Latest news

ہاتھوں میں ہاتھ دینے کی ضرورت

اس میں کوئی شک نہیں کہ مہنگائی بڑھ رہی ہے اور نئے نئے ٹیکس عائد کیے جا رہے ہیں مگر ایسا آنے والے وقت میں بہتری لانے کے لیے ہے یہ کہنا ہے پی ٹی آئی کے بعض عہدیداران کا لہٰذا عوام کو چند ماہ انتظار کرنا ہو گا کیونکہ عمران خان کی نیت ٹھیک ہے یہ الگ بات ہے کہ ان کے گرد کچھ ایسے لوگ بھی براجمان ہیں جو عوامی مسائل میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے یا انہیں ان کا ادراک نہیں جس کی وجہ سے لوگوں میں چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں مگر آخر کار جب حالات ان کی توجہ مبذول کرائئیں گے تو وہ طوعاً و کرہاً کچھ سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے کیونکہ یہ طے ہے کہ عوام خوشحال و آسودہ حال ہوں گے تو وہ قومی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکیں گے اور جو مسائل بیرونی ہیں ان کے حل کے لیے آگے آئیں گے وگرنہ وہ نیم دلانہ متحرک ہوں گے خیر امید ظاہر کی جا رہی ہے کچھ تجزیہ نگاروں کی جانب سے بھی کہ آنے والے مہینوں میں کچھ نہ کچھ بہتری ضرور آئے گی کیونکہ اس وقت جو عوام کے ساتھ گرانی آکاس بیل چمٹی ہوئی ہے وہ ان سے علیحدہ ہو جائے گی جس سے وہ سکون محسوس کریں گے اور پھر باقاعدہ سہولتوں اور آسانیوں کے حصول کا سلسلہ شروع ہو جائےگا۔
حزب اختلاف اور اس کے ہمدرد دانشور و لکھاری اس تصور کو نہیں مان رہے وہ کہتے ہیں کہ یہ حکومت کبھی بھی عوام کو کوئی ریلیف نہیں دے سکے گی اسے صرف اور صرف پیسا اکٹھا کرنا ہے اور اپنے ساتھیوں کی خدمت کرنا ہے لہٰذا اس کے اس طرز عمل سے لوگوں کا حال خراب سے خراب تر ہوتا جا رہا ہے اور وہ بلبلا اٹھے ہیں ایک صاحب کہہ رہے تھے کہ سرکاری ہسپتالوں کو بھی غیر سرکاری بنایا جا رہا ہے کوئی بھی ٹیسٹ کرانا ہو اس کی فیس ڈیڑھ گنا کر دی گئی ہے دوائیں تو کم ہی ملتی ہیں۔ جو ملتی ہیں وہ انتہائی سستی اور غیر معیاری ہوتی ہیں۔
اوپر عرض کیا ہے کہ ابھی یقینا عوام کو تکالیف کا سامنا ہے اس کا اعتراف خود وزیراعظم بھی کرتے ہیں ان کے قریبی رفقاءکا بھی یہی کہنا ہے مگر وہ اچھے دنوں کا یقین بھی دلاتے ہیں۔ ویسے عام سی بات ہے کہ کوئی حکومت اپنے عوام کے ساتھ سخت رویہ کیوں اپنائے گی یعنی وہ کیوں خون نچوڑے گی کہ اسے اس سے مستفید بھی نہیں ہونا لہٰذا لگ رہا ہے کہ یہ دن ایسے ہی نہیں رہیں گے بدلیں گے عوام کو اذیتوں کی جگہ راحتیں ملیں گی لہٰذا حزب اختلاف کا محض پراپیگنڈا ہے اور اس کی خاص وجہ ہے۔ فی الوقت تو اسے حکومت کا ساتھ دینا چاہیے کیونکہ کشمیر کی صورت حال بے حد مخدوش ہے وہاں ظلم کی داستانیں رقم ہو رہی ہیں مودی سرکار واقعتا ہٹلر کی طرح ان پر ستم ڈھا رہی ہے ہر نوع کے مظالم کیے جا رہے ہیں۔ تادم تحریر وادی میں کرفیو لگا ہوا ہے ۔ بھوک کشمیریوں کو موت کے منہ میں دھکیل رہی ہے اگرچہ دنیا بھر میں کشمیریوں کے حق میں مظاہرے ہو رہے ہیں مگر مودی ٹس سے مس نہیں ہو رہا کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ مزید قتل و غارت گری کر کے اقوام متحدہ کی راہ ہموار کر رہا ہو کہ وہ یہاں آ کر ڈیرہ جما لے اور پھر سبھی دیکھتے رہ جائیں؟
بہرحال حزب اختلاف کو موجودہ صورت حال کے پیش نظر حکومت کو مضبوط کرنا چاہیے کیونکہ ملک کو اندرونی استحکام کی اشد ضرورت ہے تب ہی ہم پوری قوت سے بیرونی جارحیت کا مقابلہ کر سکیں گے۔ یہ درست ہے کہ وہ حزب اختلاف حکومت کو کہہ رہی ہے کہ وہ اس کے پیچھے کھڑی ہے مگر اس کے خلاف بیان بازی اور کسی تحریک کے اعلانات سے اس کے اس مو¿قف کو تقویت نہیں پہنچ رہی لہٰذا وہ تھوڑا صبر کرے صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے کوئی قدم اٹھائے۔ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ وہ حکومت پر تنقید نہ کرے یہ اس کا بنیادی حق ہے مگر مجموعی تاثر اتحاد اجتماعی کے خلاف نہ ہو۔ رہی بات اس کی ایک سالہ کارکردگی کی اس دوران وہ اپنی سمت کا تعین ہی کر سکی ہے اگرچہ اسے اس میں وقت کچھ زیادہ لگا ہے جس کی بنا پر معیشت کو تھوڑا بہت نقصان بھی پہنچا ہے مگر عین ممکن ہے آگے چل کر وہ اس کا ازالہ کرلے لہٰذا بھی یہ کہنا کہ وہ ناکام ہو گئی ہے جائز نہیں جیسا کہ پہلے بھی کہا ہے کہ ٹھیک چھ ماہ بعد اس کی کارکردگی کو دیکھا جا سکے گا کیونکہ اس نے جتنے ٹیکس لگانا تھے لگا لیے، مہنگائی کا گراف بلند کرنا تھا کر لیا یہاں میں یہ بھی بتاتا چلوں کہ وہ مہنگائی پانچ فیصد کرتی ہے تو تاجر و دکاندار حضرات پچاس فیصد کر دیتے ہیں اور ہنستے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ نیا پاکستان ہے اور تبدیلی آ گئی ہے۔ ایسے لوگوں کا اب کیا کیا جائے۔

