اہم خبرِیں

پہلی قومی ادبی نعت کانفرنسـ 2019

پیغمبرِ اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مدحت، تعریف و توصیف، شمائل و خصائص کے نظمی اندازِ بیاں کو نعت یا نعت خوانی کہا جاتا ہے۔ عربی زبان میں نعت کے لیے لفظ ”مدحِ رسول” استعمال ہوتا ہے۔ اسلام کی ابتدائی تاریخ میں بہت سے صحابہ کرام نے نعتیں لکھیں اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ اولین نعت گو شعرا میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا ابوطالب اور اصحاب میں حسان بن ثابت پہلے نعت گو شاعر اور نعت خواں تھے۔ اسی بنا پر اُنہیں شاعرِ دربارِ رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی کہا جاتا ہے۔ بر صغیر پاک و ہند کے معروف نعت مصنفین میں احمد رضا بریلوی، الطاف حسین حالی،علامہ اقبال،، امیر مینائی،،ظفر علی خان،پیر مہر علی شاہ گولڑہ شریف،بہزاد لکھنوی،ماہر القادری،احمد ندیم قاسمی،حفیظ تائب،مظفر وارثی،ریاض مجید،عبد العزیز خالد،پیر نصیر الدین نصیر،ریاض حسین چودھری، خورشید رضوی اور امجد اسلام امجد کے علاوہ بیشمار عظیم نام شامل ہیں۔کتاب ”آوازِ دوست ” میں مختار مسعود لکھتے ہیں کہ نعت گوئی میں مولانا ظفر علی خان اس درجہ کمال تک پہنچے جو ان سے بہتر شاعروں کو نصیب نہ ہوا، دراصل نعت کے لئے کمال سخنوری سے زیادہ کمال جنوں کی ضرورت ہوتی ہے اور ظفر علی کے پاس وارفتگی کا بڑا وافر سرمایہ تھا۔مولانا ظفر علی خان کی نعت”وہ شمع اجالا جس نے کیا چالیس برس تک غاروں میں” آج بھی زبان زد عام ہے۔اچھے نعتیہ شعر صرف اسی دل پر القاء ہوتے ہیں جو حضرت ابو ہریرہ اور حضرت انس سے مروی حدیث کے مطابق رسول اکرم ۖ کی محبت میں کامل ہو جائے۔ ظفر علی خان عشق رسول ۖ میں اس مقام پر پہنچ چکے تھے جہاں عاشق رسول کو یہ کہنے کا حق پہنچتا ہے کہ ”دل جس سے زندہ ہے وہ تمنا تمہی تو ہو”۔ وزیرآباد میں واقع ان کے مزار پر غالباً 2012 میں حاضری کا شرف حاصل ہوا اور کافی دیر تک تحریک پاکستان کے اس کارکن کی خدمات ذہن میں جوش اور ولولہ پیدا کرتی رہیں۔
انسانی زندگی میں کچھ واقعات کے نقش لوح ذہن پر اس طرح ثبت ہوتے ہیں کہ ان کی یاد آنکھوں میں چمک، دل میں سکون اور روح کو جلا بخشتی ہے۔ بچپن سے جن شخصیات کے با رے میں آپ نے کتابوں میں پڑھا ہوتا ہے یا انہیں ٹی وی پہ دیکھا ہوتا ہے جب وہ آپ کے سامنے ایک بابرکت پروگرام میں موجود ہوں تو آپ بہت اچھامحسوس کر تے ہیں۔نعت فورم انٹر نیشنل اور محکمہ اوقا ف و مذہبی امور کے باہمی تعاون سے پہلی ایک روزہ قومی ادبی نعت کانفرنس،21 اپریل 2019 کو پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف قرآن اینڈ سیرت سٹڈیز کی شاندار عمارت واقع اپر مال لاہورمیں منعقد ہوئی تھی۔ایک سال گزرنے کے باوجود اس تقریب کا سحر ابھی باقی ہے۔ اس کانفرنس میں اندرون اور بیرون ملک سے معروف علمی، ادبی، مذہبی، روحانی، سیاسی اور صحافتی شخصیات کی ایک کہکشاں رونق افروز تھی۔ اور ہال سامعین سے بھرا ہوا تھا۔ اہم شخصیات میں قاری صداقت علی جن کا قرات کا پروگرام ہم بچپن میں دیکھتے تھے اس کے علاوہ قرآن پاک کی مختلف سورتوں کی تلاوت سے بھی قاری صداقت علی کی آواز دل کو سکون اور روح کو چین مہیا کرتی ہے جس میں سورہ رحمن خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ پروفیسر خواجہ محمد ذکریا (شعبہ اردو پنجاب یونیورسٹی)۔صوبائی وزیر اوقاف و مذہبی امور پیر سعید الحسن، ادارہ تعلیمات اسلامیہ راولپنڈی کے سید ریاض حسین شاہ،

