اپنا گھر اپنی جنت

تحریر: محمد ارشد
ماضی میں منصوبہ بندی کے فقدان سے جہاں دیگر شعبے معاشی طور پر بری طرح متاثر ہوئے وہاں تعمیراتی شعبہ کو بھی مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا.چاہیے تو یہ تھا کہ مردم شماری کرتے وقت ایسے گھرانوں کی تعداد معلوم کی جاتی جو بے گھر تھے اور اگر مفت نہیں تو کم سے کم مناسب قیمت پر گھر فراہم کرنے کے لیے کوئی قابل عمل پالیسی بنائی جاتی لیکن ایسا نہیں ہوا اور تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ ساتھ عوام کی بہت بڑی تعداد اپنے گھروں سے محروم ہوتی گئی۔نتیجتاً ایک طرف تو شہروں میں مناسب کرائے پر گھر ڈھونڈنا ایک بہت بڑا مسئلہ بن گیا تودوسری جانب زمین مہنگی ہونے کے سبب اپنا گھر بنانے کا تو تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ عوام کو رہنے کے لیے چھت فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے لیکن جب حکومتی اور صاحب اقتدار لوگ اپنی جےبوں کے منہ کھول لیں تو پھر فلاحی منصوبوں کی طرف کسی کی توجہ نہیں جاتی۔ یہی کچھ ماضی کی حکومتوں نے کیا۔ ضرورت مند لوگوں کو چھت فراہم کرنا تودرکنارلوگ فٹ پاتھوں پر سونے پر مجبور ہوئے۔پاکستان تحریک انصاف نے عوامی انتخابات 2018 سے پہلے اپنے منشور میں مستحق گھرانوں کو چھت فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔ سابقہ حکومتوں کی وعدہ خلافیوں اور دھوکہ بازیوں سے تنگ عوام نے پاکستان تحریک انصاف کو عوامی مسائل کا نجات دھندہ سمجھتے ہوئے دل کھول کر ووٹ دیے اورپاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کو انتخابات میں مسترد کردیا ۔عمران خان نے اقتدار سنبھالتے ہی عوام سے کیے ہوئے وعدوں پر عمل درآمد کے لئے دن رات کام کیا اور دیگر منصوبوں کے ساتھ ساتھ معاشرے کے کمزور اور چھوٹے تنخواہ دار طبقے کے لیے چھت کی فراہمی کے لیے نیا پاکستان ہا¶سنگ منصوبہ متعارف کروایا۔ اس منصوبے کو عملی جامہ پہنچانے کے لیے ٹھوس منصوبہ بندی کی گئی اور منشور میں کیے گئے وعدوں کے مطابق پچاس لاکھ گھروں کی فراہمی کے لیے فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہا¶سنگ اتھارٹی کو ذمہ داری سونپی گئی جس نے حکومتی اہداف کے مطابق مختلف اسکیموں کا آغاز کیا۔ اتھارٹی نجی اراضی پر حکومتی پروگراموں کے تحت اسکیموں پر بھی عمل پیرا ہے. مختلف چےلنجوںکے باوجود پی ٹی آئی کی حکومت نے پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرز پر فلاحی مملکت بنانے اور وزیراعظم پاکستان کے وژن کے تحت مستحق لوگوں کے لئے کم لاگت والے گھروںکی تعمیر کی کوشش کر رہی ہے۔ اس مقصد کیلئے گھروں کی تعمیر کے لیے بینکوں سے قرضے حاصل کرنے میں آسانیاں پیدا کر نے کے لیے قانون سازی سمیت دیگر اقدامات اٹھائے گئے ہےں۔
حکومت نے اس مقصد کے تحت بھارہ کہو پراجیکٹ کے گرین انکلیو سمیت مختلف تعطل کا شکار منصوبوں کو بحال کیا. درخواست گزاروں کو82 32 پلاٹ الاٹ کیے۔ سکائی گارڈن پروجیکٹ کے تحت 5198 پلاٹ الاٹ کیے۔ لائف اسٹائل رےذےڈنسی اپارٹمنٹ -13-G -سکیم کے تحت 3240 پلاٹ الاٹ کیے۔ اسی دوران وزیراعظم نے کشمےرایونیو اسلام آباد G.13 سکیم کا افتتاح کیا جس کے تحت 1467 اپارٹمنٹ تقسیم ہونگے. چکلالہ ہائٹس راولپنڈی 32 34 لائف اسٹائل لاہور سکیم کے تحت 1258 اپارٹمنٹس تعمیر کیے جائیں گے۔ اس طرح وفاقی حکومت نے صوبائی حکومتوں کے ساتھ بھی مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت صوبوں میں بھی ایسی بہت سی سکیمیں بن رہی ہیں۔
دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کی جانب سے کم آمدنی والے افراد کے لیے گھروں کی فراہمی اور تعمیراتی شعبے کے لئے خصوصی پیکج کا اعلان کیا گےا کیوں کہ اس شعبے سے نہ صرف معاشی اور صنعتی ترقی وابستہ ہے۔ بلکہ محنت کش طبقے کے لیے یہ شعبہ روزگار کا بھی ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔مقصد یہی ہے کہ کم آمدنی والے طبقے کو کم قیمت گھروں کی فراہمی بھی یقینی بنائی جاسکے۔ وزیراعظم عمران خان کی تعمیراتی شعبہ کے لئے پیکیج کے تحت ملک میں بڑے پیمانے پر تعمیراتی اور صنعتی سرگرمیوں کا آغاز ہوگیا ہے۔ جس سے غریت اور بے روزگاری میں واضح کمی متوقع ہے۔تعمیراتی شعبہ کے لئے 30 ارب روپے کی سبسڈی بھی دی گئی ہے۔ کم آمدنی والے طبقے کے لیے بنائے جانے والے ایک لاکھ گھروں پر حکومت اپنی طرف سے تین لاکھ روپے فی گھر مہیا کرے گی اور ٹیکس میں بھی 90 فیصد چھوٹ دی جائے گی۔ سرمائے اور قرضوں کی فراہمی کے لئے پانچ مرلہ پر پانچ جبکہ دس مرلے پر سات7 فیصد مارک اپ کی سہولت فراہم کی جارہی ہے۔ تعمیراتی شعبہ کوصنعت کا درجہ دیا گیا ہے جب کہ اس شعبے کے لیے فکسڈ ٹیکس نظام کے تحت تاریخ ساز ٹیکس مراعات دی گئی ہیں۔
دسمبر 2020 سے پہلے شروع کیے جانے والے تعمیراتی منصوبوں میں کی جانے والی سرمایہ کاری کے ذرائع کو جانچ پڑتال سے استثناٰ حاصل ہے۔ بنکو ں کی طرف سے بھی اس شعبہ میں بڑی سرمایہ کاری کا آغاز کیا گیا ہے اور بنک اس شعبے میں 378 ارب روپے کی سرمایہ کاری کررہے ہیں. دیگر وفاقی اور صوبائی ٹیکسوں میں بھی خاطر خواہ کمی کی گئی ہے جس کے مثبت اثرات سامنے آ رہے ہیں. اس شعبے کو درپیش دیگر مسائل کے حل کیلئے نیشنل کوارڈینیشن کمیٹی برائے ہا¶سنگ وکنسٹرکشن کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔
ایسے حالات میں جب ملک مالی بحران کا شکار تھا اور عالمی ادارے پاکستان کو دیوالیہ ہوتے دیکھ رہے تھے وزیراعظم پاکستان عمران خان نے اپنی سیاسی بصیرت سے نہ صرف ملک کو مالی بحران سے نکالا بلکہ پاکستان کو ایک اسلامی فلاحی ریاست بنانے کی طرف ایک اہم قدم اٹھایا ہے. ایسے کام عوامی خدمت کے جذبے اور نیک نیتی کے تحت ہوتے ہیں. نتیجہ ہمارے سامنے ہے کہ باوجود شدید سیاسی مخالفت کے حکومت عوامی فلاح کے منصوبوں پر بھرپور توجہ دے رہی ہے اور معاشی طور پر ملک کو بحران سے نکالنے میں کامیاب ہو گئی ہےں. معاشی اشارےے تےزی کے ساتھ اضافہ کی طرف گامزن ہےں ڈالر کی قدر جو سابقہ حکومتوں کی غلط پالےسوں کی وجہ سے مسلسل بڑھ رہی تھی اب تےزی کے ساتھ نےچے آرہی ہے غےر ملکی رٹےنگ اےجنسےاں معےشت کومضبوط ہوتے دےکھ رہی ہےں ۔ اےسے حالات مےں عوام کو چاہےے کِہ وہ پاکستان تحرےک انصاف کا ساتھ دےںتاکہ ان معاشی پالےسےوں کا تسلسل جاری رہے اورنےا پاکستان جےسے ہاوسنگ منصوبے پائےہ تکمےل تک پہنچ سکےں۔ حکومت نے گزشتہ دو سالوں مےں معےشت کی بحالی اورملک کو مالی بحران سے نکالنے کےلے نہ صرف محنت کی ہے بلکہ قانون سازی کے ساتھ بہت سے اےسے کام کےے ہےں جن کو عام عوام نہےں سمجھ سکتی حکومت کو چاہےے کِہ وسےع پبلسٹی کے ذرےعے اپنی گزشتہ دو سالوں کی کارکردگی عوام کے سامنے رکھے تاکہ اصل حقےقت عوام تک پہنچ سکے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.