نقارخانے میں طوطی کی آواز

کئی دنوں کے بعد ہاتھ میں قلم تھاما ہے کہ اُداسی کی گرفت دل و دماغ پر بہت چھائی رہی اب بھی وہ کیفیت برقرار ہے مگر زیادہ نہیں لہٰذا سوچا جب دم ہے تو کچھ لکھا جائے اور بولنا پڑے تو بولا جائے کیونکہ اپنے حق کے لیے آواز تو بلند کرنا پڑتی ہے چاہے کوئی سنے یا نہ سنے؟
اگرچہ اس وقت صورت حال ہر طرح سے خراب ہے بلکہ خراب ترین ہے کہ ایک طرف معاشی حالت دگر گوں ہے تو دوسری جانب جنگ کی باتیں ہو رہی ہیں۔ دنیا کی دو بڑی طاقتیں آمنے سامنے آ چکی ہیں کہا جا رہا ہے کہ تیسری اور آخری عالمی جنگ اب اس خطے میں لڑی جائے گی مگر لوگ ہیں کہ ان سب چیزوں کی پروا کیے بغیر اپنے اپنے کاموں میں مگن ہیں وہ تو کورونا کے عروج کے دنوں میں بھی لاپروائی کے مظاہرے کرتے رہے ہیں۔ خیر وہ سوچیں گے بھی تو کیا ہو گا کیونکہ یہاں اُن کی شنوائی کوئی نہیں ان کی رائے کا احترام کوئی نہیں کرتا۔ ہم جو لکھنے والے ہیں ان کی ترجمانی کرتے چلے آئے ہیں ان کے جذبات و احساسات کو اہل اقتدار تک پہنچانے کا فریضہ ادا کرتے آئے ہیں مگراس کا کچھ اثر نہیں ہوتا لہٰذا ایک لاوا پک چکا ہے ابلتا کب ہے اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا؟ یہ طے ہے کہ وہ ابلے گا ضرور آخر کب تک کوئی صبر کر سکتا ہے اور خاموش رہ سکتا ہے لہٰذا اہل اختیار کو انصاف کے ترازو کو مضبوطی سے تھام لینا چاہیے اسی طرح جو لوگ ایک دوسرے کے ساتھ ظلم و زیادتی کر رہے ہیں اور اُن کی جمع پونجی پر ہاتھ صاف کرنے کے منصوبے بنا رہے ہیں انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اب اس کا ردعمل شدید ہو گا کیونکہ وہ اپنے بچوں کو معاشی طور سے کمزور نہیں دیکھ سکتے لہٰذا ہوشیاریاں، جالاکیاں اور سینہ زوریوں کا وقت گزر گیا!
چلئے! آگے بڑھتے ہیں بے چینی کی لہر نے ہر کسی کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے مہنگائی ہو یا ناجائز منافع خوری اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے دیہاڑی دار بے حد پریشان ہیں تنخواہ دار اُن سے بھی زیادہ مگر افسوس کہ کوئی نظام ایسا نہیں کہ جو اُن کی پریشانیوں کو دور کر سکے۔
ہر سمت آپا دھاپی کا منظر دکھائی دیتا ہے۔ دھوکا، منافقت ،ہیرا پھیری ، دھونس اور دھاندلی ہی نظر آتے ہیں چھینا جھپٹی عام ہے کچھ لوگ تو باقاعدہ اپنے خونی رشتوں کو اپنے ستموں کا نشانہ بنائے ہوئے ہیں ان کی دولت یا جائیداد پر نظریں جمائے ہوئے ہیں کہ کب وہ آنکھیں بند کریں تو وہ اُسے ہتھیا لیں ایسے معاشرے میں زندگی سسکے گی بھی اور ترپے گی بھی… بات پھر وہی ہے کہ اہل اقتدار و اختیار کیا کر رہے ہیں انصاف دلوانے والے ادارے اور محکمے کیا کر رہے ہیں انہیں کیوں احساس نہیں کیوں انہیں اپنا فرض یاد نہیں۔
اسی لیے تو مجھے اپنے گاؤں دس چک میں گزارا ہوا وقت رہ رہ کر یاد آتا ہے کہ وہاں سادہ زندگی تھی سادہ لوگ تھے مکاریاں اور عیاریں آج کی طرح نہیں تھیں ۔ آپس میں مل جل کر رہنے کا رواج تھا۔ دُکھ درد میں دلی طور سے شریک ہوا جاتا فضا شفاف ہوا صاف اور لہلہاتی فصلیں دماغوں کو تازگی دیتے مگر آج وہ مناظر نظر نہیں آتے۔ میں سوچتا ہوں کہ کاش میں اپنا گاؤں نہ چھوڑتا۔ گاؤں چھوڑنے کے فیصلے نے مجھے تو رلا دیا ہے یوں کہہ لیجیے دربدر کی ٹھوکریں کھا رہا ہوں۔ بچوں کا کوئی مستقل ٹھکانا نہیں پس انداز کیا کچھ نہیں ریلوے کی نوکری کی تو اپنے پاس رکھا کچھ نہیں مگر اب کون ہے جو اس بات کو سمجھے اجتماعی مزاج ہی جب بدل جائے تو کوئی کسی کا نہیں ہوتا۔
بہرحال میں پر امید ہوں کہ برے دنوں کے بعد اچھے دن بھی آتے ہیں ہماری سماجی ابتری کل ضرور بہتر ہو جائے گی۔ سینہ زوروں کے ہاتھ پکڑنے والے آجائیں گے زندگی کو انگارا بنانے والوں کے گریبان مضبوط ہاتھوں میں ہوں گے!
اب مزید آگے بڑھتے ہیں!
وائرس اپنے انجام کی طرف بڑھ چکا ہے چند روز کے بعد مکمل طور سے اس کی خوفناکی ختم ہو جائے گی مگر یہ جو جنگی ماحول بن گیا ہے اس کا کیا کیا جائے۔ دستہ بستہ عرض ہے تمام بڑی طاقتوں سے کہ وہ انسانیت کا سوچیں اسے تڑپائیں نہیں اس کے آنسو نہ نکلوائیں وہ تو پہلے ہی سسک رہی ہے اور تم لوگ کیسے مہذب ہو جن کی توجہ اس طرف ہوتی ہی نہیں۔ انسانوں کو بھوک ، بیماری، جہالت اور ذلت سے بچانے کے لیے میدان عمل میں آؤ یہ جنگی بیڑے یہ جدید طیارے اور طرح طرح کے جو ہری ہتھیار بنانے کے بجائے لوگوں کو سہولیتیں اور آسانیوں فراہم کرنے والی ٹیکنالوجی ایجاد کرو اور اگر کر چکے ہو تو اسے عام کرو ہر کسی کے لیے آسان بنا دو مگر پھر ایک بار کہتا ہوں نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے لہٰذا دنیا ایک بہت بڑے تصادم کی جانب جا رہی ہے اس سے ہو گا یہ کہ تباہی ہر طرف پھیل جائے گی اور اذیت پسندی کے رجحان میں خوفناک اضافہ ہو جائے گا۔ حرف آخر یہ کہ شعور نے ترقی کر لی مگر وہ انسانوں کو بنیادی حقوق نہیں دے سکا۔ جو چند ایک کو میسر بھی تھے۔ وہ بھی چھین لینے کے در پے ہے لیکن محکوم لوگوں میں بھی یہ سوچ پیدا ہو رہی ہے کہ اپنا حق طلب کرنے سے نہیں ملتا لہٰذا وہ احتجاج کے راستے پر آ چکے ہیں۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.