مظفر علی سید اور ”تنقید کی آزادی

مظفر علی سید اردو زبان وادب کے معروف نقاد، محققق، مترجم ،خاکہ نگار، کالم نگار اور شاعر کے طور پر جانے پہچانے جاتے ہیں۔لیکن ان کی اولین پہچان تو ایک ناقد کے طور پر ہے اور وہ ادبی تنقید میں حسن عسکری کے تنقید ی نظریات تجربات سے متاثر نظر آتے ہیں۔
جناب مظفر علی سید 6دسمبر1929ء کو امرتسر (بھارت) میں پیدا ہوئے۔ امرتسر جناب اے حمیدجیسے نامور افسانہ نگار بچوں کے ادب کی بڑی شخصیت اور جدید اردو غزل کے اہم ترین شاعر جناب شہزاد احمد کی وجہ سے بھی جانا جاتا ہے۔ شہزاد صاحب سید صاحب کے قریبی دوستوں میں رہے ہیں۔ مظفر علی سید کی تنقیدی کتاب ”تنقیدکی آزادی” میں ان کے 23مضامین، بشمول آصف فرخی سے ان کی شاندار علمی و ادبی گفتگو شامل ہے۔ اس کتب کے علاوہ سید صاحب کی خاکوں پر مشتمل کتاب ”یادوں کی سرگم” اور ”پاک فضائیہ” کی تاریخ بہت شہرت رکھتی ہیں۔برسوں پہلے انہوں نے معلومات عامہ کے عنوان سے ایک کتاب اور چندکتابیں شعرونثر پر مرتب بھی کی ہیں۔ جن میں مشفق خواجہ (خانہ بگوش) کے لکھے ہوئے کالموں کے چند مجموعے بھی شامل ہیں۔ انہوں نے ڈی ایچ لارنس کے تنقیدی مضامین کے تراجم بھی کیے اور ایک طویل عرصہ تک فرائیڈے میں انگریزی زبان میں ادبی کالم بھی لکھتے رہے۔ ڈاکٹر روبینہ شاہین نے ان کی شخصیت و فن پر ”مظفر علی سید ۔ ایک مطالعہ” کے عنوان سے 2004ء میں ایک مقالہ بھی لکھا تھا جو بعدازاں کتابی صورت میں شائع بھی ہوا تھا۔ اس کے علاوہ ”سخن اور اہل سخن۔ تنقیدی مضامین کے عنوان سے مظفر علی سید کے تالیف کردہ مضامین کو نامور افسانہ نگار اور کالم نگار جناب انتظار حسین نے مرتب بھی کیا تھا۔
میرا سید صاحب سے ملاقاتوں کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب میں اور اشرف سلیم صاحب ان سے ملنے ان کی رہائش گاہ پر جایا کرتے تھے اورجہاں ہمیں ان کے بے پایاں خلوص اور محبت کے ساتھ ساتھ اعلیٰ قسم کی چائے بھی میسر آتی تھی۔ انہی دنوں اشرف سلیم اپنے ادرے ”دستاویز” کے لیے نئی سے نئی کتابیں بھی شائع کر رہے تھے۔ لہذا جب سید صاحب کے تنقیدی مضامین کی اشاعت کے حوالے سے بات چیت ہوئی تو وہ رضا مند ہو گئے ۔ اشرف سلیم نے کتاب کے حقوق ایک معاہدے کے تحت حاصل کیے اور طے شدہ رائلٹی بھی ادا کی۔ یوں ایک طویل ملاقاتی سلسلے کی بعد ”تنقید کی آزادی” منظر عام پر آئی۔ جس کے دیباچے بعنوان شکریے اور صراحتیں” کے عنوان سے مظفر علی سید لکھتے ہیں: ”پچھلے چالیس ایک برس کے دوران لکھے گئے مضامین کا یہ منتخب مجموعہ خصوصی طور پر تنقید کے علم وفن اور اس کے اجتماعی ناظر سے بحث کرتاہے۔ ان میں سے بیشتر، مختلف وقتوں میں اردو کے معروف ادبی جرائد میں شائع ہو چکے یا ادبی محفلوں میں پڑھے جا چکے ہیں۔ لیکن انہیں یکجاکر کے آج کے قارئین کی خدمت میں پیش کرنا اس سے پہلے ممکن نہ ہو سکا ۔ ایک بڑا مزاحم۔ ان پرانے رسائل اور مطبوعات کی دستیابی تھی جن میں اولاً یہ اشاعت پذیر ہوئے تھے، اس لیے کہ راقم انہیں سنبھال کے نہیں رکھ سکا تھا۔
