Daily Taqat

عوامی سے قومی لیڈرعمران خان ! (1)

پاکستانی عوام اچھے دنوں کی آس میں عشروں سے قربانیاں دیتے دیتے اس حالت کو پہنچ چکے ہیں کہ غریبوں کیلئے جسم و جاں کا رشتہ برقرار رکھنامشکل ہوچکا ہے، یہ بات اہم ہے کہ قوم کو ان اقدامات اور فیصلوں سے آگاہ کیا جاتا رہے جو اس کے رہنما اس کے حال اور مستقبل کے حوالے سے کررہے ہیں، عوام کو اعتماد میں لینا ایسا عمل ہے جس سے مصائب و مشکلات جھیلنے والوں کی امید کی ڈور قائم رہتی ہے، یہی وجہ ہے کہ جمہوری نظام کے دعویدار ملکوں میں حکمراں اپنی پالیسیوں اور اقدامات پر عوام کو اعتماد میں لینے کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں۔ پارلیمانی جمہوری ملکوں میں وزرائے اعظم کی پارلیمان میں موجودگی کو جمہوری روایات کے استحکام کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور یہ توقع بھی کی جاتی ہے کہ وہ براہ راست خطاب کی صورت میں قوم کو حالات حاضرہ اور حکومتی اقدامات کے بارے میں آگاہ کرتے رہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں قوم کو سعودی عرب کے دورہ کے نتائج سے آگاہ کرنے اور پاکستان کی سیاسی و اقتصادی صورت حال پر روشنی ڈالنے کے علاوہ یہ بات بھی کہی کہ یمن میں حوثی باغیوں اور سعودی عرب کی زیر قیادت بین الاقوامی اتحاد کے درمیان جاری جنگ میں پاکستان ثالث کا کردار ادا کرے گا۔ اس بیان سے اس تاثر کی واضح طور پر نفی ہوگئی جو یمنی حوثیوں اور سعودی عرب کی لڑائی میں سابق آرمی چیف راحیل شریف کے سعودی قیادت میں بننے والے بین الاقوامی اتحاد کی سربراہی سنبھالنے کے بعد پیدا ہوا تھا، جبکہ پاکستان کی سابقہ پارلیمینٹ کی ایک مشترکہ قرارداد میں واضح کیا گیا تھا کہ وطن عزیز مذکورہ لڑائی میں فریق نہیں بنے گا ،بلکہ ثالث کا کردار ادا کرے گا۔ پاکستان کے لئے یہ لڑائی اس اعتبار سے انتہائی حساس ہے کہ یمنی حوثیوں کے پیچھے بھی ایک دوست ملک اور دوسری طرف سعودی عرب ہے۔ دونوں ہی مشکل وقتوں میں پاکستان کے ساتھی رہے ہیں۔ وزیر اعظم پاکستان اگر عالم اسلام کے دونوں اہم ملکوں کو قریب لانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو اس سے مسلم دنیا کا اتحاد مضبوط ہوگا۔ یہ کام بظاہر مشکل نظر آتا ہے ،مگر عمران خاں دیگر ممالک سے رابطوں کے ذریعے اس مشن کو مکمل کرسکے تو یہ ایک بڑی کامیابی اور عالمی امن کی غیرمعمولی خدمت ہوگی۔
یمن وار سے اسلامی دنیا دو حصوں میں بٹی نظر آتی ہے، ایک بڑا حصہ سعودی عرب کے ساتھ اور کچھ ممالک ایران کی قیادت میں صف آراءہیں۔ مسلم ممالک کی گروپ بندی نے کئی ممالک کو آزمائش میں ڈال دیا کہ وہ کس کے ساتھ کھڑے ہوں،یمن میں خواتین اور بچوں سمیت ہزاروں بے گناہ انسانوں کا خون بہہ چکا ہے،اس نازک وقت میں کوئی لیڈر خون کی بہتی ندیوں کے سامنے بند باندھنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو یہ کارخیر اور مسلم امہ کی شیرازہ بندی اور اسلام کی نشاثانیہ کے احیاءکی طرف پہلا قدم ہوگا۔ عمران خان ثالثی کیلئے پرعزم ہیں‘ عالم اسلام کی پہلی ایٹمی قوت ہونے کے ناطے پاکستان کا مسلم ممالک میں ایک نام اور احترام ہے جو پاکستان کے کلیدی کردار کا فطری طور پر تعین کرتا ہے۔ مسلم ممالک کے گروپوں کے قیادت کرنیوالے ممالک ایران اور سعودی عرب کو آج عالمی دباﺅ کا سامنا ہے۔ وہ اپنے اپنے طور پر خود کو کسی حد تک تنہاءمحسوس کرتے ہیں۔ سعودی عرب کو اپنے صحافی کے قتل پر مشکلات درپیش ہیں ،جبکہ امریکہ ایک بار پھر ایران پر پابندیوں کیلئے سرگرم ہے۔ ان حالات میں ایران اور سعودی عرب کیلئے پہلے سے کھولے گئے محاذوں پر جمے رہنا مشکلات میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔
سعودی عرب کی طرف سے عندیہ دیا جانے پر ہی عمران خان ثالث کا کردار ادا کرنے کیلئے پرعزم دکھائی دیتے ہیں، ایران کی طرف سے بھی سعودی عرب کے ساتھ پہلی جیسی سخت مخالفت دیکھنے میں نہیں آرہی ہے۔ پاکستان نے سعودی عرب کو سی پیک میں شمولیت کی دعوت دی تو ایران کی طرف سے شدید مخالفت کا خدشہ تھا، مگر ایران نے اسکی بالکل مخالفت نہیں کی،بلکہ دونوں سی پیک میں شامل ہیں۔ ایران ایک بار پھر عالمی پابندیوں کی زد میںاورسعودی عرب کو دباﺅ کا (جاری ہے)
سامنا ہے،ترکی پر امریکہ اور اسکے حامی اعتماد نہیں کررہے،جبکہ پاکستان کو دھمکیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ان حالات کے تناظر میں کسی بھی دور سے بڑھ کر مسلم امہ کی وحدت‘ یکجہتی اور یگانگت کی ضرورت ہے ، آج جن مشکلات و مصائب اور چیلنجز کا سامنا ہے‘ ان سے متحد ہو کر ہی نبردآزماءہوا جا سکتا ہے۔ مسلم ممالک نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو مقبوضہ کشمیر اور فلسطین کے مسائل ایک طویل عرصہ سے اپنی جگہ پر ہیں‘ ان میں افغانستان‘ عراق‘ لیبیا اور شام کے مسائل کا اضافہ لمحہ فکریہ ہے۔
عمران خان جس طرح قرضوں سے نجات پانے کی کوشش کررہے ہیں‘ اس میں وہ کامیاب ہوتے دکھائی دے رہے ہیں‘ وہ ملک کو ترقی و خوشحالی کی منزل سے ہمکنار کرنے کا عزم و ارادہ رکھتے ہیں۔ سعودی عرب سے ریلیف پیکیج نے انکے اعتماد میں اضافہ کیا ہے، اس سے انکے ملک و قوم کو ترقی و خوشحالی کی منزل سے ہمکنار کرنے کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے جو ان کیلئے ہمیشہ کی نیک نامی کا باعث ہوگا۔اس حقیقت سے انکار نہیں کہ کیا جاسکتا کہ جب سسٹم کودرست کرنے کے لئے سخت اقدامات کیے جاتے ہیں تو ایک بار مشکل دور سے گزرنا پڑتا ہے ،حکومت ملکی نظام کی سمت درست کرنے میں کامیاب ہوتی نظر آرہی ہے ،امید ہے کہ ملک ترقی و خوشحالی کی جانب گامزن ہو جائے گا۔اس کے ساتھ ساتھ اگر عمران خان مسلم امہ کو متحد کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو ایک عوامی لیڈر کا بہت تیزی سے قومی لیڈر کا کامیاب سفر بن جائے گا ،اُن کاسرکردہ عالمی لیڈروں میں شمار ہوگا اور ان کو بجا طور پر فہم و فراست سے معمور قومی لیڈر بھی قرار دیا جاسکے گا۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »