مجھے سانس لینے دو

مشہور فرانسیسی فلاسفر روسو نے آزاد خیالی اور عام لوگوں کے حقوق کے بارے میں بہت کچھ لکھا۔ اس کے نظریات میں انسانی برابری کے لیے بہت شدت پائی جاتی ہے۔ اس کے خیال میں معاشرے کا ڈھانچہ انسانی برابری کے لئے غیر موزوں ہے۔ اپنی کتاب سوشل کنٹریکٹ میں وہ لکھتے ہیں ”انسان آزاد پیدا ہوالیکن ہر طرف وہ زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔”یہ بات سچ ہے تاریخِ انسانی میں حاکم اور محکوم، آقا اور غلام، ظالم اور مظلوم،سرمایہ دار اور مزدور،جاگیردار اور مزارع اور آجر اور مستاجر کے باہمی معاملات میں ہمیشہ نچلے طبقے نے نقصان اٹھایا ہے۔کل رات ٹی وی پر بی بی سی کا خبرنامہ لگایا تو وہاں پر جارج فلائیڈ کے فیملی ممبرز اس کی آخری رسومات کے دوران اپنے د کھ اور شدید غم وغصے کا اظہار کر رہے تھے۔اس کا بھائی کہ رہا تھا کہ جارج فلائیڈ آخری لمحات میں اپنی ماں کو یاد کررہا تھا۔ یہ فطرتی عمل ہے کہ انسان مشکل وقت میں اپنی عزیز ترین ہستی کو یاد کرتا ہے۔ اس موقع پر ہر آنکھ اشک بار تھی۔جارج فلائیڈ کا آخری دیدار کرنے ہزاروں لوگ قطاروں میں موجود تھے،فلائیڈ کی تدفین ان کی والدہ کے پہلو میں کی گئی،جارج فلائیڈ کا تابوت ایک چرچ میں رکھا گیا تھا جہاں لوگ جوق درجوق آ کر اُنہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے رہے۔46 سالہ جارج فلائیڈ کی سیکیورٹی کی جاب کورونا وائرس کی وجہ سے ختم ہو گئی تھی اور وہ ان دنوں شدید مالی مشکلات کا شکار تھا۔25 مئی 2020کو وہ ایک شاپ پر سگریٹ لینے گیا اور جعلی نوٹ دینے پر دوکان والوں نے پولیس کو فون کر دیا۔ گرفتار ی کے دوران مینیا یپلس (امریکہ)پولیس کے اہلکار ڈیرک چاون نے جارج فلائیڈ کی گردن کو تقریباً نو منٹ تک اپنے گھٹنے سے دبائے رکھا تھا اس دوران کچھ قریبی لوگوں نے پولیس افسران سے ملزم کی گردن سے ٹانگ اٹھانے کا مطالبہ بھی کیا تھاجسے انہوں نے نہ مانا۔کچھ لوگوں نے اس واقع کی وڈیو بھی بنائی۔ اسی دوران جارج فلائیڈ پکارتا رہا کہ اسے سانس نہیں آرہا لیکن اس کی آواز پر پولیس والوں نے دھیان نہ دیا آخر کار جارج فلائیڈ ہلاک ہو گیا۔ڈیرک چاون پر سیکنڈ ڈگری مرڈر کے الزام کے تحت مقدمہ زیر سماعت ہے۔ جارج فلائیڈ کے قتل کے باعث امریکا کے ساتھ ساتھ برطانیہ، اسپین، بیلجیئم، برازیل میں بلیک لائیوز میٹر (سیاہ فام زندگیاں اہم ہیں) ریلیاں نکالی گئیں۔امریکہ کے قصبوں سے لے کر بڑے شہروں میں عوام سراپا احتجاج ہیں۔ امریکی ریاست منیسوٹا کے جس شہر مینیا یپلس میں جارج فلائیڈ کا قتل ہوا اس کی ضلعی کونسل نے مظاہروں کے دباؤ کے بعد پولیس کا محکمہ ختم کرنے پر غور شروع کر دیا ہے دوسری جانب نیو یارک کے مئیر نے پولیس فنڈز میں کمی کا اعلان کردیاہے۔ برطانیہ کے شہر برسٹل میں نسلی منافرت کیخلاف احتجاج کے دوران مظاہرین نے ایڈورڈ کولسٹن ( 1636 ـ1721) کا مجسمہ گرا دیا اور اس کی گردن پر سوار ہوگئے۔ واضح رہے کہ کولسٹن سترہویں صدی کا مال دار تاجر تھا۔ وہ اس وقت سیاہ فاموں کو غلام بنا کر ان کی تجارت کرنے والی برطانیہ کی واحد رائل افریقن کمپنی کے کلیدی افراد میں شامل تھا۔ برسٹل میں اس کمپنی کا مرکزی دفتر قائم تھا۔ اس کمپنی نے زرعی شعبے میں مشقت لینے کے لیے ہزاروں سیاہ فام باشندوں کی بردہ فروشی کی۔ سوشل میڈیا کے ساتھ ساتھ سڑکوں پر بھی جو افراد اس تحریک کی حمایت کرتے ہیں انھوں نے منتخب نمائندوں کی توجہ منظم نسلی امتیاز اور پولیس تشدد کے جانب دلوائی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق سفید فام