اس اقتباس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سید صاحب کے ان مضامین کو یکجا کرنے کے لیے خود انہوں نے اور پبلشرز نے کتنی محنت کی ہوگی۔ سید صاحب نے دیباچے میں ان احباب کا شکریہ بھی اد اکیا ہے۔ ”تنقید کی آزادی” میں کل 23مضامین شامل ہیںجس میں سید صاحب کی ایک گفتگوجو انہوں نے آصف فرخی سے کی تھی بھی شامل ہے۔ کتاب کا پہلا مضمون نئے نقاد کے نام ہے، جس میں 1986 ء کی تاریخ درج ہے یہ وہ زمانہ تھا جب تنقید روبہ زوال ہو رہی تھی اور پاکستان بننے کے بعد آنے والے بڑے بڑے ناقدین کو شدت سے یاد کیا جارہا تھا بقول سید صاحب، ”کیا ہمارے زمانے میں تنقید بہت کم لکھی جارہی ہے؟ خیر کم تو نہیں لیکن معیاری بھی نہیں ! معیاری تنقید کب لکھی گئی تھی؟ اس وقت جب مثلاً ترقی پسند تحریک کا دور دورہ تھا یا پھر قیام پاکستان کے فوراً بعد کون لکھتے تھے؟ احتشام حسین اور آل احمد سرور! لیکن اس وقت تو ظہیر الدین احمد اور اور محمد حسن عسکری بھی لکھ رہے تھے؟ پھر اپنے وقار عظیم صاحب اور محترم عبادت بریلوی کو کیوں بھولتے ہیں، جنہوں نے تنقید کو سکہ رائج الوقت بنا دیا؟ لیکن اب تو ایسا کوئی نہیں۔” نئے نقاد کے نام اپنے اس مضمون میں مصنف نے ناقدین کے جس فقدان کی طرف اشارہ کیا ہے، موجودہ دور بھی اسی المیے کا شکار ہے۔ 2020ء میں معدودیے چندسینئر ناقدین تو ہیں لیکن دور تک کوئی نیا ناقد دکھائی نہیں دے رہا۔
کتاب کا دوسرا مضمون بعنوان محمد حسن عسکری” ستارہ یا بادبان ”کے عنوان سے ہے ۔ عسکری صاحب اپنے زمانے کے بہت بڑے اور کسی حد تک سفاک نقاد سمجھے جاتے تھے اور سید صاحب کے استاد بھی تھے۔ سید صاحب کا یہ مضمون عسکری صاحب کی افسانہ نگاری اور تنقید نگاری پر مرکوز ہے۔ لیکن سید صاحب بھی اس میں تھوڑے سے سخت نظر آرہے ہیں ۔مضمون کے آغاز میں عسکری صاحب کی توانائیوں کی تعریف کرنے کے علاوہ کہیں کہیں ان پر تلواربھی چلا دی ہے جو اس مضمون میں تو کم مگر کتاب میں شامل دیگر مضامین میں عسکری صاحب کے بارے میں زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ اس مضمون میں دونوں طرح کی سطریں ملاحظہ کریں ایک جگہ سید صاحب لکھتے ہیں، ”اس بات سے کسی کو بھی، ترقی پسندی سمیت انکار نہ ہوگا کہ اردو ادب کی دنیا میں جناب محمد حسن عسکری سے زیادہ کوئی بھی نقاد معروف نہیں رہا۔ یہاں مصروفیت سے محض جسمانی مشغولیت مراد نہیں کیوں کہ عسکری اور عبادت بریلوی میں بڑا فرق ہے۔ عسکری کے موضوعات کا تنوع ، ان موضوعات پر ان کے مطالعہ کی وسعت اور گہرائی ، سوچنے اور فکر کرنے والا انداز اور سمجھانے کا لہجہ ، علمی موضوعات کی خشک اور پیوست قطع کرتاہوامکالماتی بلکہ بعض اوقات بیگماتی طرز تحریر۔۔۔۔۔ یہ چیزیں اردو تنقید میں اتنی عام نہیں کہ عسکری کی کوئی قدر نہ کرے۔”
