Latest news

پاک چین اقتصادی تقابل میں کھولتی راہیں !

پاکستان اور چین کے تعلقات کوسمندر سے گہرے اور ہمالیہ سے بلند کہا جاتاہے ۔ اس کی وجہ ملک میں حکومتیں اور حکمران کی تبدیلی کا ان تعلقات پر کوئی منفی اثر نہیں پڑتا، یہ باہمی تعلقات اعتماد کے رقتصایدشتے سے مزین آگے بڑھتے جا رہے ہیں۔ یہ بات دونوں ملکوں کے مابین پہلے دن سے طے ہے کہ وہ ایک دوسرے کے قومی مفادات کے خلاف کسی علاقائی یا بین الاقوامی تحریک کی حمایت نہیں کریں گے۔ اس اتفاق رائے نے بحرانوں میں گھرے پاکستان کو ہمیشہ فائدہ پہنچایاہے،موجودہ مشکل حالات میں چین جیسا بے لوث دوست پاکستان میں بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ اس سرمایہ کاری کے نتیجے میں لاکھوں لوگوں کو روزگار ملنے کا امکان ہے۔ نئے کاروبار اور معاشی ترقی کے مواقع پیدا ہوں گے، توانائی اور زراعت کی صنعت میں انقلابی تبدیلیوں کا امکان ہے، باہمی تجارت اور صنعتی عمل کو جو فروغ ملے گا ،اس سے پاکستان میں خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے چھ کروڑ افراد کو غربت کے شکنجے سے اسی طرح نجات مل سکتی ہے ۔
اس وقت خطے کی تلاطم خیز اور تغیر پذیر صورتحال میں وزیراعظم عمران خان کا دورہ چین نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ امریکہ طالبان مذاکرات کا پھر آغاز ہورہا ہے‘ فریقین جلد حتمی معاہدے پر پہنچ سکتے ہیں جس سے مغربی بارڈر محفوظ ہونے کے امکانات ہیں۔ افغانستان میں امن کی بحالی کے خطے کے امن پر بھی اثرات مرتب ہونگے اور پاکستان میں دہشت گردی کے خاتمے میں مدد ملے گی۔ پاکستان میں دہشت گردی کے ذریعے سی پیک منصوبوں کو بھی سبوتاژ کرنے کی سازشیں رچائی جاتی رہی ہیں، بھارت کے پیٹ میں سی پیک کے درد سے پاک چین بخوبی آگاہ ہیں۔دشمن نے سی پیک معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی بہت سازشیں کیں،کچھ قوتوں کی طرف سے پاکستان اور چین کے مابین اختلافات پیدا کرنے کی کاﺅشیں بھی ہوئیں اور کچھ نے سی پیک کی تعمیر و تکمیل کے حوالے سے شکوک و شبہات بھی پیدا کیے گئے ،مگر پاکستان اور چین کی حکومتوں نے تمام شکوک و شبہات کو باہمی اعتماد سے رفع کیا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے چین روانگی سے قبل سی پیک اتھارٹی کے قیام کا فیصلہ کر کے دو طرفہ سرمایہ کاری کے لئے اگلے مرحلے کو کھول دیا ہے۔ چینی کمپنیوں کے سربراہوں سے ملاقات اور صدر زی جن پنگ کے ساتھ وفود کی سطح پر ہونے والی بات چیت میں وزیر اعظم کے اقدامات کی تعریف کی گئی۔ امید کی جا سکتی ہے کہ قومی معیشت میں بحران کی شکل میں دکھائی دینے والی کیفیت اور زرمبادلہ کے ذخائر پر دباﺅ نئی چینی سرمایہ کاری کا آغاز ہونے پر ختم ہو جائے گا۔ پاکستان اور چین کی قیادت نے متعدد نئے منصوبوں پر بھی اتفاق کیا ہے۔ یہ عمل اس لحاظ سے حوصلہ افزا ہے کہ معاشی ترقی کی رفتار تیز ہونے سے کئی مسائل حل ہونے لگیں گے۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ تحریک انصاف اپنے اقتدار کے آغاز سے ہی معیشت کو اپنے پاﺅں پر کھڑا کرنے اور مضبوط بنانے کی تگ ودو میں رہی ہے۔ اس میں اسے خاطرخواہ کامیابی ہورہی ہے ،کیو نکہ موجودہ حکومت کا سلوگن ایڈ نہیں ٹریڈہے۔ بیرونی سرمایہ کاروں کیلئے پاکستان میں انرجی کی دستیابی اور امن و امان کی صورتحال اطمینان بخش ہے جو بیرونی سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری پر راغب کرتی ہے۔ حکومت کی طرف سے سرمایہ کاری کیلئے پراسیس کو بھی آسان بنایا گیا ہے۔ عمران خان اور انکی ٹیم چینی تاجروں اور سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے آمادہ کرنے میں متحرک اور فعال نظر آئی ہے۔وزیراعظم عمران خان نے چینی کمپنیوں کے سربراہان سے ملاقات میں چینی صنعتوں کو پاکستان میں فروغ دینے کی یقین دہانی کرائی ،جس کے آئیدہ نتائج حوصلہ افزا نظر آئیں گے ،لیکن اس کا دارومدار سی پیک کی تکمیل سے جڑا ہے ،سی پیک پاکستان کی ترقی و خوشحالی کا ضامن اور خطے میں گیم چینجر کی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان اور چین دونوں اسکی تیزی سے تکمیل کیلئے پرعزم ہیں، چین نے اس پر کثیر سرمایہ کاری کررکھی ہے۔ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کچھ قوتوں کیلئے سوہان روح ہے۔ وہ قوتیں سی پیک کیخلاف سرگرم رہی ہیں اور کسی بھی حد تک جاسکتی ہیں، ان سے پاکستان اور چین کی قیادتوں کو خبردار رہنے کی ضرورت ہے جس کا عہد عمران خان کے دورہ چین کے دوران دونوں ممالک کی طرف سے کیا گیا ہے۔
بلا شبہ چین کے دورے کے موقع پر عمران خان کی پذیرائی نے ایک بار پھر ثابت کردیا کہ پاک چین دوستی اٹوٹ ہے۔ اس میں غلط فہمیاں در آنے کی کوئی گنجائش نہیں، اس دورے سے یقیناً پاکستان میں سرمایہ کاری آنے‘ سی پیک اور ون روڈ ون بیلٹ جیسے منصوبوں پر کام مزید تیز ہوگا جس سے پاکستان میں روزگار کے مواقع پیدا ہونگے اور معیشت مضبوط خطوط پر استوار ہوگی تو خطے بالخصوص پاکستان میں خوشحالی اور دفاع کے مضبوط ہونے کے مزید امکانات روشن ہونگے۔پا کستان اور چین کے مابین اقتصادی تقابل میں ہم چین سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں ،لیکن ہمیں اپنی اقتصادی تاریخ سے بھی کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے ،اس وقت ہمیں ایک ایسے اقتصادی ماڈل اور قابل قدر تھنک ٹینکس کی ضرورت ہے جو ملکی معیشت کے سفینہ کو بد حالی کے طوفانوں سے نکال کر خوشحالی کی سمیت گامزن کرسکے ۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.