Latest news

یا الٰہی یہ ماجرہ کیا ہے

کینیڈا میں سردی کا موسم عموماً اکتوبر سے اپریل تک رہتا ہے۔ یہاں رہنے والوں کی ہڈیوں میں سردی گھس جاتی ہے۔ چاہے آپ جتنے مرضی گرم کپڑے پہن لیں۔ انسان کچھ عرصے کے بعد تنگ پڑ جاتا ہے۔ ہر طرف برف ہی برف، ہڈیوں میں خون جما دینے والی سرد ہوائیں جب استقبال کو آتی ہیں تو بس پھر کچھ نہ پوچھیں، بلکہ نہ ہی پوچھیں۔
خیر یہ تو یونہی ایک ضمنی بات تھی جو میں یہاں کر گیا تاکہ اپنے آج کے کالم کی بنیاد بنا سکوں۔
وطنِ عزیز میں رہنے والے رشتے دار ، دوست احباب کا اکثر یہ خیال ہوتا ہے کہ جو کوئی کسی بھی باہر کے ملک میں رہتا ہے وہ وہاں کے مطابق ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ وہاں کا لباس ، کھانا وغیرہ۔ حالانکہ عموماً ایسا نہیں ہوتا۔ مجھے اس چیز کا پاکستان جا کر بارہا تجربہ ہوا۔ تو سوچا کے آپ سے تفننِ طبع کے لئے شیئر کروں۔
میں عموما گرمیوں کے موسم میں پاکستان جاتا ہوں تاکہ ہڈیوں میں گھ±سی ہوئی سردی کو نکال باہر کروں اور سچ پوچھیں تو اتنی سردی برداشت کرنے کے بعد گرمی اچھی لگنے لگی ہے۔ 2013 میں میں جنوری کے مہینے میں پاکستان گیا۔چند دنوں بعد شام کے وقت کھانے پہ ایک دوست کے ہاں گھر والوں کے ہمراہ جانے کا اتفاق ہوا۔ میں بذاتِ خود تکلفات میں پڑنے کا کبھی عادی نہیں رہا۔ لیکن بعض اوقات آپ دوستوں کی محبت میں انکار بھی نہیں کر پاتے۔
اب میرے ذہن میں یہی تھا کے کھانے میں سبزی، چاول ،چکن، دال وغیرہ ٹائپ کا ہی کچھ ہو گا۔ ابھی میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ خانسامہ ٹرے اٹھائے ڈرائنگ روم میں داخل ہوا اور ہمارے سامنے چار پیالوں میں سیوپ رکھ کے تو یہ جا اور وہ جا۔ اب میں نے کینیڈا میں رہتے ہوئے کبھی سوپ نہیں پیا اور نہ ہی اس سے کوئی رغبت رہی
حالانکہ س±وپ چاہے جس چیز کا بھی ہو بڑا اچھا ہوتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود بھی نہیں۔ ایک آدھ بار ضرور ٹرائی کیا اور بس۔
میں نے دوست کو کہا کہ یار میں جہاں سے آیا ہوں وہاں کبھی س±وپ نہیں پیا تو یہاں کیسے پیو¿ں گا؟ یہ سب کچھ میں اس لئے کہہ گیا کہ میری اس سے کافی Frankness ہے۔ خیر جیسے تیسے میں س±وپ پی ہی گیا۔ خیال تھا کہ آگے کھانا ہو گا تو چلو میزبان کے لئے ہی سہی۔ کھانے کی میز پہ پہنچے تو چائنیز فوڈ، Noodles ، پیزا،سلاد وغیرہ کو اپنا م±نتظر پایا۔ دوست کہنے لگا کہ آج سوچا کے مکمل طور پہ فارن ڈیشز کھائی جائیں۔ میں نے ا±سے کہا کہ یار میں تو یہ سوچ رہا تھا کہ اپنے روائتی کھانے ہوں گے مگر یہاں تو مناظر ہی کچھ اور ہیں۔ بہرحال اب کیا کرتے میزبان نے جو آگے رکھا تھا وہ تناول کرنا پڑا۔
اِسی طرح چند سال قبل پاکستان میں تھا تو کالج کے چند دوستوں سے ملاقات ہوئی ایک روز طے پایا کہ اکھٹے کھانا کھاتے ہیں۔ پروگرام بنا کہ جیل روڈ پہ واقع میکڈانلڈ پہ لنچ کرتے ہیں۔ میں نے ا±ن سب کے آگے ہاتھ جوڑے کہ خدا کا واسطہ کسی نان چنے والے ہوٹل پہ چلو میں نے روائتی کھانا کھانا ہے۔ ا±ن میں سے ایک کہنے لگا یار تمہاری عزت افزائی میں تمہیں اچھی جگہ لے جا رہے ہیں اور ت±م ہو کہ نان چنے والے ہوٹل کی بات کر رہے ہو۔ بہرحال میں نے انہیں زبردستی نان چنے کھانے پہ مجبور کر تو دیا مگر سوائے میرے اور سب نے بادلِ نخواستہ ہی کھائے۔
ہم یہاں میکڈانلڈ مجبوراً کھاتے ہیں جب گھر میں کچھ نہ پکا ہو۔ میکڈانلڈ کے فوڈ کو یہاں Junk food کہا جاتا ہے۔ لیکن پاکستان میں میکڈانلڈ کھانا سٹیٹس سمبل خیال کیا جاتا ہے۔
اِسی طرح مجھے ایک دوست نے بتایا کہ میں اپنے بچوں کو مہینے میں ایک بار کے ایف سی ضرور کھلاتا ہوں۔ چھوٹے بیٹے کی سالگرہ بھی اس بار میکڈانلڈ میں منائی تھی۔ کیونکہ ا±س کی ضد تھی کہ باقی دوستوں کی سالگرہ بھی وہیں منائی گئی تھی۔
یہ سب باتیں شیئر کرنے کا مقصد صرف یہ بتانا ہے کہ پاکستان میں اب لوگ بڑے تبدیل ہو کر رہ گئے ہیں۔ ا±ن کے نزدیک شاید میکڈانلڈ ، کے ایف سی پیزا ہٹ جانا اور مہمانوں کو لے جانا ہی فخر کی بات بن کے رہ گئی ہے اور اسکے ساتھ ساتھ سٹیٹس سمبل بھی۔ مجھے تو بڑی عجیب ہی لگی ہے اسطرح کی تبدیلی۔ یا پھر یہ کے وطن اور اپنے گھر والوں سے د±ور رہ کر شاید زیادہ حساس ہو گئے ہیں؟ یا شاید ان ملکوں میں بہت کچھ دیکھ کر سب نارمل لگنے لگا ہے؟ کچھ تو ہے بہرحال۔
بقول غالب ، یا الہی یہ ماجرہ کیا ہے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.