پیرمحمد کرم شاہ الازہری

بدلنے سے حکم کی افادیت بدلتی رہتی ہے۔ بچہ چھوٹا ہوتا ہے تو والدین پیارمحبت کے ساتھ ساتھ سختی کے ذریعے اس کو غلط راستے پر چلنے سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس عمر میں حسب ضرورت سختی ہی بچے کے حق میں مفید اور بہتر ہوتی ہے۔ لیکن جب بچہ سن بلوغ کو پہنچ جاتا ہے اور اس کے احساسات جوان ہونے لگتے ہیں تو سختی اس کےلئے سنوارنے کی بجائے بگاڑنے کا باعث بن جاتی ہے۔ لہٰذا والدین بچے کے ساتھ سختی کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ اس لئے بچے کی تربیت کے لئے سختی کا طریقہ کار مفید ہے لیکن موقت ہے۔
طبیب اپنے مریض کا علاج مرحلہ وار کرتا ہے۔ پہلے مرحلے پر وہ جو علاج تجویز کرتا ہے وہ اس مرحلے کے لئے مفید ہوتا ہے۔ لیکن اسی علاج کو مستقل کر دینا نہ طبابت ہے اور نہ عقلمندی۔ طبیب ہر مرحلے کے بعد علاج کو تبدیل کرے گا اور یہی حکمت ہے۔
اب اگر کوئی فلسفی مزاج مریض، طبیب کی طرف سے نسخے میں تبدیلی پر یہ اعتراض جڑ دے کہ جناب ڈاکٹر صاحب! پہلے آپ نے یہ علاج تجویز کیوں نہیں کیا تھا۔ کیا اس وقت آپ کو اس بات کا علم نہ تھا جو اب آپ کے نوٹس میں آئی ہے، تو ایسا مریض کسی طبیب کے علاج سے صحت یاب کیسے ہوگا؟
یہ مثالیں ہم نے محض مسئلے کی وضاحت کے لئے پیش کی ہیں وگرنہ والدین اپنے بچے کی تربیت کے لئے اور طبیب اپنے مریض کے علاج کے لئے ہر مرحلہ پر وہ طریقہ اور نسخہ اختیار کرتے ہیں جو اس مرحلے کے لئے مفید ہو۔ انہیں اس بات کا تو علم ہوتا ہے کہ یہ طریقہ اور نسخہ وقتی ہے اور وقت آنے پر اس کو بدلنا پڑے گا۔ لیکن اس مرحلے کے خاتمے کے وقت کا تعین وہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنے تجربے کی بناءپر کرتے ہیں، وہ پہلے سے صحیح وقت کا تعین نہیں کرسکتے جبکہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ قدرت سے کوئی چیز اوجھل نہیں ہے۔ وہ مستقبل میں پیش آنے والی تبدیلیوں کو دیکھ رہا ہے۔ اور اس کے لئے پہلے سے وقت کا تعین مشکل نہیں۔
اس بحث سے یہ حقیقت منکشف ہوگئی ہوگی کہ نسخ کا مطلب یہ نہیں کہ شارع نے پہلے غلط حکم دے دیا اور جب اس کی غلطی کا پتہ چلا تو اس کو دوسرے حکم سے بدل دیا۔ بلکہ نسخ کا مطلب یہ ہے کہ ایک حکم جب تک مفید تھا قادر وحکیم رب نے معین مدت تک اس کو نافذ العمل رکھا اور جب اس کی مدت ختم ہوگئی تو اس کی جگہ نئے حکم کے نفاذ کا اعلان کر دیا جو وقت کے تقاضوں کے مطابق زیادہ مفید تھا۔
مستشرقین بعض ایسے مسائل کے(جاری ہے)


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.