Latest news

لالیاں کی عوام اور سیاسی حکمران

لالیاں ضلع چنیوٹ کی چھوٹی سی تحصیل ہے جو 2 فروری 2009 کو چنیوٹ کی تحصیل کے طور پر منسلک ہوئی تھی۔ آبادی کے لحاظ سے تقریبا پانچ لاکھ افراد پر مشتمل ہیں جن میں زیادہ تر دیہاتی آبادی ہے۔جن کو بارہ سے زائد یونین کونسلز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ تحصیل لالیاں کا زیادہ تر حصہ دیہات پر مشتمل ہے۔ ایک اندازے کے مطابق تحصیل لالیاں 150 کے قریب دیہات پر مشتمل ہیے۔دیہاتی لوگ سادہ اور زیادہ تر اپنی روایات کے ہی تابے ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے یہاں کی اعوام سیاسی نمائندہ کے ہاتھوں سیاسی طور پر استعمال ہو جاتی ہیے جس کی وجہ سے سیاسی نمائندے سالوں تک حلقے کا راستہ ہی بھول جاتے ہیں۔
35 سال تک عزت ماب اعلی جناب مخدوم سید فیصل صالح حیات صاحب نے حکومت کی اور روایتی طور طریقے کو ہی سامنے رکھا۔ ان کی تبدیلی آپ بہتر جانتے ہیں۔6سال بطور ایم این اے عزت مآب اعلی جناب محترم غلام محمد لالی صاحب بھی گزار چکے ہیں۔ لیکن عوام آج بھی اپنے بنیادی مسائل کے حل کے لئے ہی پریشان ہے۔ کہیں پر سکول نہیں تو کہیں پختہ راستہ نہیں، اگر کسی علاقے کی قسمت پڑی میں سے کوئی کام نکل بھی آئے تو خدا کی پناہ وہ پانچ سال تک تو مکمل ہی نہیں ہوتا۔ اور سیاسی ایجنٹ ایک کام سو بار گنوا کے پانچ سالوں کے لئے ووٹ دبا لیتے ہیں ۔
تحصیل میں گیارہ سال میں تبدیلی صرف اشتہاروں میں تو ہے عملی طور غائب ہی نظر آئی۔۔۔۔
یہاں کے سیاسی نمائندے سیاسی ایجنٹوں کے ہی تابے ہوتے ہیں۔ جو کہ ہر دیہات میں پائے جاتے ہیں۔ سیاسی ایجنٹ ہی کی فرمائش پر کسی خوشی غمی پر حاضری لگانی ہوتی۔ ووٹ حاصل کرنے کا یہ ہی واحد طریقہ واردات ہے۔
علاقے کے مسائل کیا کیا ہیں ان کے حل کے لئے کیا کیا کرنا ہے حکومتوں سے بحث ومباعثہ کرکے کیسے اپنے حلقے اور ووٹروں کے بنیادی مسائل کے حل کے لئے فنڈز لینا ہے اور کیسے ان کے مسائل حل کروانے ہیں یہ کوئی نہیں جانتا۔ اگر کسی اعلی جناب کو مسلہ سنا بھی دیا تو ایک کان سے سنا دوسرے کان سے بڑی گاڑی میں براجما ہونے کے بعد نکال دیا۔۔
آج بھی لالیاں شہر میں سیوریج اور گندگی کےمسائل حل نہیں کیے جاسکے۔ عرصہ حیات بڑے لالی صاحب اور چھوٹے لالی صاحب بھی سیاست میں گزار چکے ہیں ان کے مطابق خدمت میں گزار چکے ہیں لیکن اپنے علاقے کو سنوارنے میں کسی کو کوئی سروکار نہیں کیونکہ دیہاتی ہیں سادہ ہیں ہر طرح سے مان جاتے ہیں لہزا نو ٹینشن۔۔ووٹ اپنا ہی ہے۔۔۔۔
سوال یہ ہے ہماری عوام وڈیرہ شاہی کے نظام کب چھوڑے گئی ؟؟؟؟
کب اپنے بنیادی مسائل سیاست دانوں اور حکومتی نمائندوں سے حل کروا پائی گئی؟؟؟
کب اپنے بنیادی ہیلتھ یونٹس کو بہتر کر پائی گئی؟؟؟
کب سیوریج جیسے بنیادی مسائل حل ہوں گئے؟؟؟
کب اپنے اسکولز کو بہتر کر پائے گئی؟؟
تحصیل لالیاں میں دس سے زائد سکولز ایسے ہیں جو صرف ایک کمرے پر مشتمل جن میں پڑھنے والوں طلباو طالبات کی تعداد کمرے کے سائیز سے زیادہ ہے کبھی جیتنے یا ہارنے والے سیاست دانوں نے اپنے سیاسی ایجنٹوں سے ان کا احوال پوچھا ہے۔۔۔؟؟؟
جن سیاست دانوں سے چھوٹی سی تحصیل لالیاں اور اس کے چند دیہات کے مسائل ہی حل نہ ہو پائیں وہ کس سیاسی جزبے سے اگلی دفعہ اپنے ووٹ کا حق رکھتے ہیں۔
الیکشن کے ٹھیک چار سال بعد سیاسی وعدے شروع ہو جاتے سادہ اور معصوم عوام پھر ان ہی وعدوں کے سہارے امید لگا لیتی ہے۔
ایک ہی جواب آتا ہے
لالی صاحب مخدوم صاحب ووٹ بس دواڈہ۔۔ عزت ماب خوش ہوتے اور اسی امید سے چلتے بنتے ہیں کہ ہون نہیں ہردے”
حلقے میں دو یا تین سیاسی حریف اپنی سیاسی پاور دیکھانے میں جتنا ذور لگاتے ہیں اتنا ذور اگر حلقے کے بنیادی مسائل حل کروانے میں بھی لگا دیں شاہد آخرت بھی سنور جائے اور دنیا بھی۔۔۔۔
بل آخر مجھے یہ خیال ذہن میں رکھ کر اظہار خیال کرنا پڑ رہا ہے کہ ہمارے سیاست دانوں کی کیس سیاسی تربیت ہے جو معصوم عوام کی سادگی سے کھیلنا ہی پسند کرتی ہے۔
قانون قدرت ہے جیسا کرو ویسا ہی پلٹ کے ملے گا۔
جو تخت پر بیٹھنے کا شوق رکھتے ہیں وہ ایک دن تختے پر بھی آجاتے ہیںؑلالیاں کے معصوم عوام ایک دن جاگ گئی تو تخت سے تختہ پر لانے میں دیر نہیں لگائی گئی۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ لالیاں کی عوام کو ان پانچ سالوں کے لئے ایم پی اے تیمور امجد لالی سابقہ اور موجودہ ایم این اے غلام محمد لالی اور سلیم بی بی بھروانہ جو کہ حالات کو دیکھتے ہوئے تبدیلی ٹرین میں جا کر بیٹھ توگئے ہیں اب اپنے علاقے کی بہتری کے لئے فنڈز لے سکیں گئے یا اگلی بار کے لئے پھر سیاسی ایجنٹوں کو غمی اور خوشی میں شامل ہونے کےلئے متحرک کریں گئے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.