اہم خبرِیں
بھوک بڑھنے سے 12 ہزار افراد روزانہ ہلاک ہو سکتے ہیں، رپورٹ امریکی شہر کیلی فورنیا میں کورونا نے تباہی مچا دی پاکستان نیوی کے بحری بیڑے میں نئے اور جدید بحری جنگی جہازپی ای... معاشرے میں بگاڑ کے اسباب ”کشمیریوں کی زندگی کی بھی اہمیت ہے“ مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے پاکستان ترقی کا ہدف حاصل کرنے میں کامیاب، اقوام متحدہ کی رپورٹ... امریکی بحری جنگی جہاز میں دھماکا، 21 افراد زخمی سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پرمیزائلوں سے حملہ دنیا بھر میں آج یومِ شہدائے کشمیر منایا جائے گا پاکستان فرانسیسی شعبہ زراعت اور شعبہ حیوانات کی مہارت سے استفا... میر شکیل الرحمان کی ہمشیرہ کے انتقال پر سی پی این ای کا تعزیت ... شمالی وزیرستان، پاک فوج کا آپریشن، چاردہشت گرد جہنم وصل گھوٹکی ٹرین حادثے کو پندرہ سال بیت گئے پاکستان میں کورونا کے 2 ہزار 521 نئے کیسز،74 اموات انگلستان کی پاکستان میں ڈھائی لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری آیاصوفیہ مسجد کی کہانی ” آپ ایسا کریں کہ آپ کل آ جائیں“ اسٹیٹ بینک کےقوانین کی خلاف ورزی پر 15 کمرشل بینکوں کو بھاری ... ایرانی سیبوں کی درآمد، قومی خزانے کو نقصان پہنچانے پر 22 درا...

اِک نظر اپنے گریبان میں

جہاں ہم اپنے معاشرے میں ترقی اور جدت کا بتاتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں وہیں پہ ہم معاشرے کی خامیوں اور خرابیوں کو بیان کرتے ہوئے صرف جھجھکتے ہی نہیں بلکہ اپنے گناہوں اور کرتوں پر پردو ڈالنے اور چھپانے کی کوششوں میں بھی مصروف ہیں۔ اس بات کا اندازہ ہم اپنے معاشرے اور اپنے ارد گرد اٹھنے بیٹھنے والے لوگوں کی عادات واطوار کی کئی ایک حقیتوں سے بھی لگا سکتے ہیں۔ جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی بھی سرکاری اہلکار ، وزیر ، افسر یا بیوروکریٹ ملکی اداروں کی تباہی کا رونا رو رہے ہوتے ہیں حالانکہ مذکورہ اداروں کی تباہی کی ذمہ داری بھی انہی افسران اور ملازمین پر ہی عائد ہوتی ہے جو کہ اپنے اداروں کو گِدھوں کی طرح نوچ نوچ کر کھا رہے ہوتے ہیں۔ سب سے پہلے کوئی بھی افسر اپنی پہنچ اور سلام دعا کی وجہ سے درجنوں سفارشی لوگوں کو سرکاری اداروں میں نوکریاں دلوا کر ادارے کے بوجھ کو کئی گنا بڑھاتا ہے پھر اسی ادارے پر آنے والی مالی مشکلات کا واویلا کرتا نظر آتا ہے۔ بیشتر سرکاری اداروں کے ملازمین سرکاری گاڑیاں ، سٹیشنری ، میڈیکل اور دیگر سہولیات کا استعمال نہایت ہی بے دردی سے کرتے ہیں۔ ان سہولیات کے استعمال کے وقت انہیں ذرا برابر بھی غریب ملک اور پسے ہوئے عوام کا خیال نہیں آتا جبکہ بعد میں اپنی ہی حکومت کو شاہ خرچ اور قوم کو بھکاری قوم کا درجہ دے دینا انکا روز مرہ کا معمول ہے۔
ہمارے ملک کے ڈاکٹر کروڑ پتی ہوگئے ہیں اور وجہ صرف اور صرف یہی ہے کہ سرکاری ملازمت کرنے والے ڈاکٹر سرکاری ہسپتالوں میں صرف ٹائم پاس کی تنخواہ لیتے ہیں جبکہ اپنا پرائیویٹ کلینک اور ہسپتال چلانے کے لیے نہ صرف رات گئے تک محنت اور تگ و دو کرتے ہیں بلکہ بھاری معاوضے اور فیسوں کی خاطر اپنے ہسپتال یا کلینک کو انٹرنیشنل معیار کے مطابق ڈھالنے کے لیے مہنگی سے مہنگی مشینری ، آلات اور اسٹاف بھی ہائر کرتے ہیں جسکی وجہ سے ہمارے ملک کے عوام کا سرکاری ہسپتالوں کے علاج پر سے اعتبار اس قدر اٹھ چکا ہے کہ ذرا سا بھی صاحب استطاعت بندہ سرکاری ہسپتال کا رخ تک نہیں کرتا کیونکہ اسے پتہ ہے کہ پہلے پرچی کے لیے لمبی قطار پھر ڈاکٹر کے انتظار میں گھنٹوں انتظار پھر اپنی باری کے لیے لمبا انتظار اور آخر میں ادویات اور ٹیسٹوں کے لیے پھر سے مہنگے پرائیویٹ میڈیکل اسٹور اور لیبارٹریوں میں ل±ٹنا پڑے گا اسی لیے بہتر ہے کہ کچھ فالتو پیسے لگا کر علاج کو شروع ہی پرائیویٹ ہسپتال سے کرایا جائے جہاں پر پیسوں کے استعمال پر علاج تو اچھا ہوجائے گا۔
