Latest news

میری قائد اور چارپائی

چند روز قبل میری قائد مریم صفدر نے اپنی جیل میں گزرے وقت کی داستان بیان کی کہ وہاں انہوں نے چوہوں والا کھانا کھایا، کپڑے دھوئے، برتن مانجے،اور تو اور چارپائی پر بھی سوئیں۔یوں تو میری قائد کیلیے چارپائیوں پر سونا کچھ نیا نہیں کیونکہ انکی لندن تو کیا پاکستان میں بھی کوئی پراپرٹی نہیں اور وہ باپ کہ گھر میں ایک چھوٹے سے کمرے میں چارپائی بچھا کر سوتی تھیں۔

ایسی جمہوریت کیلیے قربانی کسی کسی نے ہی دی، پاکستان بننے سے لے کر آج تک مریم صفدر جیسی لیڈر پاکستان میں نہیں پیدا ہوئیں، اس کا آپ کسی بھی ن لیگی سپورٹر سے پوچھ سکتے ہیں۔ یہ قربانی کوئی عام تو نہیں کیونکہ ہم سب مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے عام سے لوگ جنہوں نے پوری زندگی چارپائی کو حقارت سے دیکھا اور مخملی بستر،اے سی ،ٹی وی اور بڑے بڑے ہالوں والے کمروں میں سوتے رہے، کیا معلوم کہ چارپائی پر سونا کتنی بڑی جدو جہد ہے، ایسی جدوجہد کا تزکرہ جب بھی آئے گا تب تب میاں محمد نواز شریف اور میری قائد مریم صفدر اور اور انکا پورا خاندان دنیا بھر میں الحمد للہ سرخروہ ہوگا۔ کیونکہ اس خاندان کی قربانی کہ معترف تو اب پرانے لاہور کہ تھڑوں پر بیٹھا ہواہر وہ گلو بٹ ہے،اور گلو بٹوں سے اس کا اعتراف کروا لینا،بین الاقوامی لیڈر بنا دیتا ہے۔
بات اگر برتن مانجنے اور کپڑے دھونے تک رہتی تو اور تھی لیکن بات تو چارپائی تک جا پہنچی ، کیونکہ سابقہ دور جس میں میری قائد کہ والد محترم میاں محمد نواز شریف خادم وقت تھے۔ انہوں نے اپنے دور میں پاکستان کی ہر جیل کو وی آئی پی سیل میں بدل دیا ، جہاں پورے پاکستان میں بلا کسی تفریق کہ ہر قیدی کو ٹی وی،اے سی،موبائل، وائی فائی اور اور تو بیڈ تک لگا کر دیا۔اس سہولتوں کی فہرست میں تو وہ غلطی سے کلبھوشن کا نام بھی لیتے لیتے رہ گئے، پھر یاد آیا وہ غیر ملکی جاسوس ہے ۔لیکن جب بات اپنے سیل اور میری قائد مریم صفدر شریف کہ سیل کی آئی تو صاف سہولیات لینے سے انکار کیا کہ جب تک اپنی بے گناہی ثابت نہ کرلیں کوئی سہولت نہ لیں گے۔

