم کی ہے۔ پاکستان کے عوام اپنے حکمرانوں سے ایسی مثبت چیزوں کی توقع کم ہی کرتے ہیں۔ چند روز قبل آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اعلان کیا کہ فوج اپنے بجٹ میں اضافہ نہیں کر رہی ،بلکہ اس بار اتنے ہی بجٹ سے کام چلائے گی ،یہ اس بات کا اعلان ہے کہ مالی مشکلات کے دور میں افواج پاکستان عام شہریوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں۔
اس میں شک نہیں کہ پاکستان کی مالیاتی مشکلات دن بدن بڑھ رہی ہیں، غیر ملکی سرمایہ کاری اور سٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاری کم ہوئی ہے، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں چالیس فیصد کمی ہوگئی، افراط زر کی شرح بڑھی ہے۔یہ سب اشارے اچھے نہیں، مگر یہ ساری صورت حال اس وقت مذید تشویشناک ہوجاتی ہے جب عوام دیکھتے ہیں کہ حکومت مسلسل معاشی بحران سے نکلنے میں ناکام ہے۔ وزیر اعظم نے اسد عمر کی ٹیم کی ناکامی کے بعد ایسے ماہرین کی ٹیم تشکیل دیدی جو آئی ایم ایف اور دیگر بین الاقوامی اداروں سے معاملات میں مہارت رکھتی ہے۔ اس ٹیم کی کوششوں سے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کسی قدر استحکام پیدا ہوا ہے۔ سٹاک مارکیٹ اور دیگر انڈیکیٹر بھی مثبت دکھائی دینے لگے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومتی کاوشیں اب درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہیں۔ وزیر اعظم اورآرمی چیف کا موجودہ حالات میں کفایت شعاری کو فروغ دینا قابل تحسین ہے ۔اس موقع پر وزراء کرام’ مشیر خواتین و حضرات اور ساتھ ساتھ افسر شاہی سے توقع کی جاتی ہے کہ ملک کے ابتر معاشی حالات کو دیکھتے ہوئے وہ بھی سادگی اور کفایت شعاری کو فروغ دیں گے۔وزیر اعظم سادگی وکفایت شعاری مہم میں وزراء کی جانب سے وی آئی پی کلچر کا فروغ قابل مذمت ہے ،اگر حکمران طبقہ ایئر کنڈیشنر کا غیر ضروری استعمال ترک ،مہمانوں کی تواضع پر بھاری اخراجات سے گریز اور سرکاری وسائل کا استعمال خوب سوچ سمجھ کر کرے تو ایک سال میں اتنے روپے بچ سکتے ہیں جن سے کسی ڈیم کی تعمیر کا کام شروع کیا جا سکتا ہے، حکومت اور افسر شاہی اپنے غیر ضروری اخراجات کم کرے تو عوام بھی ان کی تقلید میں پیچھے نہیں رہیں گے،انفرادی کی بجائے ملک مفاد میں اجتماعی سوچ تمام بحرانوں سے نکلنے کی راہ دکھاسکتی ہے۔۔!


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.