چند سطریں اسی مضمون کی اور دیکھیں، ”جب سے عسکری صاحب سے ترقی پسندی چھوٹی ہے وہ مسلسل سفر میں ہیں اور کہیں پہنچ نہیں پائے اور ا ب تو یہ عالم ہے کہ کہیں پہنچنا بھی نہیں چاہتے ۔ پرانے مضمون ”انسان اور آدمی ” کا ضمیمہ ” آدمی اور انسان” لکھتے لکھتے خطرہ ہو چلا تھا کہ واپس نہ پہنچ جائیں مگر تازہ تحریریں کہتی ہیں کہ وہاں بھی ٹکے نہیں ہیں”۔
معذرت کے ساتھ اس مضمون کو سمجھنے کے لیے آپ کو کتاب پڑھنی ہو گی یا پھر اسی مضمون کو پڑھ لیں بہر حال یہ مجموعی طور پر ایک اچھا مضمون ہے۔ اگلا مضمون بھی عسکری صاحب پر ہی ہے جو عسکری فراق پر ناقد بطور شاگرد کے عنوان سے ہے۔ یہاں بھی آپ کو سید صاحب کے عسکری صاحب کے بارے میں تعریف کے علاوہ سخت جملے بھی ملیں گے۔
اس کتاب کا تیسرا مضمون انتہائی دلچسپ ہے جو ”فیض کی میزان” شاعر بطور ناقد کے عنوان سے ہے جیسا کہ نام سے ظاہر ہے۔ مضمون فیض کی لکھی ہوئی نثری تحریروں یا مضامین کے حوالے سے ہے۔ سید صاحب لکھتے ہیں، ”فیض ایک شاعر ہیں اور شاعروں کی لکھی ہوئی تنقید، پیشہ ور نقادوں اور پروفیسروں کی لکھی ہوئی تنقید سے زیادہ دلچسپی کی حامل ہوتی ہے مگر ظاہر ہے جس طرح نقاد اور پرفیسر کئی قسموں کے ہوتے ہیں اسی طرح شاعر بھی سب ایک ہی طرح کے نہیں ہوتے۔ یہ شاعر کی لکھی ہوئی تنقید برابر اہمیت نہیں رکھتی۔ مگر یہ تنقید کیسی بھی کیوں نہ ہو، شاعر موصوف کی شاعری کو سمجھنے میںمددگار ضرور ہوسکتی ہے۔”
اس مضمون میں سید صاحب نے فیض صاحب کے لکھے گئے مضامین کا بڑی خوبصورتی سے تجربہ کیا ہے۔ ایک اور مضمون ”اختر حسین رائے پوری، ناقد بطور پیش رو بھی اس کتاب کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ اس مضمون کی ایک سطر ہی رائے صاحب کی اہمیت کا پتہ دیتی ہے سید صاحب لکھے ہیں ،”ترقی پسند تنقید کی تاریخ میں اختر حسین رائے پوری کی پیش روئی مسلمہ ہے۔”
ایک مضمون سلیم احمد :نئی تنقید اور آدھا آدمی ”جناب سلیم احمد کے چار مضامین کے مجموعے ”نئی نظم اور پورا آدمی کے متعلق ہے۔ سلیم احمد ایک ہمہ جہت شخصیت کے حامل انسان تھے اور بیک وقت شاعراور ادیب تھے بقول سید صاحب، ”ہمارے سلیم صاحب غزل گو ہیں اور ریڈیو ڈرامے، فلمی مسودے وغیرہ بھی لکھتے ہیں مگر ان کی عزت بھی ادیبوں ، شاعروں اور عالموں فاضلوں پر قرض ہے۔” اس مضمون میں بھی ترازو برابر رکھا گیا ہے۔ دیگر مضامین ”ریاض احمد کے تنقیدی مسائل”، ”ترقی پسندی اور تاریخی شعور”، ”تنقید اور سنجیدگی”،”تنقید ہماری کس ضرورت کو پورا کرتی ہے”، ”تاریخ ادب کا تنقیدی مطالعہ”، ”تحقیق اور تنقید کا ربط باہم”، ”شیفتہ کی شائستگی”، ”منٹو ممتاز شیریں کی نظر میں”، اپنی اپنی جگہ اہم اور اس کتاب کے خاص اور اعلیٰ مضامین ہیں اور یہ کئی حوالوں سے تنقیدی مباحث کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
اس کے علاوہ اس کتاب میں شامل مضامین خالصتاًتنقید کے حوالے سے ہیں ان میں فکشن کی تنقید۔ ایک گفتگو ڈاکٹر آصف فرخی جیسے نامور ادیب افسانہ نگار اورمترجم کے ساتھ برسوں پہلی کی گئی تھی جس کے ابتدائیہ میں فرخی لکھتے ہیں، ”کئی زبانوں کے ماہر، علوم جدید پر دست گاہ رکھنے والے شاعر اورمترجم مظفر علی سید جدید ادب کا بڑا معتبر حوالہ ہیں۔” سید صاحب سے ان کی ساری گفتگو فکشن اور فکشن کی تنقید کے لیے مختص کی گئی تھی وہ مظفر علی سید کے ثقہ ذوق شعر، نپی تلی رائے اور د ٹوک تحریری فیصلوں کے نہ صرف معترف ہیں بلکہ انہیں صفِ اول کے ناقدین میں شمار کرتے ہیں اور اس حقیقت سے کوئی انکار بھی نہیں کہ تنقیدی دنیا میں مظفر علی سید ایک بڑا نام ہیں اور ان کے تنقیدی افکار ان کی وفات کے بعد بھی آنے والوں کے لیے مشعل راہ ہیں اونقاد کو اس کتاب کے مطالعے سے سیکھنے کے لیے بہت سی راہیں مل سکتی ہیں۔ تنقید سے ہی متعلق اس کتاب میں ”تنقیدی سوال نامہ”، ”کیا اردو تنقید (بلکہ پورا ادب ہی) روبہ زوال ہے”، ”ہماری تنقید عشرہ اول میں”، ”تنقید بطور افسانہ” اور” تنقید کی آزادی”بھی خاصے کی چیز ہیں جو نئی تنقید کے چاہنے والوں کے لیے پڑھنا اشد ضروری ہے۔
اس کتاب کا انتساب نقادِ ناقدین جناب وارث علوی کے نام کیا گیا ہے وارث علوی بھارت کے بہت اہم نقاد کے طور پر جانے پہچانے جاتے ہیں کتاب کافلیپ اس کے ناشر اور معروف شاعر جناب اشرف سلیم نے لکھاہے اور اختصار میں ہی ساری بات سمیٹ لی ہے وہ لکھتے ہیں،”مظفر علی تنقید کی قلمی زندگی کا آغاز صبح آزادی کے ساتھ ہوا، وہ مسلمہ طور پر صفِ اول کے ناقدین میں شمار ہوتے ہیں لیکن ان کے مضامین کا پہلا مجموعہ اب کہیں جا کر شائع ہوا ہے تاہم اردو انگریزی کے اخبارات ورسائل میں ان کے تنقیدی وتہذیبی مضامین ، تبصرے اور خطبات پچھلی پانچ دہائیوں میں کم وبیش تسلسل کے ساتھ سامنے آ رہے ہیں۔ فنون لطیفہ سے ان کی بصیرت افروز باخبری ، متعدد زبانوں میں حیران کن مہارت مشرق ومغرب کے شعروادب اور فکرو دانش کے سرچشموں تک ان کی رسائی نے انہیں پورے برصغیر میں ایک ایسی شہرت بخشی ہے جو شاید ہی کسی لکھنے والے کو ملی ہو۔”
مظفر علی سید نے شعر بھی کہے لیکن بہت جلد انہیں طبعیت کو تنقید کی طرف مائل کرنا پڑا۔ تاہم ان کے چند شعر آپ کی خدمت میں پیش کررہاہوں۔
کون کہتا ہے مصیبت پر کبھی ماتم نہ کر
موت ہے اک پل کی ساری زندگی ماتم نہ کر
جوانی مگر اس قدر مستیاں
شب و روز شام و سحر مستیاں
کبھی خلوتوں میں تکلف بہم
کبھی ہیں سرِ راہ گزر مستیاں
ہر ایک راہ سے آگے ہے خواب کی منزل
ترے حضور سے بڑھ کر غیاب کی منزل
رہ جنوں میں طلب کے سوا نہیں سید
اگر چے طے ہے خدا کی کتاب کی منزل
مظفر علی سید نے 28جنوری 2000ء میں وفات پائی اور تنقید کی دنیا کے یہ عظیم انسان لاہور میںکیولری گرائونڈ قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔ ان کی کتاب ”تنقید کی آزادی” ادارہ دستاویز سے محض 550/- روپے میں حاصل کی جاسکتی ہے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.