انہیں پچھلے دور کی عادتیں پڑی ہوئی ہیں کہ اپنی مرضی کرو انہیں کس نے پوچھنا ہے۔ لہٰذا اس میں قصور حکومت کا نہیں مگر اسے ہی ہدف تنقید بنایا جا رہا ہے۔ اس پر حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنی پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو فعال کرے کارروائی کی حد تک فعال بھی ہیں مگر میں ایسے علاقوں کی نشاندہی کر سکتا ہوں جہاں دکاندار غریب عوام کی کھال اتار رہے ہیں۔ اس طرح جعل ساز بھی فعال ہیں اور محکموں کے اہلکاروں کی مٹھی گرم دیتے ہیں اور کھلے عام اپنا دھندا جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بجلی چور ہوں یا گیس چور پہلے کی طرح موجیں کر رہے ہیں ایک نیٹ سروس والے ہیں (سارے نہیں) جو منہ مانگے پیسے وصول کرتے ہیں مگر دو دو دن نیٹ بند بھی کر دیتے ہیں یا پھر کئی کئی گھنٹے بند رکھتے ہیں پوچھنے پر کہتے ہیں کہ پیچھے سے ایسا ہے ۔ پھر وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ عمران خان نے جو ٹیکس لگایا ہے یہ اس کی وجہ سے ہے؟ یوں حکومت کو موردِ الزام ٹھہرایا جا رہا ہے جبکہ عوام خود صورتحال خراب کر رہے ہیں اور حزب اختلاف کو موقع مل رہا ہے حکومت پر تنقید کے تیر برسانے کا لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ وہ قانون کو حرکت میں لائے کم از کم ایسے ”مسائل“ سے اپنی بہتر حکمت عملی سے نجات حاصل کرے مگر نجانے وہ کیوں ابھی تک آہنی ہاتھ کو متحرک نہیں کر رہی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ وہ عوام کی فلاح و بہبود کے لیے انقلابی اقدامات کرے بصورت دیگر عوام کو لوٹنے والوں کے حوصلے بلند سے بلند تر ہوتے جائیں گے جو اس کی راہ میں کانٹے بکھیرنے کے مترادف ہو گا جنہیں چنتے چنتے دیر ہو جائے گی اور پھر پانی پلوں کے نیچے سے بہہ چکا ہو گا لہٰذا عرض ہے کہ وہ ہر طرح کی مصلحت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے انتظامی ڈھانچے میں ردو بدل لائے جس میں رشوت اور سفارش سرایت کر چکی ہے یہ کام برسوں میں نہیں ہونا چاہیے اسے ایک دو ماہ میں مکمل کیا جائے ۔بہر کیف حکومت کو جہاں مسئلہ کشمیر سے نمٹنا ہے وہاں اسے ایسے افراد کو بھی کٹہرے میں لانا ہے جو نفرت کو جنم دینے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں جو موجودہ صورت حال کے پیش نظر کسی بھی طرح سے درست نہیں کہ اس وقت عوام کا حکومت کے ساتھ مل کر گھورتی آنکھوں کا مقابلہ کرنا ہے اور وہ اسی صورت ممکن ہے جب عوام کے دل میں حکومت کے لیے اچھے جذبات ہوں گے لہٰذا فی الفور حکمران انتظامی مشینری کو ہدایات جاری کریں کہ عوام مخالف عناصر کو قانون کے شکنجے میں لایا جائے تا کہ بدگمانیاں نہ پیدا ہونے پائیں اتحاد و یگانگت کی ایک فضا قائم ہو جو ہمیں مضبوط سے مضبوط تر بنا دے!


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.