Latest news

عوام کو لنگر خانے نہیں روزگار چاہئے !

دنیا میں فلاحی ریاست کا تصور بہت خوبصورت ہے ،ایک ایسی ریاست جس میں کوئی غریب، نادار اور ضرورت مند بھوکا نہ سوئے اور اسے سرکاری خرچ پر علاج معالجے اور تعلیم سمیت دیگرزندگی کی تمام لازمی بنیادی سہولتیں میسر ہوں۔

ملک کی تمام سیاسی پارٹیاں ایک ایسی ہی فلاحی ریاست کے قیام کا اقتدار میں آنے سے قبل دعویٰ کرتی ہیں ،مگر اقتدار ملنے کے بعد ترجیحات تبدیل ہو جاتی ہیں ۔تحریک انصاف نے بھی عوام سے ایک فلاحی ریاست کے قیام کا وعدہ کیا تھا ،اقتدار ملنے کے بعدسے وزیراعظم عمران خان ریاستِ مدینہ کی طرز پر پاکستان کو فلاحی مملکت بنانے کیلئے کوشاں ہیں ،ان کا بنیادی نکتہ نظر یہی ہے کہ سڑکوں کے کنارے فٹ پاتھوں پر راتیں گزارنے والوں غریب ناداروں کیلئے جہاں پناہ گاہیں بنائی جائیں ،وہاں ضرورت مندوں کو کھانا بھی ملے ۔اس حوالے سے انہوں نے اسلام آباد میں احساس سیلانی لنگر خانے کا افتتاح کر دیا ہے جس میں روزانہ 6سو غرباءو مساکین کو کھانا ملا کرےگا۔ اس اسکیم کا دائرہ بعد میں پورے ملک میں ایسے مقامات تک پھیلا دیا جائے گا ۔ وزیراعظم عمران خان کے سیلانی لنگر پر سیاسی و معاشی حلقوں نے جہاں اسے مناسب پیش رفت اور غربت و تنگ دستی کے خاتمہ کی سمت ایک درست قدم قرار دیا جارہا ہے، وہاں عوام کے ذہنوں میں یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ کیا حکومت اپنے وعدوں، دعوؤں اور منشورکے انقلابی نکات سے صرف نظرملک کو ایک مربوط استحکام معاشی نظام دینے کی بجائے اب مرغی پالنے، لنگرکھولنے اور پناہ گاہیں بنانے پر مرکوز رہے گی۔
یہ امر واقع ہے کہ ملک کے عوام اور محروم طبقات نے غربت‘ مہنگائی اور روٹی روزگار سے متعلق اپنے گوناں گوں مسائل سے نجات کیلئے عمران خان اور انکی پارٹی تحریک انصاف میں امید کی کرن محسوس کرتے ہوئے انکے ساتھ اپنے اچھے مستقبل کی توقعات وابستہ کیں اور انکے تبدیلی اور نئے پاکستان کے ایجنڈے پر صاد کرتے ہوئے انہیں حکمرانی کے مینڈیٹ سے سرفراز کیا۔ عمران خان وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہونے کے بعدسے قوم کو باور کروا رہے ہیں کہ ملک کو ریاست مدینہ کے قالب میں ڈھالنے کے متمنی ہیں۔ ریاست مدینہ کا تصور اسلام کی نشاة ثانیہ کے ساتھ ساتھ ایک فلاحی مملکت کا بھی تصور ہے جس میں شہریوں کی تعلیم‘ صحت اور روزگار کی بنیادی ضرورتیں پوری کرنا اور انہیں جان و مال کا تحفظ فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے اور شہریوں کے کسی قسم کے اقتصادی اور معاشی استحصال کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح آئین و قانون کی حکمرانی‘ میرٹ اور انصاف کی عملداری کے ساتھ ساتھ اقرباپروری اور حکمران اشرافیہ طبقات کے اللوں تللوں کا خاتمہ بھی ریاست مدینہ کے تصور والی اسلامی‘ جمہوری فلاحی ریاست کا خاصہ ہوتا ہے۔ تاہم قائدو اقبال کے بعد اس ارض وطن کو ایسی قیادت میسر نہ ہوسکی جو پاکستان کو بانیان پاکستان کے ایجنڈے کے مطابق اسلامی‘ جمہوری فلاحی ریاست کے قالب میں ڈھال سکے۔ یہ ملک خداداد انگریز کے ٹوڈی مفاد پرست سیاست دانوں اور طالع آزماﺅں کے ہتھے ضرور چڑھتا رہا، جنہوں نے یہاں جمہوری اقدار اور آئین و قانون کی حکمرانی کا تصور ملیامیٹ کرکے شخصی آمریت مسلط کرنے کے راستے نکالے ،جبکہ عوام کی اس ارض وطن کو فلاحی ریاست کے قالب میں ڈھالنے کی توقعات منتخب جمہوری ادوار میں بھی پوری نہ ہو سکیں اور وہ حکمران اشرافیہ طبقات کی ناجائز بخشیﺅں اور قومی دولت و وسائل کی لوٹ مار کے فروغ پاتے کلچر میں مسلسل غربت‘ مہنگائی‘ بے روزگاری کے دلدل کی جانب دھکیلے جاتے رہے، جبکہ بیرونی قرضوں میں جکڑی ہماری معیشت نے عوام کے غربت‘ مہنگائی‘ بے روزگاری کے مسائل میں مزید اضافہ کیاہے۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ عوام کی امید کا چراغ ابھی روشن ہے، اور عوام حکومت سے توقع رکھتے ہیں کہ معاملہ پناہ گاہوں اور لنگر سے آگے جائے گا ،کیونکہ حکومتیں لنگر خانے نہیں کھولتیں، بلکہ روزگار مہیا کرنے کیلئے کاروبار کو فروغ اور کارخانے کھولتی ہیں۔ عوام کو روزگار کے مواقع ان کے گھر پر مہیا کیے جاتے ہیں،ملک میں جب روزگار ہوتا ہے تو ہر گھر میں خوشحالی نظر آنے لگتی ہے۔ کیا لنگر خانے کھول کر حکومت کا وژن محض شہریوں کو محتاج بنانے تک ہے۔ حکومت نے ایک مرتبہ بھی کوئی طویل المیعادیا مختصر المیعاد منصوبہ پیش نہیں کیا جس سے یہ پتا چل سکے کہ وہ ملک کے معاشی نظام کو ٹھوس بنیادوں پر استوار کرنا چاہتے ہیں۔ تحریک انصاف حکومت کے اقتدار کا پورا ایک برس محض الزام تراشیوں پر گزرا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے نزدیک تحریک انصاف میں شامل سیاستدانوں کے علاوہ تمام سیاستداں چور ہیں۔ عمران خان وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہیں، یہ ان کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ چوروں کو پکڑ کر سزا دلوائیں اور ملک کو درست ڈگر پر ڈالیں ، فوری طور پر اپنی معاشی ٹیم میں بنیادی تبدیلی لائیں اور محب وطن اور اہل افراد پر مشتمل ٹیم تشکیل دیے کر حوصلہ افزا نتائج سے قوم کو آگاہ کریں۔ بھوکوں کو کھانا کھلانے کے لیے لنگر خانوں کاانتظام ریاست کی ذمہ داریوں میں شامل نہیں ، یہ کام تو شہری اپنی سطح پر کرتے ہی رہتے ہیں۔عوام بے روز گاری ،مہنگائی کے ہاتھوں پریشان بد حالی کی دلدل میں دھنستے جارہے ہیں،یہ 112 لنگر خانے کتنے شہریوں کا پیٹ بھر سکیں گے۔
بے شک وزیراعظم نے عوام کے صحت‘ روزگار‘ مہنگائی اور غربت کے مسائل حل کرنے کیلئے مختلف پروگراموں کا اجراءکیا ہے اور احساس لنگر سکیم بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔ ان فلاحی پروگراموں کے ثمرات عوام تک پہنچنا شروع ہونگے تو انکی مایوسیاں اور ناامیدیاں بھی ختم ہونا شروع ہو جائیں گی، لیکن اس کے ساتھ ہی ملک میں روزگار کے مواقع پیدا کئے جانے چاہئیں جو صنعتوں کے قیام اور کاروبار کی ترقی کے بغیر ناممکن ہیں، پناہ گاہوں اور لنگر خانوں کی اسکیموں کا مقصد حاجت مندوں کی عارضی مدد ہونا چاہئے مستقل معاشی بحالی کیلئے ضروری ہے کہ انہیں اپنے پاﺅں پر کھڑا ہونے کی ترغیب دی جائے،لنگر خانے کھولنے کی بجائے روز گار فراہم کیا جائے تاکہ ،عوام مفت بری کے عادی نہ ہو جائیں۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.