” کعبے کی رونق،کعبے کا منظر۔اللہ اکبر اللہ اکبر” لکھنے اور پڑھنے والے سید صبیح الدین رحمانی۔ نعت خوانوں کی دنیا میں ایک عظیم نام اور ”ماں کی شان ” خوش الہانی سے پڑھنے والے مر غوب احمد ہمدانی،معروف نعت” یہ دنیا ایک سمندر ہے مگر ساحل مدینہ ہے” کے مصنف جناب زاہد فخری،تصوف کی دنیا کے عظیم نام واصف علی واصف کے فرزند صاحبزادہ کاشف محمود، ڈاکٹر سعید احمد سعیدی(اسلامک سکالر پنجاب یونیورسٹی) جو اپنے مخصوص شیریں انداز بیاں سے پہچانے جاتے ہیں ،ممتاز عالم دین علامہ محمدشہزاد مجددی جو کیو ٹی وی پر ” کشف المجحوب ”کا درس دیتے ہیں ، ضیاء الحق نقشبندی(چیئرمین تنظیم اتحاد امت پاکستان)، نعت خواں اختر حسین قریشی،نعت خواں محمد رفیق ضیاء بھی شامل تھے۔میں مضمون کی بساط کے باعث صرف چند شخصیات کا ذکر کر سکا۔ ان کے علاوہ بھی ملکی اور بین الاقوامی سطح پر معروف شخصیات نے اس تقریب میں شرکت کی۔ سرور حسین نقشبندی اس پہلی ادبی نعت کانفرنس کے روح رواں تھے۔ ان کے علاوہ سرور حسین نقشبندی کی خوبی یہ ہے کہ وہ نعت کہتے بھی ہیں اور نہایت خوش الحانی سے پڑھتے بھی ہیں۔ ماضی میں یہ دونوں اوصاف صرف مظفر وارثی میں تھے۔ آج بھی ان کی نعت” مرا پیغمبر عظیم ترہے” رمضان المبارک میں گونجتی ہیتو دل کے تار ہلا دیتی ہیں۔ اسی کانفرنس میں حفیظ تائب کے بھائی مجید منہاس سے ملاقات ہوئی تو حفیظ تائب کی نعتوں کی یادوں کا سلسلہ تازہ ہوگیا۔ سرور حسین نقشبندی حفیظ تائب اور ظہور احمد ظہوری کے فیض یافتہ ہیں۔ کالج کے زمانے سے میری پسندیدہ نعت ” خوشبو ہے دو عالم میں تیری اے گل چیدہ” کو پڑھنے کا صحیح حق سرور حسین نقشبندی نے ادا کیا ہے۔ ان کے مجلے”مدحت”نے پاکستان میں نعت کے فروغ کی تحریک کو مزید تیز کر دیا ہے اس کے علاوہ انہوں نے نعت سے متعلقہ کتب کی ایک لا ئبریری بنانے کا اعلان بھی کیا ہے۔ دوسری قومی ادبی نعت کانفرنس کے انعقاد کا انحصار کورونا کے باعث مستقبل کے حالات پر ہے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف قرآن اینڈسیرت سٹڈیز کے ادارے کو مزید فعال بنانے کی ضرورت ہے ۔ اسلامی تعلیمات کے فروغ کے سلسلے میں یہ ادارہ ایک عظیم مکتب کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ انسٹی ٹیوٹ کو حقیقی معنوں میں علم کا مرکز بنانا چاہئے اور ایسے افراد کو انسٹی ٹیوٹ کے لئے منتخب کیا جانا چاہئے جو اس میدان میں بہترین ہیں۔ اس عمارت میں ایک بڑی لائبریری کے علاوہ آڈیٹوریم، کانفرنس ہال اور دوسرے کئی دفاتر موجود ہیں۔ حکومت سے استدعا ہے کہ اسلامی تعلیمات کی ترویج کے لئے لاہور شہر کے وسط میں واقع ادارے کا بہترین استعمال کیا جائے۔ تاکہ ہماری نئی نسل اسلامی تاریخ سے آشنا ہو کر ملک کی سر بلندی کے لئے کام کر سکے۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.