ویسے بھی جاتی امراءاور اس جیل میںکوئی خاص فرق تو نہ تھا۔ لیڈر عوام کیلیے خدمت کرتا ہے اور اپنے آپ کو عام اور سادہ پر بھی بادشاہ سمجھتا ہے، لیڈر ہوں تو ایسے۔جس نے جیل کی بد ترین صعوبتیں دور میں صرف ووٹ کو عزت،جمہوریت ،اور عام عوام کیلیے برداشت کیں۔
دنیا میں بڑے کم لوگوں نے جیل کی صعوبتیں برداشت کیں، دور حاضر میں دو ہی نام لوگوں کو یاد رہیںگے، ایک میاں محمد نواز شریف اور ان خاندان تو دوسرا آفریقہ کہ نیلسن منڈیلا کا۔ نیلسن منڈیلانے دو دہائیوں پر محیط ایک سخت جیل کاٹی لیکن پھر بھی انکی قید اور میاں محمد نواز شریف کی قید میں واضح فرق ہے۔ میاں محمد نواز شریف کا لگ بھگ ایک سال ، نیلسن منڈیلا کی دو دہائیوں پرمحیط قید پر کئی درجے مشکل اور کٹھن ہے۔ کیونکہ جابر حکمران اور ذاتی حملے کوئی مرد حق ہی برداشت کرے۔ نیلسن منڈیلا کو آفریقہ کا میاں محمد نواز شریف بھی کہا جاتا ہے۔
میاں صاحب کی مثال اس ماں کی سی ہے جو اپنے بچوں کیلیے ہر طرح کی قربانی سے بھی گریز نہیں کرتی۔ وہ اپنا پیٹ کاٹ کر اپنے بچوں کا پیٹ بھرے گی۔ آپ سیاست میں آئے بھی جمہوری طریقے سے اور جدوجہد تو آج زبان زد عام ہے۔ آپ نے فوج کے ساتھ ہمیشہ تعلقات استوار رکھے مگر جمہوریت کو کسی قسم کا بھی نقصان نہیں ہونے دیا۔ انہوں نے اپنے بچوں کو تو اس لیے ملک بدر خود کیاکہ کہیں وہ قوم کہ بچوں کا حق نہ ماریں یا ان سے کسی قسم کی بھی جلن محسوس نہ کریں اور اپنا شب و روز بس عوام اور اس کے بچوں کہ نام کردیا۔
میری قائد اور انکے والد محترم کی بڑی خواہش تھی کہ انکا ملک بھی کسی مثالی ملک جیسا لگے، تو انہوں نے اپنے بھائی کہ ساتھ مل کر لاہور کو بارش اور باقی شہروں کو عام حالات میں بھی مشہور زمانہ اطالوی شہر، وینس بنا ڈالا۔ آپ کی تین دہائیوں پر پھیلی جمہوری جدو جہد آج موجودہ ملکی حالات کی صحیح ترجمانی کرتی ہے ، جس کی وجہ سے آج ملک اپنی منزل کی طرف گامزن جس کا خواب انہوں نے سیاست میں قدم رکھنے کہ ساتھ ہی دیکھا تھا۔ حالیہ سینیٹ الیکشن کا نتیجہ اس کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔

آپ نے اپنی پرواہ کیے بغیر جمہوری اداروں، جن میں عدلیہ، پارلیمانی ادارے، اور معاشی نظام کو رول ماڈل بنایا۔ جب عمران کہہ رہا تھاکہ ہارس ٹریڈنگ ہوتی ہے تو آپ نے اس بیرونی سازش پر کان تک نہ دھرے اور اس نظام کو کمزور ہونے سے بچا لیا۔ سینیٹ الیکشن کا نتیجہ اسی کی کڑی تھا جو2015 میں آپ نے ملکی خدمت اور جمہوریت کی بقا کیلیے کیا تھا۔
سلام ہو ایسی خاتون پر جو اپنے بچوں کو بھول کر، مردوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر آج جمہوری روایات کی جنگ لڑ رہی ہے۔ آپ نے عوام کی خدمت کیلیے مشیل اوبامہ سے غریب بچوں کی تعلیم کیلیے پیسے لیے ، جس کو آپ نے چپ کر کے غریبوں میں بانٹے، نہ کوئی اشتہار، نہ کوئی شوبازی، بس خدمت۔میں اس احد پر بات ختم کروں گا کہ اے میرے پروردگار جس جس نے میرے ملک کو لوٹا اور تباہ حال کیا اس کا حساب نہ صرف روز محشر ہو بلکہ اس دنیا میں بھی ہو (آمین)۔ آخر میں اپنے قائدین کہ عشق میں میرا شعر،
میں بھی بہت عجیب ہوں اور اتنا عجیب ہوں کہ بس
خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.