شہریوں کی نسبت پانچ گنا زیادہ سیاہ فام امریکی شہریوں کو جیلوں میں ڈالا جاتا ہے جبکہ چھ گنا زیادہ سیاہ فام شہریوں کو منشیات کے الزام میں سزا دی جاتی ہے۔ حالانکہ دونوں میں ہی منشیات کا استعمال تقریباً یکساں ہے۔ سفید فام ماؤں کی نسبت دو گنا زیادہ سیاہ فام مائیں حمل کے دوران ہلاک ہو جاتی ہیں۔ حکومت کی جانب سے دہائیوں سے برتے جانے والے امتیازی سلوک کے باعث سکولوں کے نظام، ہاؤسنگ اور دیگر عوامی حوالہ جات میں عدم مساوات نظر آتی ہے۔ 2019 کی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ہر دس میں سے آٹھ سیاہ فام شہری یہ سمجھتے ہیں کہ ماضی میں سیاہ فاموں کو بطور غلام استعمال کرنے کی وراثت آج کے سیاہ فام امریکیوں کے درجے پر اثر انداز ہوتی ہے۔ماضی میں سیاہ فام نسل پر جب بھی ظلم ہوا اور پولیس نے جتنی مرتبہ زیادتی کی، مجرم کوئی نہ کوئی جواز بنا کر آزاد کر دیے گئے۔ سچ تو یہ ہے کہ سیاہ فام صدر براک اوباما کے طویل دورِ اقتدار میں بھی ایسے قانون نہ بن سکے جن سے افریقی نسل کے امریکی باشندوں کو کسی قسم کا تحفظ مل سکے۔ ظلم کی یہ تاریخ اب تو بہت پرانی ہو چکی ہے۔
جب یہ سیاہ فام زنجیروں میں جکڑ کر افریقہ سے لائے جاتے تھے، اسی وقت سے ان کے ساتھ کبھی کبھی تو وحشیانہ سلوک کی بھی حدیں پار کی گئیں۔ صدیاں گزر جانے کے بعد اب اس نسل کے باشندے امریکی معاشرے میں گھل مل گئے ہیں اور زندگی کے ہر شعبے میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں مگر اس سلسلے میں پولیس کا رویہ عجب ہے۔
سیاہ فاموں نے غلامی کے خاتمے کے لیے بہت عرصہ پہلے جدوجہد شروع کی۔ سابق امریکی صدر ابراہم لنکن نے غلامی کے خاتمے کے لیے جدوجہد میں حصہ لیا۔ اِس جدوجہد کی وجہ سے امریکہ میں خانہ جنگی شروع ہو گئی لیکن ابراہم لنکن کے دشمنوں نے اُسے قتل کر دیا۔ اِس کے بعد سیاہ فاموں کو ووٹ کا حق حاصل کرنے کے لیے سو سال لگ گئے۔سیاہ فاموں کے حق میں آواز اٹھانے والا اگلا رہنما مارٹن لوتھر کنگ جونیئر تھا جس نے انسانی مساوات کے لیے بھر پور آواز اٹھائی۔ مارٹن لوتھر کنگ کی جدوجہد کے نتیجے میں امریکی سیاہ فاموں کو ووٹ ڈالنے کا حق مل گیا۔ اور 2009 میں باراک اوبامہ پہلے سیاہ فام امریکی صدر بنے۔نسل پرستی سے نکلنے کا صرف ایک ہی راستہ ہے کہ جو دُنیا کو اسلام نے سکھایا ہے اور وہ یہ ہے کہ کسی کالے کو گورے پر اور نہ ہی کسی گورے کو کالے پر کوئی فوقیت حاصل ہے اور اگر فوقیت ہے تو صرف اْس کو کہ جو تقویٰ اختیار کرے۔اسلام کی ان تعلیمات کا عملی نمونہ خدا کے رسول حضرت محمد ۖنے حضرت بلال حبشی سے والہانہ محبت اور حُسن ِسلوک کی صورت میں دنیا کو سیکھایا۔آج دنیا میں غلامی نظریاتی طور پر تو ختم ہو چکی ہے لیکن عملی طور پر یہ کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے۔کہیں استحصالی نظام کی صورت میں تو کہیں ذاتی عقوبت خانوں کی صورت میں۔تعلیم ، اپنے حقوق سے آگاہی اور شعور ہی غلامی سے ابدی نجات دلا سکتے ہیں۔شاعر مشرق نے اسی لئے کہا تھا
جو ہو ذوقِ یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.