ہمارے ہاں آئے روز مدرسوں اور مساجد میں امام مسجد اور قاری حضرات کے اسکینڈلز منظر عام پر آتے رہتے ہیں , جن کی ذمہ داری نوجوان نسل کی اخلاقی تربیت کرنا ہے وہ خود ہی اخلاقیات سے گِر جائیں گے تو پھر نوجوان نسل بڑے ہوکر عملی زندگی میں کیا کریں گے۔ جس معاشرے میں عورت کا گھر سے باہر نکلنا محال ہو ا±س معاشرے میں ہم خواتین کے حقوق کی بات کیسے کر سکتے ہیں ؟ ہمارے موجودہ معاشرے میں کمزور کو ہر کوئی دبانے کی کوشش کرتا ہے ، کوئی غریب عورت ہسپتال ، تھانے یا کسی جگہ اکیلی چلی جائے تو لوگوں کی ب±ری نظروں سے بچ نہیں سکتی۔ مزدور طبقہ لوگوں اور گھروں میں کام کرنے والی مجبور عورتوں کی کوئی عزت نہیں ہے ، پولیس والے اور سرکاری اہلکار بڑی گاڑی والوں سے ڈرتے ہیں جبکہ موٹرسائیکل والوں کو پکڑ پکڑ کر بیچ چوراہوں کے مارا پیٹا جاتا ہے ، مدرسوں میں پڑھنے والے بچوں کو لاوارث سمجھا جاتا ہے۔
جبکہ اوپر والا طبقہ اپنے بچوں کو مہنگے ترین سکولوں میں پڑھاتا ہے ،ہمارے معاشرے میں آج بھی لوگ جان لیوا بیماریوں کا علاج کرانے کی بجائے دم درود اور جعلی پیروں فقیروں کا سہارا لیتے ہیں نتیجتاً اپنی ساری جمع پونجی اور عزت سے بھی ہاتھ دھونا پڑتا ہے ، ہمارے غریب لوگ مزدوری کی خاطر ناجائز طریقوں اور دو نمبر اینجنٹوں کے ذریعے اپنے سارے خاندان کی کمائی بیرون ممالک جانے پہ صرف کر دیتے ہیں ، لوگ آج بھی پیسے ڈبل کرنے والے ڈبل شاہوں کا شکار ہورہے ہیں۔ ہمارا معاشرہ اس قدر تنزلی کا شکار ہے کہ شاطر لوگ سادہ لوح لوگوں کو موبائل پہ انعامات کے میسجز کر کر کے ل±وٹنے میں مصروف ہیں۔
سب سے بڑی اور اہم بات جو ان تمام برائیوں کی جڑ ہے وہ ہے ناخواندگی ، یعنی کہ جس قوم کو کھرے اور کھوٹے کی پہچان نہ ہو، جس قوم کو محب وطن اور مخلص سیاستدانوں کی سمجھ بوجھ نہ ہو ، جس قوم کو اپنے حکمرانوں کی اصل کارکردگی کی خبر تک نہ ہو ، جو قوم بار بار کرپٹ سیاستدانوں کو منتخب کر کے اسمبیلوں میں بھیجتی ہو ، جو قوم ایک دیہاڑی ، کھانے ، بریانی یا قیمے والے نان کی خاطر سیاستدانوں کے لیے سارا سارا دن نعرہ بازی میں گزار دیتی ہو ا±سے بھلا وقت کی اوقات کا کیا اندازہ ؟ جبکہ دوسری جانب قوم کو تعلیم و تربیت سے دور رکھنے کا سہرہ بھی انہی نام نہاد جعلی سیاستدانوں کو ہی جاتا ہے جو کہ پڑھے لکھے نوجوانوں کو بجائے آگے مزید پڑھانے کے قرضہ سکیموں اور قسطوں پہ ٹیکسیاں دینے کے پیچھے لگا کر تعلیم کی اہمیت کو ہی ختم کر دیتے ہیں۔ اس سے نقصان یہ ہوتا ہے کہ نئی آنے والی نسلیں پڑھائی کی جانب راغب ہی نہیں ہو سکتیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ جب پڑھ لکھ کر بھی ٹیکسی ہی چلانی ہے تو پڑھنے کا کیا فائدہ ؟ ہمارے عوام آج تک سیاستدانوں کا طریقہ واردات نہیں سمجھ سکے کہ عوام کا نام استعمال کر کے ہمارے وزیراعظم ، وزیر اعلیٰ ،وزیر اور مشیر کیسے اربوں روپے کماتے رہے ہیں ؟ کبھی کالی پیلی ٹیکسی اسکیم تو کبھی انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے ، کبھی آشیانہ ہاو¿سنگ سکیم کے ذریعے تو کبھی سستی روٹی کے ذریعے ، کبھی لیپ ٹاپ کے نام پر تو کبھی صاف پانی کے نام پر عوام کو بے وقوف بنانے کا سلسلہ جاری رہا اور عوام “ آوے ہی آوے “ کا نعرہ لگاتے رہے اور ل±ٹتے رہے۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.