Latest news

معاشی ثمرات کے منتظر عوام!

روزبروز بڑھتی مہنگائی اور بےروزگاری سے بے حال عوام کی بھاری اکثریت کے لئے وزیراعظم کے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کے تمام دعوئے سوکھے دھانوںپر پانی پڑنے کے مترادف ہیں کہ معیشت کی بحالی کے لئے حکومت نے جو مشکل فیصلے کیے تھے، ان کے مثبت نتائج رونما ہونے شروع ہوگئے ہیں۔ تین دن قبل گورنر اسٹیٹ بینک بھی اصلاحات کے نتیجے میں معاشی بہتری کے دعوئدار تھے، لیکن کروڑوں پاکستانیوں کے لئے یہ دعوے اسی وقت تک بے معنی ہیں ، جب تک معیشت کی بحالی کے ثمرات ان کے شب و روز کی تلخیوں میں حقیقی کمی کا سبب نہیںبنتے، اس کیلئے معاشی سرگرمیوں میں نجی شعبے کی بھرپور شرکت لازمی ہے، جبکہ فی الوقت کاروباری برادری اور حکومت کے درمیان سخت کشیدگی پائی جاتی ہے جس کے باعث معاشی سرگرمی میں اضافے کے بجائے کمی ہورہی ہے۔ ایک تازہ رپورٹ کے مطابق بجلی، گیس کی گرانی اور بھاری ٹیکسوں کے سبب صرف پشاور میں تین سو سے زائد یعنی پچیس فی صد فیکٹریاں بند ہوگئی ہیں اور دیگر بھی بندش کے خطرے سے دوچار ہیں۔اسی طرح مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں گاڑیوں کی فروخت میں73 فیصد کمی واقع ہوئی اور آٹو موبائیل کی پوری صنعت شدید بحران کا شکار ہے۔ کرپشن کے معاملے میں بھی ورلڈ اکنامک فورم نے پاکستان کی پوزیشن میں دو ردرجے کی گراوٹ ظاہر کی ہے جو ً فوری توجہ طلب معاملہ ہے۔ مہنگائی اور بیروزگاری ملک کی کم از کم 90فیصد آبادی کا اصل مسئلہ ہے،جبکہ کھانے پینے کی اشیاءسمیت تمام لازمی ضروریاتِ زندگی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوگیا ہے جو کسی حد پر رکتا دکھائی نہیں دیتا، نجی تعلیمی اداروں کی منافع خوری نے بچوں کی تعلیم کا جاری رکھا جانا محال بنادیا ہے۔ عام آدمی کے لئے معاشی بہتری کی باتیں اسی وقت بامعنی ہوں گی ،جب عام آدمی کے حالات زندگی میں بہتری آئے گی۔
اس امر میں کوئی شائبہ نہیں کہ اس وقت ملک کو شدید معاشی مسائل درپیش ہیں اور مالی بحران ملکی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے ،حکومت اس مالی گرداب سے نکلنے کے لیے سرتوڑ کوشش کر رہی ہے۔بقول مشیر خزانہ پاکستان کی معیشت سے متعلق بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو نے لگا ہے ،گزشتہ تین ماہ میں 340 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری آئی ، 5 لاکھ نئے ٹیکس دہندگان کو ٹیکس نیٹ میں شامل کیاگیا،جبکہ ریونیو میں 16 فیصد اضافہ ہواہے، رواں مالی سال تجارتی خسارہ 9 ارب ڈالر سے کم ہو کر 5.7 ارب ڈالر ہو گیا ہے ۔حفیظ شیخ کے پیش کیے گئے اعداد وشمار کے مطابق ملک میں معاشی بہتری کے نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں اور معاشی نظام درست پٹڑی پر چڑھ گیا ہے۔پاکستانی عوام اپنے ذہن پر زور ڈالیں تو یہی مشیر خزانہ جب آصف زرداری کے وزیر خزانہ تھے جب سندھ کے مشیر خزانہ تھے اس وقت بھی یہی باتیں بتاتے تھے ،یہی اعلانات میاں نواز شریف کے مشیر خزانہ اور دیگر وزراءکرتے رہتے تھے، لیکن ان کے دور کو بھی خراب کہا جاتا ہے۔ اب نیا پاکستان بن چکا ہے اور اعلانات اسی طرح کے ہو رہے ہیں ،جبکہ حقائق اس کے برعکس ہیں۔ حکمرانوں، وزیروں اور مشیروں کے پیمانے مختلف ہوتے ہیں، وہ قیمتوں کے اشاریے سرکاری خزانے کی مالی پوزیشن اور بین الاقوامی مارکیٹ سے موازنہ کرتے ہیں اور عوام کو اعداد و شمار کے گورکھ دھندے میں الجھا دیتے ہیں، یہی کام اب بھی کیا جارہاہے۔ اخبار میںجہاں مشیر خزانہ کی خبر لگی ہے کہ کارخانے چل پڑے ہیں ،اسی جگہ پر دوسری خبر لگی ہوئی ہے کہ بھاری ٹیکسوں، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے کی وجہ سے صرف پشاور میں 309 کارخانے بند اور مزدور بے روزگاری کا شکار ہو گئے ہیں، جس آمدنی میں اضافے کا دعویٰ کیا جارہا ہے وہ ٹیکس دہندگان پر دباﺅ ڈال کر زبردستی وصول کیے جانے والے پیسے ہیں،جن فائلرز یا ٹیکس دہندگان کی تعداد میں اضافے کی بات کی جارہی ہے، وہ بھی اس لیے بڑھ رہے ہیں کہ ہر قدم پر ان کے چیکوں اور وصولیوں میں کٹوتی کی جارہی تھی، چھوٹی سے چھوٹی ادائیگی بھی اگر 50 ہزار سے زیادہ ہو تو 6 فیصد ٹیکس دینا پڑ رہا تھا۔ اس سے بچنے کے لیے ٹیکس فائلرز کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ایک طرف مشیر خزانہ اور ایف بی آر کے چیئرمین معیشت میں بہتری کی خوش خبریاں سنا رہے ہیں ،جب کہ دوسری جانب جن لوگوں کی وجہ سے معیشت چل رہی ہے وہ سڑکوں پرسراپہ احتجاج ہیں۔ عام آدمی کو معاشی گورکھ دھندوںسے کوئی غرض نہیں ، وہ صرف اتنا جاننا چاہتے ہیں کہ حکومت نے اس کی زندگی کو سہل بنانے کے لیے کن سہولتوں کا اعلان کیا ہے، اشیائے خورونوش اور دیگر ضروریاتِ زندگی تک اس کی رسائی میں کیا آسانیاں پیدا کی گئی ہیں، یوٹیلیٹی بلز میں کتنی کمی کی گئی ہے۔اگر حکومت اسے تمام مطلوبہ چیزیں باآسانی فراہم کر دیتی ہے تو اس کے لیے حکومت کا معاشی نظام سب سے بہترین ہے اور اگر یہ چیزیں مہنگی ہوتی چلی جائیں اور ان کے حصول میں مالی دشواریاں حائل ہونے لگیں تو وہ حکومت کی ہر معاشی پالیسی سے بیزاری کا اظہار کرنے لگتے ہیں۔
بلا شبہ حکومت کی معاشی پالیسیوں پر عوام کو ہی نہیں،صنعت کاروں اور تاجروں کے طبقے کو بہت سے تحفظات ہیں، وہ حکومتی پالیسیوں سے زیادہ خوش نہیں، یہی وجہ ہے کہ بڑے تاجروں کا بڑا وفد آرمی چیف کے پاس کشمیر میں بھارتی مظالم کی شکایت لے کر نہیںگیا تھا،بلکہ حکومت کی بے سروپا معاشی پالیسیوں اور تاجر دشمن اقدامات کی شکایت کی تھی۔یہ بحث اپنی جگہ ہے کہ تاجروں کو آرمی چیف کے پاس جانا چاہیے تھا یا نہیں اور آرمی چیف کو براہ راست اس معاملے میں مداخلت کیوں کرنا پڑی، لیکن کچھ ٹھیک نہیںتھا تو شکایات کے انبار لگے ہیں،جبکہ حفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ تاجروں سے متعدد بار مذاکرات ہو چکے ہیں اور اب بھی جاری ہیں، چھوٹے تاجروں کے فکس ریٹ پر حکومت متفق ہے جب کہ شناختی کارڈ کوئی مسئلہ نہیں ہے، اس معاملے پر تاجروں کو مطمئن کر لیں گے۔ملک کے داخلی مسائل تو رہے ایک طرف، عالمی سطح پر بھی حکومت کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ہی حکومت کے لیے سردرد بنی ہوئی ہے جس نے دہشت گردی اور منی لانڈرنگ کی آڑ میں پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کر رکھا ہے اور وہ مسلسل دھمکیاں دے رہی ہے کہ اس کے مطالبات منظور نہ ہوئے تو پاکستان بلیک لسٹ بھی ہو سکتا ہے،جبکہ حکومتی وزرا بہتر اقدام کے باعث جلد ازجلد گرے لسٹ سے نکل آنے کے دعوئیدار ہیں۔ حکومت دعوے تو بڑے بڑے کر رہی ہے، لیکن عام آدمی کی سوچ اس کے برعکس ہے،وہ بڑھتی ہوئی مہنگائی، یوٹیلیٹی بلز میں اضافے سے پریشان ہے۔ اس کے نزدیک حکومت کی معاشی پالیسیاں تب ہی کامیاب تصور ہوں گی، جب اس کی زندگی میں مالی آسودگی آئے گی۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.